1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

جزاء اﷲ عدُوّہ بابائہٖ ختم النبوّۃ (دشمنِ خدا کے ختم نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء)

حمزہ نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 19, 2014

  1. ‏ اگست 19, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جزاء اﷲ عدُوّہ بابائہٖ ختم النبوّۃ

    دشمنِ خدا کے ختم نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء

    مسئلہ۸۱: از شیخ خدا بخش اہلسنّت والجماعت محلہ سوئی گری کی پول، ۱۹، رجب ۱۳۱۷ھ
    کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولید ساکن مشہد کہ اپنے آپ کو سید کہلواتا، اپنا عقیدہ بایں طور پر رکھتا ہے کہ حضرت علی و فاطمہ و حسنین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو انبیاء و رسول کہنا ثابت ہے اور اپنے زعم میں اس کا ثبوت حدیثوں سے بتاتا ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والا مسلمان سنت و جماعت اولیائے کاملین سے ہے یا غالی رافضی کافر اولیائے شیاطین سے ؟ اور جو شخص عقیدہ کفریہ رکھے وہ سید ہوسکتا ہے، یا نہیں؟' اور اسے سید کہنا روا ہے یا نہیں؟ بَینوْا تُؤْجَرُوْا (بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔)

    الجواب
    الحمد ﷲ رب العٰلمین وسلام علی المرسلین، ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ و خاتم النبیین وکان اﷲ بکلّ شیئ علیما، یا من یصلی علیہ ھو وملٰئکتہ صل علیہ وعلٰی الہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما اٰمین، ربّ انّی اعوذبک من ھمزات الشیطٰین واعوذبک ربّ ان یحضرون وصلی اﷲ تعالٰی علٰی خاتم المرسلین اول الانبیاء خلقًا واٰخرھم بعثًا واٰلہ وصحبہ والتابعین ولعن وقتل واخزی وخذل مردۃ الجن وشٰیطین الانس واعاذنا ابدا من شرھم اجمعین اٰمین۔

    تمام خوبیاں اﷲ تعالٰی رب العالمین کو اور سلام تمام رسولوں پر، محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم تم میں سے کسی ایک مرد کے باپ نہیں لیکن اﷲ کے رسول اور نبیوں کے پچھلے، اور اﷲ تعالٰی ہر شئے کا عالم ہے اے وہ ذات جس پر اﷲ تعالٰی اور اس کے فرشتوں کے درود اور اس کے آل واصحاب پر اور سلام کامل۔ آمین۔ اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں شیاطین کے وسوسوں سے، اور اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں، اور صلوٰۃ اﷲ خاتم المرسلین پر جو تمام انبیاء سے پیدائش میں اول اور بعثت میں ان سے آخر اور اس کی آل واصحاب اور تابعین پر، اور لعنت اور ہلاکت، رسوائی اور ذلت ہو اﷲ تعالٰی کی طرف سے سرکش جنّوں اور انسانی شیطانوں پر، اور ان سب کے شر سے ہمیشہ ہمیں پناہ دے،آمین۔ت)

    اﷲ عزوجل سچا اور اس کا کلام سچا، مسلمان پر جس طرح لا الٰہ الا اﷲ ماننا اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی کو احد صمد لا شریک لہ جاننا فرضِ اوّل ومناط ایمان ہے یونہی محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا محال وباطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے۔
    ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النبیین (القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)
    ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔
    نص قطعی قرآن ہے، اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا نہ شاک کہ ادنٰی ضعیف احتمال خفیف سے توہّم خلاف رکھنے والا قطعاً اجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر، جو اس کے کافر ہونے میں شک و تردّد کو راہ دے وہ بھی کافر بین الکافر جلی الکفران ہے، ولید پلید جس کا قول نجس تراز بول، سوال میں مذکور، ضرور ولی ہے بیشک ضرور مگر حاشانہ ولی الرحمٰن بلکہ عدو الرحمن ولی الشیطان ہے، یہ جو میں کہہ رہا ہوں میرا فتوٰی نہیں اﷲ واحد قہار کا فتوٰی ہے، خاتم الانبیاء الاخیار کا فتوٰی ہے، علی مرتضٰی وبتول زہرا وحسن مجتبٰی وشہید کربلا تمام ائمہ اطہار کا فتوٰی ہے صلی اﷲ تعالٰی علٰی سید ھم ومولاھم وعلیھم وسلّم۔
    شفاء شریف واعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
    یکفر ایضا من کذب بشیئ مما صرح فی القراٰن من حکم او خبر، او اثبت ما نفاہ او نفی ما اثبتہ علٰی علم منہ بذٰلک، اوشک فی شیئ من ذٰلک
    ( اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ، فصل آخر فی الخطاء مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول، ص ۳۸۱)
    نیز تکفیر کی جائیگی جس نے قرآن کے صریح حکم یا خبر کی تکذیب کی، یا جس نے علم کے باوجود اس کی نفی کردہ کا اثبات کیا یا اس کے ثابت کردہ کی نفی کی، یا جس نے اس میں شک کیا۔۔
    فتاوٰی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے:
    الترددفی المعلوم من الدین بالضرورۃ کالا نکار۔
    (فتاوٰی حدیثیہ، باب اصول الدین، مطبعہ جمالیہ مصر، ص ۱۴۶)
    بدیہی ضروری دینی معلوم چیز میں تردد کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کا انکار کرنا ہے۔
    شفاء میں ہے:
    وقع الاجماع علٰی تکفیر کل من دافع نص الکتاب او خص حدیثا مجمعا علٰی نقلہ مقطوعا بہ مجمعا علی حملہ علی ظاھرہ ولھذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام اوو قف فیھم اوشک (فی کفرھم) اوصحح مذھبھم، وان اظھر الاسلام واعتقدہ واعتقد ابطال کل مذھب سواہ فھو کافر باظہار ما اظھر من خلاف ذٰلک۱ھ (الشفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات ، مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیۃ ۲ /۲۷۱)(نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی بیان ما ھو من المقالات ، دارالفکر بیروت، ۴/ ۱۰۔۵۰۹)
    مختصرا مزیدا من نسیم الریاض ما بین الھلا لین۔

    ایسے شخص کے کفر پر امت مسلمہ کا اجماع ہے جو کتاب اﷲ کی نص کا انکار کرے یا ایسی حدیث جس کے نقل پر یقین ہے اس کی تخصیص کرے حالانکہ اجماع کے مطابق اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے۔ اسی لئے ہم ایسے شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلام کے غیر کسی دین والے کی تکفیر نہ کرے یا توقف یا شک کرے (ان کے کفر میں ) یا ان کے مذہب کو صحیح سمجھے، اگر چہ ایسا شخص اسلام کا اظہار کرے اور عقیدہ رکھے اور اسلام کے سوا ہر مذہب کے بطلان کا عقیدہ رکھے اس سبب سے کہ وہ اپنے ظاہر کئے کا خلاف ظاہر کرتا ہے لٰہذا وہ کافر ہے ۱ھ مختصراً، ہلالین کے درمیان نسیم الریاض کی طرف سے زائد ہے ۔

    اسی میں ہے:
    اجمـاع علٰی کفــر من لم یکفـر کل من فارق دین المسلمین اووقف فی تکفیر ھم اوشک ( الشفاء للقاضی فصل فی تحقیق القول فی اکفار المتا ؤلین ،مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیۃ ۲ /۲۶۷)
    مختصرًا۔ اسلام سے علیحدگی اختیار کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے والے یا ان کی تکفیر میں توقف یا شک کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے والے کے کفر پر اجماع ہے، مختصراً ۔
    بزازیہ و درمختار وغیر ہما میں ہے:
    من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ( درمختار، باب المرتد، مطبع مجتبائی دہلی، ۱/ ۳۵۶)
    جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ کافر ہے
    بلکہ شخص مذکور پر لازم و ضرور ہے کہ اپنے آپ ہی اپنے کفر و الحاد و زندقہ و ارتداد کا فتوٰی لکھے، آخر یہ تو بداہۃً ضرورۃً موافقین ومخالفین حتی کہ کفار و مشرکین سب کو معلوم و مسلم کہ حضرات حسنین اور ان کے والدین کریمین رضی اﷲ تعالٰی عنہم مسلمان تھے، قرآن عظیم پر ایمان رکھتے اور بلاشبہ اسے کلام اﷲ جانتے، اس کے ایک ایک حرف کو حق مانتے، اور اسی قرآن کا ارشاد ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو قطعاً وہ بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین اعتقاد کرتے تو قطعاً یقینا اپنے آپ کو نبی ورسول نہ جانتے اور اس ادعائے ملعون کو باطل وملعون ہی مانتے کہ قول بالمتنافیین کسی عاقل سے معقول نہیں، اب یہ شخص کہ انہیں نبی ورسول مانتا ہے خود اپنے ہی ساختہ رسولوں کو کاذب و مبطل جانتا ہے اور رسولوں کی تکذیب کفرِ ظاہر ہے تو خود ہی اپنے عقیدے کی رو سے کافر ہے، غرض انہیں رسول کہہ کر اعتقاد ختم نبوت میں سچا جانا تو اس ایمانی عقیدے کا منکر ہو کر کافر ہوا، اور جھوٹا مانا تو اپنے ہی رسولوں کی آپ تکذیب کر کے کافر ہوا مفر کدھر، ولا حول ولا قوّۃ الاّ باﷲ العزیز الاکبر۔

    ف:اہل بیت کرام خواہ کسی امتی کو نبی ماننے والا خود اپنے اقرار سے بھی کافر ہے۔
    ولید کے مقابل ذکرِ احادیث ونصوص علمائے قدیم وحدیث کا کیا موقع کہ جو نص قطعی قرآن کو نہ مانے حدیث و علماء کی کیا قدر جانے، مگر بحمد اﷲ تعالٰی مسلمانوں کے لئے متعدد منافع ظاہر و بین ہیں، قرآن وحدیث دونوں ایمانِ مومن ہیں، احادیث کا بار بار تکرار اظہار دلوں میں ایمان کی جڑ جمائے گا، آیہ کریمہ میں وساوسِ ملعونہ بعض شیاطین نجدیہ کا استیصال فرمائے گا، ختم نبوت و خاتم النّبیین کے صحیح و نجیح معنی بتائے گا، بعض قاسمان کفرو مجون کے اختراع جنون کو مردود وملعون بنائے گا۔
    ولید پلید کے ادعائے خبیث ثبوت بالحدیث کا بطلان دکھائے گا، نصوصِ ائمہ سے اہلِ ایمان کو صحت فتوٰی پر زیادہ تر اعتبار واعتماد آئے گا معہذا ذکر محبوب راحتِ قلوب ہے، ان کی یاد سے مسلمانوں کا دل چین پائے گا۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  2. ‏ اگست 19, 2014 #2
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    بریت آدم اور ختم نبوت: فاقول وبحول اﷲ احول (ارشادات الٰہیہ)

    طبرانی معجم کبیر میں اور حاکم بافادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں، جب آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لغزش واقع ہوئی عرض کی یا رب اسئلک بحق محمد ان غفرت لی (الٰہی! میں تجھے محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما) ارشاد ہوا: اے آدم! تو نے محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم )کو کیونکر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا؟ عرض کی: الٰہی! جب تونے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا لا الٰہ الاّ اﷲ محمّد رسول اﷲ تو میں نے جاناتو نے اسی کا نام اپنے نامِ پاک کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا:
    صدقت یا اٰدم انہ لاحب الخلق الیّ واذ سألتنی بحقہ فقد غفرت لک ولو لا محمد ما خلقتک ( المستدرک للحاکم کتاب التاریخ، استغفار آدم علیہ السلام بحق محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت، ۲/ ۶۱۵) (دلا ئل النبوۃ للبیہقی باب ما جاء فی تحدّث رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۵/ ۴۸۹) زاد الطبرانی وھو اٰخر الانبیاء من ذرّیتک۔ ( المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث ۶۴۹۸، مکتبتہ المعارف ریاض، ۷/ ۲۵۹)
    اے آدم! تو نے سچ کہا بیشک وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے اور جب تونے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لئے مغفرت فرمائی، اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا ۔ طبرانی نے یہ اضافہ کیا: وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا نبی ہےصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔

    حضرت موسٰی علیہ السلام اور ختم نبوت
    ابو نعیم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    ان موسٰی لما نزلت علیہ التوراۃ وقرأھا وجد فیھا ذکر ھذہ الامۃ فقال یارب انی اجد فی الالواح امۃ ھم الاٰخرون السابقون فاجعلھا امتی قال تلک امّۃ احمد ( دلائل النبوۃ لا بی نعیم ذکر الفضیلۃ الرابعۃ، عالم الکتب بیروت ۱/ ۱۴)
    حضرت آدم علیہ السلام اور سرکارِ دو عالم
    ابن عساکر حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    لما خلق اﷲ اٰدم اخبرہ ببنیہ فجعل یرٰی فضائل بعضھم علٰی بعض فراٰی نوراً ساطعا فی اسفلھم، فقال یا رب من ھذا قال ھذا ابنک احمد و ھوالاول وھو الاٰخر وھو اول شافع واول مشفع۔ ( مختصر تاریخ دمشق لا بن عَساکر باب ماورد فی اصطفائہٖ علی العالمین الخ دارالفکر بیروت، ۲/ ۱۱۱) (کنزالعمال حدیث ۳۲۰۵۲، موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱/ ۴۳۷)
    جب اﷲ تعالٰی نے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیدا کیا انہیں ان کے بیٹوں پر مطلع فرمایا، وہ ان میں ایک کی دوسر ے پر فضیلتیں دیکھا کئے تو ان سب کے آخر میں بلند و روشن نور دیکھا، عرض کی، الٰہی!یہ کون ہے ؟ فرمایا: یہ تیرا بیٹا احمد ہے یہی اوّل ہے اور یہی آخر ہے اور یہی سب سے پہلا شفیع اور یہی سب سے پہلا شفاعت مانا گیاصلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
    خاتم النبیین۔
    نیز بطریق ابی الزبیر حضرت جابر بن عبدا ﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی ، فرمایا:
    بین کتفی اٰدم مکتوب، محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم۔ (مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر باب ذکر ما خص بہ و شرف بہ الخ عالم الکتب بیروت ۲/ ۱۳۷)
    محمداور دروازہ جنت
    ابن ابی شیبہ مصنف میں بطریق مصعب بن سعد حضرت کعب احبار رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
    انہ قال اول من یاخذ بحلقۃ باب الجنۃ فیفتح لہ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم ثم قرأ اٰیۃ من التوراۃ اضرابا قدما یا نحن الاخرون الاولون۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الفضائل، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی، ۱۱/ ۴۳۴)
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  3. ‏ اگست 19, 2014 #3
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    خاتم الانبیاء کی بشارت

    ابن سعد عامر شعبی سے راوی، سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے صحیفوں میں ارشاد ہوا:
    انہ کائن من ولدک شعوب وشعوب حتی یاتی النبی الامیّ الذی یکون خاتم الانبیاء (الطبقات الکبرٰی لا بن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارصادر بیروت، ۱/ ۱۶۳)
    بیشک تیری اولاد میں قبائل در قبائل ہوں گے یہاں تک کہ نبی امّی خاتم الانبیاء جلوہ فرما ہوصلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
    یعقوب علیہ السلام و خاتم الانبیاء
    محمد بن کعب قرظی سے راوی :
    اوحی اﷲ تعالٰی الٰی یعقوب انی ابعث من ذریتک ملوکا وانبیاء حتی ابعث النبی الحرمی الذی تبنی امتہ ھیکل بیت المقدس، وھو خاتم الانبیاء ،واسمہ احمد (الطبقات الکبرٰی لا بن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمد ؐ دارصادر بیروت، ۱/ ۱۶۳)
    اﷲ عزوجل نے یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وحی بھیجی میں تیری اولاد سے سلاطین وانبیاء بھیجتا رہا کروں گا یہاں تک کہ ارسال فرماؤں اس حرم محترم والے نبی کو جس کی امت بیت المقدس کی بلند تعمیر بنائے گی اور اس کا نام احمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہے۔
    اشعیاء اور احمد مجتبٰی
    ابن ابی حاتم وہب بن منبہ سے راوی :
    قال اوحی اﷲ تعالٰی الٰی اشعیاء انی باعث نبیا امیا افتح بہ آذانا صما وقلوبا غلفا واعینا عمیا، مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ وملکہ بالشام (وساق الحدیث فیہ) الکثیر الطیب من فضائلہ وشمائلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم الٰی ان قال ولا جعلن امتہ خیر امۃ اخرجت للناس (وذکر صفاتھم الٰی ان قال) اختم بکتابھم الکتب بشریعتھم الشرائع وبدینھم الادیان ۔الحدیث الجلیل الجمیل۔ (الخصائص الکبرٰی ، بحوالہ ابن ابی حاتم وابو نعیم با ب ذکرہ فی التوراۃ والا نجیل الخ دارالکتب الحدیثیہ، ۱/ ۳۴،۳۳) (الدرالمنثور، بحوالہ ابن ابی حاتم وابو نعیم آیۃ الذی یجدونہ مکتوبا فی التوراۃ الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران، ۳/ ۱۳۴)
    اﷲ عزوجل نے اشعیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر وحی بھیجی میں نبی اُمی کو بھیجنے والا ہوں، اس کے سبب بہرے کان اور غافل دل اور اندھی آنکھیں کھول دوں گا، اس کی پیدائش مکّے میں ہے اور ہجرت گاہ مدینہ اور اس کا تخت گاہ ملک شام، میں ضرور اس کی امت کو سب امتوں سے جو لوگوں کے لئے ظاہر کی گئیں بہتر و افضل کروں گا، میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم فرماؤں گا اور ان کی شریعت پر شریعتوں اور ان کے دین پر سب دینوں کو تمام کروں گا۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  4. ‏ اگست 19, 2014 #4
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    کتبِ سماوی میں اسمِ محمد

    ابن عساکر حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی :
    قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یسمّی فی الکتب القدیمۃ احمد و محمد والماحی والمقفی ونبی الملاحم وحمطایا وفار قلیطا وما ذماذ۔ (الخصائص الکبرٰی، بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس باب اختصاصہ صلی اﷲ علیہ وسلم الخ دارالکتب الحدیثیہ شارع الجمہوریہ، بعابدین ۱/ ۱۹۲)
    نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اگلی کتابوں میں میرے یہ نام تھے، احمد، محمد، ماحی (کفر و شرک کو مٹانے والے)، مقفی (سب پیغمبروں سے پیچھے تشریف لانے والے) نبی الملاحم (جہادوں کے پیغمبر)،حمطایا (حرم الٰہی کے حمایتی)، فارقلیطا(حق کو باطل سے جدا کرنے والے)، ماذماذ (ستھرے، پاکیزہ) صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
    خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
    سلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی :
    ھبط جبریل فقال ان ربک یقول قد ختمت بک الانبیاء وما خلقت خلقا اکرم علی منک وقرنت اسمک مع اسمی فلا اذکرنی موضع حتی تذکر معی، ولقد خلقت الدنیا واھلھالا عرفھم کرامتک علی ومنزلتک عندی، ولو لاک ما خلقت السٰموٰت والارض وما بینہما لولاک ما خلقت الدنیا ھذا مختصر ( مختصر تاریخ دمشق لا بن عساکر ذکر ما خصّ بہ وشرف بہ من بین الانبیاء دارالفکر بیروت، ۲/ ۳۷۔۱۳۶)
    جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے حاضر ہو کر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی حضور کا رب فرماتا ہے بیشک میں نے تم پر انبیاء کو ختم کیا اور کوئی ایسا نہ بنایا جو تم سے زیادہ میرے نزدیک عزت والا ہو، تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا کہ کہیں میرا ذکر نہ ہو جب تک میرے ساتھ یاد نہ کئے جاؤ، بیشک میں نے دنیا واہل دنیا سب کو اس لئے بنایا کہ تمہاری عزت اور اپنی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ ان پر ظاہر کروں، اور اگر تم نہ ہوتے تو میں آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے اصلاً نہ بناتا،صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
    آخر النبیین
    خطیب بغدادی حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    لما اسری بی الی السماء قربنی حتی کان بینی وبینہ کقاب قوسین او ادنٰی، وقال لی یامحمد ھل غمک ان جعلتک اٰخر النبیین، قلت لا، قال فھل غم امتک ان جعلتہم اٰخر الامم قلت لا، قال اخبر امتک انی جعلتہم اٰخر الامم لافضح الامم عندہ ولا افضحھم عند الامم (تاریخ البغداد ترجمہ، ۲۵۵۷، ابوعبداللہ احمد بن محمد النزلی، دارلکتب العربی، بیروت،۵/ ۱۳۰)
    رحمۃً للعٰلمین
    ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بزار وابویعلٰی و بیہقی بطریق ابو العالیہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل اسرا میں راوی:
    ثم لقی ارواح الانبیاء، فاثنوا علی ربھم فقال ابراھیم ثم موسٰی ثم داؤد ثم سلیمٰن ثم عیسٰی ثم ان محمد ا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اثنٰی علی ربہ فقال کلکم اثنی علی ربہ وانی مُثن علی ربی الحمد ﷲ الذی ارسلنی رحمۃ للعٰلمین وکافۃ للناس بشیرا ونذیرا و انزل علی الفرقان فیہ تبیان لکل شیئ وجعل امتی خیر امۃ اخرجت للناس وجعل امۃ وسطا وجعل امتی ھم الاولون وھم الاٰخرون ورفع لی ذکری وجعلنی فاتحاو خاتما فقال ابراھیم بھذا فضلکم محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم انتھٰی الی السدرۃ فکلمہ تعالٰی عند ذٰلک فقال لہ قد اتخذتک خلیلا وھو مکتوب فی التوراۃ حبیب الرحمن ورفعت لک ذکرک فلا اذکر الا ان ذکرت معی وجعلت امتک ھم الاولون والاٰخرون وجعلتک اوّل النبیین خلقا واٰخرھم بعثا وجعلتک فاتحاو خاتما۔ ھذا مختصر ملتقطا۔ (جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ سبحان الذی اسرٰی الخ ، المطبعۃ المیمنۃ مصر، ۱۵/ ۷ تا ۹)
    یعنی پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارواحِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ملے، پیغمبروں نے اپنے رب عزوجل کی حمد کی، ابراہیم پھر موسٰی پھر داؤد پھر سلیمان پھر عیسٰی علیہم الصلوٰۃ بترتیب حمد الٰہی بجا لائے اور اس کے ضمن میں اپنے فضائل و خصائص بیان فرمائے سب کے بعد محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب جل جلالہ کی ثنا کی اور فرمایا تم سب اپنے رب کی تعریف کرچکے اور اب میں اپنے رب کی حمد کرتا ہوں سب خوبیاں اﷲ کو جس نے مجھے سارے جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور تمام آدمیوں کی طرف بشارت دیتا اور ڈر سناتا مبعوث کیا اور مجھ پر قرآن اتارا جس میں ہر شیئ کا روشن بیان ہے اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی اور انہیں عدل و عدالت و اعتدال والی امت کیا اور انہیں کو اوّل اور انہیں کو آخر رکھا اور میرے واسطے میرا ذکر بلند فرمایا اور مجھے فاتحہ دیوان نبوت و خاتمہ دفتر رسالت بنایا،ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا ان وجوہ سے محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم تم سے ا فضل ہوئے پھر حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم سدرہ تک پہنچے، اس وقت رب عزجلالہ نے ان سے کلام کیا اور فرمایا میں نے تجھے اپنا خالص پیارا بنایا اور تیرا نام توریت میں حبیب الرحمن لکھا ہے، میں نے تیرے لئے تیرا ذکر اونچا کیا کہ میرا ذکر نہ ہو جب تک میرے ساتھ تیری یاد نہ آئے اور میں نے تیری امت کو یہ فضل دیا کہ وہی سب سے اگلے اور وہی سب سے پچھلے اور میں نے تجھے سب پیغمبروں سے پہلے پیدا کیا اور سب کے بعد بھیجا اور تجھے فاتح وخاتم کیا ۔ ﷺ
    آخری تدوین : ‏ اگست 19, 2014
    • Like Like x 2
    • Winner Winner x 1
  5. ‏ اگست 19, 2014 #5
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ارشاداتِ انبیاء و ملائکہ واقوال علماءِ کتبِ سابقہ

    حدیث شفاعت
    امام احمد وابو داؤد طیالسی مطولاً اور ابن ماجہ مختصراً اور ابو یعلٰی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم حدیث طویل شفاعتِ کبرٰی میں فرماتے ہیں :
    فیاتون عیسٰی فیقولون اشفع لنا الٰی ربک فلیقض بیننا فیقول انی لست ھناکم انی اتخذت الٰھًا من دون اﷲ، وانہ لا یھمنی الیوم الانفسی ولکن ان کل متاع فی وعاء مختوم علیہ أکان یقدر علی ما فی جوفہ حتی یفض الخاتم، فیقولون لا فیقول ان محمدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیاتونی فاقول انا لھا فاذا اراداﷲ ان یقضی بین خلقہ نادی مناد این احمد و امتہ فنحــن الاخــرون الاولون نحــن اٰخر الامــم واول من یحاسب، فتفرج لنا الامم عن طریقنا الحدیث ھذا مختصر۔ (مسند ابویعلٰی حدیث ۲۳۲۴عبداﷲ ابن عباس، مؤسسۃ علوم القرآن بیروت،۳/ ۶)
    یعنی جب لوگ اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حضور سے مایوس ہو کر پھریں گے تو سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے، مسیح فرمائیں گے میں اس منصب کا نہیں مجھے لوگوں نے اﷲ کے سوا خدا بنایا تھا مجھے آج اپنی ہی فکر ہے مگر ہے یہ کہ جو چیز کسی سر بمہر برتن میں رکھی ہو کیا بے مہر اٹھائے اسے پاسکتے ہیں، لوگ کہیں گے نہ، فرمائیں گے تو محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور یہاں تشریف فرماہیں، لوگ میرے حضور حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے میں فرماؤں گا میں ہو ں شفاعت کے لئے، پھر جب اﷲ عزوجل اپنی مخلوق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایک منادی پکارے گا کہاں ہیں احمد اور ان کی امت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، تو ہمیں پچھلے ہیں اور ہمیں اگلی سب امتوں سے پیچھے آئے اور سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور سب امتیں عرصاتِ محشر میں ہمارے لئے راستہ دیں گی۔

    انبیاء کا التجائے شفاعت

    احمد وبخاری و مسلم و ترمذی حدیث طویل شفاعت میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
    فیاتون محمد افیقولون یا محمد انت رسول اﷲ وخاتم الانبیاء (صحیح البخاری کتاب التفسیر، سورہ بنی اسرائیل، قدیمی کتب خانہ، کراچی ۲/ ۶۸۵)
    اولین و آخرین حضور خاتم النبیین افضل المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حضور آکر عرض کرینگے حضور اﷲ تعالٰی کے رسول اور تمام انبیاء کے خاتم ہیں ہماری شفاعت فرمائیں۔

    حضرت آدم علیہ السلام اور اذان اوّل

    ابو نعیم حلیۃ الاولیا اور ابن عساکر دونوں بطریق عطاء حضر ت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
    نزل اٰدم بالھند واستوحش فنزل جبریل فنادی بالاذان اﷲ اکبر اﷲ اکبر، اشہد ان لا الٰہ الااﷲ، اشھدان لا الٰہ الا اﷲ، اشھد ان محمد ارسول اﷲ، اشھد ان محمد ارسول اﷲ، قال اٰدم من محمد، قال اٰخر ولدک من الانبیاء (حلیۃ الاولیاء ترجمہ عمر و بن قیس الملائی، دارالکتاب العربی بیروت، ۵/ ۱۰۷)
    جب آدم علیہ الصلوٰۃ و السلام بہشت سے ہند میں اترے تو گھبرائے، جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اتر کر اذان دی، جب نام پاک آیا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا: محمد کون ہیں، کہا: آپ کی اولاد میں سب سے پچھلے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔

    انشراحِ صدر
    ابونعیم دلائل میں یونس بن میسرہ بن حلبَس سے مرسلاً اور دارمی وابن عساکر بطریق یونس ھذا عن ابی ادریس الخولانی عبدالرحمٰن بن غنم اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے موصولاً راوی وھذا لفظ المرسل رسو ل اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: فرشتہ سونے کا طشت لے کر آیا اور میرا شکم مبارک چیر کر دل مقدس نکالا اور اسے دھو کر کچھ اس پر چھڑک دیا، پھر کہا: انت محمد رسول اﷲ المقفی الحاشر (الحدیث ھذا مختصر) حضور محمد رسول اﷲ ہیں سب انبیاء کے بعد تشریف لانے والے تمام عالم کو حشر دینے والے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔(الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم عن یونس باب ما جاء فی قلبہ الشریف دارالکتب الحدیثۃ، ۱/ ۱۶۲)
    حدیث متصل میں یوں ہے: جبریل نے اتر کر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شکم چاک کیا، پھر کہا: قلب وکیع فیہ اذنان سمیعتان و عینان بصیر تان محمد رسول اﷲ المقفی الحاشر (الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین، ۱/ ۱۶۲) مضبوط و محکم دل ہے اس میں دوکان ہیں شنوا اور دو آنکھیں ہیں بینا، محمد اﷲ کے رسول ہیں۔ انبیاء کے خاتم اور خلائق کو حشر دینے والے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔

    بشارت میلا د الرسول

    ابونعیم بطریق شہر بن حوشب اور ابن عساکر بطریق مسیب بن رافع وغیرہ حضرت کعب احبار سے راوی، انہوں نے فرمایا:
    میرے باپ اعلم علمائے توراۃ تھے، اﷲ عزوجل نے جو کچھ موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اتارا ا س کا علم ان کے برابر کسی کو نہ تھا، وہ اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے نہ چھپاتے، جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا: اے میرے بیٹے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر ہاں دو ورق رکھے ہیں ان میں ایک نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا میں نے اس اندیشے سے تجھے ان دو ورقوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مُدعی نکل کھڑا ہو، تو اس کی پیروی کرلے یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگادی ہے ابھی ان سے تعرض نہ کرنا، نہ انہیں دیکھنا جب وہ نبی جلوہ فرما ہو اگر اﷲ تعالٰی تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیرو ہوجائے گا، یہ کہہ کر وہ مرگئے ہم ان کے دفن سے فارغ ہوئے مجھے ان دونوں ورقوں کے دیکھنے کا شوق ہر چیز سے زیادہ تھا، میں نے طاق کھولا ورق نکالے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں لکھا ہے: محمد رسو ل اﷲ خاتم النبیین لا نبی بعدہ مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ ۔ (الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین، ۱/ ۱۶۲) (تہذیب تاریخ دمشق، باب تطہیر قلبہ من انعل الخ، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱/ ۳۷۹) (الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل، دارالحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین،۱/ ۳۶)محمد اللہ کے رسول ہیں، سب انبیاء کے خاتم، ان کے بعد کوئی نبی نہیں، ان کی پیدائش مکے میں اور ہجرت مدینے کو صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔

    راہب کا استفسار

    بیہقی و طبرانی وابونعیم اور خرائطی کتاب الہواتف میں خلیفہ بن عبدہ سے راوی، میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا
    جاہلیت میں کہ ابھی اسلام نہ آیا تھا تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیو نکر رکھا، کہا میں نے اپنے باپ سے اس کا سبب پوچھا، جواب دیا کہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی سفر کو گئے تھے، ایک میں اور سفیان بن مجاشع بن دارم اور عمر بن ربیعہ اور اسامہ بن مالک، جب ملک شام میں پہنچے ایک تالاب پر اترے جس کے کنارے پیڑ تھے، ایک راہب نے اپنے دیر سے ہمیں جھانکا اور کہا تم کون ہو؟ ہم نے کہا اولادِ مضر سے کچھ لوگ ہیں۔ کہا: اما انہ سوف یبعث منکم و شیکا نبی فسارعوا الیہ و خذوا بحظکم منہ ترشدوا فانہ خاتم النبیین۔ سنتے ہو عنقریب بہت جلد تم میں سے ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے تم اس کی طرف دوڑنا اور اس کی خدمت واطاعت سے بہرہ یاب ہو ناکہ وہ سب میں پچھلا نبی ہے۔
    ہم نے کہا اس کا نام پاک کیا ہوگا؟ کہا محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔ جب ہم اپنے گھروں کو واپس آئے سب کے ایک ایک لڑکا ہوا اس کا نام محمد رکھا (الخصائص الکبرٰی بحوالہ البیہقی والطبرانی والخرائطی باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ، بعابدین ۱/ ۵۸۔۵۷) انتہی، واﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔

    قبل از ولادت شہادت ایمان

    زید بن عمر و بن نفیل کہ احد العشرۃ المبشرۃ سیدنا سعید بن زید کے والد ماجد ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم و عنہ موحدان و مومنان عہد جاہلیت سے تھے طلوعِ آفتاب عالمتاب اسلام سے پہلے انتقال کیا مگر اسی زمانے میں توحید الہٰی و رسالت حضرت ختم پناہی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شہادت دیتے، ابن سعد وابونعیم حضرت عامر بن ربیعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، میں زید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ملا مکہ معظمہ سے کوہ حرا کو جاتے تھے، انہوں نے قریش کی مخالفت اور ان کے معبودانِ باطل سے جدائی کی تھی، اس پر آج ان سے اور قریش سے کچھ لڑائی رنجش ہوچکی تھی، مجھے دیکھ کر بولے اے عامر!میں اپنی قوم کا مخالف اور ملت ابراہیم کا پیرو ہوا اسی کو معبود مانتا ہوں جسے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام پوجتے تھے، میں ایک نبی کا منتظر ہوں جو بنی اسماعیل اور اولاد عبدالمطلب سے ہوں گے ان کا نام پاک احمد ہے میرے خیال میں میں ان کا زمانہ پاؤں گا میں ابھی ان پر ایمان لاتا اور ان کی تصدیق کرتا ان کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں، تمہیں اگر اتنی عمر ملے کہ انہیں پاؤ تو میرا سلام انہیں پہنچانا، اے عامر! میں تم سے ان کی نعت و صفت بیان کئے دیتا ہوں کہ تم خوب پہچان لو، درمیانہ قد ہیں، سر کے بال کثرت وقلت میں معتدل، ان کی آنکھوں میں ہمیشہ سرخ ڈورے رہیں گے، ان کی شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے، ان کا نام احمد، اور یہ شہر ان کا مولد ہے، یہیں ان کی رسالت ظاہر ہوگی، ان کی قوم انہیں مکے میں نہ رہنے دے گی کہ ان کا دین اسے ناگوار ہوگا، وہ ہجرت فرما کر مدینے جائیں گے، وہاں سے ان کا دین ظاہر و غالب ہوگا، دیکھو تم کسی دھوکے فریب میں آکر ان کی اطاعت سے محروم نہ رہنا۔ فانی بلغت البلاد کلھا اطلب دین ابراھیم، وکل من اسأل من الیہود والنصارٰی و المجوس یقول ھذا الدین وراء ک، وینعتونہ مثل ما نعتہ لک، ویقولون لم یبق نبی وغیرہ۔ کہ میں دین ابراہیمی کی تلاش میں شہروں شہروں پھرا یہود ونصارٰی مجوس جس سے پوچھا سب نے یہی جواب دیا کہ یہ دین تمہارے پیچھے آتا ہے اور اس نبی کی وہی صفت بیان کی جو میں تم سے کہہ چکا اور سب کہتے تھے کہ ان کے سوا کوئی نبی باقی نہ رہا۔ عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جب حضور خاتم الانبیاء علیہ و علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نبوت ظاہر ہوئی میں نے زید رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی یہ باتیں حضور سے عرض کیں، حضور نے ان کے حق میں دعائے رحمت فرمائی اور ارشاد کیا قد ر أیتہ فی الجنۃ یسحب ذیلہ (الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن سعد وابی نعیم عن عامر بن ربیعہ، باب اخبارالاحبار الخ، دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین ۱/ ۶۲۔۶۱) میں نے اسے جنت میں دامن کشاں دیکھا۔
    • Like Like x 2
    • Winner Winner x 1
  6. ‏ اگست 19, 2014 #6
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    انکار ختم نبوت کی وجوہات

    اﷲ اﷲ اس زمانے کے یہود ونصارٰی ومجوس نے تو بالاتفاق حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوجانے کی شہادتیں دیں اور آج کل کے کذاب بد لگام مدعیان اسلام یہ شاخسانے نکالیں مگر ہے یہ کہ اس وقت تک ان فرقوں کو نہ حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے بغض وحسد تھا، نہ اپنے کسی پیشوا ئےمردود کا سخن مطرود بنانا مراد و مقصد، نہ اپنے کسی سگے بھائی کی بات رکھنی نہ بعد ظہور نور خاتمیت اپنے باپ دادا کی نبوت گھڑنی، وہ کیوں جھوٹ بولتے جو کچھ علوم انبیاء واخبار احبار ورہبان وعلماء سے پہنچا تھا صاف کہتے تھے، بعد ظہور اسلام ان ملا عنہ کے دل میں حسد و عنا د کا پھوڑا پھوٹا اور ان مدعیان اسلام پر قہر ٹوٹا کہ کسی خبیث کا پیشوا خبیث معاذ اﷲ آیہ کریمہ وخاتم النبیین میں خدا کا جھوٹ ممکن لکھ گیا، اب یہ جب تک اپنی سینہ زوری سے کچھ خاتم الانبیاء گھڑ کر نہ دکھائیں اگر چہ زمین کے اسفل السافلین طبقے میں تو گروجی پیشوا کی خدمت ہی کیا ہوئی، ہونہار سپوتوں کی سعادت ہی کیا ہوئی، کسی قاسم کفرو ضلالت قسیم و مباین حق وہدایت کا کوئی بھائی لگتا ان نئے مرتدوں کے ہاتھ بک گیا۔ ساتھ خاتم النبیین کا فتوٰی لکھ گیا، اب یہ اگر تازی نبوتوں کا ٹھیکہ نہ لیں ختم نبوت کے معنی متواتر کو مہمل نہ کہیں تو اکلوتے بھیا کی حمایت ہی کیا ہوئی، اختراعی طبیعت کی جودت ہی کیا ہوئی، کسی مردک کو یہ دھن سمائی کہ سید بنے تو کیا بنے، کوئی گنے تو نبی کا نواسا ہی گنے، پائچے کا رشتہ کوئی بات نہیں، پیرجی پوتے نہ بن بیٹھے تو کچھ کرامات نہیں وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔ (القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷) اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  7. ‏ اگست 19, 2014 #7
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مقوقس شاہ مصر کی تصدیق ولادت
    امام واقدی وابو نعیم حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل ملاقات مقوقس بادشاہ مصر میں راوی، جب ہم نے اس نصرانی بادشاہ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مدح وتصدیق سنی اس کے پاس سے وہ کلام سن کر اٹھے جس نے ہمیں محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے ذلیل و خاضع کردیا ہم نے کہا سلاطین عجم ان کی تصدیق کرتے اور ان سے ڈرتے ہیں حالانکہ ان سے کچھ رشتہ علاقہ نہیں اور ہم تو ان کے رشتہ دار ان کے ہمسائے ہیں وہ ہمارے گھر ہمیں دین کی طرف بلانے آئے اور ہم ابھی ان کے پیرو نہ ہوئے، پھر میں اسکندریہ میں ٹھہرا کوئی گرجا کوئی پادری قبطی خواہ رومی نہ چھوڑا جہاں جا کر محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صفت جو وہ اپنی کتاب میں پاتے ہیں نہ پوچھی ہو، ان میں ایک پادری قبطی سب سے بڑا مجتہد تھا اس سے پوچھا: ھل بقی احد من الانبیاء آیا پیغمبروں میں سے کوئی باقی رہا؟وہ بولا: نعم وھو اٰخر الانبیاء لیس بینہ وبین عیسٰی نبی قد امر عیسٰی باتباعہ وھو النبی الامی العربی اسمہ احمد۔ ہاں ایک نبی باقی ہیں وہ سب انبیاء سے پچھلے ہیں ان کے اور عیسٰی کے بیچ میں کوئی نبی نہیں، عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان کی پیروی کا حکم ہوا ہے وہ نبی امّی عربی ہیں ان کا نام پاک احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
    پھر اس نے حلیہ شریفہ و دیگر فضائل لطیفہ ذکر کئے، مغیرہ نے فرمایا: اور بیان کر۔ اس نے اور بتائے،ازانجملہ کہا: یخص بمالم یخصّ بہ الانبیاء قبلہ کان النبی یبعث الی قومہ وبعث الی الناس کافۃ۔انہیں وہ خصائص عطا ہوں گے جو کسی نبی کو نہ ملے ہر نبی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا وہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے۔مغیرہ فرماتے ہیں میں نے یہ سب باتیں خوب یاد رکھیں اور وہاں سے واپس آکر اسلام لایا۔(دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الخامس عالم الکتب بیروت، ص ۲۱ و ۲۲)

    میلاد النبی پر خاص تارے کا طلوع

    ابو نعیم حضرت حسّان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، میں سات برس کا تھا ایک دن پچھلی رات کو وہ سخت آواز آئی کہ ایسی جلد پہنچتی آواز میں نے کبھی نہ سنی تھی کیا دیکھتا ہوں کہ مدینے کے ایک بلند ٹیلے پر ایک یہودی ہاتھ میں آگ کا شعلہ لئے چیخ رہا ہے لوگ اس کی آواز پر جمع ہوئے وہ بولا: ھذا کو کب احمد قد طلع ھذا الکوکب لا یطلع الا بالنبوۃ ولم یبق من الانبیاء الاّ احمد ( دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت، ص ۱۷) (الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاخیار الخ دارالکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین،۱/ ۶۴) یہ احمد کے ستارے نے طلوع کیا، یہ ستارہ کسی نبی ہی کی پیدائش پر طلوع کرتا ہے اور اب انبیاء میں سوائے احمد کے کوئی باقی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔

    یہودی علماء کے ہاں ذکرِ ولادت

    امام واقدی وابو نعیم حضرت حویصربن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
    قـــال کنا و یھودفــینا کانوا یذکــرون نبیا یبعث بمکۃ اسمہ احمد ولم یبق من الانبیاء غیرہ وھو فی کتبنا (الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین،۱/ ۶۴) (دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت، ص ۱۷) یعنی میرے بچپن میں یہود ہم میں ایک نبی کا ذکر کرتے جو مکے میں مبعوث ہوں گے ان کا نام پاک احمد ہے اب ان کے سوا کوئی نبی باقی نہیں وہ ہماری کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔

    احبار کی زبان پر نعتِ نبی

    ابونعیم سعد بن ثابت سے راوی : قال کان احبار یہود بنی قریظۃ والنضیر یذکرون صفۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فلما طلع الکوکب الاحمر اخبروا انہ نبی وانہ لا نبی بعدہ اسمہ احمد ومھاجرہ الٰی یثرب فلما قدم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المدینۃ و نزلھا انکروا وحسدوا و بغوا (الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین، ۱ /۶۷) یہود بنی قریظہ وبنی نضیر کے علماء حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صفت بیان کرتے جب سرخ ستارہ چمکا تو انہوں نے خبر دی کہ وہ نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ان کا نام پاک احمد ہے، ان کی ہجرت گاہ مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لا کر رونق افروز ہوئے یہود براہِ حسد و بغاوت منکر ہوگئے۔
    فلما جاء ھم ماعرفوا کفروا بہ فلعنۃ اﷲ علی الکفٰرین (۱لقرآن الکریم ۲ / ۸۹) توجب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر۔

    اہل یثرب کو بشارت میلاد النبی

    زیاد بن لبید سے راوی، میں مدینہ طیبہ میں ایک ٹیلے پر تھا ناگاہ ایک آواز سنی کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے: یا اھل یثرب قد ذھبت واﷲ نبوۃ بنی اسرائیل، ھذا نجم قد طلع بمولداحمد وھو نبی اٰخرالانبیاء و مھاجرہ الٰی یثرب (الخصائص الکبرٰی باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین، ۱/ ۶۸) اے اہل مدینہ! خدا کی قسم بنی اسرائیل کی نبوت گئی، ولادتِ احمد کا تارا چمکا، وہ سب سے پچھلے نبی ہیں، مدینے کی طرف ہجرت فرمائیں گےصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔

    یوشع کی زبان پر نعتِ رسول

    حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی میں نے مالک بن سنان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو کہتے سنا کہ میں ایک روز بنی عبدالاشہل میں بات چیت کرنے گیا، یوشع یہودی بولا اب وقت آلگا ہے ایک نبی کے ظہور کا جس کا نام احمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم حرم سے تشریف لائیں گے ان کا حلیہ ووصف یہ ہوگا، میں اس کی باتوں سے تعجب کرتا اپنی قوم میں آیا وہاں بھی ایک شخص کو ایسا ہی بیان کرتے پایا، میں بنی قریظہ میں گیا وہاں بھی ایک مجمع میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ذکر پاک ہورہا تھا ان میں سے زبیر بن باطا نے کہا: قد طلع الکوکب الاحمر الذی لم یطلع الا لخروج نبی وظہورہ ولم یبق احد الا احمد وھذہ مھاجرہ (الخصائص الکبرٰی باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم داراکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین، ۱/ ۶۶۔۶۵) (دلائل النبوۃ، الفصل الخامس، عالم الکتب بیروت، ص۸) بیشک سرخ ستارہ طلوع ہو کر آیا یہ تارا کسی نبی ہی کی ولادت و ظہور پر چمکتا ہے اور اب میں کوئی نبی نہیں پاتا سوا احمد کے، اور یہ شہر ان کی ہجرت گاہ ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔

    تذییل

    ابن سعد و حاکم و بیہقی وابونعیم حضرت ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی مکہ معظمہ میں ایک یہودی بغرض تجارت رہتا جس رات حضور پُر نورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیدا ہوئے قریش کی مجلس میں گیا اور پوچھا کیا آج تم میں کوئی لڑکا پیدا ہوا انہوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم، کہا: احفظوا ما اقول لکم، ولد ھذہ اللیلۃ نبی ھذہٖ الامۃ الاخیرۃ بین کتفیہ علامۃ (الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن سعد و الحاکم والبیہقی وابی نعیم، باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ الخ، دارالکتب الحدیثہ، بعابدین ۱/ ۱۲۳) جو تم سے کہہ رہا ہوں اسے حفظ کر رکھو آج کی رات اس پچھلی امت کا نبی پیدا ہوا اس کے شانوں کے درمیان علامت ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  8. ‏ اگست 20, 2014 #8
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ارشادات حضور ختم الانبیاء علیہم افضل الصلوٰۃ والثناء

    وفیھا انواع نوع فی اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم۔
    اسماءُ النّبی
    اجلّہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالک و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان لی اسماء انا محمد و انا احمد وانا الماحی الذی یمحوا اﷲ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علٰی قدمی وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی۔ (صحیح مسلم کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ،کراچی ۲/ ۲۶۱)(شعب الایمان للبیہقی، فصل فی اسماء رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم حدیث ۱۳۹۷، دارالکتب العلمیہ، بیروت ۲/ ۱۴۱)بیشک میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالٰی میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
    سبعہ اخیرہ الاالطبرانی کی روایت میں والخاتم زائد ہے یعنی اور میں خاتم ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(شعب الایمان للبیہقی فصل فی اسماء رسول صلی اللہ علیہ وسلم حدیث ۱۳۹۸، دارالکتب العلمیہ بیروت۲/ ۱۴۱) (الطبقات الکبرٰی ذکر اسماء رسول صلی اللہ علیہ وسلم دار صادر بیروت ۲/ ۱۰۴)

    انا محمّد واحمد

    امام احمد مسند اور مسلم صحیح اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبۃ ونبی الرحمۃ۔ (صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۲/ ۲۶۱) میں محمد ہوں اور احمد اور سب انبیاء کے بعد آنے والا اور خلائق کو حشر دینے والا اور رحمت کا نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
    نام مبارک نبی التوبۃ عجب جامع و کثیر المنافع نام پاک ہے، اس کی تیرہ توجیہیں فقیر غفرلہ المولی القدیر نے شرح صحیح مسلم للامام النووی و شرح الشفا للقاری والخفاجی و مرقاۃ واشعۃ اللمعات شروح مشکوٰۃ و تیسیر وسراج المنیر و حفنی شروح جامع صغیرو جمع الوسائل شرح شمائل ومطالع المسرات ومواہب وشرح زرقانی ومجمع البحار سے التقاط کیں اور چار بتوفیق اﷲ تعالٰی اپنی طرف سے بڑھائیں سب سترہ ہوئیں، بعضہا املح من بعض واحلی یعنی ان میں ہر ایک دوسری سے لذیذ اور میٹھی ہے۔

    خصائصِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

    (۱)حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ہدایت سے عالم نے توبہ و رجوع الی اﷲ کی دولتیں پائیں حضور کی آواز پر متفرق جماعتیں، مختلف امتیں اﷲ عزوجل کی طرف پلٹ آئیں (مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، ص ۱۰۱)(شرح الشفالعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت، ۲/ ۳۹۳)(شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثانی، الفصل الاول حرف ن، دارالمعرفۃ،بیروت، ۳/ ۱۴۹)ذکرہ فی مطالع المسرات وقاری فی شرح الشفاء والشیخ المحقق فی اشعۃ اللمعات وعلیہ اقتصر فی المواھب اللدنیۃ شرح الاسماء العلیۃ وقبلہ شارحھا الزرقانی عند سردھا۔اس کو مطالع المسرات میں اور ملا علی قاری نے شرح شفاء میں، شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں ذکر کیا۔ اور اسی پر مواہب لدنیہ کے شرح اسماء مبارکہ میں اور اس سے قبل اپنے بیان میں شارح زرقانی نے انحصار کیا۔
    (۲) ان کی برکت سے خلائق کو توبہ نصیب ہوئی۔ (اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر۱،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر، ۴/ ۴۸۲) الشیخ فی اللمعات والاشعۃ، اقول ولیس بالاول فان الھدایۃ دعوۃ وارائۃ و بالبرکۃ توفیق الوصول۔اقول یہ چیز اول یعنی ہدایت سے حاصل نہیں ہوتی کیونکہ ہدایت دعوت، راستہ دکھانے اور برکت سے وصول مقصود کی توفیق کا نام ہے۔
    (۳) ان کے ہاتھ پر جس قد ر بندوں نے توبہ کی اور انبیائے کرام کے ہاتھوں پر نہ ہوئی الشیخ فی اللمعات واشار الیہ فی الاشعۃ حیث قال بعد ذکر الاولین۔ شیخ نے لمعات میں اسے ذکر کیا اور اشعہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا جہاں انہوں نے پہلے دونوں کا ذکر کیا وہاں یہ ہے۔ ایں صفت درجمیع انبیاء مشترک ست و در ذات شریف آں حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ازہمہ بیشتر و وافرو کامل ترست (اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر۱،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر، ۴/ ۴۸۲) تمام انبیاء میں یہ صفت مشترک ہے اور آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذات میں یہ سب سے زیادہ اور وافر اور کامل تر ہے۔
    صحیح حدیثوں سے ثابت کہ روز قیامت یہ امت سب امتوں سے شمار میں زیادہ ہوگی، نہ فقط ہر ایک امت جداگانہ بلکہ مجموع جمیع امم سے، اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں بحمدا ﷲ تعالٰی اسی(۸۰)ہماری اور چالیس(۴۰) میں باقی سب امتیں، والحمدﷲ رب العالمین۔
    (۴) وہ توبہ کا حکم لے کر آئے۔الامام النووی فی شرح صحیح مسلم والقاری فی جمع الوسائل والزرقانی فی شرح المواھب۔ اسے امام نووی نے شرح مسلم، ملا علی قاری نے جمع الوسائل اور زرقانی نے شرح مواہب میں ذکر کیا۔ (شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۔ ۲/ ۲۶۱)
    (۵) اﷲ عزوجل کے حضور سے قبول توبہ کی بشارت لائے۔شرح المواہب والمناوی فی التیسیر۔ (التیسیر شرح الجامع الصغیر،تحت حدیث انا محمد واحمد الخ مکتبہ امام الشافعی ریاض، ۱/ ۳۷۶)
    (۶) اقول بلکہ وہ توبہ عام لائے ہر نبی صرف اپنی قوم کے لئے توبہ لاتا ہے وہ تمام جہان سے توبہ لینے آئے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
    (۷) بلکہ توبہ کا حکم وہی لے کر آئے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء سب ان کے نائب ہیں تو روز اول سے آج تک اور آج سے قیامت تک جو توبہ خلق سے طلب کی گئی یا کی جائے گی، واقع ہوئی یا وقوع پائے گی۔سب کے نبی، ہمارے نبی توبہ ہیں۔صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ الفاسی فی مطالع المسرات فجزاہ اﷲ معانی المبرات وعوالی المسرات۔ یہ علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں ذکر کیا، اﷲ تعالٰی ان کو نیکیوں کا ذخیرہ اور بلند خوشیاں جزا میں عطا فرمائے۔(مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد، ص ۱۰۲۔۱۰۱)
    (۸) توبہ سے مراد اہل توبہ ہیں۔(مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد ص ۱۰۱و ۱۰۲) ای علی وزان قولہ تعالٰی واسئل القریۃ ۔اﷲ تعالٰی کے قول واسئل القریۃ کے انداز پر۔ یعنی توابین کے نبی، مطالع المسرات مع زیادۃ منی مطالع المسرات اور جو کچھ زیادہ ہے وہ میری طر ف سے۔اقول اب اوفق یہ ہے کہ توبہ سے مراد ایمان لیں۔ (التیسیر شرح الجامع الصغیر، تحت حدیث انا محمد واحمد، مکتبہ امام الشافعی،ریاض، ۱/ ۳۷۶) کما سوغہ المناوی ثم العزیزی فی شروح الجامع الصغیر۔ جیسا کہ علامہ مناوی نے پھر عزیزی نے الجامع الصغیر کی شرحوں میں ذکر فرمایا۔ حاصل یہ کہ تمام اہل ایمان کے نبی۔
    (۹) ان کی امت توّابین ہیں، وصفِ توبہ میں سب امتوں سے ممتاز ہیں، قرآن ان کی صفت میں التــائـبون (جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ الخ ،دارالمعرفۃ،بیروت،۲/ ۱۸۳) فرماتا ہے،جمع الوسائل،جب گناہ کرتے ہیں تو بہ لاتے ہیں یہ امت کا فضل ہے اور امت کا ہر فضل اس کے نبی کی طرف راجع،(مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ،سکھر، ص۱۰۱) مطالع، اقول وبہ فارق ماقبلہ فلیس فیہ حذف ولا یجوز۔میں کہتا ہوں،اس سبب سے وہ پہلے سے جدا ہوا تو اس میں نہ حذف ہے اور نہ یہ جائز ہے۔
    (۱۰) ان کی امت کی توبہ سب امتوں سے زائد مقبول ہوئی (حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علٰی ہامش السراج المنیر المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ،مصر،۲/ ۶۳)،حفنی علی الجامع الصغیر، کہ ان کی توبہ میں مجرد ندامت وترک فی الحال وعزم امتناع پر کفایت کی گئی، نبی الرحمۃصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے بوجھ اتار لئے اگلی امتوں کے سخت وشدید باران پر نہ آنے دئیے،اگلوں کی توبہ سخت سخت شرائط سے مشروط کی جاتی تھی گؤسالہ پرستی سے بنی اسرائیل کی توبہ اپنی جانوں کے قتل سے رکھی گئی کما نطق بہ القراٰن العزیزجیسا کہ قرآن نے اس کو بیان فرمایا۔ جب ستّر ہزار آپس میں کٹ چکے اس وقت توبہ قبول ہوئی۔
    شرح الشفاء للقاری (×××) والمرقاۃ ونسیم الریاض والفاسی ومجمع البحار۔برمز(ن) للامام النووی والذی رأیتہ فی منھاجہ ماقدمت فحسب۔ (ن کی رمز امام نووی کی طرف ہے)اور جو میں نے ان کی کتاب منہاج میں دیکھا وہ میں نے پہلے بیان کردیا ہے اور بس۔

    (×××)اقتصر الحنفی فی تقریر ھذا الوجہ علی ذکر الاستغفار فقط فقال لانہ قبل من امتہ التوبۃ بمجرد الاستغفار زاد میرک بخلاف الامم السابقۃ واستدل بقولہ تعالٰی فاستغفروااﷲ واستغفرلھم الرسول (مرقات المفاتیح کتاب الفضائل باب اسماء النبی وصفاتہ الخ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ، ۱۰/ ۵۰)(جمع الوسائل فی شرح الشمائل، باب ما جاء اسماء رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ ،بیروت، ۲/ ۱۸۳) الآیۃ، وقد اقرہ العلامۃ القاری فی المرقاۃ وفی شرح الشفاء و شدد النکیر علیہ فی جمع الوسائل شرح الشمائل فقال ھذا قول لم یقل بہ احد من العلماء فہو خلاف الامۃ وقد قال وارکان التوبۃ علی ما قالہ العلماء ثلثۃ الندم والقلع والعزم علی ان لا یعود ولا احد جعل الاستغفار اللسانی شرطا للتوبۃ (جمع الوسائل فی شرح الشمائل، باب ما جاء اسماء رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ ،بیروت، ۲/ ۱۸۳) الخ اقول رحم اﷲ مولانا القاری این فی کلام الحنفی ومیرک ان التوبۃ لا تقبل الا بالاستغفار فضلا عن اشتراط الاستغفار باللسان، انما ذکر ان مجرد الاستغفار کاف فی توبۃ ھذہ الامۃ من دون الزام امور اخر شاقۃ جدا کقتل الانفس وغیرہ مما الزمت بہ الامم السابقۃ فلا تشم منہ رائحۃ اشتراط الاستغفار لمطلق التوبۃ وان امعنت النظر لم تجد فیہ خلا فالحدیث الارکان ایضا فان الاستغفار الصادق لا ینشؤا الاعن ندم صحیح والندم الصحیح یلزمہ الاقلاع وعزم الترک، ولذا صح عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قولہ الندم توبۃ علا ان المقصود الحصر بالنسبۃ الٰی ما کان علی الامم السابقۃ من الامرثم ھذا کلہ لا مساغ لہ فی تقریرا لوجہ بما قررنا کما تری فاعرف ۱۲ منہ۔
    حنفی نے اپنی تقریر میں اس وجہ پر استغفار کے ذکر کا اقتصار کیا تو فرمایا آپ کی امت سے صرف استغفار پر توبہ قبول فرمائی، اس پر میرک نے ''بخلاف الامم السابقہ'' کا اضافہ کیا انہوں نے دلیل میں اﷲ تعالٰی کا قول''اﷲ تعالٰی سے استغفار کرو اور رسول ان کے لئے استغفار فرمائیں، الآیۃ'' ذکر کیا، علامہ قاری نے مرقات اور شرح شفاء میں اس کو ثابت رکھا جبکہ جمع الوسائل میں اس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بات علماء میں سے کسی نے نہ کی تو یہ امت کے خلاف ہے اور فرمایا کہ توبہ کے ارکان علماء کے بیان کے مطابق تین ہیں، ندامت اور چھوڑنا، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم، اور کسی نے بھی زبانی استغفار کو توبہ کی شرط نہ کہا الخ، اقول ( میں کہتا ہوں) اﷲ تعالٰی ملا علی قاری پر رحم فرمائے حنفی اور میرک کے کلام میں استغفار کے بغیر توبہ کا قبول نہ ہونا کہاں ہے چہ جائیکہ زبانی استغفار کی شرط ہو، انہوں نے تو یوں کہا ہے کہ اس امت کی توبہ میں صرف استغفار کافی ہے دوسرے شاق امور لازم نہیں مثلاً جانوروں کو قتل کرنا وغیرہ، جو کچھ پہلی امتوں پر لازم کیا گیا اس سے مطلق توبہ کے لئے استغفار کی شرط کی بو تک محسوس نہیں ہوتی ، اگر آپ گہری نظر سے دیکھیں تو اس میں آپ کوئی خلاف نہ پائیں گے کہ سچی استغفار کا وجود سچی ندامت کے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ صحیح ندامت کو گناہ کا ختم کرنا اور اس کے ترک کا عزم لازم ہے اسی معنی میں حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے صحیح منقول ہے کہ ندامت توبہ ہے اس کے علاوہ ان کا مقصد پہلی امتوں پر لازم امور کی نسبت سے حصر کرنا ہے، پھر اس وجہ کی تقریر میں اس تمام بیان کا کوئی دخل نہیں ہے جس کی ہم نے تقریر کی جیسا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں، غور کرو ۱۲ منہ۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  9. ‏ اگست 20, 2014 #9
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    (۱۱) وہ خود کثیر التوبہ ہیں، صحیح بخاری میں ہے: میں روز اللہ سبحانہ سے سو بار استغفار کرتاہوں۔ (شرح الشفاء لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض،فصل فی اسمائہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالفکربیروت، ۲/ ۳۹۳) (مرقات المفاتیح کتاب الفضائل باب اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم وصفاتہ مکتبہ حبیبہ کوئٹہ، ۱۰/ ۴۹،۵۰) شرح الشفا و المرقاۃ واللمعات والمجمع برمز (ط) للطیبی والزرقانی ہر ایک کی توبہ اس کے لائق ہے حسنات الابرار سیاٰت المقربین۔نیکوں کی خوبیاں مقربین کے گناہ ہیں۔
    حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہر آن ترقی مقامات قرب و مشاہدہ میں ہیں۔ وللاٰخرۃ خیر لک من الاولی(القرآن الکریم ۹۳/ ۴)آپ کے لئے ہر پہلی ساعت سے دوسری افضل ہے۔
    جب ایک مقام اجل واعلٰی پر ترقی فرماتے گزشتہ مقام کو بہ نسبت اس کے ایک نوع تقصیر تصوّر فرما کر اپنے رب کے حضور توبہ واستغفار لاتے تو وہ ہمیشہ ترقی اور ہمیشہ توبہ بے تقصیر میں ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطالع مع بعض زیادات منی (مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد، ص ۱۰۲)
    (۱۲) باب توبہ: انہیں کے امت کے آخر عہد میں باب توبہ بند ہوگا شرح الشفا للقاری (شرح الشفاء للعلی قاری علی ھامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ صلی اللہ علیہ وسلم، دارالفکر بیروت، ۲/ ۳۹۳)، اگلی نبوتوں میں اگر کوئی ایک نبی کے ہاتھ پر تائب نہ ہو تاکہ دوسرا نبی آئے اس کے ہاتھ پر توبہ لائے یہاں باب نبوت مسدود اور ختم ملّت پر توبہ مفقود، توجو ان کے دستِ اقدس پر توبہ نہ لائے اس کے لئے کہیں توبہ نہیں۔(مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد ۱۰۱)

    افادہ الفاسی وبہ استقام کونہ من وجود التسمی بھٰذا الاسم العلی السمی ۔
    یہ فائدہ علامہ فاسی نے بیان کیا اور اس معنی کی بناء پر آپ کی ذات مبارکہ کا اس نام سے مسمّٰی ہونا درست ہے۔

    (۱۳) فاتح باب توبہ: وہ فاتح باب توبہ ہیں سب میں پہلے سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توبہ کی وہ انہیں کے توسل سے تھی تو وہی اصل توبہ ہیں اور وہی وسیلہ توبہ، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،مطالع۔ (مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص ۱۰۱)

    (۱۴) کعب کا خون: وہ توبہ قبول کرنے والے ہیں ان کا دروازہ کرم توبہ و معذرت کرنے والوں کے لئے ہمیشہ مفتوح ہے جب سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کعب بن زہیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا خون ان کے زمانہ نصرانیت میں مباح فرمادیا ہے ان کے بھائی بجیربن زہیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انہیں لکھا فطر الیہ فانہ لا یرد من جاء تائبا ان کے حضور اڑ کر آؤ جو ان کے سامنے تو بہ کرتا حاضر ہو یہ اسے کبھی رد نہیں فرماتے۔ (مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص ۱۰۲) مطالع المسرات، اسی بناء پر کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہ جب حاضر ہوئے راہ میں قصیدہ نعتیہ بانت سعاد نظم کیا جس میں عرض رسا ہیں:

    انبئت ان رسول اﷲ اوعدنی والعفو عند رسول اﷲ مامول
    انی اتیت رسول اﷲ معتذرا والعذر عند رسول اﷲ مقبول

    (المجموعۃ النبہانیۃ فی المدائح النبویۃ قصیدہ بانت سعاد لکعب بن زہیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، دارالمعرفۃ،بیروت۳/ ۶)
    مجھے خبر پہنچی کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے میرے لئے سزا کا حکم فرمایا ہے اور رسول کے ہاں معافی کی امید کی جاتی ہے اور رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حضور معذرت کرتا حاضر ہوا اور رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں عذر دولت قبول پاتا ہے۔
    توراۃ مقدس میں ہے: لایجزئ بالسیئۃ السیئۃ ولکن یعفو ویغفر (صحیح البخاری کتاب البیوع باب کراھیۃ الصخب فی السوق، قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۸۵) (سنن دارمی باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، دارالمحاسن بیروت ۱/ ۱۵) ،احمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم بدی کا بدلہ بدی نہ دیں گے بلکہ بخش دیں گے اور مغفرت فرمائیں گے رواہ البخاری عن عبداﷲ بن عمرو والدارمی وابن سعد وعسا کر عن ابن عباس والاخیر عن عبداﷲ بن سلام، وابن ابی حاتم عن وھب بن منبہ وابونعیم عن کعب الاحبار رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔اس کو بخاری نے عبداﷲ بن عمرو اور دارمی، ابن سعد اور ابن عساکر نے ابن عباس سے اور آخری نے عبداﷲ بن سلام سے، ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے اور ابو نعیم نے کعب الاحبار رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے روایت کیا ۔
    ولہٰذا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اسمائے طیبہ ہیں عفو غفور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔

    (۱۵) نبی توبہ: اقول وہ نبی توبہ ہیں، بندوں کو حکم ہے کہ ان کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ و استغفار کریں اﷲ تو ہر جگہ سنتا ہے، اس کا علم اس کا سمع اس کا شہود سب جگہ ایک سا ہے مگر حکم یہی فرمایا کہ میری طرف توبہ چاہو تو میرے محبوب کے حضور حاضر ہو۔ قال تعالٰی: ولو انھم اذ ظلموا انفسہم جاؤک فاستغفروااﷲ واستغفرلھم الرسول لوجدوااﷲ توابًا رحیما (القرآن الکریم ۴/ ۶۴)
    اگر وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے پاس حاضر ہو کر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول ان کی مغفرت مانگے تو ضرور خدا کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ حضور کے عالم حیات ظاہری میں حضور ظاہر تھا،اب حضور مزار پرُ انوار ہے اور جہاں یہ بھی میسر نہ ہو تو دل سے حضور پر نور کی طرف توجہ حضور سے توسل فریاد، استغاثہ،طلب شفاعت کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اب بھی ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔
    ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں: روح النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام (شرح شفاء للقاری علی ہامش نسیم الریاض، الباب الرابع من القسم الثانی، مطبعۃ الازہر یۃ المصریۃ،مصر ۳/ ۴۶۴) نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔

    (۱۶) وہ مفیض توبہ ہیں توبہ لیتے بھی یہی ہیں اور دیتے بھی یہی، یہ توبہ نہ دیں تو کوئی توبہ نہ کرسکے، توبہ ایک نعمتِ عظمٰی بلکہ اجل نعم ہے، اور نصوص متواترہ اولیائے کرام وعلمائے اعلام سے مبرہن ہوچکا کہ ہر نعمت قلیل یا کثیر، صغیر یا کبیر، جسمانی یا روحانی، دینی یا دنیوی ، ظاہری یا باطنی، روز اول سے اب تک، اب سے قیامت تک، قیامت سے آخرت،آخرت سے ابد تک، مومن یا کافر، مطیع یا فاجر، ملک یا انسان، جن یا حیوان بلکہ تمام ماسوا اﷲ میں جسے جو کچھ ملی یا ملتی ہے یا ملے گی اس کی کلی انہیں کے صبائے کرم سے کھلی اور کھلتی ہے اور کھلے گی، انہیں کے ہاتھوں پر بٹی اور بٹتی ہے یہ سرا لو جو دواصل الوجود وخلیفۃ اﷲ الاعظم وولی نعمت عالم ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یہ خود فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : انا ابوالقاسم اﷲ یعطی وانا اقسم (ف) (المستدرک للحاکم،کتاب التاریخ ذکر اسماء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالفکربیروت، ۲/ ۶۰۴) رواہ الحاکم فی المستدرک وصححہ واقرہ الناقدون۔ میں ابوالقاسم ہوں اﷲ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور اس کی تصحیح کی اور تحقیق کرنے والوں نے اسے ثابت رکھا ہے۔
    ف: ہر نعمت ہر شخص کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ملی اور ملتی ہے اور ملے گی۔
    ان کا رب اﷲ عزوجل فرماتا ہے: وما ارسلنٰک الارحمۃ للعٰلمین (القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۷) ہم نے نہ بھیجا تمہیں مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
    فقیر غفر اﷲ تعالٰی نے اس جا نفزا وایمان افروز ودشمن گزا وشیطان سوز بحث کی تفصیل جلیل اور اس پر نصوص قاہرہ کثیرہ وافر کی تکثیر جمیل اپنے رسالہ مبارکہ سلطنت المصطفٰی فی ملکوت الورٰی میں ذکر کی والحمد ﷲ رب العٰلمین
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  10. ‏ اگست 20, 2014 #10
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    (۱۷) اقول وہ نبی توبہ ہیں کہ گناہوں سے ان کی طرف توبہ کی جاتی ہے توبہ میں انکا نام نامِ پاک نام جلالت حضرت عزت جلالہ کے ساتھ لیا جاتا ہے کہ میں اﷲ و رسول کی طرف توبہ کرتا ہوں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
    صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف میں ہے امّ المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے عرض کی : یا رسول اﷲ اتوب الی اﷲ والی رسولہ ما ذا اذنبت۔ یا رسول اﷲ! میں اﷲ اور اﷲ کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی؟۔(صحیح البخاری،کتاب النکاح باب ھل یرجع اذا راٰی منکراً فی الدعوۃ، قدیمی کتب خانہ،کراچی۔۲/ ۷۷۸)
    معجم کبیر میں حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے ابوبکر صدیق وعمر فاروق وغیرہما چالیس اجلّہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلا کر لرزتے کا نپتے حضور سے عرض کی: تبنا الی اﷲ والٰی رسولہ۔ہم اﷲ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتے ہیں۔ (المعجم الکبیر، حدیث ۱۴۲۳، المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت، ۲/ ۹۵و ۹۶)
    فقیر نے یہ حدیثیں مع جلیل و نفیس بحثیں اپنے رسالہ مبارکہ الامن والعلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء میں ذکر کیں۔
    اقول توبہ کے معنی ہیں نافرمانی سے باز آنا، جس کی معصیت کی ہے اس سے عہد اطاعت کی تجدید کر کے اسے راضی کرنا، اور نص قطعی قرآن سے ثابت کہ اﷲ عزوجل کا ہر گنہگار حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا گنہگار ہے۔قال اﷲ تعالٰی: من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ (القرآن الکریم ۴/ ۸۰)جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
    ویلز مہ عکس النقیض من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول وھو معنی قولنا من عصی اﷲ فقد عصی الرسول۔ اس کو عکس نقیض،من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول، لازم ہے اور ہمارے قول''من عصی اﷲ فقد عصی الرسولکا یہی معنی ہے۔اور قرآن عظیم حکم دیتا ہے کہ اﷲ و رسول کو راضی کرو۔ قال اﷲ تعالٰی: واﷲ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوامؤمنین (القرآن الکریم ۹/ ۶۲)سب سے زیادہ راضی کرنے کے مستحق اﷲ ورسول ہیں اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہیں۔
    نسأل اﷲ الایمان والامن والامان و رضا ہ ورضی رسولہ الکریم علیہ و علٰی اٰلہ الصلوٰۃ والتسلیم۔ ہم اﷲ تعالٰی سے ایمان، امن وامان، اس کی رضا، اس کے رسول کریم کی رضا چاہتے ہیں، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ الصلوٰۃ والتسلیم۔یہ نفیس فوائد کہ استطراداً زبان پر آگئے قابل حفظ ہیں کہ اس رسالے کے غیر میں نہ ملیں گے یوں تو
    ؎ ہر گُلے را رنگ و بوُئے دیگر ست
    ہر پھول کا رنگ و خوشبو علیحدہ ہے۔مگر میں امید کرتا ہوں کہ فقیر کی یہ تین توجہیں اخیر بحمد اﷲ تعالٰی چیزے دیگر ہیں وباﷲ التوفیق۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1

اس صفحے کی تشہیر