1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

تمہید و فہم ختم نبوت ﷺ و پاکستانی پارلمنٹ اسملبی کی کاروائی میں قادیانی کافر

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 4, 2017

  1. ‏ اکتوبر 4, 2017 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
    تحریر۔۔غلام نبی نوری
    ختم نبوت امت اسلامیہ کا ایک ایسا اجتماعی عقیدہ ہے جس پر آج تک مسلمانوں میں کبھی اختلاف نہیں ہوا۔ بلکہ اختلاف کرنے والے پودے کو جڑ سے اکھاڑ دیا ، کیونکہ بعد از توحید یہی تو ایک عقیدہ ہے جس پر پوری ملت اسلامیہ کی عمارت قائم ہے ،اگر یہ عقیدہ متزلزل ہوجائے تو باقی تمام عقائد اور اصول ہائے دین کی اصلیت بھی ختم ہوجاتی ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ عقیدہ توحید کی صحت و حقانیت کا درارومدار بھی عقیدہ نبوت پر ہی ہے، اہل اسلام جو عقیدہ توحید کے بارے میں ایک خاص اور خالص نظریہ رکھتے ہیں وہ نبی اکرم نورمجسم حضرت محمد ﷺ کا ہی متعین کردہ ہے ، اللہ کی لاریب کتاب قرآن مجید کی عظمتیں آپ ﷺ ہی کی صداقت و امانت سے ثابت ہیں، اسی طرح تمام عقائد اسلام اور اصول ہائے دین کی وہ تشریح ، توجیح منظور اور مشروع ہے جو نبی اکرم ﷺ نے فرمائی اس کے علاوہ کفر جہالت ہے، چنانچہ کسی نئے کے بارے میں تصور کرنا گویا اسلام کی عظیم الشان عمارت کو گرانے کا منصوبہ بنانا ہے جس کی چودہ سوسال میں کبھی اجازت نہیں دی گئی،؎
    تاریخ عرب کے جاننے والے بات پر متفق ہیں کہ سید الانبیاء خاتم النبین ﷺسے پہلے پورے عرب معاشرہ میں صدیوں تک حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد درمیان کے وسیع عہد میں کہیں یہ ارشاد بھی نہیں ملتا کہ کسی شخص نے دعویٰ نبوت کیا ہو، کہانت ہوئی علم نجوم اور ستارہ شناسی کے زریعے پشین گوئی اور الہامات کے رنگ رچا کر ہوشیار اور مکار لوگ اپنا مطلب تو نکالتے رہے مگر نبوت کا دعویٰ کرنے کی جرات اس لیے نہ کرسکے یہ کام آسان نہ تھا، وہ جانتے تھے کہ یہاں آگ میں کودنا پڑتا ہے، سولی پر لٹکنا پڑتا ہے ، اسلام کی تعلیمات سے پہلے کے مطابق آرے کے نیچے دولخت ہونا پڑتا ہے مگر جب نبی آخر الزماں ﷺ کا ظہور ہوا اور قدوم میمنت لزوم ہزار مشکلات ومہمات کوعبورکرتے ہوئے زینت عرش الہی ہوگئے اور یثرب کی خاک مس ہوتے ہی مدینہ طیبہ اور مدینہ منورہ بلکہ روضہ من ریاض الجنہ ہوگئیں، قبائل کے قبائل ہزاروں کی تعداد میں قطار در قطار اپنی گردنوں میں نبی اکرم ﷺ کی غلامی کا پٹہ ڈالنے کے لیے درحبیب ﷺ کی طرف رواں دواں ہونے لگے ، اس وقت کچھ طالع آزماوں کے منہ میں لالچ کا ناپاک پانی بہنے لگا اور بعد میں صدیوں تک گاہے بگاہے حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، جس کا قلع قمع بھی ساتھ ساتھ ہوتا رہا ، اس ناپاک سلسلہ کی آخری ناپاک کڑی مرزائیت ہےجو اپنے آپ کو احمدی بھی کہلواتے ہیں ، چونکہ اسلامی خلافت ایسے ہی ناپاک اور غدارملت فروشوں کی سازشوں کے سبب ناپید ہوچکی تھی اس لیے اس آخری فتنے کے خلاف صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کی طرح مقدس جہاد تو نہ ہوسکا لیکن قلمی اور کلامی جہاد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی،
    قیام پاکستان سے پہلے مرزائیت کا ناپاک ناسور اپنے انگریز آقاؤں کی حفاظت اور قیام پاکستان کے بعد انگریز کی پروردہ پاکستانی حکمرانوں کی گود مین مسلمان معاشرے میں زن، زر اور زمین کے بل بوتے پر افسر شاہی نوکریوں کے لالچ کے زریعے پھیلتا گیا،
    اہل اسلام اپنے مشائخ اور علماء اکرام کی قیادت میں اپنی نفرتوں اور احتجاج کا اظہار کرتے رہے، 1973ء مرزائیت کے نکتہ عروج کا سال تھا، ایک حقیر غیر مسلم اقلیت نے پورے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنا غلام بنانا چاہا، مگر غلامان محمد ﷺ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ہر ایک مسلمان اپنے نبی کی نبوت کا محافظ بن کر کہتا تھا،
    غلامان محمد ﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے
    سرکٹ جائے یا رہ جائے کچھ پرواہ نہیں کرتے
    اسی مشن کو لیکر قائد ملت اسلامیہ نائب مجدد الف ثانی حق و صداقت کی نشانی امام الشاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اللہ علیہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین ) کا پرچم لیے نیشنل اسمبلی کے فلور پر حافظ ختم نبوت بن کر اسمبلی کے ہر ممبر کے دروازے پر تحفظ ختم نبوت ﷺ کے لیے چل کر گئے اور ہر ایک سے عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر دستخط لیے اور پھر وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان زوالفقارعلی بھٹو سے کہا اگر تیری وزارت اعظمیٰ کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوکر کہے کہ میں بھی اس ملک کا وزیر اعظم ہوں تو کیا وہ شخص سچا ہوگا یا جھوٹا،
    اس کے جواب میں بھٹو صاحب نے کہا کہ یاتو وہ شخص پاگل ہوگا یا باغی ہوگا،
    وہ علامہ شاہ احمد نورانی صاحب نے فرمایا کہ تیری وزارت کی کرسی چھوٹی ہے، ختم نبوت ﷺ کی کرسی بڑی ہے،
    اب ماننا ہوگا کہ بعد از رسول کریم ﷺ جو بندہ بھی دعویٰ نبوت کرے یا وہ شخص پاگل ہے یا باغی ہے،
    قائد ملت اسلامیہ امام الشاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اللہ علیہ، عبد المصطفی الاہزی، سید محمد علی رضوی، مولنا محمد زاکر اور مولنا مفتی علی نعمانی جیسے اکابرین اہلسنت کی کوششوں اور دیگر مکاتب فکر کے علماء کی حمائت سے 7 ستمبر 1974ء کے تاریخ ساز دن مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دلوایا گیا، تب سے مرزائی وہاں پاکستان سے فرار ہوکر اپنے انگریز آقا کی گود میں پناہ گزیں ہوئے اور یہاں انگریزوں نے اپنے خود کاشتہ پودے(مرزائیت) کو سرے میں وسیع علاقہ دے دیا جہاں سے اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پوری دنیاں میں سازشوں کا جال بچھانے لگے، اور اب تک یہ غداران ملک و ملت اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں اور یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں ۔
    بلکہ اب تو انہوں نے اپنا ہیڈکوارٹر بھی اسرائیل میں بنا لیا ہے ، اسرائیلی حکومت نے انہیں اسرائیل میں وسیع اراضی دی ہے جہاں پر یہ پاکستان اور دیگر ممالک کے سادہ لوح مسلمانوں کو مکروفریب سے لے جاکر ان کی اسلام کے خلاف برین واشنگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ 21557649_882846305212916_2634596577233891013_n.jpg 21557649_882846305212916_2634596577233891013_n.jpg

اس صفحے کی تشہیر