1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

جزاء اﷲ عدُوّہ بابائہٖ ختم النبوّۃ (دشمنِ خدا کے ختم نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء)

حمزہ نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 19, 2014

  1. ‏ اگست 25, 2014 #21
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    تمہید ابو شکور سالمی
    تمہید ابو شکور سالمی میں ہے : قالت الروافض ان العالم لا یکون خالیا عن النبی قط وھذا کفر لان اﷲ تعالٰی قال وخاتم النبیین ومن ادعی النبوۃ فی زماننا فانہ یصیر کافرا ومن طلب منہ المعجزات فانہ یصیر کافر ا لانہ شک فی النص ویجب الاعتقاد بانہ ماکان لاحد شرکۃ فی النبوۃ لمحمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بخلاف ما قالت الروافض ان علیا کا ن شریکا لمحمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی النبوۃ وھذا منھم کفر۱؎
    رافضی کہتے ہیں دنیا نبی سے خالی نہ ہوگی اور یہ کفر ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے وخاتم النبیین اب جو دعوٰی نبوت کرے کافر ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے وہ بھی کافر کہ اسے ارشاد الٰہی میں شک پیدا ہوا جب تو معجزہ مانگا اور اس کا اعتقاد فرض ہے کہ کوئی شخص نبوت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شریک نہ تھا بخلاف روافض کے کہ مولٰی علی کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے شریک نبوت مانتے ہیں اور یہ ان کا کفر ہے۔(۱ ؎ التمہید فی بیان التوحید، الباب السابع فی المعرفۃ والایمان دارالعلوم حزب الاحناف لاہور، ص ۱۴۔۱۱۳)
    مولانا عبدالعلی
    بحر العلوم ملک العلماء مولانا عبدالعلی محمد شرح سلم میں فرماتے ہیں: محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین وابو بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ افضل الاصحاب والاولیاء وھا تان القضیتان مما یطلب بالبرھان فی علم الکلام والیقین المتعلق بھما یقین ثابت ضروری باق الی الابد ولیس الحکم فیھما علی امر کلی یجوز العقل تناول ھذا الحکم لغیر ھٰذین الشخصین وانکار ھذا مکابرۃ وکفر۲؎ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور ابو بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ تمام اولیاء سے افضل ہیں اور ان دونوں باتوں پر دلیل قطعی علم عقائد میں مذکور ہے اور ان پر یقین وہ جما ہوا ضروری یقین ہے جو ابدا لآباد تک باقی رہے گا اور یہ خاتم النبیین اور افضل الانبیاء ہونا کسی امر کلی کے لئے ثابت نہیں کیا ہے کہ عقل ان دونوں ذات پاک کے سوا کسی اور کے لئے اس کا ثبوت ممکن مانے اور اس کا انکار ہٹ دھرمی اور کفر ہے۔ فیہ لف ونشر بالقلب یعنی صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے افضل الاولیاء ہونے سے انکار قرآن و سنت واجماع امت کے ساتھ مکابرہ ہے اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے سے انکار کفر، والعیاذ باﷲ رب العالمین۔(۲ ؎ شرح سلم لعبد العلی، بحث التصدیقات آخر کتاب، مطبع مجتبائی،دہلی، ص ۲۶۰)
    امام احمد قسطلانی
    امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ مقصد سابع فصل اول،پھر علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ باب اول فصل ثانی میں فرماتے ہیں: العلم اللدنی نوعان لدنی رحمانی ولدنی شیطانی والمحک ھو الوحی و لا وحی بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، وامّا قصۃ موسٰی مع الخضر علیھما الصلٰوۃ والسلام فالتعلق بھا فی تجویز الاستغناء عن الوحی بالعلم اللدنی الحاد وکفر یخرج عن الاسلام موجب لاراقۃ الدم والفرق ان موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام لم یکن مبعوثا الی الخضر،ولم یکن الخضر مامورا بمتا بعتہ ومحمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الٰی جمیع الثقلین فرسالتہ عامۃ للجن والانس فی کل زمان ، فمن ادعی انہ مع محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کالخضر مع موسٰی علیھما الصلوٰۃ والسلام اوجوز ذٰلک لاحد من الامۃ فلیجدد اسلامہ (لکفرہ بھٰذہ الدعوی) ولیشھد شھادۃ الحق (لیعود الی الاسلام)فانہ مفارق لدین الاسلام بالکلیۃ فضلا عن ان یکون من خاصۃ اولیاء اﷲ تعالٰی وانما ھو من اولیاء الشیطٰن و خلفائہ ونوابہ (فی الضلال والاضلال) والعلم اللدنی الرحمانی ھوثمرۃ العبودیۃ والمتابعۃ لھٰذا النبی الکریم علیہ ازکی الصلوٰۃ واتم التسلیم وبہ یحصل الفھم فی الکتاب والسنۃ بامریختص بہ صاحبہ کما قال علی (امیر المؤمنین) وقد سئل (کما فی الصحیح وسنن النسائی) ھل خصکم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشیئ دون الناس (کما تزعم الشیعۃ) فقال لا الا فھمایؤتیہ اﷲ عبدا فی کتابہ ۱ھ۱؎ مختصراً مزیدا ما بین الھلالین من شرح العلامۃ الزرقانی۔ رزقنا اﷲ تعالٰی بمنّہ واٰلائہ بفضل رحمتہ باولیائہ وصل وسلم علٰی خاتم انبیائہ محمد واٰلہ وصحبہ واحبائہ اٰمین۔ یعنی علم لدنی دو قسم ہے رحمانی اور شیطانی، اور ان کے پہچاننے کا معیار وحی ہے کہ جو اس کے مطابق ہے رحمانی ہے اور جو اس کے خلاف ہے شیطانی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد وحی نہیں کہ کوئی کہے میرا یہ علم وحی جدید کے مطابق ہے،رہا خضر و موسٰی علیہما الصلوٰۃ والسلام کا قصہ (کہ خضر کے پاس وہ علم لدنی تھا جو موسٰی علیہما الصلوٰۃ والسلام کو معلوم نہ تھا، اسے یہاں دستاویز بنا کر علم لدنی کے سبب وحی کی پروا نہ رکھنا نری بے دینی و کفر ہے، اسلام سے نکال دینے والی بات ہے جس کے قائل کا قتل واجب، اور فرق یہ ہے کہ موسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام حضر ت خضر کی طرف مبعوث نہ تھے نہ خضر کو ان کی پیروی کا حکم ( کہ وہ تو خاص بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے کان النبی یبعث الٰی قومہ خاصۃ) اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمام جن و انس ( بلکہ تمام ماسوائے اﷲ) کی طرف مبعوث ہیں (وارسلت الی الخلق کافّۃ) تو حضور کی رسالت ہر زمانے میں سب جن و انس کو شامل ہے تو جو مدعی ہو کہ وہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایسے تھے جیسے موسٰی کے ساتھ خضر، امت میں کسی کے لئے یہ مرتبہ ممکن مانے وہ نئے سرے سے مسلمان ہو کہ اس قول کے باعث کافر ہوگیا مسلمان ہونے کے لئے کلمہ شہادت پڑھے کہ وہ دین اسلام سے یک لخت جدا ہوگیا چہ جائیکہ اﷲ عزوجل کے خاص اولیاء سے ہو وہ تو شیطان کا ولی اور گمراہی و گمراہ گری میں ابلیس کا خلیفہ و نائب ہے علم لدنی رحمانی بندگی خدا و پیروی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پھل ہے جس سے قرآن و حدیث میں ایک خاص سمجھ حاصل ہوجاتی ہے جس طرح صحیح بخاری و سنن نسائی میں ہے کہ امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے سوال ہوا کہ تم اہل بیت کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کوئی خاص شئے ایسی عطا فرمائی ہے جو اور لوگوں کو نہ دی جیسا کہ رافضی گمان کرتے ہیں؟فرمایا: نہ مگر وہ سمجھو جو اﷲ عزوجل نے اپنے بندوں کوقرآن عزیز میں عطا فرمائی ۱ھ، مختصراً ہلالین میں شرح زرقانی کی عبارت زائد لائی گئی ہے۔ اﷲ تعالٰی اپنی رحمت و فضل،احسان و نعمت ہمیں عطا فرمائے بوسیلہ اولیاء اﷲ صلوٰۃ وسلام نازل فرمائے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر اور ان کی آل و اصحاب سب پر۔ آمین۔(۱؎ المواہب اللدنیۃ المقصد السابع، الفصل الاول علامات محبۃ الرسول،المکتب الاسلامی،بیروت، ۳/ ۹۷۔۲۹۶)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، الفصل الاول علامات محبۃ الرسول،دارالفکر بیروت، ۶/ ۱۱۔۳۱۰)
    سید کفریہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا
    ولید بلید خواہ کوئی پلید ختم نبوت کا ہر منکر عنید صراحۃً جاحد ہو یا تاویل کا مرید مطلقاً نفی کرے یا تخصیص بعید امیری، قاسمی، مشہدی مرید،رافضی غالی وہابی شدید، سب صریح کا فر مرتد طرید علیھم لعنۃ العزیز الحمید (ان پر اﷲ عزوجل کی لعنت ہو) اور جو کافر ہو وہ قطعاً سید نہیں، اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح۲؂ وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔(ت) نہ اسے سید کہنا جائز۔(۲؂القرآن الکریم ۱۱/ ۴۶)
    منافق کو سید نہ کہو
    رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا تقولوا للمنافق سید فانہ ان یکن سیدا فقد استخطتم ربکم عزوجل۳؎، رواہ ابوداؤد والنسائی بسند صحیح عن بریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ منافق کو سید نہ کہو کہ اگر وہ تمہارا سید ہو تو بیشک تم پر تمہارے رب عزوجل کا غضب ہو(اس کو ابوداؤد اور نسائی نے بسند صحیح حضرت بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا)(۳؎ سنن ابی داؤد، کتاب الادب باب لا یقول المملوک ربی وربتی، آفتاب عالم پریس،لاہور، ۲/ ۳۲۴)
    روایت حاکم کے لفظ یہ ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اذا قال الرجل للمنافق یا سید فقد اغضب ربہ عزوجل۱؎ جو کسی منافق کو ''اے سید'' کہے اس نے اپنے رب کا غضب اپنے اوپر لیا۔ والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔ (۱؎ المستدرک للحاکم، کتاب الرقاق، دارالفکر بیروت، ۴ /۳۱۱)
    پھر یہی نہیں کہ یہاں صرف اطلاق لفظ سے ممانعت شرعی اور نسب سیادت کا انتقائے حکمی ہو حاشا بلکہ واقع میں کافر اس نسل طیب و طاہر سے تھا ہی نہیں اگرچہ سید بنتا اور لوگوں میں براہ غلط سید کہلاتا ہو ائمہ دین اولیائے کاملین علمائے عالمین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین تصریح فرماتے ہیں کہ ساداتِ کرام بحمد اﷲ تعالٰی خباثت کفر سے محفوظ و مصئون ہیں جو واقعی سید ہے اس سے کبھی کفر واقع نہ ہوگا، قال اﷲ تعالٰی: انّما یرید اﷲ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا۲؂ (۲؂القرآن الکریم ۳۳/۳۳)
    اﷲ یہی چاہتا ہے کہ تم سے نجاست دور رکھے اے نبی کے گھر والو! اور تمہیں خوب پاک کردے ستھرا کر کے۔
    تمام فوائد اور بزار وابویعلٰی مسند اور طبرانی کبیر اور حاکم بافادہ تصحیح مستدرک میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان فاطمۃ احصنت فرجھا فحر مھا اﷲ و ذریتھا علی النّار۳؎ بیشک فاطمہ نے اپنی حرمت پر نگاہ رکھی تو اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی ساری نسل کو آگ پر حرام کردیا۔(۳؎ المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، دارالفکر بیروت، ۳/ ۱۵۲)
    اہل بیت سے کوئی بھی جہنمی نہیں
    ابوالقاسم بن بشران اپنے امالی میں حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: سالت ربی ان لا یدخل احدا من اھل بیتی النار فاعطا نیھا۴؎ میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میرے اہلبیت سے کسی کو دوزخ میں نہ ڈالے اس نے میری یہ مراد عطا فرمائی۔(۴؎ کنزالعمال بحوالہ ابن بشران فی امالیہ عن عمران بن حصین حدیث ۳۴۱۴۹، موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۱۲/ ۹۵)
    اہل بیت عذاب سے بری ہیں
    طبرانی بسندصحیح(عہ) حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے فرمایا: ان اﷲ تعالٰی غیر معذبک ولا ولدک ۱؎ بیشک اﷲ تعالٰی نہ تجھے عذاب فرمائے گا نہ تیری اولاد کو۔
    عہ: افادہ الھیثمی فی الصواعق حیث قال جاء بسند رواتہ ثقات انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لفاطمۃ فذکرہ۔۱۲ منہ (م)
    عہ: ہیثمی نے صواعق میں اس کا افادہ کیا جہاں انہوں نے کہا سند کے ساتھ مروی جس کے تمام راوی ثقہ ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کو فرمایا تو پھر اس حدیث کا ذکر کیا ۱۲ منہ (ت )(۱ ؎ المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۱۶۸۵، المکتبۃ الفیصلیۃ، بیروت، ۱۱/ ۲۶۳)
    حضرت فاطمہ کی وجہ تسمیہ
    ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انما سمیت فاطمۃ لان اﷲ فطمہا وذریتہا عن النار یوم القٰیمۃ ۲؎ فاطمہ اس لئے نام ہوا کہ اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی نسل کو روز قیامت آگ سے محفوظ فرمادیا۔(۲ ؎ المواہب اللدنیہ، بحوالہ ابن عساکر، المقصد الثانی، الفصل الثانی، المکتب الاسلامی، بیروت، ۲/ ۶۴)(تنزیہ الشریعۃ بحوالہ ابن عساکر باب مناقب السبطین الخ الفصل الاول، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱/ ۴۱۳)
    اہل بیت آگ میں نہیں جاسکتے
    قرطبی آیہ کریمہ ولسوف یعطیک ربّک فترضٰی کی تفسیر میں حضرت ترجمان القرآن رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ناقل کہ انہوں نے فرمایا: رضا محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان لا یدخل احد من اھل بیتہ النّار۳؎ یعنی اﷲ عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے راضی کردینے کا وعدہ فرمایا اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی رضا اس میں ہے کہ ان کے اہل بیت سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔(۳ ؎ الجامع لاحکام القرآن (تفسیر القرطبی) تحت اٰیۃ ولسوف یعطیک ربک، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۲۰/ ۹۵)
    نار دوقسم کی ہے، نارِ تطہیرکہ مومن عاصی جس کا مستحق ہو، اور نارِ خلود کافرکے لئے ہے، اہل بیت کرام میں حضرت امیر المؤمنین مرتضی و حضرت بتول زہرا و حضرت سید مجتبٰی و حضرت شہید کربلا صلی اﷲ تعالٰی علٰی سید ہم و علیہم وبارک وسلم تو بالقطع والیقین ہر قسم سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ ہیں اس پر تو اجماع قائم اور نصوص متواترہ حاکم باقی نسل کریم تا قیام قیامت کے حق میں اگر بفضلہٖ تعالٰی مطلق دخول سے محفوظی لیجئے اور یہی ظاہر لفظ سے متبادر، اور اسی طرف کلماتِ اہل تحقیق ناظر، جب تو مراد بہت ظاہر، اور منع خلود مقصود جب بھی نفی کفر پر دلالت موجود۔
    شرح المواہب للعلامۃ الزرقانی میں زیر حدیث مذکور: انما سمیت فاطمۃ ھی فاما ھی وابنا ھا فالمنع مطلق واما من عداھم فالممنوع عنھم نار الخلود، واما مارواہ ابو نعیم والخطیب ان علیا الرضا بن موسٰی الکاظم ابن جعفر الصادق سئل عن حدیث ان فاطمۃ احصنت فقال خاص بالحسن و الحسین وما نقلہ الاخبار یون عنہ من توبیخہ لاخیہ زید حین خرج علی المامون وقولہ اغرک قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان فاطمۃ احصنت الحدیث ان ھذا لمن خرج من بطنہا لا لی ولا لک فھذا من باب التواضع وعدم الاغترار بالمناقب وان کثرت کما کان الصحابۃ المقطوع لھم بالجنّۃ علی غایۃ من الخوف والمراقبۃ والا فلفظ ذریۃ لا یخص بمن خرج من بطنھا فی لسان العرب ومن ذریتہ داؤد وسلیمٰن الاٰیۃ وبینھم وبینہ قرون کثیرۃ فلا یرید ذٰلک مثل علی الرضا مع فصاحتہ ومعرفتہ لغۃ العرب علی ان التقلید بالطائع یبطل خصوصیۃ ذریتھا ومحبیھا الا ان یقال ﷲ تعذیب الطائع فالخصوصیۃ ان لا یعذ بہ اکراما لھا واﷲ اعلم ۱؎، ۱ھ مختصرا بیشک فاطمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا یہ نام ہے لیکن فاطمہ اور ان کے بیٹے تو ان پر مطلقاً جہنم کی آگ ممنوع ہے لیکن ان کے ماسوا کے لئے جہنم کا خلود ممنوع ہے۔ آپ پر اور ان پر اﷲ تعالٰی کا سلام ہو۔ اور لیکن جو ابونعیم اور خطیب نے روایت کیا ہے کہ علی رضا بن موسٰی کاظم ابن جعفر الصادق سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا کہ فاطمہ نے اپنے حرم گاہ کو محفوظ رکھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا یہ حسن اور حسین کے لئے خاص ہے اور وہ جو مورخین نے ان سے یہ نقل کیا کہ انہوں نے اپنے بھائی زید کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا جب اس نے مامون پر خروج کیااو رکہا کیا تجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس فرمان نے غرور میں مبتلا کیا ہے کہ فاطمہ نے اپنی حرم گاہ کو محفوظ رکھا ہے۔(الحدیث) اس پر انہوں نے فرمایا یہ میرے اور تیرے لئے خاص نہیں بلکہ جو آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے بطن سے پیدا ہوا ہے ان سب کے لئے ہے، تو یہ تواضع اور مناقب کثیرہ کے باوجود غرور نہ کرنے کے باب سے ہے جیسے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے لئے جنت قطعی ہے اس کے باوجود وہ خوف و مراقبہ میں مبتلا تھے، ورنہ تو ذریت کا لفظ عربی زبان میں ایک پیٹ کی اولاد کے لئے خاص نہیں، جیسے آیہ کریمہ ومن ذریتہ داؤد سلیمٰن ہے، حالانکہ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور داؤد و سلیمٰن علیہما السلام کے درمیان کئی قرون کا فاصلہ ہے، لہٰذا علی رضا اپنی فصاحت اور عربی لغت کی معرفت کے باوجود یہ خاص مراد نہیں لے سکتے، علاوہ ازیں نافرمان کی تقلید حضرت زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی اولاد کی خصوصیت کو باطل کردیتی ہے، مگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اﷲ تعالٰی کو نافرمان کی تعذیب کا اختیار ہے لیکن حضرت زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے اکرام کے لئے اُسے ۱؎ عذاب نہیں دیتا، واﷲ تعالٰی اعلم ۱ھ مختصراً۔(۱ ؎ شرح الزرقانی المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی، الفصل الثانی، دارالمعرفۃ، بیروت، ۳/ ۲۰۳)
    ورأیتنی کتبت علی ھا مش قولہ الا ان یقال ما نصہ۔ اقول ولا یجدی فان الوقوع ممنوع باجماع اھل السنۃ واما الامکان فثابت عند من یقول بہ الی خلاف ائمتنا الماتریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم فانھم یحیلونہ وقد تکلمت فی مسئلۃ علی ھامش فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت لبحرا لعلوم بما یکفی ویشفی فانی اجدنی فیھا ارکن وامیل الی قول ساداتنا الاشعریۃ رحمھم اﷲ تعالٰی و رحمنا بھم جمیعا واﷲ اعلم بالصواب فی کل باب۔
    میں نے زرقانی کے قول ''الا ان یقال'' پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول ( میں کہتا ہوں) ان کا یہ بیان مفید نہیں ہے عذاب کا وقوع تو باجماع اہلسنّت ممنوع ہے، باقی رہا امکان تو یہ اس قائل کے ہاں ثابت ہے جو ہمارے ائمہ ماتریدیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے خلاف ہے کیونکہ یہ ائمہ محال سمجھتے ہیں، میں نے اس مسئلہ پر کتاب مسلم الثبوت کی شرح بحرالعلوم فواتح الرحموت پر حاشیہ میں کافی اور شافی بحث کی ہے میں نے وہاں اپنے کو سادات اشعریہ رحمہم اﷲ کے قول کی طرف مائل پایا، اﷲ تعالٰی ہم سب پر رحم فرمائے۔ (واﷲ تعالٰی اعلم)
    فتاوٰی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے
    اذا تقرر ذٰلک فمن علمت نسبتہ الٰی اٰل البیت النبوی والسرالعلوی لا یخرجہ عن ذٰلک عظیم جنایتہ ولا عدم دیانتہ وصیانتہ ومن ثم قال بعض المحققین ما مثال الشریف الزانی او الشارب او السارق مثلاً اذا اقمنا علیہ الحد الا کامیر اوسلطان تلطخت رجلاہ بقذر فغسلہ عنھما بعض خدمہ ولقدبر فی ھذا المثال وحقق ولیتأمل قول الناس فی امثالھم الولد العاق لا یحرم المیراث نعم الکفران فرض وقوعہ لاحد من اھل البیت والعیاذ باﷲ تعالٰی ھو الذی یقطع النسبۃ بین من وقع منہ وبین شرفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما قلت ان فرض لا ننی اکادان اجزم ان حقیقۃ الکفر لا تقع ممن علم اتصال نسبہ الصحیح بتلک البضغۃ الکریمۃ حاشا ھم اﷲ من ذٰلک و قد احال بعضھم وقوع نحو الزنا واللواط ممن علم شرفہ فما ظنک بالکفر۱؎
    تو جب یہ ثابت ہوا تو جس کی نسبت اہلبیت نبی اور علوی حضرات کی طرف معلوم ہے تو اس کی بڑی جنایت اور عدم دیانت وصیانت اس کو اس نسبت سے خارج نہ کرے گی، اس بات کی بناء پر بعض محققین نے فرمایا زانی یا شرابی یا چو رسید پر حد قائم کرنے کی مثال صرف یہی ہے جیسے امیر یا سلطان کا کوئی خادم اس کے پاؤں پر لگی نجاست کو صاف کرے، اس مثال کو غور سے سمجھا جائے اور لوگوں کی اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ نافرمان اولاد وراثت سے محروم نہیں ہوتی، ہاں اگر ان حضرات سے کفر کا وقوع فرض کیا جائے، والعیاذ باﷲ، تو اس سے وہ نسبت منقطع ہوجائے گی، میں نے صرف فرض کرنے کی بات اس لئے کی ہے کیونکہ مجھے جزم کی حد تک یقین ہے کہ جو صحیح النسب سید ہو اس سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہوسکتا اﷲ تعالٰی ان کو اس سے بلند رکھے، بعض نے ان سے زنا اور لواطت جیسے افعال کو بھی محال کہا ہے بشرطیکہ ان کی نسبی شرافت یقینی ہو تو پھر کفر کے متعلق تیرا کیا خیال ہے۔(۱ ؎ فتاوٰی حدیثیہ، طلب ما الحکمۃ فی خصوص اولاد فاطمہ بالمشرف، المطبعۃ الجمالیہ، مصر، ص ۱۲۲)
    شیخ اکبر اور اہلبیت
    امام الطریقۃ لسان الحقیقۃ شیخ اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فتوحات مکیہ باب ۲۹ میں فرماتے ہیں: لما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عبدا مخصا قد طھرہ اﷲ و اھل بیتہ تطھیرا واذھب عنہم الرجس وھو کل ما یشینھم فھم المطھرون بل ھم عین الطھارۃ فھذہ الاٰیۃ تدل علی ان اﷲ تعالٰی قد شرک اھل البیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی قولہ تعالٰی لیغفر لک اﷲ ما تقدم من ذنبک وما تأخر، و ای وسخ وقذر من الذنوب فطھر اﷲ سبحانہ نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالمغفرۃ ممّا ھو ذنب بالنسبۃ الینا فدخل الشرفاء اولاد فاطمۃ کلھم رضی اﷲ تعالٰی عنہم الی یوم القٰیمۃ فی حکم ھذہ الاٰیۃ من الغفران الی اٰخر ما افادوا جا دو ثمہ کلام طویل نفیس جلیل فعلیک بہ رزقنا اﷲ العمل بما یحبہ ویرضاہ اٰمین! ۱؎
    جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اﷲ تعالٰی کے خاص عبد ہیں کہ ان کو اور ان کے اہل بیت کو کامل طورپر پاک کردیا ہے اور ناپاکی کو ان سے دور کردیا ہے اور رجس ہر ایسی چیز ہے جو ان حضرات کو داغدار کرے تو وہ پاکیزہ لوگ بلکہ وہ عین طہارت ہیں، تو اﷲ تعالٰی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اہل بیت کو طہارت میں شریک فرمایا ہے جس پر آیہ کریمہ ہے ''لیغفر لک اﷲ'' اﷲتعالٰی نے آپ کے لئے پہلے اور پچھلے آپ کے خطا یا معاف کردئے یعنی گناہوں کی میل و قذر سے آپ کو پاک رکھا ہے جو ہماری نسبت سے گناہ ہوسکتے ہیں تو تمام سادات حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی اولاد اس حکم میں داخل ہے الخ، تک جو حضر ت شیخ نے بہترین فائدہ مند کلام فرمایا یہاں آپ کا جلیل نفیس طویل کلام ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کی طرف راجع ہوں اﷲ تعالٰی ہمیں اپنے پسندیدہ عمل کا حصّہ عطا فرمائے، آمین! (۱ ؎ الفتوحات المکیۃ،الباب التاسع والعشرون، داراحیاء التراث العربی بیروت، ۱/ ۱۹۶)
    بدعقیدہ سید
    اگر کہے بعض کٹر نیچری بیشمار اشد غالی رافضی بہت سچّے ملحد جھوٹے صوفی کچھ ہفت خاتم شش مثل والے وہابی غرض بکثرت کفار کہ صراحۃً منکرین ضروریات دین ہیں سید کہلاتے میر فلاں لکھے جاتے ہیں۔
    اقول: کہلانے سے واقعیت تک ہزاروں منزل ہیں نسب میں اگرچہ شہرت پر قناعت والناس امناء علٰی انسابھم (لوگ اپنے نسبوں میں امین ہیں۔ت) مگر جب خلاف پر دلیل قائم ہو تو شہرت بے دلیل نامقبول وعلیل اور خود اس کے کفر سے بڑھ کر نفی سیادت پر اور کیا دلیل درکار، کافر نجس ہے قال تعالٰی انما المشرکون نجس۱؂ (اﷲ تعالٰی نے فرمایا:بے شک مشرک نر ے ناپاک ہیں)(۱؂القرآن الکریم ۹/ ۲۸)
    اور ساداتِ کرام طیب و طاہر قال اﷲ تعالٰی ویطھر کم تطھیرا۲؂(۲؂القرآن الکریم ۳۳/ ۳۳)(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کردے)

    اور نجس و طاہر باہم متبائن ہیں کہ ایک شیئ پر معاً ان کا صدق محال، جب علمائے کرام تصریح فرما چکے کہ سید صحیح النسب سے کفر واقع نہ ہوگا اور یہ شخص صراحۃً کافر تو اس کا سید صحیح النسب نہ ہونا ضرورۃً ظاہر، اب اگر اس نسب کریم سے انتساب پر کوئی سند معتمد نہ رکھتا ہو تو امر آسان ہے ہزاروں اپنی اغراضِ فاسدہ سے براہِ دعوٰی سید بن بیٹھے : غلّہ تا ارزاں شود امسال سید می شوم (اس سال سید بنوں گا تاکہ خوراک میں آسانی ہو)
    رافضی سید
    رافضی صاحبوں کے یہاں تو یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، آج ایک رذیل سا رذیل دوسرے شہر میں جاکر رفض اختیار کرے کل میر صاحب کا تمغا پائے توفلاں کافر سے کیا دور ہے کہ خودبن بیٹھا ہو یا اس کے باپ دادا میں کسی نے ادعائے سیادت کیا اور جب سے یونہی مشہور چلا آتا ہو، اور اگر بالفرض کوئی سند بھی ہو تو اس پر کیا دلیل ہے کہ یہ اسی خاندان کا ہے جس کی نسبت یہ شہادت تامہ ہے، علامہ محمد بن علی صبان مصری اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی و فضائل اہل بیت الطاہرین میں فرماتے ہیں: ومن این تحقق ذٰلک لقیام احتمال زوال بعض النساء و کذب بعض الاصول فی الانتساب۳؎ یہ کیسے ثابت ہوا جبکہ بعض عورتوں کی غلط کاری اور نسب بنانے میں بعض مردوں کے جھوٹ کا احتمال ہے۔(۳؎ اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی وفضائل اہل البیت الطاہرین، محمد بن علی صبان مصری)
    یہ وجوہ ہیں ورنہ حاشا ﷲ ہزار ہزار حاشاﷲ نہ بطن پاک حضرت بتول زہرا میں معاذ اﷲ کفر و کافری کی گنجائش، نہ جسم اطہر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کوئی پارہ کتنے ہی بُعدپر عیاذاً باﷲ دخولِ نار کے لائق، الحمدﷲ یہ دو دلیل جلیل واجب التعویل ہیں کہ کوئی عقیدہ کفریہ رکھنے والا رافضی وہابی متصوف نیچری ہر گز سید صحیح النسب نہیں۔

    تین قیاس پر مشتمل
    دلیل اوّل
    (۱) یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر نجس۔ نتیجہ: یہ شخص نجس ہے۔
    (۲) ہر سید صحیح النسب طاہر ہے اور کوئی طاہر نجس نہیں، نتیجہ: کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔
    (۳) اب یہ دونوں نتیجے ضم کیجئے یہی شخص نجس ہے اور کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔
    نتیجہ:یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔
    قیاس اول کا صغرٰی مفروض اور کبرٰی منصوص اور دوم کا صغرٰی منصوص اور کبرٰی بدیہی تو نتیجہ قطعی۔
    دلیل دوم
    قیاس مرکب، یہ بھی تین قیاسوں کو متضمن، یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر مستحقِ نار۔
    نتیجہ: یہ شخص مستحقِ نار ہے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا کوئی پارہ مستحقِ نار نہیں۔
    نتیجہ:یہ شخص نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسمِ اقدس کا پارہ نہیں اور ہر سیدصحیح النسب نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا پارہ ہے۔
    نتیجہ: یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔
    پہلا کبرٰی منصوص قرآن، اور دوسرے کا شاہد ہر مومن کا ایمان، اور تیسرا عقلاً و فقہاً واضح البیان۔ والحمدﷲ الکریم المنان والصلوٰۃ والسلام الاتمان الاکملان علٰی سیدنا ومولانا سید الانس والجان خاتم النبیین بنص الفرقان وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وتابعیھم باحسان وعلینا معھم یااﷲ یارحمن اٰمین اٰمین یارؤف یاحنان سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الٰہ الا انت استغفرک واتوب الیک واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔ تمام تعریفیں احسان فرمانے والے اﷲ کریم کے لئے تام وکامل صلوٰۃ وسلام ہمارے آقا و مولٰی انسان و جن کے سردار، قرآنی نص سے خاتم النبیین اور آپ کی آل واصحاب اور تابعین اور ان کے ساتھ ہم پر، یا اﷲ یا رحمان، آمین آمین، اے شفقت ومہربانی فرمانے والے! تو پاک ہے اے اﷲ! اور تیری ہی تعریفیں، گواہی دیتا ہوں کہ تیرے بغیر کوئی معبود برحق نہیں، تجھ سے بخشش کا طالب ہوں اور تیری طرف ہی رجوع، اﷲ سبحانہ وتعالٰی بڑے علم والا اور اسی جل مجدہ کا علم نہایت تام اور نہایت قطعی ہے۔

    کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمد المصطفٰی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
    • Dumb Dumb x 1

اس صفحے کی تشہیر