1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

تیسرا اختلاف

حمزہ نے 'اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 1, 2015

  1. ‏ اپریل 1, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    تیسرا اختلاف


    تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اخروی نجات کیلئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانا کافی ہے مرزائی جماعت کا عقیدہ ہے کہ نجات کا دارو مدار مرزا غلام احمد پر ایمان لانے پر ہے(روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 435) اور جو شخص مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور ابدی جہنم کا مستحق ہے(مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 275، روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 167) نہ اسکے ساتھ نکاح جائز(برکات خلافت صفحہ 75) اور نہ ہی اسکی نماز درست ہے ۔(انوار خلافت صفحہ 93)

    مرزا صاحب کے متابعین کے سوا دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان کافر اور اولا د الزنا ہیں۔(روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 548، آئینہ صداقت صفحہ 35)
    چنانچہ اسی بنا پر چودھری ظفر اللہ نے قائد اعظم کے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی کہ ظفر اللہ کے نزدیک قائد اعظم کافر اور جہنمی تھے ۔

    قائد اعظم کی وصیت یہ تھی کہ میری نماز جنازہ شیخ الا سلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ قدس سرہ پڑھائیں ۔ چنا چہ وصیت کے مطابق شیخ الاسلام نے تمام ارکان دولت اور مسلمانان ملت کی موجودگی میں قائد اعظم کا جنازہ پڑھا اور اپنے دست مبارک سے ان کو دفن کیا ۔

    قائد اعظم کا مذہب

    اس وصیت اور طرزِ عمل سے ظاہر ہے کہ قائد اعظم کا مذہب وہی تھا جو حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کا تھا

    اور پاکستان اسی قسم کی اسلامی حکومت ہے کہ جس قسم کا اسلام شیخ الاسلام کا تھا ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اسی پاکستان کے شیخ الاسلام تھے اور ساری دنیا کو معلوم ہے کہ شیخ الاسلام عثمانی مرزائی جماعت کو مرتد اور خارج اسلام سمجھتے تھے اور ان کی نظر میں مسیلمہ پنجاب کا وہی حکم تھا جو شریعت میں یمامہ کے مسیلمہ کذاب کا ہے شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کی تحریرات اس بارہ میں صاف اور واضح ہیں ۔

    تمام روئے زمین کے کلمہ گو مسلمان مرزائیوں کے نزدیک کافر اور جہنمی اور اولا الزنا ہیں۔

    مرزا صاحب کا عقیدہ ہے کہ اگر اب کوئی شخص قرآن و حدیث کے ایک ایک حرف پر بھی عمل کرے مگر مرزا صاحب کو نبی نہ مانے تو وہ ایسا ہی کافر ہے جیسے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار اور مرزا صاحب کے تمام منکر اولاد الزنا ہیں۔ (قادیانی مذہب صفحہ 132)

اس صفحے کی تشہیر