1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

( جناب عبدالحفیظ پیرزادہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ( جناب عبدالحفیظ پیرزادہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)
    جناب عبدالحفیظ پیرزادہ (وزیر برائے قانون وپارلیمانی امور): جناب چیئرمین! قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی تین ماہ سے جاری آزمائش اور برصغیر کے مسلمانوں کی ۹۰سالہ تاریخ کا دور ابتلاء ختم ہونے کو ہے۔
    جب ۲۹؍مئی۱۹۷۴ء کے کچھ ہی عرصہ بعد یہ مسئلہ شروع ہوا اس وقت کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس عظیم ادارے پر ایک ایسے نہایت پیچیدہ اور گنجلک مسئلے کے حل کی ذمہ داری ڈال دی جائے گی۔ جس کا تعلق برصغیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے ہے۔ آج جمہوریت، جمہوری اداروں اور جمہوری اقدار وروایات کی فتح کا دن ہے۔ اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ تاریخ کے ایک المناک باب کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ برصغیر میں یہ مسئلہ پہلے بھی کئی موقعوں پر انتقامی جذبات کی پوری شدت کے ساتھ ابھرا ہے۔ بہت سے تصادم اور مناظرے ہوچکے ہیں۔ بہت سے لوگ لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ کئی ہنگامے اور بلوے ہو چکے ہیں اور ایک مرتبہ تو اسی مسئلے سے پیدا شدہ امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا دیا گیا اور مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔
    جناب والا! یہ موقع نہیں ہے کہ کوئی طویل تقریر کی جائے۔ ہم یہاں دن رات بیٹھتے رہے اور یہ میری کوتاہی ہوگی اگر میں اس معزز ایوان کے اراکین کو خراج تحسین پیش نہ کروں۔ جنوبی مشرقی ایشیاء کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں کبھی پارلیمنٹ یا قومی اسمبلی جیسا کوئی جمہوری ادارہ اس طرح کے تجربے سے نہیں گزرا۔ بنگلہ دیش کی نوزائیدہ ریاست میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے۔ سری لنکا میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ انڈیا میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ جناب والا! یہ جنوبی ایشیاء کے وہ ممالک ہیں جہاں پارلیمانی جمہوریت کسی نہ کسی صورت میں قائم ہے۔ حتیٰ کہ بنگلہ دیش میں بھی جو کبھی ہمارا حصہ تھا۔ لیکن آپ ان ممالک کی پارلیمانی تاریخ میں اسی طرح کی کوئی نظیر نہیں پائیں گے۔ بہت کٹھن حالات اور بہت اشتعال انگیز اور جارحانہ صورتحال میں میرے رفقائے کار اور اس معزز ایوان کے اراکین، آپ لوگ بہت تحمل اور غیرجانبداری سے بیٹھے تاکہ ایک قومی فیصلے تک پہنچا جا سکے۔ یہ مسئلہ آپ کو تفویض کیاگیا تاکہ آپ ایک فیصلہ کر سکیں۔ ایسا فیصلہ جو کسی فرد کا نہیں بلکہ پاکستانی قوم کا فیصلہ ہو جن کے نمائندے آپ ہیں اور جنہوں نے آپ کو اختیارات سونپے ہیں اور اسی وجہ سے آپ کا ادارہ ’’قومی اسمبلی‘‘ یا ’’قومی اسمبلی پاکستان کی خصوصی کمیٹی‘‘ کہلاتا ہے۔

اس صفحے کی تشہیر