1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

تمام صحابہ اکرام حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے۔ ( جھوٹ از مرزا غلام احمد قادیانی)

محمدابوبکرصدیق نے 'روحانی خزائن جلد22' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 17, 2015

  1. ‏ جنوری 17, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    تمام صحابہ اکرام حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے۔ ( صحابہ اکرام پر مرزا قادیانی کا جھوٹ )
    مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ:
    غرض تمام صحابہ کا اجماع حضرت عیسیٰ کی موت پر تھا بلکہ تمام انبیاء کی موت پر اجماع ہو گیا تھا اور یہی پہلا اجماع تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوا۔ اسی اجماع کی وجہ سے تمام صحابہ حضرت عیسیٰ کی موت کے قائل تھے۔
    حوالہ: روحانی خزائن جلدنمبر 22 کتاب حقیقۃُ الوحی صفحہ نمبر 37

    اب اگر ہم کسی ایک صحابی سے بھی یہ بات ثابت کر دیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کو انہوں نے تسلیم کیا ہے تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ بات جھوٹی ثابت ہو جائے گی ۔ اور جھوٹا شخص کبھی بھی نبی نہیں ہوسکتا۔ اور ان کا یہ جھوٹ تو کوئی عام جھوٹ نہیں بلکہ تمام صحابہ اکرام پر جھوٹ ہو گا۔

    لیجیئے اب ہم آتے ہیں کہ کیا صحابہ اکرام حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے یا وہ زندہ ہیں اس کے قائل تھے۔

    حوالہ نمبر1 :
    حدیث… ’’عن النواس بن السمعان ؓ قال قال رسولﷺ اذ بعث اﷲ المسیح بن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھروذتین واضعاً کفیہ علی اجنحۃ ملکین فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد فیقتلہ‘‘
    (مسلم ج۲ ص ۴۰۱، باب ذکر الدجال)
    ترجمہ: ’’حضرت نواس بن سمعانؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جب اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے۔ وہ دمشق کی جامع مسجد کے سفید مشرقی مینار پر اتریں گے۔ وہ دو زرد چادریں پہنے ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ پھر وہ دجال کی تلاش میں نکلیں گے۔ تاآنکہ اسے باب لد کے مقام پر پائیں گے۔ پھر اسے قتل کردیں گے۔‘‘
    نوٹ: (ظاھر ہے کہ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ (صحابی) اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حیاتِ عیسی علیہ السلام کے قائل تھے تب ہی انہوں نے یہ ارشاد فرمایا اور حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ (صحابی) نے نقل کیا)

    حوالہ نمبر 2 :
    حدیث … ’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسولﷺ کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم من السماء وامامکم منکم‘‘
    (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص:۳۰۱)
    ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ تمہاری خوشی کا اس وقت کیا حال ہوگا۔ جبکہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہار امام تم میں سے ہوگا۔‘‘
    (یعنی امام مہدی تمہارے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ باوجود نبی و رسول ہونے کے امام مہدی کی اقتداء کریں گے)‘‘
    تنبیہ۱… اس حدیث میں لفظ من السماء کی صراحت ہے۔
    تنبیہ۲… اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان الگ الگ شخصیتیں ہیں۔

    لہذا مرزا غلام احمد قادیانی کی کہی ہوئی بات کہ تمام صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے جھوٹی ثابت ہو گئی۔
    اور مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا کہنا ہے کہ :
    ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اُس پر اعتبار نہیں رہتا
    (روحانی خزائن جلد 23 چشمہ مَعرفت : صفحہ 231)

    جہاں پر مرزا نے صحابہ اکرام پر جھوٹ بولا ہے وہ پیج ملاحظہ فرمائیں
    روحانی خزائن جلدنمبر 22 کتاب حقیقۃُ الوحی صفحہ نمبر 37
    [​IMG]

اس صفحے کی تشہیر