1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

تکفیر کا مسئلہ

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 14, 2015

  1. ‏ فروری 14, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    تکفیر کا مسئلہ
    لاہوری جماعت جس بنیاد پر اپنے آپ کو اہل قادیان سے ممتاز قرار دیتی ہے، وہ اصل میں تو نبوت ہی کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں پیچھے واضح ہو چکا کہ وہ صرف لفظی ہیرپھیر کا فرق ہے۔ ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ دوسرا مسئلہ جس کے بارے میں جماعت لاہوری کا دعویٰ ہے کہ وہ جماعت قادیان سے مختلف ہے۔ تکفیر کا مسئلہ ہے۔ یعنی لاہوریوں کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ غیراحمدیوں کو مسلمان قرار دیتی ہے۔ لیکن یہاں بھی بات اتنی سادہ نہیں جتنی بیان کی 1939جاتی ہے۔ اس مسئلہ پر امیر جماعت محمد علی لاہوری صاحب نے ایک مستقل کتاب ’’رد تکفیر اہل قبلہ‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ اس کتاب کو بغور پڑھنے کے بعد ان کا جو نقطۂ نظر واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد کو مسیح موعود نہ ماننے والوں کی دو قسمیں ہیں:
    ۱… ’’وہ لوگ جو مرزاغلام احمد کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے۔ مگر انہیں کافر اور کاذب بھی نہیں کہتے۔ ایسے لوگ ان کے نزدیک بلاشبہ کافر نہیں ہیں بلکہ فاسق ہیں۔‘‘

    (النبوۃ فی الاسلام ص۲۱۵ ملخص)
    ۲… وہ لوگ جو مرزاغلام احمد کو کافر یا کاذب کہتے ہیں، ان کے بارے میں ان کا مسلک بھی یہی ہے کہ وہ ’’کافر‘‘ ہیں۔ چنانچہ محمد علی صاحب لکھتے ہیں:
    ’’گویا آپ (یعنی مرزاغلام احمد) کی تکفیر کرنے والے اور وہ منکر جو آپ کو کاذب یعنی مفتری بھی قرار دیتے ہیں، ایک قسم میں داخل ہیں اور ان کا حکم ایک ہے اور دوسرے منکروں کا حکم الگ ہے۔‘‘

    (رد تکفیر اہل قبلہ ص۴۰)
    آگے پہلی قسم کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’’حضرت مسیح موعود نے اب بھی اپنے انکار یا اپنے دعویٰ کا انکار کو وجہ کفر قرار نہیں دیا۔ بلکہ وجہ کفر صرف اسی بات کو قرار دیا ہے کہ مفتری کہہ کر اس نے مجھے کافر کہا۔ اس لئے اسی حدیث کے مطابق جو کافر کہنے والے پر کفر لوٹاتی ہے، اس صورت میں بھی کفر لوٹا۔‘‘

    (رد تکفیر اہل قبلہ ص۴۲)
    مزید لکھتے ہیں:
    ’’چونکہ کافر کہنے والا اور کاذب کہنے والا معناً یکساں ہیں، یعنی مدعی (مرزاصاحب) کی دونوں تکفیر کرتے ہیں۔ اس لئے دونوں اس حدیث کے ماتحت خود کفر کے نیچے آجاتے ہیں۔‘‘

    (ردتکفیر اہل قبلہ مصنف محمد علی لاہوری صاحب ص۴۲، طبع ۱۹۵۰ئ)
    1940نیز لاہوری جماعت کے معروف مناظر اختر حسین گیلانی لکھتے ہیں:’’جو (مرزاصاحب) کی تکذیب کرنے والے ہیں ان کے متعلق ضرور فرمایا کہ ان پر فتویٰ کفر لوٹ کر پڑتا ہے۔ کیونکہ تکذیب کرنے والے حقیقتاً مفتری قرار دے کر کافر ٹھہراتے ہیں۔‘‘
    (مباحثہ راولپنڈی ص۲۵۱، مطبوعہ قادیان)
    اس سے صاف واضح ہے کہ جو لوگ مرزاغلام احمد قادیانی کو اپنے دعوؤں میں کاذب (جھوٹا) قرار دیتے ہیں یا انہیں کافر کہتے ہیں۔ ان کو لاہوری جماعت بھی کافر تسلیم کرتی ہے۔ صرف تکفیر کی وجہ کا فرق ہے۔ جو لوگ لاہوریوں کے نزدیک کفر کے فتوے سے مستثنیٰ اور صرف فاسق ہیں وہ صرف ایسے غیراحمدی ہیں جو مرزاصاحب کو کاذب یا کافر نہیں کہتے۔ اب غور فرمائیے کہ عالم اسلام میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مرزاغلام احمد صاحب کی تکذیب نہیں کرتے؟ ظاہر ہے کہ جتنے مسلمان مرزاصاحب کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے، وہ سب ان کی تکذیب ہی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ سب لاہوری جماعت کے نزدیک بھی فتوائے کفر کے تحت آجاتے ہیں۔ کیونکہ مرزاصاحب کو مسیح موعود نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا عملاً ایک ہی بات ہے خود مرزاصاحب لکھتے ہیں:
    ’’جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔‘‘

    (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)
    منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں جج صاحبان نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزاصاحب کو نہ ماننا اور ان کی تکذیب کرنا ایک ہی بات ہے۔ لہٰذا جو فتویٰ تکذیب کرنے والوں پر لگے گا، وہ درحقیقت تمام غیراحمدیوں پر عائد ہوگا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
    ’’نماز جنازہ کے متعلق احمدیوں نے ہمارے سامنے بالآخر یہ مؤقف اختیار کیا کہ مرزاغلام احمد کا ایک فتویٰ حال ہی میں دستیاب ہوا ہے جس میں انہوں نے احمدیوں کو اجازت دی ہے کہ وہ ان مسلمانوں کی نماز جنازہ میں شریک ہو سکتے ہیں 1941جو مرزاصاحب کے مکذب اور مکفر نہ ہوں لیکن اس کے بعد بھی معاملہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ کیونکہ اس فتویٰ کا ضروری مفہوم یہی ہے کہ اس مرحوم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی جو مرزاصاحب کو نہ مانتا ہو۔ لہٰذا اس اعتبار سے یہ فتویٰ موجودہ طرز عمل ہی کی تائید وتصدیق کرتا ہے۔‘‘

    (رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ۱۹۵۴ء ص۲۱۲)
    اب غور فرمائیے کہ فتویٔ کفر کے اعتبار سے عملاً لاہوری اور قادیانی جماعتوں میں کیا فرق رہ گیا؟ قادیانی کہتے ہیں کہ تمام مسلمان غیراحمدی ہونے کی بناء پر کافر ہیں اور لاہوری جماعت والے کہتے ہیں کہ مرزاصاحب کو کاذب کہنے کی وجہ سے کافر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرزاصاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فتوائے کفر کے لوٹ کر پڑنے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اب اس اندرونی فلسفے کو وہ خود طے کریں کہ مسلمانوں کو کافر کہنے کی وجہ کیا ہے؟ لیکن عملی اعتبار سے مسلمانوں کے لئے اس کے سوا اور کیا فرق پڑا کہ ؎
    ستم سے باز آکر بھی جفا کی
    تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
    بعض مرتبہ لاہوری جماعت کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہم مرزاصاحب کی تکذیب کرنے والوں کو جو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس سے مراد ایسا کفر نہیں جو دائرۂ اسلام سے خارج کر دے۔ بلکہ ایسا کفر ہے جو ’’فسق‘‘ کے معنی میں بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کفر سے ان کی مراد ’’فسق‘‘ ہی ہے تو پھر جو غیراحمدی مرزاصاحب کو کافر یا کاذب نہیں کہتے، ان کے لئے اس لفظ ’’کفر‘‘ کا استعمال کیوں درست نہیں؟ جبکہ وہ بھی لاہوریوں کے نزدیک ’’فاسق‘‘ ضرور ہیں۔
    (النبوۃ فی الاسلام ص۲۱۵، طبع دوم ومباحثہ راولپنڈی ص۲۴۷)

اس صفحے کی تشہیر