1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

جزاء اﷲ عدُوّہ بابائہٖ ختم النبوّۃ (دشمنِ خدا کے ختم نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء)

حمزہ نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 19, 2014

  1. ‏ اگست 20, 2014 #11
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    توبہ قبول کرنے والے نبی


    امام احمد وابن سعدوابن ابی شیبہ اور امام بخاری تاریخ اور ترمذی شمائل میں حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، مدینہ طیبہ کے ایک راستے میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مجھے ملے ارشاد فرمایا: انا محمد وانا احمد وانا نبی الرحمۃ ونبی التوبۃ وانا المقفی وانا الحاشر و نبی الملاحم۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں رحمت کا نبی ہوں، میں توبہ کا نبی ہوں، میں سب میں آخر نبی ہوں، میں حشر دینے والا ہوں، میں جہادوں کا نبی ہوں،صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ ( شمائل الترمذی مع جامع الترمذی باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۵۹۷)(مسند احمد بن حنبل، حدیث حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ، دارالفکربیروت، ۵/ ۴۰۵)
    مالکِ لوائے حمد
    طبرانی معجم کبیر اور سعید بن منصور سنن میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انا محمد وانا احمد وانا الحاشر الذی احشر الناس علٰی قدمی، وانا ماحی الذی یمحوا اﷲ بی الکفر، فاذا کان یوم القٰیمۃ کان لواء الحمدمعی، وکنت امام المرسلین وصاحب شفاعتھم۔میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو اپنے قدموں پر میں حشر دوں گا، میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالٰی میرے سبب سے کفر کو محو فرماتا ہے، قیامت کے دن لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہوگا، میں سب پیغمبروں کا امام اور ان کی شفاعتوں کا مالک ہوں گا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ اسمائے طیبہ خاتم و عاقب ومقفی تو معنی ختم نبوت میں نص صریح ہیں، علماء فرماتے ہیں اسم پاک حاشر بھی اسی طرف ناظر۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث ۱۷۵۰، باب من اسمہ جابر بن عبداﷲ، المکتبۃ الفیصلیہ بیروت،۲/ ۱۸۴)
    امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں: قال العلماء معنا ھما (ای معنی روایتی قدمی بالتثنیۃ والافراد) یحشرون علٰی اثری وزمان نبوتی ورسالتی ولیس بعدی نبی۔ علماء نے فرمایا ان دونوں یعنی قدمی مفرد اور قدمی تثنیہ کا معنی یہ ہے کہ لوگوں کا حشر میرے پیچھے میری رسالت ونبوت کے زمانہ میں ہوگا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم، باب فی اسمائہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۲/ ۲۶۱)
    تیسیر میں ہے: ای علی اثر نوبتی ای زمنھا ای لیس بعدہ نبی( یعنی میری نبوت کے زمانہ کے بعد یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان لی اسماء، مکتبہ امام شافعی الریاض، ۱/ ۳۴۳)

    جمع الوسائل میں ہے: قال الجزری ای یحشر الناس علٰی اثر زمان نبوتی لیس بعدی نبی۔جزری نے فرمایا یعنی لوگوں کا حشر میری نبوت کے زمانہ کے بعد ہوگا میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔(جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت، ۲/ ۱۸۲)

    دس اسمائے مبارکہ

    ابن مردویہ تفسیر اور ابو نعیم دلائل میں اور ابن عدی وابن عساکر ودیلمی حضرت ابو الطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان لی عشرۃ اسماء عند ربی انا محمد واحمد والفاتح والخاتم وابو القاسم والحاشر والعاقب والماحی ویس وطٰہٰ ۔میرے رب کے یہاں میرے دس نام ہیں، محمد و احمد وفاتح عالم ایجاد وخاتم نبوت وابو القاسم و حاشر و آخر الانبیاء وماحی کفر و یس و طٰہٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(الکامل فی ضعفاء ، ترجمہ سیف بن وہب، دارالفکر بیروت، ۳/ ۱۲۷۳)(دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الثالث، عالم الکتب بیروت، ص۱۲)(تہذیب تاریخ ابن عساکر، باب معرفۃ اسمائہٖ الخ داراحیاء التراث العربی،بیروت، ۱/ ۲۷۵)
    ابن عدی کامل میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ان لی عند ربیّ عشرۃ اسماء میرے رب کے پاس میرے لیئے دس نام ہیں، ازانجملہ محمد واحمد وماحی وحاشر وعاقب یعنی خاتم الانبیاء ورسول الرحمۃ ورسول التوبہ ورسول الملاحم ذکر کر کے فرمایا: وانا المقفی قفیت النبیین عامۃ وانا قثم۔میں مقفی ہوں کہ تمام پیغمبروں کے بعد آیا اور میں کامل جامع ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ وہب بن وھب بن خیر بن عبداﷲ بن زہیر، دارالفکر بیروت، ۷/ ۲۵۲۷)
    تنبیہ
    یہ حدیث ابن عدی نے مولٰی علی وام المؤمنین صدیقہ واسامہ بن زید و عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی روایت کی، کما فی مطالع المسرات فان کان کلھا عاقب او مقف ونحوھما کانت خمسۃ احادیث۔جیسا کہ مطالع المسرات میں ہے تو اگر تمام میں عاقب یا مقف وغیر ہما ہوں تو پانچ احادیث ہوئیں۔

    الحاشر والعاقب

    حاکم مستدرک میں بافادہ تصحیح حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کنیسہ یہود میں تشریف لے گئے، میں ہمرکاب تھا،فرمایا، اے گروہ یہود! مجھے بارہ آدمی دکھاؤ جو گواہی دینے والے ہوں کہ لا الہٰ الا اﷲ محمد رسول اﷲ، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، اﷲ عزوجل سب یہود سے اپنا غضب یعنی جس میں وہ زمانہ موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے گرفتار ہیں۔ کہ وباؤا بغضب من اﷲ فباؤا بغضب علی غضب (القرآن الکریم ۲/ ۶۱و۹۰)اور خدا کے غضب میں لوٹے تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے۔اٹھا لے گا، یہود سن کر چپ رہے کسی نے جواب نہ دیا۔ حضور نے فرمایا: ابیتم فواﷲ لانا الحاشروانا العاقب وانا النبی المصطفٰی اٰمنتم اوکذبتم ۔ تم نے نہ مانا خدا کی قسم بیشک میں حاشر ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں اور میں نبی مصطفی ہوں خواہ تم مانو یا نہ مانو۔ (المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، مطبع دارالفکر بیروت، ۳/ ۴۱۵)

    رسول جہاد

    ابن سعد مجاہد مکی سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انا محمد واحمد انا رسول الرحمۃ انا الملحمۃ انا المقفی والحاشر۔ میں محمد واحمد ہوں، میں رسول رحمت ہوں، میں رسول جہاد ہوں، میں خاتم الانبیا ہوں، میں لوگوں کو حشر دینے والا ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اسماء الرسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارصادر،بیروت،۱/ ۱۰۵)

    نوع اٰخر: ھو الاوّل والاٰخر والظاھر والباطن (۱لقرآن الکریم ۵۷/ ۳)
    وہی ہیں اوّل وہی ہیں آخر وہی ہیں باطن وہی ہیں ظاھر
    انہیں سے عالم کی ابتدا ہے وہی رسولوں کی انتہا ہیں
    صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: نحن الاٰخرون السابقون یوم القٰیمۃ۔ہم زمانے میں سب سے پچھلے اور قیامت میں سب سے اگلے ہیں۔(صحیح البخاری، کتاب الجمعہ،باب فرض الجمعہ، قدیمی کتب خانہ،کراچی، ۱/ ۱۲۰)(صحیح مسلم ،کتاب الجمعہ،باب فضیلۃ یوم الجمعۃ، قدیمی کتب خانہ، کراچی،۱/ ۲۸۲)
    مسلم وابن ماجہ ابوہریرہ وحذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: نحن الاٰخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القٰیمۃ المقضی لھم قبل الخلائق۔ ہم دنیا میں سب کے بعد اور آخرت میں سب پر سابق ہیں، تمام جہان سے پہلے ہمارے لئے حکم ہوگا۔(صحیح مسلم ،کتاب الجمعہ،باب فضیلۃ یوم الجمعۃ ، قدیمی کتب خانہ، کراچی،۱/ ۲۸۲)
    دارمی ابن مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان اﷲ ادرک بی الاجل المرجوواختار نی اختیار افنحن الاٰخرون ونحن السابقون یوم القٰیمۃ۔ بیشک اﷲ نے مجھے مدّت اخیر وزمانہ انتظار پر پہنچایا اور مجھے چن کر پسند فرمایا تو ہمیں سب سے پچھلے اور ہمیں روز قیامت سب سے اگلے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(کنز العمال بحوالہ الدارمی، حدیث ۳۲۰۸۰، موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۱/ ۴۴۲)
    اس حدیث میں نسخ مختلف ہیں بعض میں یوں ہے: ان اﷲ ادرک بی الاجل المرحوم،و اختصر لی اختصارا۔ (سنن الدارمی باب ۸، ما اعطی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من الفضل، دارالمحاسن، للطباعۃ مصر، ۱/ ۳۲) مجھے اﷲ عزوجل نے محض رحمت کے وقت پہنچایا اور میرے لئے کمال اختصار فرمایا۔ اس اختصار کی شرح و تفسیر پانچ وجہ منیر پر فقیر نے ۱۳۰۵ھ میں اپنے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین میں بیان کی۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  2. ‏ اگست 20, 2014 #12
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آخرزمان اور اولین یوم قیامت


    اسحٰق بن راہویہ مسند اور ابوبکر ابن ابی شیبہ استاذ بخاری و مسلم مصنف میں مکحول سے راوی، امیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ایک یہودی پر کچھ آتا تھا لینے کے لئے تشریف لے گئے اور فرمایا: لا والذی اصطفٰی محمدا علی البشر لا افارقکقسم اس کی جس نے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو تمام آدمیوں سے برگزیدہ کیا میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔یہودی بولا: واﷲ! خدا نے انہیں تمام بشر سے افضل نہ کیا، امیر المؤمنین نے اسے تمانچہ مارا، وہ بارگاہ رسالت میں نالشی آیا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم اس تمانچہ کے بدلے اسے راضی کردو (یعنی ذمی ہے) اورہاں اے یہودی! آدم صفی اﷲ،ابراہیم خلیل اﷲ،نوح نجی اﷲ،موسٰی کلیم اﷲ،عیسٰی روح اﷲ ہیں وانا حبیب اﷲ اور میں اﷲ کا پیارا ہوں، ہاں اے یہودی! اﷲ نے اپنے دو ناموں پر میری امت کے نام رکھے اﷲ سلام ہے اور میری امت کا نام مسلمین رکھا اور اﷲ مومن ہے اور میری امت کو مومنین کا لقب دیا، ہاں اے یہودی! تم زمانہ میں پہلے ہو ونحن الاٰخرون السابقون یوم القٰیمۃ اور ہم زمانے میں بعد اور روز قیامت میں سب سے پہلے ہیں، ہاں ہاں جنت حرام ہے انبیاء پر جب تک میں اس میں جلوہ افروز نہ ہوؤں اور حرام ہے امتوں پر جب تک میری امت نہ داخل ہو ۔صلی اللہ تعالی علیک وعلیہم وسلم ۔(المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، حدیث ۱۱۸۵۱، ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ، کراچی، ۱۱/ ۵۱۱)

    دریائے رحمت

    بیہقی شعب الایمان میں ابو قلابہ سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انما بعثت فاتحاوخاتما۔ میں بھیجا گیا دریائے رحمت کھولتا اور نبوت ورسالت ختم کر تا ہوا۔(بیہقی شعب الایمان، حدیث ۵۲۰۲،دارالکتب العلمیہ،بیروت،۴/ ۳۰۸)

    آخرین بعثت

    ابن ابی حاتم و بغوی وثعلبی تفاسیر اور ابو اسحٰق جوزجانی تاریخ اور ابو نعیم دلائل میں بطریق عدیدہ عن قتادۃ عن الحسن عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مسنداً اور ابن سعد طبقات اور ابن لال مکارم الاخلاق میں قتادہ سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آیہ کریمہ واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح وابراھیم وموسٰی وعیسٰی بن مریم کی تفسیر میں فرمایا:
    کنت اول النبیین فی الخلق واٰخرھم فی البعث میں سب نبیوں سے پہلے پیدا ہوا اور سب کے بعد بھیجا گیا۔ قتادہ نے کہا: فبداء بی قبلھم۔اسی لئے رب العزت تبارک و تعالٰی نے آیہ کریمہ میں انبیائے سابقین سے پہلے حضور پر نور کا نام پاک لیا، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم(تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیۃ واذ اخذنا من النبیین الخ حدیث ۱۷۵۹۴ مکتبہ نزار مصطفی الباز مکہ المکرمۃ ۹/ ۳۱۱۶)(تفسیر نبوی المعروف معالم التنزیل علی ہامش الخازن،تحت آیۃ واذا خذنا من النبیین الخ مصطفی البابی الحلبی مصر ۵/ ۲۳۲)

    تذییل

    ابو سہل قطان اپنے امالی میں سہل بن صالح ہمدانی سے راوی، میں نے حضرت سیدنا امام باقر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تو سب انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے حضور کو سب پر تقدم کیونکر ہوا، فرمایا: ان اﷲ تعالٰی لما اخذ من بنی اٰدم من ظہور ھم ذریاتھم واشہد ھم علٰی انفسھم الست بربکم کان محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اول من قال بلٰی ولذٰلک صار یتقدم الانبیاء وھو اٰخر یبعث۔جب اﷲ تعالٰی نے آدمیوں کی پیٹھوں سے ان کی اولادیں روز میثاق نکالیں اور انہیں خود ان پر گواہ بنانے کو فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں، تو سب سے پہلے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کلمہ بلٰی عرض کیا کہ ہاں کیوں نہیں، اس وجہ سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سب انبیاء پر تقدم ہوا حالانکہ حضور سب کے بعد مبعوث ہوئے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی سہل باب خصوصیۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بکونہ اول النبیین فی الخلق،دارالکتب الحدیثہ بعابدین ۱ /۹)

    حضرت فاروق کا طریق نداو خطاب بعد از وصال

    شفا شریف امام قاضی عیاض و احیا ء العلوم امام حجۃ الاسلام ومدخل امام ابن الحاج واقتباس الانوار علامہ ابو عبداﷲ محمد بن علی رشاطی وشرح البردہ ابو العباس قصار و مواہب لدنیہ امام قسطلانی وغیرہا کتب معتمدین میں ہے امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بعد وفات حضور سید الکائنات علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیات جو فضائل عالیہ حضور پرُ نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حضور کو ندا و خطاب کر کے عرض کئے ہیں انہیں میں گزارش کرتے ہیں: بابی انت وامّی یا رسول اﷲ لقد بلغ من فضیلتک عند اﷲ ان بعثک اٰخر الانبیاء وذکرک فی اولھم، فقال اﷲ تعالٰی واذاخذنا من النبیین میثاقھم ومنک و من نوح الاٰیۃ۔ یارسول اﷲ! میرے ماں باپ حضور پر قربان حضور کی فضیلت اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اس حد کو پہنچی کہ حضور کو تمام انبیاء کے بعد بھیجا اور ان سب سے پہلے ذکر فرمایا کہ فرماتا ہے اور یادکر جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے اے محبوب اور نوح وابراہیم و موسٰی وعیسٰی بن مریم سے علیہم الصلوٰۃ والسلام۔(المواہب اللدنیہ، باب وفاتہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتب الاسلامی،بیروت، ۴/ ۵۵۵)

    حضرت جبرائیل سلام کہتے ہیں

    علامہ محمد بن احمد بن محمدبن محمد بن ابی بکر بن مرذوق تلمسانی شرح شفاء شریف میں سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جبریل نے حاضر ہو کر مجھے یوں سلام کیا: السلام علیک یا ظاھر،السلام علیک یا باطن۔ میں نے فرمایا: اے جبریل!یہ صفات تو اﷲ عزوجل کی ہیں کہ اسی کو لائق ہیں مجھ سی مخلوق کی کیونکر ہوسکتی ہیں، جبریل نے عرض کی، اﷲ تبارک و تعالٰی نے حضور کو ان صفات سے فضیلت دی اور تمام انبیاء و مرسلین پر ان سے خصوصیت بخشی اپنے نام وصف سے حضور کے نام و صف مشتق فرمائے۔ وسماک بالاوّل لانک اول الانبیاء خلقا وسماک بالاٰخر لانک اٰخر الانبیاء فی العصور خاتم الانبیاء الٰی اٰخر الامم۔ حضور کا اول نام رکھا کہ حضور سب انبیاء سے آفرینش میں مقدم ہیں اور حضور کا آخر نام رکھا کہ حضور سب پیغمبروں سے ز مانے میں مؤخر و خاتم الانبیاء و نبی امت آخرین ہیں۔ باطن نام رکھا کہ اس نے اپنے نام پاک کے ساتھ حضور کا نام نامی سنہرے نور سے ساقِ عرش پر آفرینش آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دو ہزار برس پہلے ابد تک لکھاپھر مجھے حضور پر درود بھیجنے کا حکم دیا میں نے حضور پر ہزار سال درود بھیجا اور ہزار سال بھیجا یہاں تک کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کو مبعوث کیاخوشخبری دیتا اور ڈرسناتا اور اﷲ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور جگمگاتا سورج۔ حضور کو ظاھر نام عطا فرمایا کہ اس نے حضور کو تمام دینوں پر ظہور و غلبہ دیا اور حضور کی شریعت و فضیلت کو تمام اہلِ سماوات وارض پر ظاہر و آشکارا کیا تو کوئی ایسا نہ رہا جس نے حضور پر نور پر درود نہ بھیجا ہو،اﷲ حضور پر درود بھیجے۔ فربک محمود وانت محمد وربک الاول والاٰخر والظاھر والباطن وانت الاول والاٰخر والظاھر والباطن۔ پس حضور کا رب محمود ہے اور حضور محمد، حضور کا رب اول وآخر وظاہر وباطن ہے اور حضور اول و آخر وظاہر و باطن ہیں۔
    سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:الحمدﷲ الذی فضلنی علٰی جمیع النبیین حتی فی اسمی وصفتی۔ذکرہ القاری فی شرح الشفاء فقال قد روی التلمسانی عن ابن عباس الخ۔سب خوبیاں اﷲ عزوجل کو جس نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی یہاں تک کہ میرے نام و صفت میں،علی قاری نے شرح شفاء میں اس کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تلمسانی نے ابن عباس سے روایت کیا الخ۔ (شرح الشفاء لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسماء رسول اﷲ الخ دارالفکر بیروت، ۲/ ۴۲۵)
    اقول ظاھرہ انہ اخرجہ بسندہ فان الاسناد ماخوذ فی مفھوم الروایۃ کما قالہ الزرقانی فی شرح المواھب ولعل الظاھر ان فیہ تجریدا والمراد اورد وذکر اﷲ تعالٰی اعلم۔ اقول(میں کہتا ہوں) اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس کو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے کہ اسناد روایت کے مفہوم میں ماخوذ ہے جیسا کہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا ہوسکتا ہے کہ ظاہر اس میں تجرید ہو(اسناد ماخوذ نہ ہو) اور صرف وارد کرنا اور ذکر کرنا مراد ہو۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  3. ‏ اگست 20, 2014 #13
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    نوع آخر خصوص نصوص ختمِ نبوت

    صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے : فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون۔ میں تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دیا گیا، مجھے جامع باتیں عطا ہوئیں اور مخالفوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے سے میری مدد کی گئی اور میرے لئے غنیمتیں حلال ہوئیں اور میرے لئے زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ قرار دی گئی اور میں تمام جہان سب ماسوی اﷲ کا رسول ہُوا اور مجھ سے انبیاء ختم کئے گئے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(صحیح مسلم کتاب المساجد باب مواضع الصلوٰۃ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۱/ ۱۹۹)

    خاتم النبیین

    دارمی اپنی سنن میں بسند صحیح اوربخاری تاریخ اور طبرانی اوسط اور بیہقی سنن میں اور ابو نعیم حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : انا قائد المرسلین ولا فخر، وانا خاتم النبیین ولا فخر، وانا شافع ومشفع ولا فخر۔ میں تمام رسولوں کا پیش رو ہوں اور بطور فخرنہیں کہتا، میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور بطور فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلا شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور بروجہ فخر ارشاد نہیں کرتا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(سنن الدارمی، حدیث ۵۰،باب ما اعطی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن قاہرہ مصر،۱/ ۳۱)
    احمد وحاکم وبیہقی وابن حبان عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انی مکتوب عنداﷲ فی ام الکتاب لخاتم النبیین وان اٰدم لمنجدل فی طینتہٖ۔ بیشک بالیقین میں اﷲ کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا تھا اور ہنوز آدم اپنی مٹی میں پڑے تھے۔ (المستدرک کتاب التاریخ، ذکر اخبار سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت، ۲ / ۶۰۰)(کنزالعمال حدیث ۳۲۱۱۴، موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۱/ ۴۴۹)

    آدم سروتن بآب وگل داشت
    کو حکم بملکِ جان ودل داشت

    حضرت آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں ہی تھے جبکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بحکم خداوندی جان ودل سے سرفراز تھے۔


    لوح محفوظ پر شہادت ختمِ نبوت

    مواہب لدنیہ ومطالع المسرات میں ہے: اخرج مسلم فی صحیحہ من حدیث عبداﷲ بن عمر وبن العاص عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم انہ قال ان اﷲ عزوجل کتب مقادیر الخلق قبل ان یخلق السمٰوٰت والارض بخمسین الف سنۃ فکان عرشہ علی الماء، ومن جملۃ ماکتب فی الذکر وھوام الکتاب ان محمدا خاتم النبیین۔ یعنی صحیح مسلم شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں اﷲعزوجل نے زمین وآسمان کی آفرینش سے پچاس ہزار برس پہلے خلق کی تقدیر لکھی اور اس کا عرش پانی پر تھامنجملہ ان تحریرات کے لوح محفوظ میں لکھا بیشک محمد خاتم النبیین ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ثم قال بعد ھذا فی المواھب وعن العرباض بن ساریۃ (المواہب اللدنیۃ،باب سبق نبوتہ، المکتب الاسلامی،بیروت، ۱/ ۵۷) (مطالع المسرات،مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص ۹۸) فذکر الحدیث المذکور اٰنفا و قال بعدہ فی المطالع وغیر ذٰلک من الاحادیث(مطالع المسرات،مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص ۹۸) اھ وقال الزرقانی بعد قولہ ان محمد ا خاتم النبیین فــان قیل الحدیث یفــید سبق العرش علی التقدیر وعلٰی کتابۃ محمد خاتم النبیین (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، المقصد الاول، دارالمعرفۃ،بیروت، ۱/ ۳۱) الخ فافادوا جمیعا انہ بتمامہ حدیث واحد مخرج ھٰکذا فی صحیح مسلم والعبد الضعیف راجع الصحیح من کتاب القدر فلم یجد فیہ الا الٰی قولہ وکان عرشہ علی الماء وبٰھذا القدر عزاہ لہ فی المشکوٰۃ والجامع الصغیر والکبیر وغیرھا فاﷲ اعلم۔
    پھر اس کے بعد مواہب میں فرمایا اور عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ابھی مذکور حدیث کو ذکر کیا اور اس کے بعد مطالع المسرات میں فرمایا اس کے علاوہ احادیث میں ہے۱ھ،اور علامہ زرقانی نے اپنے قول''تحقیق محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں'' کے بعد فرمایا اگر اعتراض ہو کہ حدیث سے عرش کی تخلیق، تقدیر اور محمد خاتم النبیین لکھنے سے قبل کا فائدہ دے رہی ہے الخ، تو ان سب نے افادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب ایک حدیث ہے جس کو صحیح مسلم میں تخریج کیا ہے جبکہ اس عبد ضعیف نے صحیح مسلم کی کتاب القدر کو دیکھا تو اس میں صرف ان کا قول یہ پایا ''وکان عرشہ علی الماء'' اس کا عرش پانی پر تھا'' اور اسی قدر کو مشکوٰۃ میں صحیح مسلم وجامع صغیرو کبیر و غیر ہما کی طرف منسوب کیا ہے تو اﷲ تعالٰی زیادہ علم والا ہے۔

    عمارت نبوت کی آخری اینٹ

    احمد و بخاری و مسلم وتر مذی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد و شیخین حضرت ابوہریرہ اور احمد و مسلم حضرت ابو سعید خدری اور احمد و ترمذی حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بالفاظ متناسبہ و معانی متقاربہ راوی حضور خاتم المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: مثلی و مثل الانبیاء کمثل قصرا حسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الاموضع تلک اللبنۃ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ ختم بی البنیان وختم بی الرسل (مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ متفق علیہ باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مطبع مجتبائی دہلی، ص ۵۱۱)،وفی لفظ للشیخین فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین (صحیح البخاری، باب خاتم النبیین، قدیمی کتب ،کراچی۔۱/ ۵۰۱) (صحیح مسلم، باب ذکر کونہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین، قدیمی کتب خانہ، کراچی ۲/ ۲۴۸) میری اور تمام انبیاء کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک محل نہایت عمدہ بنایا گیا اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہی، دیکھنے والے اس کے آس پاس پھرنے اور اس کی خوبی تعمیر سے تعجب کرتے مگر وہی ایک اینٹ کی جگہ کہ نگاہوں میں کھٹکتی، میں نے تشریف لا کر وہ جگہ بند کی، مجھ سے یہ عمارت پوری کی گئی، مجھ سے رسولوں کی انتہا ہوئی،میں عمارت نبوت کی وہ پچھلی اینٹ ہوں، میں تمام انبیاء کا خاتم ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
    امام ترمذی حکیم عارف باﷲ محمد بن علی نوا درالاصول میں سیدنا ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اول الرسل اٰدم و اٰخرھم محمد۔ سب رسولوں میں پہلے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور سب میں پچھلے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ (نوادرالاصول حکیم ترمذی)

    سوسمار کی گواہی

    طبرانی معجم اوسط و معجم صغیر اور ابن عدی کا مل اور حاکم کتاب المعجزات اور بیہقی وابو نعیم کتاب دلائل النبوۃ اور ابن عسا کر تاریخ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مجمع اصحاب میں تشریف فرماتھے کہ ایک بادیہ نشین قبیلہ بنی سلیم کا آیا سو سمار شکار کر کے لایا تھا وہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا اور بولا قسم ہے لات وعزّٰی کی وہ شخص آپ پر ایمان نہ لائے گا جب تک یہ سو سمار ایمان نہ لائے، حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جانور کو پکارا وہ فصیح زبان روشن بیان عربی میں بولا جسے سب حاضرین نے خوب سنا اور سمجھا: لبّیک وسعدیک یا زین من وافی یوم القٰیمۃ۔ میں خدمت وبندگی میں حاضر ہوں اے تمام حاضرین مجمع محشر کی زینت۔
    حضور نے فرمایا:من تعبد تیرا معبود کون ہے؟عرض کی: الذی فی السماء عرشہ وفی الارض سلطانہ وفی البحر سبیلہ وفی الجنۃ رحمتہ وفی النارعذابہ۔ وہ جس کا عرش آسمان میں اور سلطنت زمین میں اور راہ سمندر میں رحمت جنت میں اور عذاب نار میں۔ فرمایا:من انا بھلا میں کون ہوں؟عرض کی: انت رسول رب العٰلمین وخاتم النبیین قد افلح من صدقک وقدخاب من کذبک۔ حضور پروردگارِ عالم کے رسول ہیں اور رسولوں کے خاتم، جس نے حضور کی تصدیق کی وہ مراد کو پہنچا اور جس نے نہ مانا نامراد رہا۔
    اعرابی نے کہا اب آنکھوں دیکھے کے بعد کیا شبہہ ہے، خدا کی قسم میں جس وقت حاضر ہوا حضور سے زیادہ اس شخص کو دشمن کوئی نہ تھا اور اب حضور مجھے اپنے باپ اوراپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں اشھد ان لا الٰہ الا اﷲ وانّک رسول اﷲ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ یہ مختصر ہے اور حدیث میں اس سے زیادہ کلام اطیب واکثر۔ ( دلائل النبوۃ لابی نعیم، ذکر الظبی والضّب،عالم الکتب،بیروت، ۲/ ۱۳۴)
    یہ حدیث امیر المؤمنین مولٰی علی وام المؤمنین عائشہ صدیقہ و حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی روایات سے بھی آئی۔ کما فی الجامع الکبیر والخصائص الکبرٰی ولم اقف علی الفاظھم فان اشتملت جمیعا علی لفظ خاتم النبیین کانت اربعۃ احادیث۔ جیسا کہ جامع کبیر اور خصائص کبرٰی میں ہے میں نے ان کے الفاظ نہ پائے اگر ان سب کے الفاظ خاتم النبیین کے لفظ پر مشتمل ہوں تو یہ چار احادیث ہوئیں۔

    تذییل
    ترمذی حدیث طویل حلیہ اقدس میں امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی کہ انہوں نے فرمایا: بین کتفیہ خاتم النبوۃ وھو خاتم النبیین۔حضور کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے اور حضور خاتم النبیین ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب، باب ماجاء فی صفۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ، دہلی، ۲/ ۲۰۵)
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  4. ‏ اگست 20, 2014 #14
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    تذ ییل

    طبرانی معجم اور ابو نعیم عوالی سعید بن منصور میں امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے درود شریف کا ایک صیغہ بلیغہ راوی جس میں فرماتے ہیں: اجعل شرائف صلوٰتک ونوامی برکاتک و رأفۃ تحنّنک علٰی محمد عبدک ورسولک الخاتم لماسبق والفاتح لما اغلق ۔الٰہی! اپنی بزرگ درودیں اور بڑھتی برکتیں اور رحمت کی مہر نازل کرمحمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر کہ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، گزروں کے خاتم اور مشکلوں کے کھولنے والے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(المعجم الاوسط،حدیث ۹۰۸۵، مکتبۃ المعارف الریاض،۱۰/ ۳۶)
    نوع آخر (ف) نبوت گئی،نبوت منقطع ہوئی، جب سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نبوت ملی کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی۔
    ف:نوع چہارم نبوت منقطع ہوئی اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔

    ولا نبی بعدی

    صحیح بخاری شریف میں مروی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی ولا نبی بعدی۔ انبیاء بنی اسرائیل کی سیاست فرماتے، جب ایک نبی تشریف لے جاتا دوسرا اس کے بعد آتا، میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ احمد و ترمذی وحاکم بسند صحیح بر شرط صحیح مسلم کما قالہ الحاکم واقرہ الناقدون(جیسے حاکم نے کہا ہے اور محققین نے اسے ثابت رکھا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الانبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، قدیمی کتب خانہ، کراچی،۱/ ۴۹۱)
    حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔بیشک رسالت و نبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد نہ کوئی رسول نہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ (جامع الترمذی،ابواب الرؤیا، باب ذھبت النبوۃ الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی، ۲/ ۵۱)
    صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لم یبق من النبوۃ الاّالمبشرات الرّؤیا الصالحۃ۔ نبوت سے کچھ باقی نہ رہا صرف بشارتیں باقی ہیں اچھی خوابیں۔(صحیح البخاری،کتاب التعبیر،باب مبشرات، قدیمی کتب خانہ، کراچی۔۲/ ۱۰۳۵ٌ)
    طبرانی معجم کبیر میں حضرت حذیفہ بن اسیدرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسند صحیح راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ذھبت النبوۃ فلا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل او ترٰی لہ۔نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھا خواب کہ انسان آپ دیکھے یا اس کے لئے دیکھا جائے۔(المعجم الکبیرللطبرانی ، حدیث ۳۰۵۱، مکتبۃ الفیصلیہ،بیروت، ۳/ ۱۷۹)
    احمد وابنائے ماجہ و خزیمہ وحبان حضر ت ام کرز رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے بسند حسن راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات۔نبوت گئی اور بشارتیں باقی ہیں۔(سنن ابن ماجہ، ابواب تعبیر الرؤیا، باب الرؤیا الصالحۃ، ایچ ایم سعید کمپنی،کراچی، ص ۲۸۶)
    صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے مرض مبارک میں جس میں وصال اقدس واقع ہوا پردہ اٹھایا سر انور پر پٹی بندھی تھی لوگ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے حضور نے ارشاد فرمایا: یا ایھا الناس انہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الاّ الرؤیا الصالحۃ یراھا المسلم او تری لہ ۔ اے لوگو!نبوت کی بشارتوں سے کچھ نہ رہا مگر اچھا خواب کہ مسلمان دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب تعبیر الرؤیا، باب الرؤیا الصالحۃ، ایچ ایم سعید کمپنی،کراچی، ص ۸۷۔۲۸۶)

    اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر ہوتے

    احمد و ترمذی وحاکم بتصحیح ورؤیانی وطبرانی وابویعلٰی حضرت عقبہ بن عامر اور طبرانی و ابن عساکر اور خطیب کتاب رواۃ مالک میں حضرت عبداﷲ بن عمر اور طبرانی حضرت عصمہ بن مالک و حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔(جامع الترمذی، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ، دہلی، ۲/ ۲۰۹)

    تذ ییل

    صحیح بخاری شریف میں اسماعیل بن ابی خالد سے ہے: قلت لعبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما أرأیت ابراھیم ابن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال مات صغیرا ولو قضی ان یکون بعد محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی عاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ ۔ میں نے حضرت عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے پوچھا آپ نے حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا تھا، فرمایا ان کا بچپن میں انتقال ہوا اور اگر مقدر ہوتا کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو حضور کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے، مگر حضور کے بعد نبی نہیں۔(صحیح البخاری، کتاب الآداب، باب من سمی باسماء الانبیاء، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۲/ ۹۱۴)
    امام احمد کی روایت انہیں سے یوں ہے میں نے حضرت ابن ابی اوفٰی کو فرماتے سنا: لوکان بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی مامات ابنہ ابراھیم۔ اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوتاتوحضور کے صاحبزادے انتقال نہ فرماتے۔(مسند امام احمد بن حنبل، بقیہ حدیث حضرت عبداﷲ ابن اوفٰی، دارالفکر بیروت، ۴/ ۳۵۳)

    تذییل

    امام ابو عمر ابن عبدالبربطریق اسماعیل بن عبدالرحمن سدی حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی انہوں نے فرمایا: کان ابراھیم قد ملأ المھد ولو عاش لکان نبیا لکن لم یکن لیبقی فان نبیکم اٰخر الانبیاء ۔حضرت ابراہیم اتنے ہوگئے تھے کہ ان کا جسم مبارک گہوارے کو بھر دیتا اگر زندہ رہتے نبی ہوتے مگر زندہ نہ رہ سکتے تھے کہ تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آخر الانبیاء ہیں۔(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ،بحوالہ اسماعیل بن عبدالرحمن عن انس،المقصد الثانی،دارالمعرفۃ بیروت،۳/ ۱۶۔۲۱۵)
    فائدہ: (ف) اس کی اصل متعدد احادیث مرفوعہ سے ہے، ماوردی حضرت انس اور ابن عساکر حضرات جابر بن عبداﷲ وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لو عاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا۱؎ ( اگر ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق پیغمبر ہوتا)
    (۱ ؎ کنزالعمال بحوالہ الماوردی عن انس وابن عساکر حدیث ۳۳۲۰۴ موسسۃ الرسالۃ،بیروت،۱۱/ ۴۶۹)
    ف: حدیث ولو عاش ابراہیم لکان نبیا ۳؎ والبحث علیہ۔
    حدیث''اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے'' کی تحقیق اور اس پر بحث سے متعلق یہ فائدہ ہے۔
    (۳ ؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱/ ۲۹۵)

    وبہ انجلی ما اشتبہ علی الامام النووی مع جلالۃ شانہ، وسعۃ عرفانہ، اما ما قال الامام ابوعمر بن عبدالبرلاادری ما ھذا فقد کان ابن نوح غیر نبی ولو لم یلد النبی الا نبیا کان کل احد نبیا لانہم من ولد نوح قال اﷲ تعالٰی وجعلنا ذریتہ ھم الباقین؎ فاجابوا عنہ بان الشرطیۃ لا یلزمھا الوقوع اقول نعم لکنھا لا شک تفید الملازمۃ فان کانت مبینۃ علی ان ابن نبی لایکون الا نبیا لزم ما الزم ابو عمرولا مفر فالحق فی الجواب ما اقول من عدم صحۃ قیاس الانبیاء السابقین وبنیھم علٰی نبینا سید المرسلین وبنیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیھم وسلم فلواستحق ابنہ بعدہ النبوۃ لا یلزم منہ استحقاق ابناء الانبیاء جمیعا ھکذا رأیتنی کتبت علی ھامش نسختی التیسیر ثم رأیت العلامۃ علی القاری ذکر مثلہ فی الموضوعات الکبیر فللّٰہ الحمد

    اس سے امام نووی کو درپیش ہونے والا اشتباہ ختم ہوگیا، باوجودیکہ ان کی شان اجل ہے اور ان کا عرفان وسیع ہے لیکن امام ابو عمر بن عبدالبر نے جو یہ فرمایا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہوسکا، حالانکہ نوح علیہ السلام کے بیٹے نبی نہ ہوئے، اور اگر یہ ہوتا کہ نبی سے نبی ہی پیدا ہو تو ہر ایک نبی ہوتا کیونکہ وہ بھی تو نوح علیہ السلام کی اولاد تھے، کیونکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہم نے اس کی ذریت کو ہی باقی رکھا، اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ کسی شرطیہ قضیہ کو وقوع لازم نہیں ہے اقول (میں کہتا ہوں) ہاں درست ہے لیکن بے شک شرطیہ، ملازمہ کا فائدہ ضرور دیتا ہے اگر یہ قضیہ شرطیہ اس معنی پر مبنی ہو کہ نبی کا بیٹا ضرور نبی ہی ہوتا ہے تو ابو عمر کا الزام لازم آئے گا جس سے مفر نہیں ہے تو جواب میں حق وہ ہے جو میں کہہ رہا ہوں کہ انبیاء سابقین اور ان کے بیٹوں کا قیاس ہمارے نبی سید المرسلین اور ان کے صاحبزادوں پر درست نہیں، اﷲ تعالٰی ہمارے نبی اور سب انبیاء پر درود و سلام فرمائے پھر اگر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بیٹا نبوت کا مستحق ٹھہرے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی تمام انبیا کے بیٹے بھی نبوت کے مستحق ہوں، میں نے اپنی تیسیر کے نسخے پر یونہی حاشیہ لکھا بعد ازاں میں نے علامہ ملا قاری کو موضوعات کبیر میں اسی طرح ذکر کرتے ہوئے پایا فللّٰہ الحمد۔
    (۲ ؎ الاسرار المرفوعہ بحوالہ ابن عبدالبرفی التمہید، حدیث ۷۴۳، دارالکتب العلمیۃ،بیروت، ص ۱۹۱)

    وقد اخرج الدیلمی عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نحن اھل بیت لا یقاس بنا احد۱؎، علی انی اقول لا نسلم ان الحدیث یحکم بالنبوۃ بل انبأعما تکامل فی جوھر ابراہیم من خصائل الانبیاء وخلال المرسلین بحیث لو لم ینسدَّ باب النبوۃ لنا لکان نبیا تفضلا من اﷲ لا استحقاقامنہ فان النبوۃ لا یستحقہا احد من قبل ذات لکن اﷲ تعالٰی یصطفی من عبادہ من تم و کمل صورۃ ومعنی ونسبا وحسبا وبلغ الغایۃ القصوی من کل خیر، اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ فاذن الحدیث علی وزان مامر لو کان بعدی نبی لکان عمر۲؎ ،واﷲ تعالی اعلم۔

    دیلمی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تخریج کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہم اہلبیت پر کسی کو قیاس نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں میں کہتا ہوں کہ مذکورہ حدیث نبوت کا حکم بیان کررہی ہے، یہ بات ہمیں تسلیم نہیں، بلکہ حدیث مذکور حضرت کے صاحبزادے ابراہیم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے متعلق یہ خبر دے رہی ہے کہ ان میں انبیاء علیہم السلام جیسے خصائل واوصاف تھے کہ اگر ہمارے لئے نبوت ختم نہ ہوتی تو وہ اﷲ تعالٰی کہ فضل محض سے نبی ہوتے نہ کہ بطور استحقاق نبی بنتے، کیونکہ کوئی بھی اپنی ذات میں نبوت کا استحقاق نہیں رکھتا لیکن اﷲ تعالٰی نبوت کے لئے اپنے بندوں میں سے ایسے کو منتخب فرماتا ہے جو صورۃً، معنیً،نسبًا،حسبًا ہر اعتبار سے تام و کامل ہو اور ہر خیر میں انتہائی مرتبہ کو پہنچا ہو، اﷲ تعالٰی بہتر جانتا ہے کہ کہاں رسالت بنائے تو حدیث مذکور کی دلالت وہی ہے جو ''لو کان بعدی نبیا لکان عمر'' الحدیث کی دلالت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
    (۱ ؎ الفردوس بمأ ثور الخطاب، حدیث ۶۸۳۸، دارالکتب العلمیۃ،بیروت، ۴/ ۲۸۳)
    (۲ ؎ جامع الترمذی، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، امین کمپنی خانہ رشیدیہ، دہلی، ۲/ ۲۰۹)


    نوع آخر(ف)بعد طلوع آفتاب عالمتاب خاتمیت صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلی آلہ الکرام جو کسی کے لئے ادعائے نبوت کرے دجّال کذّاب مستحقِ لعنت و عذاب ہے۔
    ف:نوع پنجم حضور کے بعد جو کسی کو نبوت ملنی مانے دجال کذاب ہے۔

    امام بخاری حضرت ابوہریرہ اور احمد و مسلم وابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، وھذا حدیث ثوبان ، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی۱؎،ولفظ البخاری دجالون کذابون قریبا من ثلثین۲؎

    عنقریب اس امت میں قریب تیس کے دجال کذاب نکلیں گے ہر ایک ادعا کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم (اور بخاری کے الفاظ ہیں دجال کذاب تقریباً تیس ہوں گے۔ت)
    (۱ ؎ سنن ابی داؤد، کتاب الفتن،ذکر الفتن ودلائلہا، آفتاب عالم پریس، لاہور، ۲/ ۲۲۸)
    (۲ ؎ صحیح البخاری، کتاب الفتن، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۲/ ۱۰۵۴)

    کذاب اور دجّال
    امام احمد و طبرانی و ضیاء حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: فی امتی کــذابون و دجالون سبعـــۃ و عشرون منھم اربع نسوۃ وانی خاتم النبیین لا نبی بعدی۳؎ میری امتِ دعوت میں (کہ مومن و کافر سب کو شامل ہے) ستائیس کذاب دجال ہوں گے ان میں چار عورتیں ہیں حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
    (۳ ؎ مسند امام احمد، حدیث حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، دارالفکر بیروت، ۵/ ۳۹۶)
    جھوٹے مدعیان نبوت
    ابن عساکر علاء بن زیادرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلٰثون دجّالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی۴؎ (الحدیث) قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس دجال کذاب مدعی نبوت نکلیں گے۔
    (۴ ؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر، ترجمہ الحارث بن سعید الکذاب، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۳/ ۴۴۵)

    تذییل
    ابویعلٰی مسند میں بسند حسن حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلثون کذابًا منھم مسیلمۃ والعنسی والمختار۱؎ قیامت نہ آئے گی جب تک کہ تیس کذاب نکلیں ان میں سے مسیلمہ اور اسود عنسی ومختار ثقفی ہے، اخذ ہم اﷲ تعالٰی۔
    (۱ ؎ مسند ابو یعلٰی، مروی از عبداﷲ بن زبیر، حدیث ۶۷۸۶، موسسۃ علوم القرآن،بیروت، ۶/ ۱۹۹)
    الحمد ﷲ بفضلہٖ تعالٰی یہ تینوں خبیث کُتّے شیران اسلام کے ہاتھ سے مارے گئے، اسود مردود خود زمانہ اقدس اور مسیلمہ ملعون زمانہ خلافت حضرت سیدنا ابوبکرصدیق ومختار ثقفی ملعون زمانہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما میں،وﷲ الحمد( عہ)
    عہ:
    مسلیمہ خبیث کے قاتل وحشی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو شہید کیا وہ فرمایا کرتے قتلت خیرالنّاس وشرّالنّاس۲؎ ، میں نے بہتر شخص کو شہید کیا پھر سب سے بدتر کو مارا۔
    (۲ ؎ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب علی ہامش الاصابۃ باب الافراد فی الواو، دارصادر، بیروت، ۳/ ۶۴۵)
    آخری تدوین : ‏ اگست 21, 2014
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  5. ‏ اگست 25, 2014 #15
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    حضر ت علی اور ختم نبوت
    نوع آخر(ف)خاص امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے بارے میں متواتر حدیثیں ہیں کہ نبوت ختم ہوئی نبوت میں ان کا کچھ حصہ نہیں۔
    ف:نوع ششم خاص مولٰی علی کے باب میں متواتر حدیثیں کہ نبوت ختم ہوگئی نبوت میں ان کا حصہ نہیں۔
    امام احمد مسند اور بخاری و مسلم و ترمذی ونسائی وابن ماجہ صحاح، ابن ابی شیبہ سنن، ابن جریر تہذیب الآثار میں بطریق عدیدہ کثیرہ سیدنا سعد بن ابی وقاص،اور حاکم بتصحیح اسناد مستدرک،اور طبرانی معجم کبیر و اوسط، اور ابوبکر عاقولی فوائد میں، اور ابن مردویہ مطولاً اور بزار بطریق عبداﷲ بن ابی بکر عن حکیم بن جبیر عن الحسن بن سعد مولٰی علی، اور ابن عساکر بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل امیر المؤمنین مولٰی علی اور احمد و حاکم وطبرانی وعقیلی حضرت عبداﷲ بن عباس، اور احمد حضرت امیر معاویہ، اور احمد و بزار و ابو جعفر بن محمد طبری وابوبکر مطیری حضرت ابو سعید خدری، اور ترمذی بافادہ تحسین حضرت جابر بن عبداﷲ سے مسنداً اور حضرت ابو ہریرہ سے تعلیقاً، اور طبرانی کبیر اور خطیب کتاب المتفق والمتفرق میں حضرت عبداﷲ بن عمر، اور ابو نعیم فضائل الصحابہ میں حضرت سعید بن زید، اور طبرانی کبیر میں حضرات براء بن عازب وزید بن ارقم وجیش بن جنادہ و جابر بن سمرہ و مالک بن حویرث و حضرت ام المؤمنین ام سلمہ، زوجہ امیر المؤمنین علی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے راوی، حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کو تشریف لیجاتے وقت امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو مدینے میں چھوڑا امیر المؤمنین نے عرض کی یارسول اﷲ! حضور مجھے عورتوں اور بچّوں میں چھوڑے جاتے ہیں، فرمایا: اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی غیر انہ لا نبی بعدی۱؎ یعنی کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام جب اپنے رب سے کلام کے لئے حاضر ہوئے ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے ہاں یہ فرق ہے کہ ہارون نبی تھے میں جب سے نبی ہوا دوسرے کے لئے نبوت نہیں۔(۱ ؎ صحیح البخاری، مناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۱/ ۵۲۶)(جامع الترمذی،مناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ،امین کمپنی کتب خانہ،رشیدیہ، دہلی،۲/ ۱۱۴)(صحیح مسلم کتاب الفضائل، مناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ،قدیمی کتب خانہ ،کراچی۔۲/ ۲۷۸)(مسند احمد بن حنبل، حدیث حضرت سعد ابن وقاص، دارالفکر بیروت، ۱/ ۱۸۲)
    مسند و مستدرک میں حدیث ابن عباس یوں ہے: الا ترضی ان تکون بمنزلۃ ھارون من موسٰی الا انک لست بنبی۲؎ کیا تم راضی نہیں کہ بمنزلہ ہارون کے ہو موسٰی سے مگر یہ کہ تم نبی نہیں۔ (۲ ؎ المجمع الزوائد بحوالہ احمد وغیرہ عن ابن عباس باب جامع مناقب علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ، دارالکتاب بیروت، ۹/ ۱۲۰)(المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابہ، دارالفکر،بیروت، ۳/ ۱۰۹)
    حضرت اسماء کی حدیث اس طرح ہے: قالت ھبط جبریل علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا محمد ان ربک یقرأک السلام ویقول لک علیّ منک بمنزلۃ ھارون من موسٰی لٰکن لا نبی بعدک۳؎ جبریل امین علیہ الصلوٰہ والسلام نے حاضر ہو کر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی حضور کا رب حضور کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے علی (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) تمہاری نیابت میں ایسا ہے جیسا موسٰی کے لئے ہارون،مگر تمہارے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ (۳ ؎ المعجم الکبیر، حدیث ۳۸۴ تا ۳۸۹، المکتبۃ الفیصلیۃ،بیروت، ۲۴/ ۱۴۶ و ۱۴۷)
    فضائل صحابہ امام احمد میں حدیث امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ یوں ہے کسی نے ان سے ایک مسئلہ پوچھا فرمایا: سل عنھا علی ابن ابی طالب فھو اعلم مولا علی سے پوچھیو وہ اعلم ہیں، سائل نے کہا: یا امیر المؤمنین! مجھے آپ کا جواب ان کے جواب سے زیادہ محبوب ہے، فرمایا: بئسما قلت لقد کرھت رجلا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یغرہ بالعلم غرا ولقد قال لہ انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی وکان عمر اذا اشکل علیہ شیئ یاخذ منہ۱؎ تونے سخت بُری بات کہی ایسے کو ناپسند کیا جس کے علم کی نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عزت فرماتے تھے اور بیشک حضور نے ان سے کہا تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسٰی علیہما الصلوٰۃوالسلام سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، امیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو جب کسی بات میں شبہ پڑتا ان سے حاصل کرتے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔ (۱ ؎ فضائل الصحابۃ لامام احمد بن حنبل ،حدیث ۱۱۵۳، فضائل علی علیہ السلام، موسسۃ الرسالہ،بیروت، ۶۷۵)
    ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: یا علی أخصمک بالنبوۃ ولا نبوۃ بعدی۲؎ اے علی! میں مناصب جلیلہ و خصائص کثیرہ جزیلہ نبوت میں تجھ پر غالب ہوں اور میر ے بعد نبوّت اصلاً نہیں۔ (۲ ؎ حلیۃ الاولیاء، المسندۃ فی مناقبہم وفضائلم نمبر۴ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ،دارالکتاب العربی، بیروت،۱/ ۶۵ )
    حضرت علی کی عیادت
    ابن ابی عاصم اور ابن جریر با فادہ تصحیح اور طبرانی اوسط اور ابن شاہین کتاب السنہ میں امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی، میں بیمار تھا خدمت اقدس حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوا حضور نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کیا اور خود نماز میں مشغول ہوئے، ردائے مبارک کا آنچل مجھ پر ڈال لیا، پھر بعد نماز فرمایا: برئت یا ابن ابی طالب فلا بأس علیک ما سألت اﷲ لی شیئا الا سألت لک مثلہ ولا سألت اﷲ شیئا الا اعطانیہ غیرانہ قیل لی انہ لا نبی بعدک۔ اے ابن ابی طالب!تم اچھے ہوگئے تم پر کچھ تکلیف نہیں، میں نے اﷲ عزوجل سے جو کچھ اپنے لئے مانگا تمہارے لئے بھی اس کی مانند سوال کیا اور میں نے جو کچھ چاہا رب عزوجل نے مجھے عطا فرمایا مگر مجھ سے یہ فرمایا گیا کہ تمہارے بعد کوئی نبی نہیں۔ مولا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں میںاسی وقت ایسا تندرست ہوگیا گویا بیمار ہی نہ تھا ۱؎ (۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم وابن جریر وطس وابن شاہین فی السنۃ حدیث ۳۶۵۱۳ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۱۷۰)
    تنبیہ
    اقول وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے) یہ حدیث حضرت امیر المؤمنین کے لئے مرتبہ صدیقیت کا حصول بتاتی ہے، صدیقیت ایک مرتبہ تلو نبوت ہے کہ اس کے اور نبوت کے بیچ میں کوئی مرتبہ نہیں مگر ایک مقام ادق واخفی کہ نصیبہ حضرت صدیق اکبر اکرم واتقی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے تو اجناس وانواع واصناف فضائل وکمالات وبلندی درجات میں خصائص و ملزومات نبوت کے سوا صدیقین ہر عطیہ بہیہ کے لائق واہل ہیں اگرچہ باہم ان میں تفاوت و تفاضل کثیرو وافر ہو۔

    آخر نہ دیکھا کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ابن جمیل ونائب جلیل حضور پر نور سید الاسیاد فرد الافراد غوث اعظم غیث اکرم غیاث عالم محبوب سبحانی مطلوب ربانی سیدنا ومولانا ابو محمد محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:کل ولی علٰی قدم نبی وانا علٰی قدم جدی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وما رفع المصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد ما الاوضعت انا قدمی فی الموضع الذی رفع قدمہ منہ، الا ان یکون قد ما من اقدام النبوۃ فانہ لا سبیل ان ینالہ غیر نبی۲؎، رواہ الامام الاجل ابوالحسن علی الشطنوفی قد س سرہ فی بہجۃ الاسرار فقال اخبرنا ابو محمد سالم بن علی بن عبداﷲ بن سنان الدمیاطی المصری المولد بالقاھرۃ ۶۷۱سنۃ احدی وسبعین وستمائۃ، قال اخبرنا الشیخ القدوۃ شہاب الدین ابو حفص عمر بن عبداﷲ السھروردی ببغداد ۶۲۴ سنۃ اربع و عشرین وستمائۃ قال سمعت الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول علی الکرسی بمدرستہ ۱؎ (فذکرہ)۔
    ہر ولی ایک نبی کے قدم پر ہوتا ہے اور میں اپنے جد اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدم پاک پر ہوں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جہاں سے قدم اٹھایا میں نے اسی جگہ قدم رکھا مگر نبوت کے قدم کہ ان کی طرف غیر نبی کو اصلاً راہ نہیں (اس کو امام ابوالحسن علی شطنوفی قدس سرہ نے بہجۃ الاسرار میں روایت کیا، تو کہا ابو محمد سالم بن علی بن عبداﷲ بن سنان الدمیاطی المصری جو قاھرہ میں ۶۷۱ھ میں پیدا ہوئے، انہوں نے کہا مجھے شیخ شہاب الدین ابو حفص عمر بن عبداﷲ سہروردی نے ۶۲۴ھ کو بغداد میں بیان کیا کہ میں نے شیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو مدرسہ میں کرسی پر تشریف فرما، کہتے ہوئے سنا تو وہ ذکر فرمایا جو گزرا۔(۲ ؎ بہجۃ الاسرار، ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ الخ، مطبع مصطفی البابی،الحلبی،مصر ص ۲۲)(۱ ؎ بہجۃ الاسرار، ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ الخ، مطبع مصطفی البابی،الحلبی،مصر ص ۲۲)
    بالجملہ ما دون نبوت پر فائز ہونا نہ تفرد کی دلیل نہ حجت تفضیل کہ وہ صدہا میں مشترک اور فی نفسہٖ مشکک، ہر غوث و صدیق اس میں شریک اور ان پر بشدّت مقول با لتشکیک، بلکہ خود حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من اتاہ ملک الموت وھو یطلب العلم کان بینہ وبین الانبیاء درجۃ واحدۃ درجۃ النبوۃ۲؎ رواہ ابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ جس کے پاس ملک الموت آئیں اور وہ طلب علم میں ہو اس میں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام میں صرف ایک درجے کا فر ق ہے کہ درجہ نبوت ہے (اسے ابن النجار نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) (۲؎ کنزالعمال، بحوالہ ابن النجار عن انس حدیث ۲۸۸۲۹، موسسۃ الرسالۃ،بیروت،۱۰ /۱۶۰)
    دوسری حدیث میں ہے: کا دحملۃ القراٰن ان یکونوا انبیاء الا انہ لا یوحٰی الیھم۳؎ ،رواہ الدیلمی فی حدیث عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ قریب ہے حاملان قرآن انبیا ء ہوں مگر یہ کہ ان کی طرف وحی نہیں آتی(اسے دیلمی نے ایک حدیث میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا) (۳ ؎ الفردوس بمأ ثور الخطاب،حدیث ۲۲۱، دارالکتب العلمیہ بیروت، ۱/ ۷۵)
    تو اس کے امثال سے حضرات خلفائے ثلٰثہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم پر امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی تفضیل کا وہم نہیں ہوسکتا۔
    ابوبکر صدیق صدیق اکبر ہیں: علماء فرماتے ہیں، ابوبکر صدیق صدیق اکبر ہیں اور علی مرتضی صدیق اصغر، صدیق اکبر کا مقام اعلٰی صدیقیت سے بلند و بالا ہے، نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں ہے: اما تخصیص ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فلانہ الصدیق الاکبر الذی سبق الناس کلھم لتصدیقہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولم یصدر منہ غیرہ قط وکذا علی کرم اﷲ تعالٰی وجھہ فانہ یسمی الصدیق الاصغر الذی لم یتلبس بکفر قط ولم یسجد لغیر اﷲمع صغرہٖ وکون ابیہ علٰی غیر الملۃ ولذا خصّ بقول علی کرم اﷲ تعالٰی وجھہ۱؎ لیکن ابو بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تخصیص اس لئے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیر اﷲ کو سجدہ کیا باوجود یکہ وہ نابالغ تھے اور ان کے والد ملت اسلامیہ پر نہ تھے، اسی وجہ سے انہوں نے علی کرم اﷲ وجہہ کے قول کو خاص طور پر لیا۔ (۱ ؎ نسیم الریاض شرح شفاء امام عیاض، الباب الاول، الفصل الاول، دارالفکر بیروت، ۱/ ۱۴۲)
    حضر ت خاتم الولایۃ المحمدیۃ فی زمانہ بحر الحقائق ولسان القوم بجنانہ وبیانہ سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نفعنا اﷲ فی الدارین بفیضانہ فتوحات مکیہ شریفہ میں فرماتے ہیں: فلو فقد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ذٰلک الوطن وحضرہ ابوبکر لقام فی ذٰلک المقام الذی اقیم فیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لانہ لیس ثم اعلٰی منہ یحجبہ عن ذٰلک فھو صادق ذٰلک الوقت وحکمہ وماسواہ تحت حکمہ (ثم قال) وھذا المقام الذی اثبتناہ بین الصدیقیۃ ونبوۃ التشریع الذی ھو مقام القربۃ وھو للافراد ھودون نبوۃ التشریع۔ وفوق الصدیقیۃ فی المنزلۃ عند اﷲ والمشار الیہ بالسرالذی وقرفی صدر ابی بکر ففضل بہ الصدیقین اذحصل لہ مالیس فی شرط الصدیقیۃ ولا من لوازمھا فلیس بین ابی بکر وبین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رجل لانہ صاحب الصدیقیۃ وصاحب سر۱؎ یعنی اگر حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور صدیق اکبر حاضر ہوں تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلٰی کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے وہ اس وقت کے صادق و حکیم ہیں، اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم، یہ مقام جو ہم نے ثابت کیا صدیقیت اور نبوت شریعت کے بیچ میں ہے، یہ مقام قربت فردوں کے لئے ہے، اﷲ کے نزدیک نبوت شریعت سے نیچا اور صدیقیت سے مرتبے میں بالا ہے اسی کی طرف اس راز سے اشارہ ہے جو سینہ صدیق میں متمکن ہوا جس کے باعث وہ تمام صدیقوں سے افضل قرار پائے کہ ان کے قلوب میں وہ رازِ الٰہی حاصل ہوا جو نہ صدیقیت کی شرط ہے نہ اس کے لوازم سے، تو ابوبکر صدیق اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے درمیان کوئی شخص نہیں کہ وہ توصدیقیت والے بھی ہیں اور صاحبِ راز بھی،رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔(۱ ؎ الفتوحات المکیۃ،الباب الثالث والسبعون، داراحیائ،التراث العربی،بیروت، ۲/ ۲۵)
    تذییل
    بعض احادیث علویہ مبطلہ دعوٰی غلویہ۔
    مولا علی کی نگاہ میں مقام صدیق اکبر
    صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے ہے: قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من، قال ثم عمرثم خشیت ان اقول ثم من فیقول عثمان فقلت ثم انت یا ابت، فقال ما انا الاّرجل من المسلمین۲؎، رواہ ایضا ابن ابی عاصم و خشیش وابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء۔ میں نے اپنے والدماجد مولٰی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہے؟فرمایا: ابوبکر۔ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا: پھر عمر۔پھر مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں کہوں پھر کون تو فرمادیں عثمان، اس لئے میں نے سبقت کر کے کہا اے باپ میرے! پھر آپ؟فرمایا: میں تو نہیں مگر ایک مرد مسلمانوں میں سے۔اسے ابن ابی عاصم اور خشیش اور ابو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں بیان کیا ہے۔ (۲ ؎ صحیح بخاری، کتاب المناقب،فضائل ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/ ۵۱۸)(جامع الاحادیث بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، حدیث ۷۷۱۴ دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۷)(کنزالعمال ، بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، ۳۶۰۹۴ موسسۃ الرسالہ،بیروت،۱۳/ ۷)
    طبرا نی معجم اوسط میں صلہ بن زفر سے راوی، جب امیر المؤمنین مولٰی علی کے سامنے لوگ ابوبکر صدیق کا ذکر کرتے ، امیر المؤمنین فرماتے: السباق یذکرون السابق یذکرون والذی نفسی بیدہ ما استبقنا الٰی خیر قط الاسبقنا الیہ ابوبکر۱؎ ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں۔ (۱ ؎ المعجم الاوسط، حدیث ۷۱۶۴،مکتبۃ المعارف الریاض، ۸/ ۸۲)(جامع الاحادیث بحوالہ طس،حدیث ۷۶۸۸، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۰۹)
    حضرت صدیق کے بارے میں حضرت علی کی رائے
    ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی، امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابو بکر و عمر (رضی اﷲ تعالٰی عنہما) سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا: ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ، فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیہ حد المفتری خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابو بکر ثم عمر(زاد غیر الطلحی) ثم احدثنا بعضھم احدا ثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء۲؎ اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کرچکا ہوتا تو اب سزا دیتا، آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے، اس پر مفتری کی حد آئے گی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں،پھر عمر، پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا۔ (۲ ؎ کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۳۶۱۴۳،موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۳/ ۲۱)(جامع الاحادیث ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۷۷۳۵،دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲)
    امام ابو عمران عبدالبراستیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دارقطنی سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی فرماتے ہیں: لا اجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ حد المفتری۱؎ میں جسے پاؤں گا کہ ابو بکر و عمر پر مجھے تفضیل دیتا ہے اسے مفتری کی حد اسّی کوڑے لگاؤں گا۔ (۱ ؎ جامع الاحادیث عن الحکم بن حجل عن علی، حدیث ۷۷۴۷، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)(مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، ترجمہ ۲۲، عبداﷲ ابن ابی قحافہ، دارالفکر بیروت، ۱۳/ ۱۱۰)
    ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداﷲ بن کثیر راوی، امیر المؤمنین فرماتے ہیں: لا یفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ جلداوجیعا۲؎ جو مجھے ابو بکر و عمر سے افضل کہے گا اسے دردناک کوڑے لگاؤں گا۔ (۲ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۷۷۲۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۹)(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۳۶۱۰۳، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۳/ ۹)
    امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرک اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی، امیر المؤمنین فرماتے ہیں: سبق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنۃ و یعفواﷲ عمن یشاء۳؎ ، وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر وعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما فعلیہ حد المفتری من الجلد و اسقاط الشہادۃ ۴؎ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے، پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسّی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے۔ (۳ ؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم، مناقب ابی بکر، دارالفکر بیروت، ۳/ ۶۸۔۶۷)(۴؎ کنزالعمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۳۶۱۰۲، موسسۃ الرسالہ،بیروت، ۱۳/ ۹)(جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۷۷۲۲، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)
    ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی، ایک شخص نے امیر المؤمنین علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: آپ خیر الناس ہیں۔ فرمایا تو نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ کہا نہ۔فرمایا:ابو بکر کو دیکھا؟کہا :نہ فرمایا :عمر کو دیکھا؟کہا:نہ، فرمایا: اما انک لو قلت انک رأیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقتلتک ولو قلت رأیت ابا بکر و عمر لجلد تک۱؎ سن لے اگر تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دیکھنے کے بعد خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا اقرار کرتا اور پھر مجھے خیرالناس کہتا تو میں تجھے قتل کرتا اور اگر تو ابو بکر و عمر کو دیکھے ہوتا اور مجھے افضل بتاتا تو تجھے حد لگاتا۔ (۱ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ العشاری، حدیث ۷۷۴۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)(کنزالعمال بحوالہ العشاری، حدیث ۳۶۱۵۳،موسسۃ الرسالہ بیروت، ۱۳/ ۲۶)
    ابن عسا کر سیدنا عمار بن یا سر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲتعالٰی وجہہ نے فرمایا: لایفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاوقد انکر حقی وحق اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۲؎ جو مجھے ابوبکر و عمر پر تفضیل دے گا وہ میر ے اور تمام اصحاب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حق کا منکر ہوگا۔ (۲؎جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر، حدیث ۷۷۳۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۔۲۲۱)
    حضرات شیخین اوّلین جنتی ہیں
    ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی، میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی سے عرض کی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟فرمایا: ابوبکر و عمر۔ میں نے عرض کی: یا امیر المؤمنین ! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گے؟فرمایا: ای والذی فلق الحبۃ وبرأالنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا و یرویان من مائھا ویتکئان علٰی فرشہا وانا موقوف بالحساب۳؎ ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑا گایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشک وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے، اس کے پانی سے سیراب ہوں گے، اس کی مسندوں پر آرام کریں گے اور میں ابھی حساب میں کھڑا ہوں گا۔(۳ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ ابو طالب العشاری والا صفہانی الخ حدیث ۷۷۲۰، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)
    خیرا لنّاس بعد رسول اﷲ
    ابو ذر ہروی و دارقطنی وغیرہما حضرت ابو جحیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی میں نے امیر المؤمنین سے عرض کی: یا خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال مھلا یا ابا جحیفۃ الا اخبرک بخیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابو بکر و عمر۱؎ یا خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرمایا ٹھہرواے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں نہ بتادوں کہ کون ہے؟فرمایا اے ابوجحیفہ! خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ابو بکر و عمر (رضی اﷲ تعالٰی عنہما) ہیں۔ (۱ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ الصابونی فی المائتین، حدیث ۷۷۳۴، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲)(کنزالعمال بحوالہ الصابونی فی المائتین، وطس وکر حدیث ۳۶۱۴۱،موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۱۳/ ۲۱)
    افضل الناس بعد رسول اﷲ
    ابو نعیم حلیہ اور ابن شاہین کتاب السنہ اور ابن عساکر تاریخ میں عمرو بن حریث سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ کو منبر پر فرماتے سنا: ان افضل الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابوبکر و عمر و عثمان وفی لفظ ثم عمر ثم عثمان۲؎ بیشک رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے افضل ابو بکر و عمر و عثمان ہیں، اور بالفاظ دیگر پھر عمر پھر عثمان۔(۲ ؎ کنز العمال، بحوالہ ابن عسا کر وحل ابن شاہین فی السنہ، حدیث ۸۰۰۶،دارالفکربیروت، ۱۶/ ۲۹۰)
    • Dumb Dumb x 1
  6. ‏ اگست 25, 2014 #16
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مولود ازکٰی فی الاسلام

    ابن عساکر بطریق سعد ابن طریف اصبغ بن نباتہ سے راوی، فرمایا : قلت لعلی یا امیر المؤمنین من خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم؟ قال ابوبکر،قلت ثم من؟ قال ثم عمر،قلت ثم من؟ قال ثم عثمان، قلت ثم من؟ قال انا رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعینی ھاتین والا فعمیتا، وباذنی ھاتین والافصمتا،یقول ماولد فی الاسلام مولود ازکٰی ولا اطھر ولا افضل من ابی بکر ثم عمر۳؎ میں نے مولٰی علی سے عرض کی یا امیر المؤمنین! رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا: ابوبکر۔ میں نے کہا: پھر کون؟فرمایا:عمر،کہا پھر کون؟فرمایا:عثمان، کہا:پھر کون؟فرمایا:میں، میں نے ان آنکھو ں سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ورنہ یہ آنکھیں پھوٹ جائیں اور ان کانوں سے فرماتے سنا ورنہ بہرے ہوجائیں حضور فرماتے تھے اسلام میں کوئی شخص ایسا پیدا نہ ہوا جو ابوبکر پھر عمر سے زیادہ پاکیزہ زیادہ فضیلت والا ہو۔
    (۳ ؎ جامع احادیث ابن عساکر حدیث ۸۰۲۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۹۴)
    ابو طالب عشاری فضائل الصدیق میں راوی، امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم فرماتے ہیں: وھل انا الاّ حسنۃ من حسنات ابی بکر ۱؎ میں کون ہوں مگر ابو بکر کی نیکیوں سے ایک نیکی۔
    (۱ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ ابی طالب العشاری، حدیث ۷۶۸۴،دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۰۸)
    سیدنا صدیق کی سبقت کی چہار وجوہات
    خیثمہ طرابلسی وابن عسا کر ابو الزناد سے راوی، ایک شخص نے مولٰی علی سے عرض کی: یا امیر المؤمنین! کیا بات ہوئی کہ مہاجرین وانصار نے ابو بکر کو تقدیم دی حالانکہ آپ کے مناقب بیشتر اور اسلام وسوابق پیشتر، فرمایا: اگر مسلمان کے لئے خدا کی پناہ نہ ہوتی تو میں تجھے قتل کردیتا، افسوس تجھ پر، ابوبکر چار وجہ سے مجھ پر سبقت لے گئے، افشائے اسلام میں مجھ سے پہلے، ہجرت میں مجھ سے سابق، صحبت غار میں انہیں کا حصہ، نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے امامت کے لئے انہیں کو مقدم فرمایا ویحک ان اﷲ ذم الناس کلھم ومدح ابابکر فقال الا تنصروہ فقد نصرہ اﷲ۲؎ ، (الاٰیۃ) افسوس تجھ پر بیشک اﷲتعالٰی نے سب کی مذمت کی اور ابوبکر کی مدح فرمائی کہ ارشاد فرماتا ہے اگر تم اس نبی کی مدد نہ کرو تو ا ﷲ تعالٰی نے اس کی مدد فرمائی جب کافروں نے اسے مکے سے باہر کیا دوسرا ان دو کا جب وہ غارمیں تھے جب اپنے یار سے فرماتا تھا غم نہ کھا اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔
    (۲؎جامع الاحادیث بحوالہ خیثمہ وابن عساکر حدیث ۷۶۸۹، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۰۹)
    حضرت صدیق کا تقدم
    خطیب بغدادی وابن عساکر اور دیلمی مسند الفردوس اور عشاری فضائل الصدیق میں امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: سألت اﷲ ثلٰثا ان یقدمک فابی علی الا تقدیم ابی بکر۳؎ اے علی! میں نے اﷲ عزوجل سے تین بار سوال کیا کہ تجھے تقدیم دے اﷲ تعالٰی نے نہ مانا مگر ابوبکر کو مقدم رکھنا۔
    (۳ ؎ تاریخ بغداد، حدیث ۵۹۲۱، دارالکتاب العربی، بیروت، ۱۱/ ۲۱۳)(کنزالعمال بحوالہ ابی طالب العشاری وغیرہ حدیث ۳۵۶۸۰، موسسۃ الرسالہ، بیروت،۱۲/ ۵۱۵)
    حضرت علی کی مدح افراط وتفریط کا شکار
    عبداﷲ بن احمد زوائد مسند میں، اور ابو یعلٰی ودورقی وحاکم وابن ابی عاصم وابن شاہین امیرالمؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی کہ انہوں نے فرمایا: دعانی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا علی ان فیک من عیسٰی مثلا ابغضتہ الیھود حتی بھتوا امہ واحبتہ النصارٰی حتی انزلوہ بالمنزلۃ التی لیس بھا وقال علی الاوانہ یھلک فیّ رجلان محب مطریئ یفرطنی بما لیس فّی و مبغض مفتر یحملہ شناٰنی علی ان یبھتنی الاوانی لست بنبی ولا یوحی الیّ، ولٰکنی اعمل بکتاب اﷲ وسنۃ نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ما استطعت فما امرتکم بہ من طاعۃ اﷲ فحق علیکم طاعتی فیما احببتم اوکرھتم وما امرتکم بمعصیۃانا وغیری فلاطاعۃ لا حد فی معصیۃ اﷲ انما الطاعۃ فی المعروف۱؎ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بلا کر ارشاد فرمایا: اے علی! تجھ میں ایک کہاوت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح ہے، یہود نے ان سے دشمنی کی یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان باندھا اور نصارٰی ان کے دوست بنے یہاں تک کہ جو مرتبہ ان کا نہ تھا وہا ں جا اتارا، مولا علی فرماتے ہیں سن لو میرے معاملے میں دو شخص ہلاک ہوں گے ایک دوست میری تعریف میں حد سے بڑھنے والا جو میرا وہ مرتبہ بتائے گا جو مجھ میں نہیں، اور ایک دشمن مفتری جسے میری عداوت اس پر باعث ہوگی کہ مجھ پر تہمت اٹھائے، سن لو میں نہ تو نبی ہوں نہ مجھ پر وحی آتی ہے تو جہاں تک ہوسکے اﷲ عزوجل کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا ہوں تو میں جب تمہیں اطاعت الٰہی کا حکم دوں تو میری فرما نبرداری تم پر لازم ہے چاہے تمہیں پسند ہو خواہ ناگوار ، اور اگر معصیت کا حکم دوں میں یا کوئی، تو اﷲ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو مشروع بات میں ہے۔
    (۱ ؎ المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابہ، دارالفکر بیروت، ۳/ ۱۲۳)(مسند احمد بن حنبل مروی از علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ، دارالفکر بیروت، ۱/ ۱۶۰)
    افضل الایمان
    ابن عساکر سالم بن ابی الجعد سے راوی، فرمایا: قلت لمحمد بن الحنفیۃ ھل کان ابو بکر اول القوم اسلاما قال لا قلت فیما علا ابو بکر و سبق حتی لا یذکر احد غیر ابی بکر قال لانہ کان افضلھم اسلاما حین اسلم حتی لحق بربہ۱؎ میں نے امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولاعلی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے دریافت کیا کہ ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سب سے پہلے اسلام لائے تھے، فرمایانہ۔ میں نے کہا پھر کس وجہ سے ابوبکر سب پر بلند و سابق ہوئے کہ ان کے سوا کوئی دوسرے کا ذکر ہی نہیںکرتا، فرمایا: اس لئے کہ وہ جب سے مسلمان ہوئے اور جب تک اپنے رب عزوجل کے پاس گئے ان کا ایمان سب سے افضل رہا۔
    (۱ ؎ الصواعق المحرقۃ بحوالہ ابن عساکر، الباب الثانی، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص ۵۳)
    شیخین کی افضلیت
    امام دارقطنی جندب اسدی سے راوی: ان محمد بن عبداﷲ بن الحسن اتاہ قوم من اھل الکوفۃ والجزیرۃ فسألوہ عن ابی بکر و عمر فالتفت الیّ فقال انظر الی اھل بلاد ک یسأ لونی عن ابی بکر و عمر لھما افضل عندی من علی ۲؎ یعنی امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ محض ابن امام حسن مثنٰی ابن امام حسن مجتبٰی ابن مولٰی علی مرتضی کرم اﷲ تعالٰی وجوھہم کے پاس اہل کوفہ و جزیرہ سے کچھ لوگو ں نے حاضر ہو کر ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے بارے میں سوال کیا امام نے میری طرف التفات کرکے فرمایا اپنے وطن والوں کو دیکھو مجھ سے ابو بکر و عمر کے با ب میں سوال کرتے ہیں بیشک وہ دونوں میرے نزدیک علی سے افضل ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
    (۲ ؎ الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی عن جندب الاسدی، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص ۵۵)
    رافضی اور خارجی نظریات
    حافظ عمر بن شبہ سیدنا امام زید شہید ابن امام زین العابدین ابن امام حسین شہید کربلا ابن مولا علی مرتضی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی انہوں نے رافضیوں سے فرمایا: انطلقت الخوارج فبرئت ممن دون ابی بکر و عمر ولم یستطیعو ا ان یقولوا فیھما شیاا وانطلقتم انتم فطفرتم فوق ذٰلک فبرئتم منھا فمن بقی فواﷲ ما بقی احدا لا برئتم منہ۳؎ خارجیوں نے چل کر تو انہیں سے برأت کی جو ابوبکر و عمر سے نیچے ہیں یعنی عثمان و علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم مگر ابوبکر و عمر کی شان میںکچھ نہ کہہ سکے، اور اے رافضیو! تم نے ان سے اوپر جست کی کہ خود ابو بکر و عمر سے برأت کر بیٹھے تو اب کون رہ گیا خدا کی قسم کوئی باقی نہ رہا جس سے تم نے تبرا نہ کیا۔
    (۳ ؎ الصواعق المحرقۃ بحوالہ الحافظ عمر بن شعبہ، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص ۵۳)
    رافضی کی سزا
    دارقطنی فضیل بن مرزوق سے راوی فرمایا: قلت لعمر بن علی بن الحسین بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنھم افیکم امام تفترض طاعتہ تعرفون ذٰلک لہ من لم یعرف ذٰلک لہ فمات مات میتۃ جاھلیۃ فقال لا واﷲ ما ذٰلک فینامن قال ھذا فھو کاذب فقلت انھم یقولون ان ھذہ المنزلۃ کانت لعلی ثم للحسن ثم للحسین قال قاتلھم اﷲ ویلھم ما ھذا من الدین واﷲ ما ھٰؤلاء الا متأکلین بنا ھذا مختصر۱؎ میں نے امام زین العابدین کے صاحبزادے امام باقر کے بھائی امام عمر بن علی سے پوچھا آپ میں کوئی ایسا امام ہے جس کی طاعت فرض ہوآپ اس کا یہ حق پہنچانتے ہیں جو اسے بے پہچانے مرجائے جاہلیت کی موت مرے، فرمایا خدا کی قسم ہم میں کوئی ایسا نہیں جو ایسا کہے جھوٹا ہے، میں نے کہا رافضی تو کہتے ہیں یہ مرتبہ مولا علی کا تھا، پھر امام حسن پھر امام حسین کو ملا۔ فرمایا: اﷲ رافضیوں کو قتل کرے خرابی ہو ان کے لئے کیا دین ہے خدا کی قسم یہ لوگ نہیں مگر ہمارا نام لے کر دنیا کمانے والے والعیاذ باﷲ عزوجل۔
    (۱ ؎ الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی عن فضیل بن مرزوق ،الباب الثالث، مکتبہ مجیدیہ،ملتان، ص۵۶)
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  7. ‏ اگست 25, 2014 #17
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    نصوص ختم نبوت
    یہاں تک سو ۱۰۰ احادیث فقیر نے لکھیں اور چاہا کہ اسی پر بس کرے، پھر خیال آیا کہ ذکر پاک امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ ہے دس حدیثیں اور شامل ہوں کہ نام مبارک مولٰی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے عدد حاصل ہوں، نظر کروں تو فیضان روح مبارک امیر المؤمنین سے تذییلات میں دس حدیثیں خود ہی گزر چکی ہیں تذییل بعد حدیث ۲۵ یک و بعد ۳۹ سہ و بعد ۴۲ یک و بعد ۴۸ و ۵۸دو دو وبعد ۶۲ یک یہ مقصود تو یوں حاصل تھا مگر از انجا کہ وضع رسالہ نصوص ختم نبوت میں ہے اور ۸ سے ۱۰۰ تک بیس حدیثیں اس مطلب کو دوسرے طرز سے ادا کرتی تھیں لہٰذا خاص مقصود کی بیس حدیثوں کا اضافہ ہی مناسب نظر آیا کہ خود اصل مرام پر سو حدیثوں کا عدد کامل اور اصل مرویات ایک سو ۱۲۰ ہو کر تین چہل حدیث کا فضل حاصل ہو۔
    ارشاداتِ انبیاء وعلمائے کتب سابقہ
    حاکم صحیح مستدرک میں وہب بن منبہ سے وہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور سات دےگر صحابہ کرام سے کہ سب اہل بدر تھے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین روایت کرتے ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں بیشک اﷲ عزوجل روز قیامت اوروں سے پہلے نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی قوم کو بلا کر فرمائے گا تم نے نوح کو کیا جواب دیا وہ کہیں گے نوح نے نہ ہمیں تیری طرف بلایا، نہ تیرا کوئی حکم پہنچایا، نہ کچھ نصیحت کی، نہ ہاں یا نہ کا کوئی حکم سنایا، نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام عرض کریں گے: دعوتھم یا رب دعاء فاشیا فی الاولین و الاٰخرین امۃ حتی انتھی الی خاتم النبیین احمد فانتسخہ وقرأہ وامن بہ وصدقہ۔ الٰہی! میں نے انہیں ایسی دعوت کی جس کی خبر یکے بعد دےگرے سب اگلوں پچھلوں میں پھیل گئی، یہاں تک کہ سب سے پچھلے نبی احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہنچی انہوں نے اسے لکھا اور پڑھا اور اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق فرمائی، حق سبحانہ، وتعالٰی فرمائے گا احمد وامتِ احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بلاؤ۔ فیاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وامتہ یسعی نورھم بین ایدیھم ۱؎ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور حضور کی امت حاضر آئینگے یوں کہ ان کے نور ان کے آگے جولان کرتے ہوں گے۔
    (۱ ؎ المستدرک للحاکم، کتاب التواریخ المتقد مین من الانبیائ، دارالفکربیروت، ۲/ ۴۸۔۵۴۷)نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے شہادت ادا کریں گے الحدیث وقد اختصرناہ (ہم نے حدیث کو اختصاراً نقل کیا ہے)
    دارقطنی غرائب، امام مالک اور بیہقی دلائل اور خطیب رواۃ مالک میں بطریق عدیدہ عن مالک بن انس عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما، اور ابن ابی الدنیا، اور بیہقی وابو نعیم دلائل میں بطریق ابن لہیعہ عن مالک بن الازہر عن ،نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما اور ابو نعیم دلائل میں من طریق یحیٰی بن ابراہیم بن ابی قتیلۃ عن بن اسلم عن ابیہ اسلم مولٰی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، اور معاذ بن المثنٰی زوائد مسند مسدد میں بطریق منتصر بن دینار عن عبداﷲ بن ابی الھذیل راوی ہیں اور بروجہ آخر واقدی مغازی میں عن عبدالعزیزبن عمر بن جعونۃ بن نضلۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، اور ابن جریر تاریخ اور باوردی کتاب الصحابہ میں بطریق ابی معروف عبداﷲ بن معروف عن ابی عبدالرحمن الانصاری عن محمد بن حسین بن علی بن ابی طالب، اور ابن ابی الدنیا امام محمد باقر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی: وھذا حدیث معاذ و فیہ صریح النص علی مرادنا ومازدنا من الطریق الاول ادرنا حولہ ھلالین۔ یہ حدیث معاذکی ہے اور اس میں صریح نص ہے ہماری مراد پر، اور پہلے طریقہ سے ہم جو زیادتی کریں گے وہ ہلالین میں ہے۔

    ذریب بن برثملا کی شہادت
    سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے نضلہ بن عمرو انصاری کو تین سو مہاجرین وانصار کے ساتھ تاراج حلوان عراق کے لئے بھیجا، یہ قیدی اور غنیمتیں لے آتے تھے، ایک پہاڑ کے دامن میں شام ہوئی، نضلہ نے اذان کہی، جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبر پہاڑ سے آواز آئی اور صور ت نہ دکھائی دی کہ کوئی کہتا ہے کبرت کبیرایا نضلۃ تم نے کبیر کی بڑائی کی اے نضلہ!، جب کہا اشھدان لا الٰہ الا اﷲ جواب آیا اخلصت یا نضلۃ اخلاصًا نضلہ! تم نے خالص توحید کی، جب کہا اشھدان محمد ا رسول اﷲآواز آئی نبی بعث لا نبی بعدہ ھو النذیر وھو الذی بشرنا بہ عیسٰی بن مریم وعلٰی راس امتہ تقوم الساعۃ یہ نبی ہیں کہ مبعوث ہوئے ان کے بعد کوئی نبی نہیں یہی ڈر سنانے والے یہی ہیں جن کی بشارت ہمیں عیسٰی بن مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام نے دی تھی انہیں کی امت کے سر پر قیامت قائم ہوگی۔ جب کہا حی علی الصلوٰۃ جواب آیا فریضۃ فرضت(عہ۱) (طوبٰی لمن مشی الیہا وواظب علیھا) نمازایک فرض ہے کہ بندوں پر رکھا گیا خوبی و شادمانی اس کے لئے جو اس کی طرف چلے اور اس کی پابندی رکھے، جب کہا حی علی الفلاح آواز آئی افلح من اتاھا و واظب علیہا(افلح من اجاب محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم )(عہ۲) مراد کو پہنچا جو نماز کے لئے آیا اور اس پر مداومت کی، مراد کو پہنچا جس نے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اطاعت کی، جب کہا قد قامت الصلوٰۃ جواب آیا البقاء لا مۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی رؤسھا تقوم الساعۃ بقا ہے امت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے اور انہیں کے سروں پر قیامت ہوگی (جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبرلا الٰہ الا اﷲ آواز آئی اخلصت الاخلاص کلہ یا نضلۃ فحرم اﷲ بھا جسدک علی النار اے نضلہ! تم نے پورا اخلاص کیا تو اﷲ تعالٰی نے اس کے سبب تمہارا بدن دوزخ پر حرام فرمادیا) نماز کے بعد نضلہ کھڑے ہوئے اور کہا اے اچھے پاکیزہ خوب کلام والے!ہم نے تمہاری بات سنی تم فرشتے ہو یا کوئی سیاح یا جن، ظاہر ہو کر ہم سے بات کرو کہ ہم اﷲ عزوجل اور اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم (اور امیر المؤمنین عمر) کے سفیر ہیں، اس کہنے پر پہاڑ سے ایک بوڑھے شخص نمودار ہوئے، سپید مُو،درازریش،سرایک چکی کے برابر، سپید اُون کی ایک چادر اوڑھے ایک باندھے، اور کہا السلام علیکم ورحمۃ اﷲ، حاضرین نے جواب دیا، اور نضلہ نے پوچھا اﷲ تم پر رحم کرے تم کون ہو؟ میں ذریب بن برثملا ہوں بندہ صالح عیسٰی بن مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام کا وصی ہوں انہوں نے میرے لئے دعا فرمائی تھی کہ میں ان کے نزول تک باقی رہوں۔(زادفی الطریق الثانی دوسرے طریقہ میں یہ زائد ہے۔) پھر ان سے پوچھا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہا ں ہیں؟کہا انتقال فرمایا۔ اس پر وہ بزرگ بشدت روئے، پھر کہا ان کے بعد کون ہوا؟ کہا ابوبکر۔ وہ کہاں ہیں؟ کہاانتقال ہوا۔ کہا پھر کون بیٹھا؟ کہا عمر۔ کہا امیر المؤمنین عمر سے میرا سلام کہو، اور کہا کہ ثبات وسدا دوآسانی پر عمل رکھئے کہ وقت قریب آلگا ہے، پھر علاماتِ قرب قیامت اور بہت کلماتِ وعظ وحکمت کہے اور غائب ہوگئے۔ جب امیر المؤمنین کو خبر پہنچی سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نام فرمان جاری فرمایا کہ خود اس پہاڑ کے نیچے جائیے (اور وہ ملیں تو انہیں میرا سلام کہئے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی کہ عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک وصی عراق کے اس پہاڑ میں منزل گزین ہے) سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ (چار ہزار مہاجرین وانصار کے ساتھ) اس پہاڑ کو گئے چالیس دن ٹھہرے پنجگانہ اذانیں کہیں مگر جواب نہ ملا۔ آخر واپس آئے ۱؎(۱ ؎ دلائل النبوۃ ابو نعیم، عالم الکتب بیروت، الجزء الاول ص ۲۸۔۲۵)(دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ماجاء فی قصہّ وصیئ عیسٰی ابن مریم علیہما السلام، المکتبۃ الاثریہ ،لاہور، ۵/ ۴۲۵تا۴۲۷)
    عہ۱: ھکذا فی السابع وفی الطریق الثانی عند البیھقی فی الصلٰوۃ قال کلمۃ مقبولۃ وفی الفلاح قال البقاء لامۃ احمد صلی اﷲ علیہ وسلم، وعکس ابن ابی الدنیا فذکر فی الصلوٰۃ البقاء لامۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و فی الفلاح کلمۃ مقبولۃ ۱۲ منہ۔
    (م) ساتویں طریقہ میں یوں ہے اور دوسرے طریقہ میں بیہقی کے ہاں یوں ہے، حی علی الصلوٰۃ پر کہا، یہ مقبول کلمہ ہے، اور حی علی الفلاح پر کہا اس میں امت محمدیہ کے لئے بقاء ہے اور ابن ابی الدنیا نے اس کا عکس بیان کیا کہ پہلے میں امت محمدیہ کی بقاء اور دوسرے میں مقبول کلمہ کہا ۱۲ منہ
    عہ۲: زاد الخطیب وھو البقاء لا متہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ(م)
    خطیب نے یوں زیادہ کہا، یہ امتِ محمدیہ کی بقا ہے، ؐ۱۲ منہ
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  8. ‏ اگست 25, 2014 #18
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    شام کے نصرانی ختم نبوت کی شہادت دیتے ہیں
    طبرانی معجم کبیر میں سیدنا جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، میں زمانہ جاہلیت میں ملک شام کو تجارت کے لئے گیا تھا ملک کے اسی کنارے پر اہل کتاب سے ایک شخص مجھے ملا پوچھا کیا تمہارے یہاں کسی شخص نے نبوت کا دعوٰی کیا ہے؟ہم نے کہاہاں، کہا تم ان کی صورت دیکھو تو پہچان لو گے؟میں نے کہا ہاں، وہ ہمیں ایک مکان میں لے گیا جس میں تصاویر تھیں، وہاں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ مجھے نظر نہ آئی، اتنے میں ایک اور کتابی آکر بولا: کس شغل میں ہو؟ہم نے حال کہا، وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا وہا ں جاتے ہی حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تصویر منیرمجھے نظر آئی اور دیکھا کہ ایک شخص حضور کے پیچھے حضور کے قدم مبارک کو پکڑے ہوئے ہے، میں نے کہا یہ دوسرا کون ہے، وہ کتابی بولا: انہ لم یکن نبی الا کان بعدہ نبی الا ھذا فانہ لا نبی بعدہ وھذا الخلیفۃ بعدہ۔ بیشک کوئی نبی ایسا نہ ہوا جس کے بعد نبی نہ ہو سوا اس نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ دوسرا ان کے بعد خلیفہ ہے۔ اسے جو میں دیکھوں تو ابوبکر صدیق کی تصویر تھی ۱؎(۱ ؎ المعجم الکبیر، حدیث ۱۵۳۷، المکتبۃ الفیصلیۃ،بیروت، ۲/ ۱۲۵)(دلائل النبوۃ ابو نعیم، عالم الکتب،بیروت، ۱/ ۹)
    بادشاہ روم کے دربار میں ذکر مصطفی
    تذ ییل اوّل: ابن عساکر بطریق قاضی معافی بن زکریا حضرت عبادہ بن صامت، اور بیہقی و ابو نعیم بطریق حضرت ابوامامہ باہلی حضرت ہشام بن عاص سے راوی رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، جب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ہمیں بادشاہ روم ہرقل کے پاس بھیجا اور ہم اس کے شہ نشین کے نزدیک پہنچے وہاں سواریاں بٹھائیں اور کہا لا الٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ جانتا ہے یہ کہتے ہی اس کا شہ نشین ایسا ہلنے لگا جیسے ہوا کے جھونکے میں کھجور، اس نے کہلا بھیجا یہ تمہیں حق نہیں پہنچتا کہ شہروں میں اپنے دین کا اعلان کرو، پھر ہمیں بلایا ہم گئے وہ سرخ کپڑے پہنے سرخ مسند پر بیٹھا تھا آس پاس ہر چیز سرخ تھی اس کے اراکین دربار اس کے ساتھ تھے ہم نے سلام نہ کیا اور ایک گوشے میں بیٹھ گئے وہ ہنس کر بولا تم آپس میں جیسا ایک دوسرے کو سلام کرتے ہو مجھے کیوں نہ کیا؟ ہم نے کہا ہم تجھے اس سلام کے قابل نہیں سمجھتے اور جس مجرے پر تو راضی ہوتا ہے وہ ہمیں روا نہیں کہ کسی کے لئے بجا لائیں، پھر اس نے پوچھا سب سے بڑا کلمہ تمہارے یہا ں کیا ہے؟ہم نے کہا لا الٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر، خدا گواہ ہے یہ کہتے ہی بادشاہ کے بدن پر لرزہ پڑگیا پھر آنکھیں کھول کر غور سے ہمیں دیکھا اور کہا یہی وہ کلمہ ہے جو تم نے میرے شہ نشین کے نیچے اترتے وقت کہا تھا؟ ہم نے کہا ہاں،کہا جب اپنے گھروں میں اسے کہتے ہو تو کیا تمہاری چھتیں بھی اس طرح کانپنے لگتی ہیں؟ ہم نے کہا خدا کی قسم یہ تو ہم نے یہیں دیکھا اور اس میں خدا کی کوئی حکمت ہے، بولا سچی بات خوب ہوتی ہے سن لو خدا کی قسم مجھے آرزو تھی کہ کاش میرا آدھا ملک نکل جاتا اور تم یہ کلمہ جس چیز کے پاس کہتے وہ لرزنے لگتی۔ ہم نے کہا یہ کیوں؟کہا یوں ہوتا تو کام آسان تھا اور اس وقت لائق تھا کہ یہ زلزلہ شان نبوت سے نہ ہو بلکہ کوئی انسانی شعبدہ ہو ۱؎ (یعنی اﷲ تعالٰی ایسے معجزات ہر وقت ظاہر نہیں فرماتا بلکہ عالم اسباب میں شان نبوت کو بھی غالباً مجرائے عادت کے مطابق رکھتا ہے)(۱ ؎ دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما وجد من صورۃ نبینا محمد، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱/ ۸۷۔۳۸۶)(جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن المعافی عن عبادۃ بن الصامت، حدیث ۱۵۶۴۱ دارالفکر،بیروت، ۲۰/ ۶۲ )
    ولو جعلنٰہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا علیھم ما یلبسون۲؂
    اگر ہم فرشتے کو نبی بناتے تو مرد ہی بناتے اور اس کو وہی لباس پہناتے جو مرد لوگ پہنتے ہیں۔
    ولہٰذا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے جہادوں میں بھی جنگ دو سرداروں کا مضمون رہتا ہے۔ الحرب بیننا وبینہ سجال ینال منا و ننال منہ۳؎ ۔ رواہ الشیخان عن ابی سفیان رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔(ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کبھی وہ کامیاب اور کبھی ہم کامیاب ہوتے ہیں، اس کو شیخین نے ابوسفیان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) (۲؂القرآن الکریم ۹/ ۶) (۳ ؎ صحیح البخاری، باب کیف کان بدء الوحی، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۱/ ۴)
    لہٰذا جب ابوسفیان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ہر قل کو خبر دی کہ لڑائی میں کبھی ہم بھی ان پر غالب آتے ہیں ہر قل نے کہا ھذہ اٰیۃ النبوۃ۴؎ یہ نبوت کی نشانی ہے رواہ البزار و ابونعیم عن دحیۃ الکلبی رضی اﷲ تعالٰی عنہ (اسے بزار اور ابو نعیم نے دحیہ کلبی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔)(۴؎ کشف الاستار عن زوائد البزار باب فیما کان عند اہل الکتاب من علامات نبوتہ، موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۳/ ۱۱۷)
    تصرفِ اولیا اور مظلومیت حسین
    یہ بات یادر کھنے کی ہے کہ بعض جہال ضعیف الایمان اس پر شک کرنے لگتے ہیں، اور اسی قبیل سے ہے جاہل وہابیوں کا اعتراض کہ اولیاء اگر اﷲ تعالٰی کی طرف سے کچھ قدرت رکھتے تو امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کیوں ایسی مظلومی کے ساتھ شہید ہوجاتے، ایک اشارے میں یزید پلید کے لشکر کو کیوں نہ غارت فرمادیا۔ مگر یہ سفہاء نہیں جانتے کہ ان کی قدرت جو انہیں ان کے رب نے عطا فرمائی رضا و تسلیم وعبدیت کے ساتھ ہے نہ کہ معاذ اﷲ جباری و سرکشی و خود سری کے ساتھ مقوقس بادشاہ مصر نے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے امتحاناً پوچھا کہ جب تم انہیں نبی کہتے ہو تو انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاک فرمادیا جب انہوں نے ان کا شہر مکہ چھڑایا تھا، حاطب رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا: کیا تو عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو رسول نہیں مانتا انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاک کردیا جب انہوں نے انہیں پکڑا اور سولی دینے کا ارادہ کیا تھا؟مقوقس بولا: انت حکــیم جــآء من عند حکیم۱؎، تم حکیم ہو کہ حکیم کامل صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے آئے، رواہ البیھقی عن حاطب رضی اﷲ تعالٰی عنہ( اس کو بیہقی نے حاطب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔)(۱؎ دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء الی کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم المقوقس دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۳۹۶)
    خیر یہ تو فائدہ زائدہ تھا، حدیث سابق کی طرف عود کریں۔
    ہرقل کے پاس انبیاء کی تصاویر
    پھر ہر قل نے ہمیں باعزاز و اکرام ایک مکان میں اتارا، دونوں وقت عزت کی مہمانیاں بھیجتا، ایک رات ہمیں پھر بلا بھیجا، ہم گئے اس وقت اکیلا بالکل تنہا بیٹھا تھا، ایک بڑا صندوقچہ زرنگار منگا کر کھولا اس میں چھوٹے چھوٹے خانے تھے ہر خانے پر دروازہ لگا تھا، اس نے ایک خانہ کھول کر سیاہ ریشم کا کپڑا تہہ کیا ہوا نکالا اسے کھولا تو اس میں ایک سرخ تصویر تھی، مرد فراخ چشم بزرگ سرین کہ ایسے خوبصورت بدن میں ایسی لمبی گردن کبھی نہ دیکھی تھی سر کے بال نہایت کثیر (بے ریش دو گیسو غایت حسن و جمال میں) ہر قل بولا: انہیں پہچانتے ہو؟ہم نے کہا: نہ، کہا:یہ آدم ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پھر وہ تصویر رکھ کر دوسرا خانہ کھولا، اس میں سے ایک سیاہ ریشم کا کپڑا نکالا، اس میں خوب گورے رنگ کی تصویر تھی، مرد بسیار موئے سر مانند موئے قبطیاں،فراخ چشم،کشادہ سینہ،بزرگ سر (آنکھیں سرخ،داڑھی خوبصورت) پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہ، کہا یہ نوح ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ پھر اسے رکھ کر اور خانہ کھولا، اس میں سے حریر سبز کا ٹکڑا نکالا اس میں نہایت گورے رنگ کی ایک تصویر تھی، مرد خوب چہرہ، خوش چشم، دراز بینی(کشادہ پیشانی)،رخسارے سُتے ہوئے، سر پر نشانِ پیری، ریش مبارک سپید نورانی، تصویر کی یہ حالت ہے کہ گویا جان رکھتی ہے، سانس لے رہی ہے (مسکرا رہی ہے) کہا: ان سے واقف ہو؟ہم نے کہا: نہ، کہا: یہ ابراہیم ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔پھر اسے رکھ کر ایک اور خانہ کھولا، اس میں سے سبز ریشم کا پارچہ نکالا، اسے جو ہم نظر کریں تو محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تصویر منیر تھی، بولا: انہیں پہچانتے ہو؟ ہم رونے لگے اور کہا: یہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں، وہ بولا: تمہیں اپنے دین کی قسم یہ محمد ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں ہمیں اپنے دین کی قسم یہ حضور اکرم کی تصویرپاک ہے گویا ہم حضور کو حالتِ حیات دنیوی میں دیکھ رہے ہیں، اسے سنتے ہی وہ اچھل پڑا بے حواس ہوگیا سیدھا کھڑا ہوا پھر بیٹھ گیا دیر تک دم بخود رہا پھر ہماری طرف نظر اٹھا کر بولا: اما انہ اٰخر البیوت ولٰکنی عجلتہ لا نظر ما عندکم۱؎،سنتے ہو یہ خانہ سب خانوں کے بعد تھا مگر میں نے جلدی کر کے دکھایا کہ دیکھوں تمہارے پاس اس باب میں کیا ہے، یعنی اگر ترتیب وار دکھاتا آتا تو احتمال تھا کہ تصویر حضرت مسیح کے بعد دکھانے پر تم خواہ مخواہ کہہ دو کہ یہ ہمارے نبی کی تصویر ہے اس لئے میں نے ترتیب قطع کر کے اسے پیش کیا کہ اگر یہ وہی نبی موعود ہیں تو ضرور پہچان لو گے، بحمداﷲ تعالٰی ایسا ہی ہوا، اور یہی دیکھ کر اس حرماں نصیب کے دل میں درد اٹھا کہ حواس جاتے رہے اٹھا بیٹھا دم بخود رہا۔ واﷲ متم نورہ ولو کرہ الکٰفرونo۲؂ والحمدﷲ رب العٰلمینo۳؂ (اﷲ تعالٰی اپنے نور کو تام فرمائیگا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ والحمدﷲ رب العٰلمین۔)(۱؎ جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن معافی عن عبادۃ بن الصامت حدیث ۱۵۶۴۱، دارالفکر بیروت۲۰/ ۶۳)(دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماوجد فی صورۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، دارالکتب العلمیہ، بیروت ۱/ ۸۸، ۳۸۷)(۲؂القران الکریم ۶۱/ ۸) (۳؂القرآن الکریم ۱/۱)
    مطلب تو بحمد اﷲ یہیں پورا ہوگیا کہ یہ خانہ سب خانوں کے بعد ہے، اس کے بعد حدیث میں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تصاویر کریمہ کا ذکرہے،
    حلیہ ہائے منورہ پر اطلاع مسلمین کے لئے اس کا خلاصہ بھی مناسب، یہاں تک کہ دونوں حدیثیں متفق تھیں، ترجمہ مختصراً حدیث عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالٰی عنہ کا تھا، جو لفظ حدیث ہشام رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بڑھائے خطوط ہلالی میں تھے، اب حدیث ہشام اتم وازید ہے کہ اس میں پانچ انبیاء لوط واسحق و یعقوب و اسماعیل و یوسف علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذکر شریف زائد ہے لہٰذا اسی سے اخذ کریں، اور جو مضمون حدیث عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں زائد ہو اسے خطوط ہلالی میں بڑھائیں۔
    فرماتے ہیں پھر اس نے ایک اور خانہ کھولا، حریر سیاہ پر ایک تصویر گندمی رنگ سانولی نکالی(مگر حدیث عبادہ میں گورا رنگ ہے) مرد مرغول (عہ۱) مو سخت گھونگر والے بال، آنکھیں جانب باطن مائل، تیز نظر، ترش رو دانت، باہم چڑھے ہونٹ، سمٹا جیسے کوئی حالتِ غضب میں ہو۔ ہم سے کہا: انہیں پہچانتے ہو؟ یہ موسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام ہیں، اور ان کے پہلو میں ایک اور تصویر تھی، صورت ان سے ملتی مگر سر پر خوب تیل پڑا ہوا، پیشانی کشادہ، پتلیاں جانب بینی مائل (سر مبارک مدوّر گول)، کہا: انہیں جانتے ہو؟ یہ ہارون علیہ السلام ہیں۔
    عہ۱: الحمدﷲ حدیثیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں ابو یعلٰی وابن عسا کر نے بطریق یحیٰی بن ابی عمر و الشیبانی عن ابی صالح عن ام ھانی رضی اﷲ تعالٰی عنھا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے حدیث معراج میں موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی حلیہ روایت کیا کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: واما موسٰی فضخم اٰدم طوال، کانہ من رجال شنوأۃ کثیر الشعر، غائر العینین، متراکب الاسنان مقلص الشفۃ خارج اللثۃ، عابس۱؎
    لیکن موسٰی علیہ السلام بھاری بدن، گند م گوں، طویل، گویا شنوہ قبیلہ کے لوگ، آنکھیں جانب باطن مائل، باہم چڑھے ہوئے دانت باہم ملے ہوئے ہونٹ، لٹکی داڑھی، سمٹا جیسے حالت غضب ۔ت۔ اور یہیں سے ترجیح حدیث صحیح ہشام رضی اﷲ تعالٰی عنہ ظاہر ہوئی کہ گندمی رنگ بتایا تھا ۱۲ منہ۔(۱ ؎ درمنثور بحوالہ ابی یعلٰی وابن عساکر ،تحت آیہ سبحٰن الذی، منشورات مکتبۃ آیۃ اﷲ العظمی، قم ایران، ۴/ ۱۴۸)(المطالب العالیۃ بحوالہ ابی یعلی، حدیث ۴۲۸۷، دارالباز مکۃ المکرمۃ، ۴/ ۲۰۲)
    پھر اور خانہ کھول کر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، مرد گندم گوں، سر کے بال سیدھے، قدمیانہ، چہرے سے آثار غضب نمایاں، کہا: یہ لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، گورا رنگ جس میں سرخی جھلکتی، ناک اونچی، رخسارے ہلکے، چہرہ خوبصورت، کہا یہ اسحق علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، صورت صورتِ اسحق علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مشابہ تھی مگر لب زیریں پر ایک تل تھا، کہا: یہ یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سیاہ پر ایک تصویر نکالی، رنگ گورا، چہرہ حسین، ناک بلند، قامت خوبصورت، چہرے پر نوردرخشاں اور اس میں آثار خشوع نمایاں، رنگ میں سرخی کی جھلک تاباں،کہا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جد کریم اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی کہ صورت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مشابہ تھی، چہرہ گویاآفتاب تھا، کہا یہ یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی سرخ رنگ، باریک ساقیں، آنکھیں کم کھلی ہوئی(عہ۲) جیسے کسی کو روشنی میں چوندھ لگے، پیٹ ابھرا ہوا، قدمیانہ، تلوار حمائل کئے، مگر حدیث عبادہ میں اس کے عوض یوں ہے حریر سبز پر گوری تصویر جس کے عضو عضو سے نزاکت و دلکشی ٹپکتی، ساق و سرین خوب گول، کہا: یہ داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، فربہ سرین، پاؤں میں طول، گھوڑے پر سوار(جس کے ہر طرف پر لگے تھے گردن(عہ۱) دبی ہوئی،پشت کو تاہ، گورارنگ) کہا: یہ سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں (اور یہ پردار گھوڑا جس کی ہر جانب پر ہیں ہوا ہے کہ انہیں اٹھائے ہوئے ہے)
    عہ۲:یہ اس سالہا سال کے گریہ خوف الٰہی کا اثر تھا جس کے باعث رخسارہ انور پر دو خط سیاہ بن گئے تھے۔
    عہ۱ :
    حدیث مذکورام ہانی رضی اﷲ تعالٰی عنہا میں حلیہ سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام میں ہے قدمیانہ سے زائد دراز سے کم، سینہ چوڑا، خون کی سرخی بدن پر جھلکتی، بال عمدہ ان کی سیاہی سرخی مائل ۱۲ منہ۔
    پھر حریر سیاہ پر ایک گوری تصویر نکالی، مرد جوان،داڑھی نہایت سیاہ، سر کے بال کثیر، چہرہ خوبصورت (آنکھیں حسین، اعضا متناسب)کہا(عہ۲) یہ عیسٰی بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام ہیں۔
    ہم نے کہا: یہ تصویریں تیرے پاس کہاں سے آئیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ضرور سچی تصاویر ہیں کہ ہم نے اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تصویر کریم کے مطابق پائی۔ کہا: آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی تھی کہ میری اولاد کے انبیاء مجھے دکھادے حق سبحانہ تعالٰی نے ان پر تصاویر انبیاء اتاریں کہ مغرب شمس کے پاس خزانہ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں تھیں، ذوالقرنین نے وہاں سے نکال کر دانیال علیہ السلام کو دیں (انہوں نے پارچہ ہائے حریر پر اتاریں کہ یہ بعینہا وہی چلی آتی ہیں) سن لو خدا کی قسم مجھے آرزو تھی کاش میرا نفس ترک سلطنت کو گوارا کرتا اور میں مرتے دم تک تم میں کسی ایسے کا بندہ بنتا جو غلاموں کے ساتھ نہایت سخت برتاؤ رکھتا (مگر کیا کروں نفس راضی نہیں ہوتا) پھر ہمیں عمدہ جائزے دے کر رخصت کیا(اور ہمارے ساتھ آدمی کر کے سرحدِ اسلام تک پہنچادیا) ہم نے آکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حال عرض کیا، صدیق روئے اور فرمایا: مسکین اگر اﷲ اس کا بھلا چاہتا وہ ایسا ہی کرتا، ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ یہ اور یہودی اپنے یہاں محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نعت پاتے ہیں۱؎ (۱ ؎ دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما وجد من صورۃ نبینا محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ الاثریہ، لاہور ۱/ ۳۸۸ تا ۳۹۰)(جامع الاحادیث بحوالہ ابن عسا کر عن المعافی عن عبادہ بن الصامت، حدیث ۱۵۶۴۱ دارالفکر بیروت، ۲۰/ ۶۳ و ۶۴)
    عہ۲: فائدہ :
    یہ نفیس جلیل حدیث طویل جس کا خلاصہ اختصار کے ساتھ تین ورق میں بیان ہوا بحمدللہ صحیح ہے امام حافظ عماد الدین بن کثیر، امام خاتم الحفاظ سیوطی نے فرمایا ھذا حدیث جیدالاسناد ورجالہ ثقات۔ ۱۲منہ
    مقوقس کے دربار میں فرمانِ نبویتذ ییل دوم
    امام واقدی اور ابو القاسم بن عبدا لحکم فتوح مصر میں بطریق ابان بن صالح راوی جب حاطب بن ابی بلتعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرمان اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لے کر مقوقس نصرانی بادشاہ مصر و اسکندریہ کے پاس تشریف لے گئے، اس نے ان سے دریافت کیا کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کس بات کی طرف بلاتے ہیں؟انہوں نے فرمایا: توحید و نماز پنجگانہ و روزہ رمضان وحج و فائے عہد۔ پھر اس نے حضور کا حلیہ پوچھا، انہوں نے باختصار بیان کیا، وہ بولا: قد بقیت اشیاء لم تذکر ھا فی عینیہ حمرۃ قلت ما تفارقہ وبین کتفیہ خاتم النبوۃ الخ ابھی اور باتیں باقی رہیں کہ تم نے نہ بیان کیں ان کے آنکھو ںمیں سرخ ڈورے ہیں کہ کم کسی وقت جدا ہوتے ہوں اور ان کے دونوں شانوں کے بیچ مہر نبوت ہے۔
    پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اور صفات کریمہ بیان کر کے بولا: قد کنت اعلم ان نبیا قدبقی وقد کنت اظن مخرجہ بالشام، وھناک کانت تخریج الانبیاء قبلہ فاراہ قد خرج فی ارض العرب فی ارض جھد وبؤس والقبط لا تطاوعنی علی اتباعہ وسیظھر علی البلاد۱؎ مجھے یقینا معلوم تھا کہ ایک نبی باقی ہے اور مجھے گمان تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا کہ اگلے انبیاء نے وہاں ظہور کیا اب میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے عرب میں ظہور فرمایا، محنت میں مشقت کی زمین میں، اور قبطی ان کی پیروی میں میری نہ مانیں گے عنقریب وہ ان شہروں پر غلبہ پائیں گے۔(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ واقدی وابن عبدالحکیم، المقصد الثانی، الفصل الثالث، دارالمعرفۃ، بیروت،۳/ ۳۵۰)
    تتمہ حدیث: ابوالقاسم نے بطریق ہشام بن اسحق وغیرہ اور ابن سعد نے طبقات میں بطریق محمد بن عمر بن واقد ان کے شیوخ سے روایت کیا کہ مقوقس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اسی مضمون کی عرضی لکھی کہ: قد علمت ان نبیا بقی وکنت اظن انہ یخرج بالشام وقد اکرمتک رسولک وبعثت الیک بھدیۃ۲؎ مجھے یقین تھا کہ ایک نبی باقی ہے اور میرے گمان میں وہ شام سے ظہور کرتا اور میں نے حضور کے قاصد کا اعزاز کیا اور حضور کے لئے نذر حاضر کرتا ہوں۔(۲؎ الطبقات الکبرٰی، ذکر بعثتہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الخ، دارصادر، بیروت، ۱/ ۲۶۰)
    عبداﷲ بن سلام کا واقعہ ایمان
    تذ ییل سوم: بیہقی دلائل میں حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، جب میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا چرچا سنا اور حضور کے صفت ونام وہیات اور جن جن باتوں کی ہم حضور کے لئے۔ توقع کر رہے تھے سب پہچان لیں تو میں نے خاموشی کے ساتھ اسے دل میں رکھا یہاں تک کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے مجھے خبر رونق افروزی پہنچی میں نے تکبیر کہی میری پھوپھی بولی: اگر تم موسٰی بن عمران علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آنا سنتے تو اس سے زیادہ کیا کرتے؟میں نے کہا: اے پھوپھی ! خدا کی قسم وہ موسٰی بن عمران کے بھائی ہیں جس بات پر موسٰی بھیجے گئے تھے اسی پر یہ بھی مبعوث ہوئے ہیں، وہ بولی: یا ابن اخی اھو النبی الذی کنا نخبر بہ انہ یبعث مع بعث الساعۃ، قلت لھا نعم ۱؎ اے میرے بھتیجے! کیایہ وہ نبی ہیں جن کی ہم خبر دئے جاتے تھے کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوں گے؟ میں کہا: نعم ہاں۔ (الحدیث) خطیب و ابن عساکر حضرت عبدا ﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انا احمد و محمد والحاشر والمقفی و الخاتم۲؎ میں احمد ہوں اور محمد اور تمام جہان کو حشر دینے والا، اور سب انبیاء کے پیچھے آنے والا، اور نبوت ختم فرمانے والا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(۱؎ دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما جاء فی دخول عبداﷲ بن سلام علٰی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالکتاب العلمیہ، بیروت، ۲/ ۵۳۰)(۲؎ تاریخ بغدادللخطیب، ترجمہ ۲۵۰۱ احمد بن محمد السوطی، دارالکتاب العربی، بیروت، ۵/ ۹۹)
    ہجرت حضرت عباس
    ابو یعلٰی و طبرانی و شاشی وابونعیم فضائل الصحابہ میں اور ابن عسا کر و ابن النجار حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے موصولاً اور رؤیانی وابن عساکر محمد بن شہاب زہری سے مرسلاً راوی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالٰی عنہما عمِ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں(مکہ معظمہ سے) عرضی حاضر کی کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوں۔ اس کے جواب میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ فرمان نافذ فرمایا: یا عم اقم مکانک الذی انت فیہ، فان اﷲ یختم بک الھجرۃ کما ختم بی النبوۃ ۳؎ اے چچا! اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو، جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(۳ ؎ تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ذکر من اسمہ عباس، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۷/ ۲۳۵)
    امام اجل فقیہ محدث ابوالیث سمر قندی تنبیہہ الغافلین میں فرماتے ہیں: حدثنا ابوبکر محمد بن احمد ثنا ابو عمران ثنا عبدالرحمن ثنا داؤد ثنا عباد بن الکثیر عن عبد خیر عن علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ ہمیں ابو بکر محمد بن احمد ان کو ابو عمران ان کو عبدالرحمن ان کو داؤد ان کو عباد بن کثیر ان کو عبد خیر سے انہوں نے حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بیان کیا۔ جب سورۃ اذا جاء نصراﷲ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مرض وصال شریف میں نازل ہوئی حضور فوراً برآمد ہوئے پنجشنبہ کا دن تھا، منبر پر جلوس فرمایا، بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو حکم دیا کہ مدینے میں ندا کردو''لوگو!رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی وصیت سننے چلو'' یہ آواز سنتے ہی سب چھوٹے بڑے جمع ہوئے، گھروں کے دروازے ویسے ہی کھلے چھوڑدئیے یہاں تک کہ کنواریاں پردوں سے باہر نکل آئیں، حد یہ کہ مسجد شریف حاضرین پر تنگ ہوئی، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرمارہے ہیں اور اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو، اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو۔ پھر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم منبر پر قیام فرما کر حمد و ثنائے الٰہی بجا لائے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام پر درود بھیجی، پھر ارشاد ہوا: انا محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ھاشم العربی الحرمی المکی لا نبی بعدی۱؎ الحدیث، ھذا مختصر۔ میں محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم عربی صاحب حرم محترم و مکہ معظمہ ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں،الحدیث، ہذا مختصر (۱ ؎ تنبیہ الغافلین، باب الرفق، دارالکتب العلمیۃ،بیروت، ص ۴۳۷)

    مدینہ طیبہ میں حضور کی تشریف آوری
    اﷲ اﷲ ایک وہ دن تھا کہ مدینہ طیبہ میں حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کی دھوم ہے، زمین و آسمان میں خیر مقدم کی صدائیں گونج رہی ہیں، خوشی و شادمانی ہے کہ درو دیوار سے ٹپکی پڑتی ہے، مدینے کے ایک ایک بچے کا دمکتا چہرہ انار دانہ ہورہا ہے، باچھیں کھلی جاتی ہیں، دل ہیں کہ سینوں میں نہیں سماتے، سینوں پر جامے تنگ، جاموں میں قبائے گل کا رنگ، نور ہے کہ چھماچھم برس رہا ہے فرش سے عرش تک کا نور کا بقعہ بنا ہے، پردہ نشین کنواریاں شوق دیدارِ محبوبِ کر دگار میں گاتی ہوئی باہر آئی ہیں کہ :

    طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
    وجب الشکر علینا ما دعاﷲ داع ۱؎


    ہم پر چاند نکل آیا وداع کی گھاٹیوں سے
    ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب تک دعا مانگنے والا دعا مانگے
    بنی النجار کی لڑکیاں کوچے کوچے محوِ نغمہ سرائی ہیں کہ:

    نحن جوارٍ من بنی النجار ٖ یا حبذامحمد من جارٖ ۲؎


    ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اے نجاریو!محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کیسا اچھا ہمسایہ ہے۔
    (۱؎ المواہب اللدنیۃ، الہجرۃ الی المدینۃ متی انشد طلع البدر، المکتب الاسلامی،بیروت، ۱/ ۳۱۳)(۲؎ المواہب اللدنیۃ، الھجرۃ الی المدینۃ متی انشد طلع البدر، المکتب الاسلامی، بیروت، ۱/ ۳۱۴)
    ایک دن آج ہے کہ اس محبوب کی رخصت ہے، مجلسِ آخری وصیت ہے ، مجمع تو آج بھی وہی ہے، بچوں سے بوڑھوں تک، مردوں سے پردہ نشینوں تک سب کا ہجوم ہے، ندا ئے بلال سنتے ہی چھوٹے بڑے سینوں سے دل کی طرح بے تابانہ نکلے ہیں، شہر بھرنے مکانوں کے دروازے کھلے چھوڑ دئے ہیں، دل کمھلائے چہرے مرجھائے دن کی روشنی دھیمی پڑگئی کہ آفتابِ جہاں تاب کی وداع نزدیک ہے، آسمان پژمردہ، زمین افسردہ، جدھر دیکھو سناٹے کا عالم اتنا اژدھام اور ہو کا مقام، آخری نگاہیں اس محبوب کے روئے حق نما تک کس حسرت و یاس کے ساتھ جاتی اور ضعفِ نومیدی سے ہلکان ہو کر بیخودانہ قدموں پر گر جاتی ہیں، فرطِ ادب سے لب بند مگر دل کے دھوئیں سے یہ صدا بلند ؎

    کنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر
    من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر ۲؎

    میں اپنے دیکھنے والوں کے لئے سیاہ تھا پس اندھا کیا گیا آپکو دیکھنے والے کو، پس جو چاہے آپ کے بعد ماردے، پس آپ پر ہی بھروسا تھا کہ مجھے بچالیں گے(۲ ؎ المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر،الفصل الاول (وثائ) المکتب الاسلامی، بیروت، ۴/ ۵۵۴)
    اﷲ کا محبوب، امت کا داعی کس پیار کی نظر سے اپنی پالی ہوئی بکریوں کو دیکھتا اور محبت بھرے دل سے انہیں حافظ حقیقی کے سپرد کر رہا ہے، شان رحمت کو ان کی جدائی کا غم بھی ہے اور فوج فوج امنڈ تے ہوئے آنے کی خوشی بھی کہ محنت ٹھکانے لگی، جس خدمت کو ملک العرش نے بھیجا تھا با حسن الوجوہ انجام کو پہنچی۔
    نوح کی ساڑھے نوسو برس وہ سخت مشقت اور صرف پچاس شخصوں کو ہدایت، یہاں بیس (۲۰) تئیس (۲۳) ہی سال میں بحمداﷲ یہ روز افزوں کثرت، کنیز و غلام جوق جوق آرہے ہیں، جگہ باربار تنگ ہوجاتی ہے دفعہ دفعہ ارشاد ہوتا ہے آنے والوں کو جگہ دو، آنے والوں کوجگہ دو، اس عام دعوت پر جب یہ مجمع ہو لیا ہے سلطان عالم نے منبر اکرم پر قیام کیا ہے، بعد حمد و صلوٰۃ اپنے نسب و نام و قوم و مقام و فضائل عظام کا بیان ارشاد ہوا ہے، مسلمانو! خدارا پھر مجلس میلا د اور کیا ہے، وہی دعوت عام، وہی مجمع تام، وہی منبر و قیام، وہی بیان فضائل سید الانام علیہ وآلہ الصلوٰۃ و السلام مجلس میلاد اور کس شئے کا نام ، مگر نجدی صاحبوں کو ذکر محبوب مٹانے سے کام وربنا الرحمن المستعان وبہ الاعتصام وعلیہ التکلان (ہمارا رب رحمن مددگار ہے اور اسی ذات سے مضبوطی اور اسی پر اعتماد.
    آخری تدوین : ‏ اگست 25, 2014
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  9. ‏ اگست 25, 2014 #19
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    چار پائے کلام کرتے ہیں
    ابن حبان و ابن عساکر حضرت ابو منظور اور ابو نعیم بروجہ آخر حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، جب خیبر فتح ہوا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک دراز گوش سیاہ رنگ دیکھا اس سے کلام فرمایا، وہ جانور بھی تکلم میں آیا، ارشاد ہوا، تیرا کیا نام ہے؟ عرض کی: یزید بیٹا شہاب کا،، اﷲ تعالٰی نے میرے دادا کی نسل سے ساٹھ دراز گوش پیدا کئے کلھم لا یرکبہ الا نبی ان سب پر انبیاء سوار ہوا کئے وقد کنت اتوقعک ان ترکبنی، لم یبق من نسل جدی غیری ولا من الانبیاء غیرکہ مجھے یقینی توقع تھی کہ حضور مجھے اپنی سواری سے مشرف فرمائیں گے کہ اب اس نسل میں سوا میرے اور انبیاء میں سوا حضور کے کوئی باقی نہیں، میں ایک یہودی کے پاس تھا اسے قصداً گرا دیا کرتا وہ مجھے بھوکا رکھتا اور مارتا، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کا نام یعفور رکھا، جسے بلانا چاہتے اسے بھیج دیتے چوکھٹ پر سرمارتا جب صاحب خانہ باہر آتا اسے اشارے سے بتاتا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، جب حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا وہ مفارقت کی تاب نہ لایا ابو الہیثم بن التیہان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے کنویں میں گر کر مرگیا ۱؎
    ھذا حدیث ابی منظور ونحوہ عن معاذ باختصار غیر انہ ذکر مکان الاباء ثلثۃ اخوۃ واسمہ مکان یزید عمر وقال کلنا رکبنا الانبیاء انا اصغرھم وکنت لک۲؎، الحدیث .یہ ابو منظور کی حدیث ہے اور اسی کی مثل حضرت معاذ سے بطریق اختصار مروی ہے مگر انہوں نے آباء کی جگہ تین بھائیوں کا اور یزید کی جگہ نام عمر ذکر کیا اور اس نے کہا ہم سب پر انبیاء علیہم السلام سوا ر ہوئے جبکہ میں سب سے چھوٹا ہوں اور میں آپ کے لئے ہوں، الحدیث۔(۱؎ المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابن عساکر عن ابی منظور، مقصد رابع، فصل اول، المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۵۵۴)(۲ ؎ دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الثانی والعشرون، عالم الکتب،بیروت، ص ۱۳۸)
    قلت ولا علیک من دندنۃ العلامۃ ابن الجوزی کعادتہ علیہ ولا من تحامل ابن دحیۃ علٰی حدیث الضب المارسابقا فلیس فیھما ما ینکر شرعا ولا فی سندھما کذاب ولا وضاع ولا متھم بہ فانی یاتھما الوضع وھذا امام الشان العسقلانی قد اقتصرفی حدیث ابی منظور علی تضعیفہ ولہ شاھد من حدیث معاذکما تری لا جرم ان قال الزرقانی نہایتہ الضعف لا الوضع ۱؎، وقال ھو والقسطلانی فی حدیث الضب(معجزاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیھا ما ھو ابلغ من ھذا ولیس فیہ ما ینکر شر عا خصوصا و قدرواہ الائمۃ) الحافظ الکبار کابن عدی وتلمیذہ الحاکم و تلمیذہ البیھقی وھو لا یروی موضوعا والدارقطنی وناھیک بہ (فنھا یتہ الضعف لاالوضع) کما زعم کیف ولحدیث ابن عمر طریق اٰخر لیس فیہ السلمی رواہ ابو نعیم وورد مثلہ من حدیث عائشۃ وابی ھریرۃ عند غیر ھما۲؎ ۱ھ
    قلت(میں کہتا ہوں) علامہ ابن جوزی کا اعتراض جیسا کہ اس کی عادت ہے تجھے مضر نہیں، اور نہ ہی ابن دحیہ کی سو سمار سے متعلق گزشتہ حدیث پر جسارت تجھے مضر ہے، ان دونوں حدیثوں میں شرعی طور پر کوئی قابل انکار چیز نہیں اور نہ ہی ان کی سندوں میں کوئی کذاب اور وضاع اور متہم راوی ہے تو ان حدیثوں کا موضوع ہونا کہاں سے ہوا جبکہ امام عسقلانی نے ابو منظور کی حدیث کو ضعیف کہنے پر اقتصار کیا حالانکہ اس حدیث کا شاہد حضرت معاذ کی حدیث ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے اسی بنا پر علامہ زرقانی نے فرمایا زیادہ سے زیادہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ہے، اور انہوں نے اور امام قسطلانی نے بھی سو سمار والی حدیث کے متعلق فرمایا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات میں تو اس سے بڑھ کر واقعات ہیں جبکہ اس حدیث میں شرعی طور پر قابل انکا ر چیز بھی نہیں، خصوصاً جبکہ اس کو بڑے ائمہ حفاظ جیسے ابن عدی، ان کے شاگرد امام حاکم اور ان کے شاگرد امام بیہقی نے روایت کیا ہو، امام بیہقی تو موضوع روایت ذکر نہیں کرتے، اس کو دارقطنی نے روایت کیا ان کی سند تو تجھے کافی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہوسکتی ہے موضوع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے خیال کیا، موضوع کیسے کہا جائے جبکہ ابن عمر کی حدیث دوسرے طریقہ سے بھی مروی ہے جس میں سلمٰی مذکور نہیں اس طریق کو ابو نعیم نے روایت کیا اور حضرت عائشہ صدیقہ اور ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کی مثل دونوں کے غیر سے وارد ہے ۱ھ(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب، دارالمعرفۃ بیروت، ۵/ ۱۴۸)(۲؎ المواہب اللدنیہ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب،المکتب الاسلامی، بیروت، ۲/ ۵۵۵)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب،دارالمعرفۃ بیروت، ۵/ ۵۰۔۱۴۹)
    قلت وقد اوردکلا الحدیثین الامام خاتم الحفاظ فی الخصائص الکبری وقد قال فی خطبتہا نزھتہ عن الاخبار الموضوعۃ وما یرد ۱ھ ۳؎ ، قلت وعزو الزرقانی حدیث الضب لا بن عمر تبع فیہ الماتن اعنی الامام القسطلانی صاحب المواھب وسبقھما الد میری فی حٰیوۃ الحیوان الکبری لکن الذی رأیت فی الخصائص الکبرٰی والجامع الکبیر للامام الجلیل الجلال السیوطی ھو عزوہ لامیرالمؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کما قدمت وقد اوردہ فی الجامع فی مسند عمر فزیادۃ لفظ الابن اما وقع سھوا اویکون الحدیث من طریق ابن عمر عن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما فیصح العزو الی کل وان کان الاولی ذکرا لمنتھی ویحتمل علی بُعد عن کل منھما فاذن یکون مرویا عن ستۃ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم، واﷲ تعالٰی اعلم۔
    قلت( میں کہتا ہوں) ان دونوں حدیثوں کو امام جلا ل الدین سیوطی نے خصائص الکبرٰی میں ذکر فرمایا حالانکہ انہوں نے اس کتاب کے خطبہ میں فرمایا ہے میں نے اس کتاب کو موضوع اور مردودروایات سے دور رکھا ہے۱ھ قلت( میں کہتا ہوں) زرقانی کا سو سمار والی حدیث کو ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی طرف منسوب کرنا ماتن یعنی مصنف مواہب امام قسطلانی کی پیروی ہے جبکہ ان دونوں سے قبل علامہ دمیری نے حٰیوۃ الحیوان میں اس کو ذکر کیا لیکنمیں نے امام جلا ل الدین سیوطی کی خصائص الکبرٰی اور جامع کبیر میں دیکھا انہوں نے اس کو امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں، انہوں نے اسے اپنی جامع میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مسند میں ذکر فرمایا، تو ''ابن'' کا لفظ سہواً لکھا گیا ہے یا پھر ابن عمر کے ذریعے حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے لہٰذا دونوں حضرات کی طرف نسبت درست ہے، اگر چہ منتہی راوی یعنی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب کرنا اولٰی ہے اور بعید احتمال کے طور پر دونوں حضرات سے مستقل روایت بھی ہوسکتی ہے تو یوں چھ صحابہ سے یہ حدیث مروی ہوگی۔ (واﷲ تعالٰی اعلم )۔(۳؎ الخصائص الکبرٰی، مقدمۃ المؤلف، دارالکتب الحدیثیہ، بیروت، ۱/ ۸)
    میرے بعد کوئی نبی نہیں

    سعید بن ابی منصور و امام احمد وابن مردویہ حضرت ابوالطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ۱؎ میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھے خواب۔(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل، حدیث َابی الطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ، دارالفکر بیروت، ۵/ ۴۵۴)(مجمع الزوائد، کتاب التعبیر، دارالکتاب،بیروت، ۷/ ۱۷۳)
    احمد وخطیب اور بیہقی شعب الایمان میں اس کے قریب ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا یبقی بعدی من النبوۃ شیئ الاالمبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا العبد اوتری لہ۱؎
    میرے بعد نبوت سے کچھ باقی نہ رہے گا مگر بشارتیں، اچھا خواب کہ بندہ آپ دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل، حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ا ﷲتعالٰی عنہا، دارالفکر بیروت، ۶/ ۱۲۹)(تاریخ بغداد للخطیب، ترجمہ ۵۸۳۶، عبدالغالب بن جعفر، دارالکتاب، العربی، بیروت، ۱۱/ ۱۴۰)
    تیس (۳۰) کذّاب
    ابو بکر ابن ابی شیبہ مصنف میں عبید بن عمر ولیثی اور طبرانی کبیرمیں نعیم بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلٰثون کذّابا کلھم یزعم انہ نبی زاد۲؎عبید قبل یوم القٰیمۃ۔قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ اس سے پہلے تیس کذاب نکلیں ہر ایک اپنے آپ کو نبی کہتا ہو۔ عبید نے اس پر ''قبل یوم القٰیمۃ''کو زائد کیا۔(۲ ؎ مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفتن حدیث ۱۹۴۱۱، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ،کراچی ۱۵/ ۱۷۰)
    اقول وانما اخرنا ھما الی التذییل بخلاف عین اللفظ المتقدم فی الحدیث الثانی والستین لان فی تتمتہ ان من قال فافعلوا بہ کذاوکذا وھٰذا العموم انما تم لا جل ختم النبوۃ اذلوجاز ان یکون بعدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی صادق لما ساع الامر المذکور بالعموم وان کان یاتی ایضا ثلٰثون او الوف من الکذابین بل کان یجب اقسامۃ امارۃ تمیز الصادق من الکاذب والامر بالایقاع بمن ھو کاذب منھم لا غیر کما لا یخفی والی اﷲ المشتکٰی من ضعفنا فی ھٰذہ الزمان الکثیر فجارہ القلیل انصارہ الغالب کفارہ البین عوارہ وقد ظھر الاٰن بعض ھٰؤلاء الدجالین الکذابین فلواراداﷲ باحدھم شیئًا یطیروا بالمسلم والمسلم انما حدّث فانّا ﷲ واناّ الیہ رٰجعون لکن الاحتراس کان اسلم للمسلم وانفی للفساد فاحببنا الاقتصار علی القدر المراد واﷲ المستعان وعلیہ التکلان ولا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم۔
    اقول(میں کہتا ہوں) ان دونوں حدیثوں کو ہم نے تذییل کے آخر میں ذکر کیا برخلاف اس کے جو باسٹھویں حدیث میں پہلے گزرا عین لفظ اس کے کیونکہ اس کے آخر میں یوں ہے کہ جو بھی نبوت کا دعوٰی کرے اسے یہ یہ کرو۔ اور جو بھی ایسا دعوٰی کرے اس سے یوں کرو''یہ عموم ختم نبوت کے لئے ہی تام ہوسکتا ہے کیونکہ اگر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا جائز ہوتا تو پھر یہ عام حکم ایسے لوگ تیس ہوں یا ہزاروں ہوں سب کو شامل نہ ہوتا بلکہ پھر سچے اور جھوٹے نبی کی تمیز میں کوئی امتیازی علامت بیان کر کے''یہ یہ کرنے'' کا حکم ان میں سے صرف کاذبین کے لئے ہوتا ہر ایک کے لئے نہ ہوتا، جیسا کہ ظاہر ہے، اور اﷲ تعالٰی سے ہی اس زمانہ میں ہمیں اپنے کمزور ہونے کی شکایت ہے یہ زمانہ جس میں فجار کی کثرت، مددگاروں کی قلت، کافروں کا غلبہ اور کج روی عام ہے جبکہ اب بعض ایسے کذاب دجّال لوگ ظاہر ہوئے ہیں، اگر ایسے دجالوں کو اﷲ تعالٰی کے ارادہ سے کچھ ہوگیا تو اس کو مسلمانوں کی طرف منسوب کیا جائے گا کہ انہوں نے ایسی حدیث بیان کی جس پریہ کچھ ہوا ہم اﷲ تعالٰی کی ملک ہیں اور اس کی طرف ہمارا لوٹنا ہے تاہم مسلمانوں کو اپنی حفاظت مناسب ہے اور فساد کو دفع کرنا زیادہ بہتر ہے تو اس لئے صرف مراد کو بیان کرنا ہی پسند کیا ہے، اور اﷲ تعالٰی ہی سے مدد اور اسی پر توکل ہے لاحو ل ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم۔
    علی بمنزلہ ہارون ہیں
    خطیب حضرت امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: انما علی مِنّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الا انہ لا نبی بعدی ۱؎ علی مجھ سے ایسا ہے جیسا موسٰی سے ہارون( کہ بھائی بھی اور نائب بھی) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں(۱؎ تاریخ بغداد للخطیب، ترجمہ ۴۰۲۳، الحسن بن یزید، دارالکتاب العربی، بیروت، ۷/ ۴۵۳)
    امام احمد مناقب امیر المؤمنین علی میں مختصراً، اور بغوی وطبرانی اپنی معاجیم، باوردی معرفت، ابن عدی کامل، ابو احمد حاکم کنٰی میں بطریق امام بخاری، ابن عساکر تاریخ میں سب زید بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل میں راوی وھذا حدیث احمد ( یہ حدیث احمد ہے۔ت) جب حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے باہم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں بھائی چارہ کیا امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ نے عرض کی: میری جان نکل گئی اور پیٹھ ٹوٹ گئی، یہ دیکھ کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کے ساتھ کیا جو میرے ساتھ نہ کیا یہ اگر مجھ سے کسی ناراضی کے سبب ہے تو حضور ہی کے لئے منانا اور عزت ہے۔
    رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: والذی بعثنی بالحق ما اخرتک الا لنفسی وانت منّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی غیر انہ لا نبی بعدی۲؎ قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا میں نے تمہیں خاص اپنے لئے رکھ چھوڑا ہے تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسٰی سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تم میرے بھائی اور وارث ہو۔(۲؎ تاریخ دمشق لابن عسا کر،ذکر من اسمہ سلمان، ترجمہ سلمان بن الاسلام الفارسی، داراحیاء التراث، العربی بیروت،۶/ ۲۰۳)(فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل، حدیث ۱۰۸۵، موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۲/ ۳۹۔۶۳۸)
    امیر المؤمنین نے عرض کی: مجھے حضور سے کیا میراث ملے گی؟فرمایا: جو اگلے انبیاء کو ملی۔ عرض کی: انہیں کیا ملی تھی؟فرمایا: خدا کی کتاب اور نبی کی سنت، اور تم میرے ساتھ جنت میں میری صاحبزادی کے ساتھ میرے محل میں ہوگے اور تم میرے بھائی اور رفیق ہو۔
    ابن عساکر (عہ)بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہٖ عقیل بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عقیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا: خدا کی قسم میں تمہیں دو جہت سے دوست رکھتا ہوں، ایک تو قرابت، دوسرے یہ کہ ابوطالب کو تم سے محبت تھی، اے جعفر! تمہارے اخلاق میرے اخلاق کریمہ سے مشابہ ہیں: واما انت یا علی فانت منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی غیر انہ لانبی بعدی ۱؎ تم اے علی! مجھ سے ایسے ہو جیسے موسٰی سے ہارون مگر یہ کہ میرے بعد نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن عبداﷲ بن عقیل حدیث ۳۳۶۱۶،موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۱/ ۷۳۹)
    فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ عن عبداﷲ بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل وھو خطاء وصوابہ عبداﷲ بن محمد بن عقیل، عبداﷲ تابعی صدوق من رجال الاربعۃ ما خلا النسائی قال الذھبی حدیثہ فی مرتبۃ الحسن وابوہ تابعی مقبول رجال ابن ماجۃ۱۲ منہ (م)
    کنزالعمال کے مطبوعہ نسخہ میں عبداﷲ بن عقیل اپنے والد ماجد اور ان کے دادا عقیل سے راوی جبکہ یہ خطا ہے اور صحیح یہ ہے عبداﷲ بن محمد بن عقیل، یہ عبداﷲ تابعی ہیں نہایت صادق، نسائی کے ماسوا سنن صحاح کے راویوں میں شمار ہیں، امام ذہبی نے فرمایا ان کی روایت حسن کے مرتبہ میں ہے اور ان کے والد بھی تابعی اور مقبول، ابن ماجہ کے راویوں میں شمار ہیں۔
    الحمدﷲ تین چہل حدیث کا عدد تو کامل ہواجن میں چوراسی ۸۴ حدیثیں مرفوع تھیں اور سترہ۱۷ تذییلات علاوہ، پہلے گزری تھیں سات (عہ) اس تکمیل میں بڑھیں، ان سترہ میں بھی پانچ مرفوع تھیں تو جملہ مرفوعات یعنی وہ حدیثیں جو خود حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مروی حضور کے ارشاد و تقریر کی طرف منتہٰی ہیں نواسی ۸۹ ہوئیں لہٰذا چاہا کہ ایک حدیث مرفوع اور شامل ہو کہ نوّے ۹۰ احادیث مرفوعہ کا عدد کامل ہو نیز ان اﷲ وتر یحب الوتر(اﷲ واحد ہے اور واحد کو پسند کرتا ہے۔ت) کا فضل حاصل ہو۔
    بعد حدیث ۱۱۰ تذییل اول دو حدیث عبادہ بن صامت وہشام بن عاص، وتذییل دوم دو حدیث حاطب وشیوخ واقدی، وتذییل سوم حدیث ابن سلام وبعد حدیث ۱۱۷ دو حدیث عبید و نعیم رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۱۲ منہ (م)

    میں آخری نبی اور میری امت آخری امت ہے
    بیہقی سنن میں حضر ت ابن زمل جُہنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل رؤیا میں راوی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بعد نماز صبح پاؤں بدلنے سے پہلے ستر بار سبحان اﷲ وبحمدہٖ واستغفراﷲ ان اﷲ کان توّابا پڑھتے پھر فرماتے یہ ستر ۷۰ سات سو ۷۰۰ کے برابر ہیں نرا بے خیر ہے جو ایک دن میں سات سو ۷۰۰ سے زیادہ گناہ کرے (یعنی ہر نیکی کم از کم دس ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا، تو یہ ستر کلمے سات سو نیکیاں ہوئے اور ہر نیکی کم از کم ایک بد ی کو محو کرتی ہے۔ ان الحسنات یذھبن السیاٰت، تو اس کے پڑھنے والے کے لئے نیکیاں ہی غالب رہیں گی مگر وہ کہ دن میں سات سو گناہ سے زیادہ کرے اور ایسا سخت ہی بے خیر ہوگا وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
    پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے تشریف رکھتے اور اچھا خواب حضور کو خوش آتا دریافت فرماتے: کسی نے کچھ دیکھا ہے؟ ابن زمل نے عرض کی: یارسول اﷲ ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔فرمایا: بھلائی پاؤ اور برائی سے بچو ہمیں اچھا اور ہمارے دشمنوں پر بُرا، رب العالمین کے لئے ساری خوبیاں ہیں خواب بیان کرو۔انہوں نے عرض کی: میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایک وسیع نرم بے نہایت راستے پر بیچ شارع عام میں چل رہے ہیں ناگہاں اس راہ کے لبوں پر خوبصورت سبزہ زار نظر آیا کہ ایسا کبھی نہ دیکھا تھا اس کا لہلہاتا سبزہ چمک رہا ہے، شادابی کا پانی ٹپک رہا ہے، اس میں ہر قسم کی گھاس ہے،پہلا ہجو م آیا، جب اس سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی اور سواریاں سیدھے راستے پر ڈالے چلے گئے ادھر ادھر اصلاً نہ پھرے، پھر اس مرغزار کی طرف کچھ التفات نہ کیا، پھر دوسرا ہلّہ آیا کہ پہلوں سے کئی گنا زائد تھا، سبزہ زار پرپہنچے تکبیر کہی راہ پر چلے مگر کوئی کوئی اس چراگاہ میں چرانے بھی لگا اور کسی نے چلتے میں ایک مُٹھّا لے لیا، پھر روانہ ہوئے، پھر عام اژدھام آیا، جب یہ سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی اور بولے یہ منزل سب سے اچھی ہے یہ ادھر ادھر پڑگئے میں ماجرا دیکھ کر سیدھا راہ راہ پڑلیا، جب سبزہ زار سے گزر گیا تو دیکھا کہ سات زینے کا ایک منبر ہے اور حضور اس کے سب سے اونچے درجے پر جلوہ فرما ہیں، حضور کے آگے ایک سال خوردلاغر ناقہ ہے حضور اس کے پیچھے تشریف لے جاتے ہیں سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ راہ نرم و وسیع وہ ہدایت ہے جس پر میں تمہیں لایا اور تم اس پر قائم ہو اور وہ سبزہ زار دنیا اور اس کے عیش کی تازگی ہے میں اور میرے صحابہ تو چلے گئے کہ دنیا سے اصلاً علاقہ نہ رکھا نہ اسے ہم سے تعلق ہوا نہ ہم نے اسے چاہا نہ اس نے ہمیں چاہا پھر دوسرا ہجوم ہمارے بعد آیا وہ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے، ان میں سے کسی نے چرایا کسی نے گھاس کا مُٹّھا لیا اور نجات پا گئے، پھربڑا ہجوم آیا وہ سبزہ زار میں دہنے بائیں پڑگئے تو انّا ﷲ وانّا الیہ رٰجعونoاور اے ابن زمل!تم اچھی راہ پر چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے ملو اور وہ سات زینے کا منبر جس کے درجہ اعلٰی پر مجھے دیکھا یہ جہان ہے اس کی عمر سات ہزار برس کی ہے اور میں اخیر ہزار میں ہوں وامّا ناقۃ التی رأیت ورأیتنی اتبعھا فھی الساعۃ علینا تقوم لا نبی بعدی ولا اُمۃ بعد اُمتی اور وہ ناقہ جس کے پیچھے مجھے جاتا دیکھا قیامت ہے ہمارے ہی زمانے میں آئے گی، نہ میرے بعد کوئی نبی نہ میری امت کے بعد کوئی امت۱؎، صلی اﷲ تعالٰی علیک وعلٰی امتک اجمعین وبارک وسلم واٰخردعوٰنا ان الحمدﷲ رب العٰلمین۔(۱؎کنزالعمال بحوالہ البیہقی،حدیث ۴۲۰۱۸، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۵/ ۵۱۸تا ۵۲۱)(المعجم الکبیر حدیث ۸۱۴۶، عن ابن زمل الجہنی، المکتبۃ الفیصلیۃ،بیروت،۸/ ۳۶۲و۳۶۷)
    تسجیل جمیل
    گیارہ تابعی صحابہ وتابعین جن میں صرف گیارہ تابعی:
    ۱۔ امام اجل محمد باقر ۲۔سعد بن ثابت
    ۳۔ابن شہاب زہری ۴۔عامر شعبی
    ۵۔عبداﷲ بن ابی الہذیل ۶۔علاء بن زیاد
    ۷۔ابو قلابہ ۸۔کعب احبار
    ۹۔مجاھد مکی ۱۰۔محمد بن کعب قرظی
    ۱۱۔وہب بن منبہ
    اکاون صحابہ:باقی ساٹھ صحابی ازاں جملہ اکاون صحابہ خاص اصول مرویات میں:
    ۱۲۔ابی بن کعب ۱۳۔ابوامامہ باہلی
    ۱۴۔انس بن مالک ۱۵۔اسماء بنت عمیس
    ۱۶۔براء بن عازب ۱۷۔بلال مؤذن
    ۱۸۔ثوبان مولٰی رسول اﷲؐ ۱۹۔جابر بن سمرہ
    ۲۰۔جابر بن عبداﷲ ۲۱۔جبیر بن مطعم
    ۲۲۔حبیش بن جنادہ ۲۳۔حذیفہ بن اسید
    ۲۴۔حذیفہ بن الیمان ۲۵۔حسان بن ثابت
    ۲۶۔حویصہ بن مسعود ۲۷۔ابوذر
    ۲۸۔ابن زمل ۲۹۔زیاد بن لبید
    ۳۰۔زیدبن ارقم ۳۱۔زیدبن ابی اوفٰی
    ۳۲۔سعد بن ابی وقاص ۳۳۔سعید بن زید
    ۳۴۔ابو سعید خدری ۳۵۔سلمان فارسی
    ۳۶۔سہل بن سعد ۳۷۔ام المؤمنین ام سلمہ
    ۳۸۔ابو الطفیل عامر بن ربیعہ ۳۹۔عامر بن ربیعہ
    ۴۰۔عبداﷲ بن عباس ۴۱۔عبداﷲ بن عمر
    ۴۲۔عبدالرحمن بن غنم ۴۳۔عدی بن ربیعہ
    ۴۴۔عرباض بن ساریہ ۴۵۔عصمہ بن مالک
    ۴۶۔عقبہ بن عامر ۴۷۔عقیل بن ابی طالب
    ۴۸۔امیر المؤمنین علی ۴۹۔امیر المؤمنین عمر
    ۵۰۔عوف بن مالک اشجعی ۵۱۔ام المؤمنین صدیقہ
    ۵۲۔ام کرز ۵۳۔مالک بن حویرث
    ۵۴۔مالک بن سنان والد ابی سعید خدری ۵۵۔محمد بن عدی بن ربیعہ
    ۵۶۔معاذ بن جبل ۵۷۔امیر معاویہ
    ۵۸۔مغیرہ بن شعبہ ۵۹۔ابن ام مکتوم
    ۶۰۔ابو منظور ۶۱۔ابو موسٰی اشعری
    ۶۲۔ابوہریرہ
    اور نو صحابی تذییلات میں
    ۶۳۔حاطب بن ابی بلتعہ ۶۴۔عبداﷲ ابن ابی اوفٰی
    ۶۵۔عبداﷲ بن زبیر ۶۶۔عبداﷲ بن سلام
    ۶۷۔عبداﷲبن عمرو بن عاص ۶۸۔عبادہ بن صامت
    ۶۹۔عبید بن عمرو لیثی ۷۰۔نعیم بن مسعود
    ۷۱۔ہشام بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔

    ختم نبوت پر دیوبندی عقیدہ
    ان احادیث کثیرہ وافرہ شہیرہ متواترہ میں صرف گیارہ حدیثیں وہ ہیں جن میں فقط نبوت کا انہیں الفاظ موجودہ قرآن عظیم سے ذکر ہے جن میں آج کل کے بعض ضُلّال قاسمانِ کفر و ضلال نے تحریف معنوی کی اور معاذاﷲ حضور کے بعد اور نبوتوں کی نیو جمانے کو خاتمیت بمعنی نبوت بالذّات لی یعنی معنی خاتم النبیین صرف اس قدر ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نبی بالذّات ہیں اور انبیاء نبی بالعرض، باقی زمانے میں تمام انبیاء کے بعد ہونا حضور کے بعد اور کسی کو نبوت ملنی ممتنع ہونا یہ معنی ختم نبوت نہیں اور صاف لکھ دیا کہ حضور کے بعد بھی کسی کو نبوت مل جائے تو ختم نبوت کے اصلاً منافی نہیں اس کے رسالہ ضلالت مقالہ کا خلاصہ عبارت یہ ہے:
    قاسم نانوتوی کا عقیدہ
    عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدّم یا تاخّر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھرمقام مدح میں ولٰکن رسول اﷲ و خاتم النبیین فرمانا کیونکر صحیح ہوسکتا بلکہ موصوف بالعرض کا قصّہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے اسی طور پر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خاتمیت کو تصور فرمائیے آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور نبی موصوف بالعرض ایں معنی جو میں نے عرض کیا آپ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہوتو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۱؎ھ ملتقطاً(۱؎ تحذیر الناس، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی۔ ص۱۸و۲۴)
    مسلمانو! دیکھا اس ملعون ناپاک شیطانی قول نے ختم نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی، خاتمیت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کہ وہ تاویل گھڑی کہ خاتمیت خود ہی ختم کردی صاف لکھ دیا کہ اگر حضور خاتم الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوٰۃ والثنا کے زمانے میں بلکہ حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو ختم نبوت کے کچھ منافی نہیں اﷲ اﷲ جس کفر ملعون کے موجد کو خود قرآن عظیم کا وخاتم النبیین فرمانا نافع نہ ہوا کما قال تعالٰی (جیسا کہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا۔: وننزّل من القراٰن ما ھو شفاء ورحمۃ للمؤمنین ولا یزید الظّٰلمین الاّ خساراo۲؂ اتارتے ہیں ہم اس قرآن سے وہ چیز کہ مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے اور ظالموں کو اس سے کچھ نہیں بڑھتا سوا زیاں کے۔(۲؂القرآن الکریم ۱۷/ ۸۲)
    اسے احادیث میں خاتم النبیین فرمانا کیا کام دے سکتا ہے فبای حدیث بعدہ یومنون۳؂
    قرآن کے بعد اور کون سی حدیث پر ایمان لائیں گے۔ (القرآن الکریم ۷/ ۱۸۵)
    صحابہ کرام اور ختم نبوت
    فقیر غفرلہ المولی القدیر نے ان احادیث کثیرہ میں صرف گیارہ حدیثیں ایسی لکھیں جن میں تنہا ختم نبوت کا ذکر ہے باقی نوے ۹۰ احادیث اور اکثر تذییلات، ان پر علاوہ سو ۱۰۰ سے زائد حدیثیں وہی جمع کیں کہ بالتصریح حضور کا اسی معنی پر خاتم ہونا بتارہی ہیں جسے وہ گمراہ ضال عوام کا خیال جانتا ہے اور اس میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی تعریف نہیں مانتا، صحابہ کرام وتابعین عظّام کے ارشادات کہ تذییلوں میں گزرے،مثلاً:
    ۱۔امیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کو سب انبیاء کے بعد بھیجا۔
    ۲۔انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیں۔
    ۳۔عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ارشاد کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    ۴۔امام باقر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول کہ وہ سب انبیاء کے بعد بھیجے گئے۔
    انہیں تو یہ گمراہ کب سنے گا کہ وہ اسی وسوسۃ الخناس میں صاف یہ خود بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سلف صالح کے خلاف چلا ہے اور اسکا عذر یوں پیش کیا کہ:
    اگر بوجہ کم التفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو ان کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفل ناداں نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا وہ عظیم الشان ہوگیا''۔
    مگر آنکھیں کھول کر خود محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی متواتر حدیثیں دیکھئے کہ:
    ۱۔میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    ۲۔میں سب انبیاء میں آخر نبی ہوں۔
    ۳۔میں تمام انبیاء کے بعد آیا۔
    ۴۔ہمیں پچھلے ہیں۔
    ۵۔میں سب پیغمبروں کے بعد بھیجا گیا۔
    ۶۔قصر نبوت میں جو ایک اینٹ کی جگہ تھی مجھ سے کامل کی گئی۔
    ۷۔میں آخر الانبیاء ہوں۔
    ۸۔میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
    ۹۔رسالت و نبوت منقطع ہوگئی اب نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی۔
    ۱۰۔نبوت میں سے اب کچھ نہ رہا سوا اچھے خواب کے۔
    ۱۱۔ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
    ۱۲۔میرے بعد دجّال کذّاب ادعائے نبوت کریں گے۔
    ۱۳۔میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
    ۱۴۔نہ میری امت کے بعد کوئی امت۔
    ادھر علمائے کتبِ سابقہ(عہ) اﷲ و رسل جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشادات سن سن کر شہادات ادا کریں گے کہ:
    ۱۔احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہوں گے ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    ۲۔انکے سوا کوئی نبی باقی نہیں۔
    ۳۔وہ آخر الانبیاء ہیں۔
    عہ: نیز تذییلات میں مقوقس کی دو حدیثیں گزریں کہ ایک نبی باقی تھے وہ عرب میں ظاہر ہوئے، ہرقل کی دو حدیثیں کہ یہ خانہ آخر البیوت تھا، عبداﷲ بن سلام کی حدیث کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوئے، ایک حبر کا قول کہ وہ امت آخرہ کے نبی ہیں بلکہ جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عرض کہ حضور سب پیغمبروں سے زمانے میں متاخر ہیں۔(م)
    ادھر ملائکہ و انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی صدائیں آرہی ہیں کہ:
    ۴۔وہ پسین پیغمبراں ہیں۔
    ۵۔وہ آخر مرسلان ہیں۔
    خود حضرت عزت عزت عزتہ سے ارشادات جانفزا و دلنواز آرہے ہیں کہ:
    ۶۔محمد ہی اوّل و آخر ہے۔
    ۷۔اس کی امت مرتبے میں سب سے اگلی اور زمانے میں سب سے پچھلی۔
    ۸۔وہ سب انبیاء کے پیچھے آیا۔
    ۹۔اے محبوب! میں نے تجھے آخر النبیین کیا۔
    ۱۰۔اے محبوب! میں نے تجھے سب انبیاء سے پہلے بنایا اور سب کے بعد بھیجا۔
    ۱۱۔محمد آخر الانبیاء ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
    مگر یہ ضال مضل محرف قرآن مغیر ایمان ہے کہ نہ ملائکہ کی سنے نہ انبیاء کی نہ مصطفٰی کی مانے نہ ان کے خدا کی۔ سب کی طرف سے ایک کان گونگا ایک بہرا، ایک دیدہ اندھا ایک پھوٹا، اپنی ہی ہانک لگائے جاتا ہے کہ یہ سب نافہمی کے اوہام، خیالاتِ عوام ہیں، آخر الانبیاء ہونے میں فضیلت ہی کیا ہے
    انّا ﷲ وانّا الیہ رٰجعونo کذٰلک یطبع اﷲ علٰی کل قلب متکبر جبارo۱؂ ربّنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمۃ انّک انت الوھابo۲؂
    اﷲ یونہی مہر کر دیتا ہے متکبر سر کش کے دل پر۔ اے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک توہی بڑا دینے والا۔(۱؂القرآن الکریم ۴۰/ ۳۵)(۲؂القرآن الکریم ۳/ ۸)
    ہاں ان نوے ۹۰ حدیثوں میں تین حدیثیں صرف بلفظ خاتمیت بھی ہیں، دو حدیث سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہ اے چچا! جس طرح اﷲ تعالٰی نے مجھ پر نبوت ختم کی تم پر ہجرت کو ختم فرمائے گا، جیسے میں خاتم النبیین ہوں تم خاتم المہاجرین ہوگے۔ شاید وہ گمراہ یہاں بھی کہہ دے کہ تمام مہاجرین کرام مہاجر بالعرض تھے حضرت عباس مہاجر بالذات ہوئے۔
    ایک اور حدیث الٰہی جل وعلا کہ میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم کرو نگا اور ان کے دین وشریعت پر ادیان شرائع کو۔
    اوگمراہ! اب یہاں بھی کہہ دے کہ اور دین دین بالعرض تھے یہ دین دین بالذات ہے توریت و انجیل و زبور اﷲ تعالٰی کے کلام بالعرض تھے قرآن کلام بالذات ہے مگر ہے یہ کہ: من لم یجعل اﷲ لہ نورا فما لہ من نور؂ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ونعوذ بہ من الحور بعد الکور والکفر بعد الایمان والضلال بعد الھدی ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد اٰخر المرسلین و خاتم النبیین واٰلہ و صحبہ اجمعین، والحمد ﷲ رب العٰلمین۔ جس کے لئے اﷲ تعالٰی نور نہ بنائے تو اس کے لئے کوئی نور نہیں، ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور عافیت کے طلبگار ہیں، اور ہم سنور نے کے بعد بگڑنے اور ایمان کے بعد کفر اور ہدایت کے بعد گمراہی سے اس کی پناہ کے طالب ہیں، حرکت اور طاقت نہیں مگر صرف اﷲ تعالٰی سے جو بلند و عظیم ہے، اﷲ تعالٰی کی صلواتیں ہمارے آقا و مولٰی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر جو رسولوں کے آخری اور نبیوں کے آخری ہیں اور آپ کی سب آل و اصحاب پر، والحمد ﷲ رب العالمین (۳؂القرآن الکریم ۲۴/ ۴۰)
    دیوبندی اور شیعہ عقائد میں مماثلت
    الحمدﷲ کہ بیان اپنے منتہٰی کو پہنچا اور حق کا وضوح ذروہ اعلٰی کو۔ احادیث متواترہ سے اصل مقصد یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا خاتم النبیین اور اہلبیت کرام کا نبوت و رسالت سے بے علاقہ ہونا تو بروجہ تواتر قطعی خود ہی روشن و آشکار ا ہوا اور اس کے ساتھ طائفہ تالفہ وہابیہ قاسمیہ کو خاتم النبیین کو بہ معنی آخر النبیین نہ ماننا، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد اور نبی ہونے سے ختم نبوت میں نقصان نہ جاننا اس کے کفر خفی ونفاق جلی کا بھی بفضلہٖ تعالٰی خوب اظہار ہوا اور ساتھ لگے رافضیوں کے چھوٹے بھائی حضرات تفضیلیہ کی بھی شامت آئی، اسد الغالب کی بارگاہ سے اسی ۸۰ کوڑوں کی سزا پائی، ان چھوٹے مبتدعوں کا رد یہاں محض تبعاًواستطراداً مذکور ورنہ ان کے ابطال مشرب ضلال سے قرآن عظیم واحادیث مرفوعہ واقوال اہلبیت وصحابہ وارشاداتِ امیر المؤمنین علی مرتضٰی واولیائے کرام وعلمائے اعلام و دلائل شرعیہ اصلیہ و فرعیہ کے دفتر معمور جس کی تفصیل جلیل وتحقیق جزیل فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ کی کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ۱۲۹۷ھ میں مسطور ہے۔
    • Dumb Dumb x 1
  10. ‏ اگست 25, 2014 #20
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    منکرانِ ختم نبوت پر علمائے اسلام کی گرفت

    اب بتوفیقہ تعالٰی تکفیر منکرانِ ختم نبوت میں بعض نصو ص ائمہ کرام لکھ کر بقیہ سوال کی طرف عنان گردانی منظور ۔
    علامہ تور پشتی
    (نص ۱):امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی معتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں:بحمداﷲ ایں مسئلہ در اسلامیان روشن ترازان ست کہ آنرا بکشف وبیان حاجت نہ افتداما ایں مقدار از قرآن از ترس آں یاد کردیم کہ مبادا زندیقے جاہلے رادرشبہتے اندازد و بسیار باشد کہ ظاہر نیار ند کردن وبدیں طریقہا پائے درنہند کہ خدائے تعالٰی برہمہ چیز قادرست کسے قدرت اورا منکر نیست اما چوں خدائے تعالٰی از چیز ے خبر دہد کہ چنیں خواھد بودن یا نخواہد بودن جزچناں نبا شد کہ خدائے تعالٰی ازاں خبر دہد وخدائے تعالٰی خبر داد کہ بعد از وے نبی دیگر نباشد ومنکر ایں مسئلہ کسے تواند بود کہ اصلا در نبوت او معتقد نبا شد کہ اگر برسالت او معترف بودے ویرادر ہرچہ ازاں خبر دادے صادق دانستے وبہماں حجت ہاکہ از طریق تواتر رسالت او پیش مابداں درست شدہ است ایں نیز درست شد کہ وے باز پسیں پیغمبران ست در زمان او و تاقیامت بعد ازوے ہیچ نبی نبا شد و ہر کہ دریں بہ شک ست درآں نیز بہ شک ست وآنکس کہ گوید کہ بعد از وے نبی دیگر بود یا ہست باخوامد بود وآنکس کہ گوید کہ امکان دارد کہ باشد کافر ست اینست شرط درستی ایمان بخاتم انبیاء محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۱؎(۱ ؎ معتمد فی المعتقد (فارسی)
    بحمد اﷲ تعالٰی یہ مسئلہ مسلمانوں میں روشن تر ہے کہ اسے بیان و وضاحت کی حاجت کیا ہے لیکن قرآن سے کچھ اس لئے بیان کررہے ہیں کہ کسی زندیق کے لئے کسی جاہل کو شبہ میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ رہے بسا اوقات کھلی بات کے بجائے یوں فریب دیتے ہیں کہ اﷲ ہر چیز پر قادر ہے کوئی اس کی قدرت کا انکار نہیں کرسکتا لیکن جب اﷲ تعالٰی کسی چیز کے متعلق خبر دے دے کہ ایسے ہوگی یا نہ ہوگی، تو اس کا خلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ اﷲ تعالٰی اسی سے خبر دیتا ہے اور اﷲتعالٰی خبر دیتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا نبی نہ ہوگا، اس بات کا منکر وہی ہوسکتا ہے جو سرے سے نبوت کا منکر ہوگا جو شخص آپ کی رسالت کا معترف ہوگا وہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بیان کردہ ہر خبر کو سچ جانے گا جن دلائل سے آپ کی رسالت کا ثبوت بطریق تواتر ہمارے لئے درست ہے اسی طرح یہ بھی درست ثابت ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد آپ کے زمانہ میں اور قیامت تک آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا جو آپ کی اس بات میں شک کرے گا وہ آپ کی رسالت میں شک کرے گا،جو شخص کہے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی تھا یا ہے یا ہوگا اور جو شخص کہے کسی نبی کے آنے کا امکان ہے وہ کافر ہے یہی خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر صحیح ایمان کی شرط ہے۔
    امام ابن حجر مکی
    (نص ۲، ۳)امام ابن حجر مکی شافعی خیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان میں فرماتے ہیں: تنبأ فی زمنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ رجل قال امھلونی حتی اتٰی بعلامۃ فقال من طلب منہ علامۃ کفر لانہ بطلبہ ذٰلک مکذب لقول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا نبی بعدی۲؎ ۔ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے زمانے میں ایک مدعی نبوت نے کہا مجھے مہلت دو کہ کوئی نشانی دکھاؤں، امام ہمام نے فرمایا جو اس سے نشانی مانگے گا کافر ہوجائے گا کہ وہ اس مانگنے کے سبب مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد قطعی و متواتر ضروردینی کی تکذیب کرتا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(۲؎ خیرات الحسان فی مناقب الامام الفصل الحادی والعشرون فی فراستہ، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ص ۱۱۹)
    فتاوٰی ہندیہ(فتاوٰی عالمگیریہ فقیرغفرلہ)
    (نص ۴ تا ۷) فتاوٰی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں ہیں: واللفظ للعمادی قال قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر ولوانہ حین قال ھذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزہ و افتضاحہ لا یکفر ۱؎ یعنی اگر کوئی شخص کہے میں اﷲ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے میں پیغمبر ہوں کافر ہوجائے گا اگرچہ مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں، اور اگر اس کہنے والے سے کوئی معجزہ مانگے تو کہا گیا یہ بھی مطلقًا کافر ہے، اور مشائخ متأخرین نے فرمایا اگر اسے عاجز و رسوا کرنے کی غرض سے معجزہ طلب کیا تو کافر نہ ہوگا ورنہ ختم نبوۃ میں شک لانے کے سبب یہ بھی کافر ہوجائے گا۔(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الفصول العمادیۃ، الباب التاسع، نورانی کتب خانہ، پشاور، ۲/ ۲۶۳)
    اعلام بقواطع الاسلام
    (نص ۸) اعلام بقواطع الاسلام میں ہے: واضح تکفیر مدعی النبوۃ و یظھر کفر من طلب منہ معجزۃ لا نہ بطلبہ لھا منہ مجوز لصدقہ مع استحالتہ المعلومۃ من الدین بالضرورۃ نعم ان اراد بذٰلک تسفیھہ وبیان کذبہ فلا کفر۲؎ مدعی نبوت کی تکفیر تو خود ہی روشن ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مانگنے میں اس مدعی کا صدق محتمل مان رہا ہے حالانکہ دین متین سے بالضرورۃ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی ممکن نہیں، ہاں اگر اس طلب سے اسے احمق بنانا اس کا جھوٹ ظاہر کرنا مقصود ہو تو کفر نہیں۔(۲ ؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ، مکتبۃ الحقیقۃ استنبول،ترکی، ص۳۷۶)
    اسی (اعلام بقواطع الاسلام) میں ہے
    (نص ۹،۱۰)ومن ذٰلک (ای المکفرات) ایضا تکذیب نبی او نسبۃ تعمد کذب الیہ او محاربتہ اوسبہ او الاستخفاف ومثل ذٰلک کما قال الحلیمی مالو تمنی فی زمن نبینا او بعدہ ان لو کان نبیا فیکفر فی جمیع ذٰلک والظاھر انہ لافرق بین تمنی ذٰلک باللسان او القلب ۱؎اھ مختصراً۔ انہیں باتوں میں جو معاذ اﷲ آدمی کو کافر کر دیتی ہیں کسی نبی کو جھٹلانا یا اس کی طرف قصداً جھوٹ بولنے کی نسبت کرنا یا نبی سے لڑنا یا اسے بُرا کہنا اس کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہونا اور بتصریح امام حلیمی انہیں کفریات کی مثل ہے ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی شخص کا تمنا کرنا کہ کسی طرح سے نبی ہوجاتا، ان صورتوں میں کافر ہوجائے گا اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں وہ تمنا زبان سے یا صرف دل میں کرے ۱ھ مختصراً۔(۱ ؎ الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ، مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی، ص ۳۵۲)
    سبحان اﷲ! جب مجرد تمنا پر کافر ہوتا ہے تو کسی کی نسبت ادعائے نبوت کس درجہ کا کفر خبیث ہوگا، والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔

    (نص ۱۱ تا ۱۴) تیمیۃ الدہر پھر ہندیہ میں بعض ائمہ حنفیہ سے اور اشباہ والنظائر وغیر ہا میں ہے: واللفظ لھا اذالم یعرف ان محمدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات ۲؎ جب نہ پہچانے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے پچھلے نبی ہیں تو مسلمان نہیں کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔(۲ ؎ الاشباہ والنظائر، کتاب السیر باب الردۃ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ،کراچی، ۱/ ۲۹۶)
    طائفہ قاسمیہ
    مولٰی سبحَانہ و تعالٰی ہزاراں ہزار جزا ہائے خیر و کرم ورضوان اتم کرامت فرمائے ہمارے علمائے کرام کو ان سے کس نے کہہ دیا تھا کہ صد ہا برس بعد وہابیہ میں ایک طائفہ حائفہ قاسمیہ ہونے والا ہے کہ اگرچہ براہ نفاق و فریب کہ عوام مسلمین بھڑک نہ جائیں بظاہر لفظ خاتم النبیین کا اقرار کرے گا مگر اس کے بہ معنی آخر الانبیاء ہونے سے صاف انکار کرے گا اس معنی کو خیال عوام و ناقابل مدح قرار دے گا، اسی دن کے لئے ان اجلہ کرام نے لفظ اشہرواعرف ومکتوب فی المصحف اعنی خاتم النبیین کے عوض مسئلہ بلفظ آخر الانبیاء تحریر فرمایا کہ جو حضور کو سب سے پچھلا نبی نہ مانے مسلمان نہیں یعنی ختم نبوت اسی معنی پر داخل ضروریاتِ دین ہے یہی مراد رب العالمین ہے، اسی ضروری دین وارشاد الٰہ العالمین کو یہ گمراہ معاذ اﷲ عامی خیال بتاتے ہیں ۔ مہمل و مختل ٹھہراتے ہیں قاتلھم اﷲ انّٰی یؤفکون ۱؂ (۱؂القرآن الکریم ۶۳/ ۴)
    اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت) بحمداﷲ یہ کرامت علمائے کرام امت ہے فجزاھم اﷲ المثوبات الفاخرۃ ونفعنا ببرکاتھم فی الدنیا والاٰخرۃ اٰمین .اﷲ تعالٰی ان کو قابل فخر ثواب کی جزا دے اور ہمیں ان کی برکات سے دنیا و آخر ت میں نفع عطا فرمائے۔آمین۔
    فتاوٰی تاتارخانیہ
    تاتارخانیہ پھر عالمگیر یہ میں ہے: رجل قال لا خر من فرشتہ توام فی موضع کذااعینک علی امرک فقد قیل انہ لا یکفر وکذااذا قال مطلقا انا ملک بخلاف مااذا قال انا نبی ۲؎ یعنی ایک نے دوسرے سے کہا میں تیرا فرشتہ ہوں فلاں جگہ تیرے کام میں مدد کروں گا اس پر تو بعض نے بیشک کہا کافر نہ ہوگا یوں ہی اگر مطلقاً کہا میں فرشتہ ہوں بخلاف دعوٰی نبوت کہ بالاجماع کفر ہے۔یہ حکم عام ہے کہ مدعی زمانہ اقدس میں ہو مثل ابن صیاد و اسود خواہ بعد کما تقدم و سیاتی .جیسا کہ گزرا اور آگے آئے گا۔(۲ ؎ فتاوٰی ہندیہ، الباب التاسع فی احکام المرتدین، نورانی کتب خانہ، پشاور، ۴/ ۲۶۶)
    شفاء قاضی عیاض
    شفاء شریف امام قاضی عیاض مالکی اور اس کی شرح نسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجی میں ہے: (وکذٰلک یکفر من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) ای فی زمنہ کمسیلمۃ الکذاب والاسود العنسی (او ) ادعی (نبوۃ احد بعدہ) فانہ خاتم النبیین بنص القراٰن والحدیث فھذا تکذیب اﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (کالعیسویۃ) وھم طائفۃ (من الیھود) نسبوا لعیسٰی بن اسحٰق الیہودی ادعی النبوۃ فی زمن مروان الحمار و تبعہ کثیر من الیہود وکان من مذھبہ تجویز حدوث النبوۃ بعد نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ( وکاکثر الرافضۃ القائلین بمشارکۃ علی فی الرسالۃ للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبعدہ کالبزیغیۃ والبیانیۃ منھم) وھم اکفر من النصاری واشد ضررا منھم لا نھم بحسب الصورۃ مسلمون ویلتبس امرھم علی العوام (فٰھٰؤلاء) کلھم (کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاٰنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اخبر انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علٰی ان ھذا الکلام علی ظاھرہ وان مفھومہ المراد منہ دون تاویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤلاء الطوائف کلھا قطعًا اجماعًا وسمعًا)۱؎ ۱ ھ مختصراً۔
    یعنی اسی طرح وہ بھی کفر ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں کسی کی نبوت کا ادعا کرے جیسے مسیلمہ کذاب واسود عنسی یا حضور کے بعد کسی کی نبوت مانے اس لئے کہ قرآن و حدیث میں حضور کے خاتم النبیین ہونے کی تصریح ہے تو یہ شحص اﷲ و رسول کو جھٹلاتا ہے جل جلالہ و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، جیسے یہود کا ایک طائفہ عیسویہ کہ عیسٰی بن اسحٰق یہودی کی طرف منسوب ہے، اس نے مروان الحمار کے زمانے میں ادعائے نبوت کیا تھا اور بہت یہود اس کے تابع ہوگئے، اس کا مذہب تھا کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد نئی نبوت ممکن ہے اور جیسے بہت رافضی کہ مولا علی کو رسالت میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شریک اور حضور کے بعد انہیں نبی کہتے ہیں اور جیسے رافضیوں کے دو فرقے بزیغیہ و بیانیہ، ان لوگوں کا کفر نصارٰی سے بڑھ کر ہے اور ان سے زائد ان کا ضرر کہ یہ صورت میں مسلمان ہیں ان سے عوام دھوکے میں پڑجاتے ہیں یہ سب کے سب کفار ہیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تکذیب کر نے والے اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور خبر دی کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں اور اپنے رب عزوجل سے خبر دی کہ وہ حضور کو خاتم النبیین اور تمام جہان کی طرف رسول بتاتا ہے اور امت نے اجماع کیا کہ یہ آیات و احادیث اپنے معنی ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے خدا اور رسول کی یہی مراد ہے نہ ان میں کچھ تاویل ہے نہ تخصیص، تو کچھ شک نہیں کہ یہ سب طائفے بحکم اجماع امت وبحکم حدیث وآیت بالیقین کا فر ہیں۔(۱؎کتاب الشفاء للقاضی عیاض، فصل فی بیان ما ھو من المقالات، مطبعۃ شرکۃ صحافیہ، ۲/ ۷۱۔۲۷۰)(نسیم الریاض شرح شفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات دارالفکر بیروت، ۴/ ۵۰۶ تا ۵۰۹)
    منکرانِ ختم نبوت کے فرقے
    الحمد ﷲ اس کلام رشید نے ولید پلید وروافض بلید و قاسمیہ جدید و امیر یہ(عہ) طرید کسی مردود و عنید کا تسمہ نہ لگا وﷲ الحجۃ السامیہ، یہ فقرے آب زر سے لکھنے کے ہیں کہ ان خبیثوں کا کفر یہود و نصارٰی سے بدتر اور کھلے کافروں سے انکار زائد ضرر، والعیاذ باﷲ العزیز الاکبر۔
    عہ: اسی طرح طائفہ مرزائیہ متبعان غلام احمد قادیانی کہ سب سے تازہ ہے یہ بھی مرزا کو مرسل من اﷲ کہتا ہے اور خود مرزا اپنے اوپر وحی اترنے کا مدعی ہے اپنے کلام کو کلام الٰہی ومنزل من اﷲ بتاتا ہے اور اس کے رسالہ''ایک غلطی کا ازالہ'' سے منقول کہ اس میں صراحۃً اپنے آپ کو نبی بلکہ بہت انبیاء سے افضل لکھا ہے اس بارے میں ابھی چند روز ہوئے امر تسر سے سوال آیاتھا جس پر حضرت مصنف علامہ مدظلہ نے مدلل و مفصل فتوٰی تحریر فرمایا جس کا حسن بیان دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جس کا نام السوء والعقاب ہے۔ (وﷲ الحمد، عفی عنہ مصحح)
    مجمع الانہر
    وجیز امام کردری و مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:اما الایمان بسیدنا محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیجب بانہ رسولنا فی الحال وخاتم الانبیاء والرسل فاذا اٰمن بانہ رسول ولم یؤمن بانہ خاتم الانبیاء لا یکون مؤمنا ۱؎
    ہمارے مولا ہمارے سردار محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر یوں ایمان لانا فرض ہے کہ حضور اب بھی ہمارے رسول ہیں (نہ یہ کہ معاذ اﷲ بعد وصال شریف حضور رسول نہ رہے یا حضور کے بعد اب اور کوئی ہمارا رسول ہوگیا)اور ایمان لانا فرض ہے کہ حضور تمام انبیاء ومرسلین کے خاتم ہیں، اگر حضور کے رسول ہونے پر ایمان لایا اور خاتم الانبیاء ہونے پر ایمان نہ لایا تو مسلمان نہ ہوگا۔(۱ ؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد، ثم ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱/ ۶۹۱)
    یہاں رسالت پر ایمان مجازاً بنظر صورت بحسب ادعائے قائل بولا گیا ورنہ جو ختم نبوت پر ایمان نہ لایا قطعاً حضور کی رسالت ہی پر ایمان نہ لایا کہ رسول جانتا تو حضور جو کچھ اپنے رب جل جلالہ کے پاس سے لائے سب پر ایمان لاتا۔ کما تقدم فی کلام الامام التور پشتی رحمہ اﷲ تعالٰی۔جیسا کہ امام تورپشتی کے کلام میں پہلے گزر چکا ہے۔
    علامہ یوسف اردبیلی
    امام علامہ یوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں فرماتے ہیں: من ادعی النبوۃ فی زماننا او صدق مدعیا لھا او اعتقدنبیا فی زمانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوقبلہ من لم یکن نبیا کفر ۱ھ ملخصًا۱؎ جو ہمارے زمانے میں نبوت کا مدعی ہو یا دوسرے کسی مدعی کی تصدیق کرے یا حضور کے زمانے میں کسی کو نبی مانے یا حضور سے پہلے کسی غیر کو نبی جانے کافر ہوجائے ۱ھ ملخصاً۔(۱؎ الانوار لا عمال الابرار)
    امام غزالی
    امام حجۃ الاسلام محمد محمدمحمدغزالی کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں: ان الامت فھمت من ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولا مخصوص۲؎ یعنی تمام امت محمدیہ علی صاحبہا وعلیہا الصلوٰۃ والتحیۃ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ وہ بتاتا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور کے بعد کبھی کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا کہ اس لفظ میں نہ کوئی تاویل ہے کہ آخر النبیین کے سوا خاتم النبیین کے کچھ اور معنی گھڑئیے نہ اس عموم میں کچھ تخصیص ہے کہ حضور کے ختم نبوت کو کسی زمانے یا زمین کے کسی طبقے سے خاص کیجئے اور جو اس میں تاویل و تخصیص کو راہ دے اس کی بات جنون یا نشے یا سرسام میں بہکنے برّانے بکنے کے قبیل سے ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ وہ آیت قرآن کی تکذیب کررہا ہے جس میں اصلاً تاویل و تخصیص نہ ہونے پر امتِ مرحومہ کا اجماع ہوچکا ہے۔(۲؎ الاقتصاد فی الاعتقاد )
    بحمد اﷲ یہ عبارت بھی مثل عبارت شفاء و نسیم تمام طوائف جدیدہ قاسمیہ وامیریہ خذلہم اﷲ تعالٰی کے ہذیانات کا رد جلیل وجلی ہے آٹھ آٹھ سو برس بعد آنے والے کافروں کا رد فرما گئے، یہ ائمہ دین کی کرامت منجلی ہے۔
    غنیۃ الطالبین
    غنیۃ الطالبین شریف میں عقائد ملعونہ غلاۃ روافض کے بیان میں فرمایا: ادعت ایضاان علیا نبی ( الی قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ) لعنھم اﷲ وملٰئکتہ وسائر خلقہ الٰی یوم الدین وقلع آثارھم واباد خضراء ھم ولا جعل منھم فی الارض دیارافانھم بالغوا فی غلوھم ومرضوا علی الکفر وترکوا الاسلام وفارقوا الایمان وجحدو ا الالہ والرسل والتنزیل فنعوذ باﷲ ممن ذھب الٰی ھٰذہ المقالۃ ۱؎ یعنی غالی رافضیوں کا یہ دعوٰی بھی ہے کہ مولا علی نبی ہیں اﷲ اور اس کے فرشتے اور تمام مخلوق قیامت تک ان رافضیوں پر لعنت کریں اﷲ ان کے درخت کی جڑ اکھاڑ کر پھینک دے تباہ کردے زمین پر ان میں کوئی بسنے والا نہ رکھے کہ انہوں نے اپنا غلو حد سے گزار دیا کفر پر جم گئے اسلام چھوڑ بیٹھے ایمان سے جدا ہوئے اﷲ و رسول و قرآن سب کے منکر ہوگئے، ہم اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں اس سے جو ایسا مذہب رکھے۔(۱ ؎ غنیۃ الطالبین فصل علامات اہل بدعت کے بیان میں، مصطفی البابی مصر، ۱/ ۸۸)
    الحمدﷲ، اﷲ عزوجل نے یہ دعائے کریم مستجاب فرمائی غرابیہ و غیر ہا ملعون طوائف کا نشان نہ رہا اب جو اس دارالفتن ہند پر محن کی زمین میں فتنوں کی بوچھاڑ کی گندہ بہار میں دو ایک حشرات الارض کہیں کہیں تازہ نکل پڑے وہ بھی بحمد اﷲ تعالٰی جلد جلد اپنے مقرسقر کو پہنچ گئے ایک آدھ کہیں باقی ہو تو وہ بھی قہر الٰہی سے الم نھلک الاولینo ثم نتبعھم الاٰخرینo کذٰلک نفعل بالمجرمین۲؂ (۲؂القرآن الکریم ۷۷/ ۱۶تا۱۸) کیا ہم نے اگلو ں کو ہلاک نہ فرمایا پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ کا منتظر ہے۔
    تحفہ شرح منہاج
    تحفہ شرح منہاج میں ہے: اوکذب رسولا اونبیا او نقصہ بای منقص کان صغر اسمہ مریدا تحقیرہ او جوز نبوۃ احد بعد وجود نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعیسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام نبی قبل فلا یرد۳؎ یعنی کافر ہے جو کسی نبی کی تکذیب کرے یا کسی طرح اس کی شان گھٹائے، مثلاً بہ نیت توہین اس کا نام چھوٹا کر کے لے یا ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد کسی کی نبوت ممکن مانے اور عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو حضور کی تشریف آوری سے پہلے نبی ہوچکے ان سے اعتراض وارد نہ ہوگا۔(۳ ؎ المعتقد المنتقد بحوالہ التحفہ شرح المنہاج مع المستند المعتمد، مکتبہ حامدیہ، لاہور، ص ۲۸۔۱۲۷)
    شرح فرائد
    عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں: فساد مذھبھم غنی عن البیان بشھادۃ العیان، کیف وھو یؤدی الٰی تجویز مع نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوبعدہ و ذٰلک یستلزم تکذیب القراٰن اذ قد نص علی انہ خاتم النبیین واٰخر المرسلین، وفی السنۃ انا العاقب لا نبی بعدی، واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذا الکلام علٰی ظاھرہ وھٰذا احدی المسائل المشھورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲ تعالی ۱؎
    فلاسفہ نے کہا تھا کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے آدمی ریاضتیں مجاہدے کرنے سے پا سکتا ہے اس کے رد میں فرماتے ہیں کہ ان کے مذہب کا بطلان محتاجِ بیان نہیں آنکھوں دیکھا باطل ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس کے نتیجے میں ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی نبی کا امکان نکلے گا اور یہ تکذیب قرآن کو مستلزم ہے قرآن عظیم نص فرما چکا کہ حضور خاتم النبیین و آخر المرسلین ہیں اور حدیث میں ہے میں پچھلا نبی ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اسی معنی پر ہے جو اس کے ظاہر سے سمجھ میں آتے ہیں، یہ ان مشہور مسئلوں میں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے فلاسفہ کو کافر کہا اﷲ تعالٰی ان پر لعنت کرے۔(۱ ؎ المعتقد المنتقد بحوالہ شرح الفرائد للنابلسی مع المستند المعتمد، مکتبہ حامدیہ،لاہور، ص ۱۵۔۱۱۴)
    نقل ھٰذین خاتم المحققین معین الحق المبین السیف المسلول مولانا فضل الرسول قدس سرہ فی المعتقد المنتقد۔ یہ مذکورہ دونوں عبارتیں خاتم المحققین ، حق مبین کے معاون ننگی تلوار مولانا فضل رسول قدس سرہ نے اپنی کتاب المعتقد المنتقد میں نقل کی ہیں۔
    مواہب شریف
    مواہب شریف آخر نوع ثالث، مقصد سادس میں امام ابن حبان صاحب صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع سے نقل فرمایا: من ذھب الٰی ان النبوۃ مکتسبۃ لا تنقطع او الٰی ان الولی افضل من النبی فھو زندیق الٰی آخرہ۲؎ جو اس طرف جائے کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے ختم نہ ہوگی، یا کسی ولی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ زندیق بے دین ملحد دہریہ ہے۔(۲؎ المواہب اللدنیہ، المقصد السادس، النوع الثالث، المکتب الاسلامی،بیروت، ۳/ ۱۸۳)
    علامہ زرقانی نے اس کی دلیل میں فرمایا: لتکذیب القراٰن وخاتم النبیین ۱؎،یہ شخص اس وجہ سے کافر ہوا کہ قرآن عظیم و ختم نبوت کی تکذیب کرتا ہے۔(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ، المقصد السادس النوع الثالث، دارالمعرفۃ بیروت ۶/ ۱۸۸)
    امام نسفی
    بحرالکلام امام نسفی پھر تفسیر روح البیان میں ہے : صنف من الروا فض قالوا بان الارض لا تخلو عن النبی والنبوۃ صارت میراثا لعلی واولادہ وقال اھل السنۃ والجماعۃ لا نبی بعد نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال اﷲ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین و قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا نبی بعدی ومن قال بعد نبینا نبی یکفر لانہ انکر النص وکذٰلک لوشک فیہ۲؎ببعض اختصار۔ رافضیوں کا ایک طائفہ کہتا ہے زمین نبی سے خالی نہیں ہوتی اور نبوت مولا علی اور ان کی اولاد کے لئے میراث ہوگئی ہے اور اہلسنّت و جماعت نے فرمایا ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے ہاں خدا کے رسول ہیں اور سب انبیاء میں پچھلے، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے بعد کوئی نبی نہیں، تو جو حضور کے بعد کسی کو نبی مانے کافر ہے کہ قرآن عظیم و نص صریح کا منکر ہے یوں ہی جسے ختم نبوت میں کچھ شک ہو وہ بھی کافر ہے۔(۲؎ روح البیان، آیہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض الشیخ، ۷/ ۱۸۸)
    • Dumb Dumb x 1

اس صفحے کی تشہیر