1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(جناب ڈاکٹر غلام حسین کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (جناب ڈاکٹر غلام حسین کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)
    ڈاکٹر غلام حسین: جناب چیئرمین صاحبہ! قادیانی مسئلے کے متعلق بہت کچھ کہا جاچکا ہے اور ہمارے سامنے بیشمار حقائق اور مواد ہے جس کی روشنی میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حقیقت حال کیا ہے۔ جناب والا! ہم مسلمانوں کو جو کچھ اﷲتعالیٰ کی طرف سے اسلام کاورثہ اور اسلام کی دولت ملی ہے وہ رسول پاک حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ذریعہ ملی ہے 2669اور قرآن پاک نے خود فرمایا ہے کہ وہ نبی آخر الزمان ﷺ ہیں۔ ان پر دین مکمل ہوچکا ہے۔ اس کے بعد نبی کا لفظ تاویلوں میں بات کو الجھا کر ایک سیاسی جماعت نے، ایک تخریبی جماعت نے، انگریزوں کی ایک ایجنٹ جماعت نے اس کو کئی کئی معنی پہنائے ہیں۔ نبی کا مطلب جو پاکستان میں ہم سمجھتے ہیں اور ہماری نسلیں سمجھتی آئی ہیں وہ پیغمبر اور رسول خدا کے معنی ہیں۔ جس طرح ہم نماز کو عربی کے لفظ صلوٰۃ کے معنوں میں لیتے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم مسجد میں صلوٰۃ کے لئے جارہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھنے کے لئے جارہے ہیں۔ نماز کا لفظی مطلب پرستش ہے۔ پرستش آگ کی بھی ہوتی ہے۔ ہم آگ کی پرستش کرنے نہیں جاتے۔ جو رائج الوقت اصطلاح ہے اس کے معنی عام لوگ تسلیم کرتے ہیں۔ مرزاغلام احمد ایک جگہ نہیں ہزاروں جگہ لکھتے ہیں۔ ان کے معتقدین جو یہاں تشریف لائے تھے انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ اپنے آپ کو نبی کہتے تھے۔ یہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ نبی تھے۔ ایک Parallel (متوازی) نبوت یا Parallel Prophethood (متوازی نبوت) جو نبی اس کا تسلیم کر لینا ہے ہمارے لئے کافی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔
    اس کے علاوہ دوسری بات یہ ہے کہ وہ ذات جس نے پاکستان بنایا وہ قائداعظم کی ذات گرامی تھی۔ قائداعظم کو بھی مسلمان نہ سمجھنا اور باقی اکثریت کو بھی مسلمان نہ سمجھنا اور انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا، ڈھٹائی سے اپنے غلام احمد کو نبی بنانا اور قائداعظم کے جنازہ میں نہ شرکت کرنا، یہاں تک کہ غائبانہ نماز جنازہ تک بھی نہ پڑھنا اور جہاد کو حرام قرار دینا، اس سے بڑی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ وہ نہ پاکستان کے حامی ہیں اور نہ اسلام کے حامی ہیں۔
    2670اس کے علاوہ، آپ جانتی ہیں کہ ڈاکٹر اقبالؒ نے ہمیں پاکستان کا تصور دیا تھا۔ انہوں نے شروع شروع میں تو ان کی باتوں میں آکر ان کی کچھ تعریف کی۔ لیکن جب حقیقت حال ان کو پتہ چلی تو انہوں نے واضح طور پر ان کی مخالفت کی اور Declare (اعلان) کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ یہی مطالبہ کیا جو آج یہاں دہرایا جارہا ہے۔ اس اسمبلی کے باہر ساری قوم یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ ان کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ایک تو ان کی جھوٹی نبوت اور دوسرے ہماری اس قوم کے باپ کے خلاف ان کی باتیں اور اس شخص کے بارے میں یہ باتیں جس نے پاکستان کا تصور دیا، ایک گائیڈ لائن دی، یہ قابل افسوس اور سخت مذمت کے قابل ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کافر ومرتد ہے اور اسلام کے دائرہ سے خارج ہے۔
    اس کے علاوہ مکہ مکرمہ کو لیجئے! وہ چودہ سو سال سے ہمارا مرکز اور سنٹر ہے۔ وہاں کے بادشاہ شاہ فیصل نے سعودی عرب شریف میں ان کی Entry (داخلہ) بالکل Ban (بند) کر دی ہے۔ عالم اسلام نے اپنے Forum (فورم) سے ان کو غیرمسلم قرار دیا ہے۔ جب انہوں نے Declare (اعلان) کر دیا ہے تو پھر ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ مرزاغلام احمد کا رول وہی ہے ’’جو لارنس آف عریبیہ‘‘ کا رول تھا۔ اس نے وہاں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر انگریزوں کی ایجنٹی کی تھی اور اب وہی رول یہ ادا کر رہے ہیں۔
    باقی جہاں تک ان کے منظم ہونے کا سوال ہے تو یہ سیاسی اور کاروباری لوگ بڑے منظم ہوا کرتے ہیں۔ اسرائیل کو بھی ایک منظم قوم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور جتنی غیرمسلم اقوام ہیں ان میں سے بیشتر منظم ہیں۔ حالانکہ ان کی اپروچ مذہب کے متعلق غلط ہے۔ جیسا کہ ملک جعفر صاحب نے فرمایا ہے کہ تنظیم کی کمی اور علماء کرام میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے سائنٹفک اپروچ اور Objective Conditions (معروضی حالات) کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اور آپس کے جھگڑوں اور لڑائیوں کی وجہ سے عالم اسلام کا اتحاد کمزور پڑ گیا ہے۔ اس سے ہمیں بہت نقصان ہوا ہے۔

اس صفحے کی تشہیر