1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

توہین رسالت اور تہذیبوں کا تصادم

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 3, 2017

  1. ‏ جنوری 3, 2017 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    توہین رسالت اور تہذیبوں کا تصادم

    نائن الیون کی سالانہ یاد کے موقع پر بدنام زمانہ امریکی پادری ٹیری جونز جس نے دو مرتبہ قرآن مجید کو نذر آتش کیا ہے (نعوذ باﷲ) اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیﷺ سے عداوت و دشمنی میں زہر افشانی کرتا رہتا ہے۔ نائن الیون کے موقع پر شان رسالتﷺ کے خلاف کیلی فورنیا کے صیہونی یہودی فلم میکر سام بیسائل سے گستاخانہ فلم بنواتا ہے۔ اس فلم کا ڈائریکٹر ایلن رابرنس ہے۔ سام یسائل بنیادی طور پر اسٹیٹ ایجنٹ ہے۔ وہ اس گستاخانہ فلم بنانے کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے۔ اس فلم پر50 لاکھ ڈالر لاگت آئی۔ سارا سرمایہ 100 یہودیوں نے فراہم کیا۔ گستاخانہ فلم کا نام Innocene of Muslims، اردو میں (مسلمانوں کی مظلومیت) بنتا ہے۔ انگریزی زبان میں دو گھنٹے کے دورانیہ پر محیط ہے۔ جسے عربی زبان میں ڈبنگ کرکے عرب دنیا میں پیش کیا گیا۔ اس فلم کا 40 منٹ کا ٹریلر مصر کے پرائیویٹ چینل ’’الناس‘‘ سے نشر کیا گیا اور پھر یوٹیوب پر بھی جاری کردی گئی۔ فلم کی تشہیر خود پادری ٹیری جونز کررہا ہے اور سب سے پہلے چرچ میں فلم دکھانے کا اہتمام کیا۔ ٹیری جونز خود کٹر یہودی ہے جو عیسائیت کا لبادہ اوڑھ کر تہذیبوں کا عالمگیر تصادم کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ گستاخانہ فلم کے خلاف دنیا بھر کے مسلمان احتجاج کررہے ہیں۔ لیبیائی مسلمانوں نے اشتعال انگیزی میں امریکی سفیر (کرس اسٹیوفر) کو ہلاک اور سفارت خانے کو جلادیا جس کے نتیجے میں امریکی صدر اوباما نے اپنے دو بحری بیڑے لیبیا بھجوانے کے احکامات جاری کئے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نائن الیون کے موقع پر گستاخانہ فلم کی تشہیر کراکر مسلم دنیا میں اشتعال پیدا کرکے اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کے لئے شاطرانہ حربہ استعمال کیا اور لیبیا میں فوج بھجوانا امریکہ کی اس سازش کا حصہ ہے جس کے تحت افریقی ملک لیبیا جوکہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، اسے اپنے پنجہ استبداد میں جکڑا جاسکیں۔ ایسے موقع پر مسلم امہ کی مفکرین کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور یہود ونصاریٰ کے ناپاک عزائم کے مستقل تدارک کے لئے لائحہ عمل وضع کرنا چاہئے مگر افسوس کہ سعودی اور او آئی سی کی پراسرار خاموشی معنی خیز ہے، جبکہ ملت کا ہر فرد اپنی جان قربان کرنے کے لئے میدان عمل میں ہے۔ مسلم حکمران ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور حیران کن بات مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداﷲ شیخ نے گستاخانہ فلم پر اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کرنے کے بجائے امریکی سفارت خانوں اور سفارت کاروں پر حملوں کو تو غیر اسلامی قرار دیا مگر امریکہ و فلم ساز کی مذمت نہیں کی۔ پوری دنیا کے عاشقان مصطفیٰ اپنے نبی سے عشق و محبت میں سراپا احتجاج ہے اور ایسے ہی حالات میں غازی علم دین، غازی عبدالقیوم، عامر چیمہ اور ممتاز حسین قادری جیسے مجاہد پیدا ہوتے ہیں جو آگے بڑھ کر گستاخ نبی کو واصل جہنم کرتے ہیں، لیکن گستاخانہ فلم ایک فرد کا کردار نہیں بلکہ یہودی لابی اور امریکی مفادات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو ازل سے دین دشمنی میں ہر وہ عمل کرتے ہیں چاہے اس کا نتیجہ کچھ ہی ہو، آزادی اظہار کے دامن میں چھپ کر اپنا پلو چھڑا لیتے ہیں، جس طرح گستاخانہ فلم ہو یا توہین آمیز کارٹون فرد کا ذاتی عمل قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوجاتے جس طرح پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ نے گستاخانہ فلم کو فرد کا ذاتی فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سارے امریکہ کی رائے نہیں۔ دنیا کا امن برباد ہوتا ہے تو ہوجائے جبکہ اس کے برعکس امریکہ اور یورپ میں ہولوکاسٹ کے بارے میں اظہار رائے پر سخت پابندی ہے۔ جس سے یہودی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچتا ہو۔ آسٹریا کے پروفیسر کو اس تحقیق پر کہ ہٹلر نے ہولوکاسٹ میں لاکھوں یہودیوں کو نہیں بلکہ چند سو افراد کو قتل کروایا تھا۔ تین سال قید سخت کی سزا دی کہ پروفیسر صاحب نے یہودیوں کے جذبات کو مجروح کیا جبکہ مسلمان کے ذاتی فعل کو اسلامی تعلیمات سے جوڑ کر اسلام اور مسلمان کے خلاف نفرت آمیز پروپیگنڈہ شروع کردیتے ہیں۔ نبی امن و رحمتﷺ کی تعلیمات کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے ملاکر عام مسلمان کو انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ مسلم امہ کے مفکرین آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کے ذریعے توہین مذاہب و انبیاء سے متعلق جامع قانون سازی کریں۔ پاکستان میں رائج 295C اور علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی جیسے مفکرین سے رہنمائی کی جاسکتی ہے۔ آج وہ لوگ کہاں ہیں جو قانون توہین رسالت 295Cکے خلاف دن رات ہنگامہ محشر بپا کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ آج ان کی زبانوں پر قفل کیوں لگے ہوئے ہیں۔ ’’صم بکم‘‘ کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ کتنا تضاد ہے ان کے عمل و فعل میں خود ہی فیصلہ کرلیں۔

اس صفحے کی تشہیر