1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حدیث " أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ خَيْرُ النَّاسِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا "

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 31, 2015

  • by خادمِ اعلیٰ, ‏ جنوری 31, 2015 2:20 صبح
  • ‏ جنوری 31, 2015 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    اجرائے نبوت پر ایک مرزائی دلیل کا حال


    دیکھا گیا ہے کہ اکثر مرزئی مربی مختلف کتب کے حوالے سے ایک روایت پیش کرتے ہیں جسکا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ " ابوبکر تمام لوگوں سے افضل ہیں سوائے اس کے کہ انکے بعد کوئی نبی ہو " اور مرزائی اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس امت میں نبی آسکتے ہیں ۔۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس روایت کے بارے میں ائمہ حدیث کیا تبصرے کرتے ہیں ۔

    یہ روایت امام ابوبکر ہیثمی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب " مجمع الزوائد ومنبع الفوائد " میں ہے ۔

    وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ خَيْرُ النَّاسِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا» ".
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زِيَادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

    ( مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 44 ، روایت نمبر 14315 )
    امام بوبکر ہیثمی یہ روایت نقل کرنے کے بعد طبرانی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ " وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زِيَادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ " اسکی سند میں ایک راوی اسماعیل بن زیاد ہے جو ضعیف ہے ۔

    کنزالعمال کے مصنف علامہ علی متقی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب " كنز العمال " میں یہ روایت ہے ۔

    أبو بكر خير الناس بعدي إلا أن يكون نبي. "عد، طب والديلمي والخطيب في المتفق والمفترق - عن اياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه ... قال عد: هذا الحديث أحد ما أنكر".
    ( کنزالعمال جلد 11 صفحہ 549 ، روایت نمبر 32578 )
    اس روایت کو نقل کرنے کے بعد علامہ علی متقی رحمتہ اللہ علیہ اسی جگہ لکھتے ہیں کہ " هذا الحديث أحد ما أنكر" یہ حدیث منکر حدیثوں میں سے ایک حدیث ہے ۔

    تو یہ ہے حال قادیانی دلیل کا ، کبھی کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ یہ قادیانی اتنی جاہل قوم ہے کہ تمام صحیح روایات کو چھوڑ کر انہوں نے آپنے تمام عقائد کی بنیاد ضعیف روایات کو بنا رکھا ہے ، اور یہی حقیقت ہے ۔

    • Like Like x 4
  • Categories: Uncategorized

تبصرے

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 31, 2015

  1. محمدابوبکرصدیق
    احادیث پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر:ابوبکرخیرالناس)
    قادیانی: ’’ ابوبکر خیر الناس الا ان یکون نبیا۰‘‘
    ابوبکر تمام لوگوں سے افضل ہیں۔ مگر یہ کہ کوئی نبی ہو اس سے معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے۔
    جواب ۱: ابوبکر خیر الناس سے مرادعام لوگ ہیں۔ الناس سے مرادنبی نہیں۔ اگر الناس سے مراد نبی ہوں تو پھر آ پ کو خیر الناس کا لقب نہیں ملے گا۔ اس کی تائید واقعات عالم کے علاوہ وہ روایتیں بھی کرتی ہیں جو آپ کی فضلیت میں وارد ہوئی ہیں۔ گویا آسان لفظوں میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ باقی تمام لوگوں سے حضرت ابوبکرصدیق ؓ افضل ہیں۔
    جواب ۲: یہ روایت کنزالعمال ص ۱۶۱ ج ۱۲ (طبع ۲دکن) کی ہے۔ اس کے آگے ہی لکھا ہے کہ :’’ ھذا الحدیث احد ماانکر۰‘‘یہ روایت ان میں سے ایک ہے جس پر انکار کیا گیا ہے۔ ایسی منکر روایت سے عقیدہ کے لئے استدلال قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔
    جواب ۳:کنز العمال ص ۱۵۹ ج ۱۲ روایت ۸۰۴ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے:
    ’’ ماصحب النبیین والمرسلین اجمعین ولا صاحب یٰسین۰افضل من ابی بکر‘‘
    {رحمت دو عالم ﷺ سمیت تمام انبیاء ورسل کے صحابہ سے ابوبکرصدیق ؓافضل ہیں۔}
    حاکم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے کنز العمال میں ص ۱۸۰ ج ۱۲ پر روایت ہے کے الفاظ ہیں:
    ’’ابوبکر وعمر خیر الاولین والا خرین وخیر اھل السمٰوات وخیر اھل الا رضین الا النبیین والمرسلین۰‘‘
    {زمینوں وآسمانوں کے تمام اولین وآخرین سوائے انبیاء ومرسلین کے باقی سب سے ابوبکر ؓوعمرؓ افضل ہیں۔}
    ان روایات کو سامنے رکھیں تو مطلب واضح ہے کہ انبیاء کے علاوہ ابوبکر ؓباقی سب سے افضل ہیں۔ لیجئے اب ان تمام روایات کے سامنے آتے ہی قادیانی دجل پارہ پارہ ہوگیا۔
    • Like Like x 2
    • Like Like x 2
  2. HAFIZ SHAREF UR RAHMAN
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الحمد اللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی النبی الکریم و علی آلہ و اصحابہ اجمعین۔

    آنحضرت ﷺ پر ہر قسم کی نبوت اور وحی کا اختتام اور آپ ﷺ کا آخری نبی و رسول ہونا اسلام کے اُن بنیادی اور بلا شک و شبے والے مسائل اور عقائد میں سے ہے ، جن کو تمام عام و خاص ، عالم و جاہل ، شہری و دیہاتی مسلمان ہی نہیں بلکہ بہت سے غیر مسلم بھی جانتے ہیں۔ تقریباََ چودہ سو برس سے کروڑہا مسلمان اسی عقیدہ پر رہے ، لاکھوں علماء اُمت نے اس مسئلہ کو قرآن و حدیث کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے واضح فرمایا بلکہ اس کو اپنے ایمان کا [​IMG]مسئلہ سمجھا اور اس کی راہ میں حائل مصلحت و ضرورت کو برداشت نہیں کیا اور منکرین ختمِ نبوت کی طرف سے کھڑی کی گئی ہر دیوار کو گرا دینے میں کوتاہی اور سہل انگاری کا تصور بھی نہیں کیا اگرچہ اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑی۔تحفظ ختمِ نبوت کے لئے سب سے پہلے سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے ہر قسم کی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف جہاد بالسیف کیا اور جنگ یمامہ میں سات سو صرف حفاظِ قرآن صحابہ کرامؓ نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کر کے عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کیا۔
    • Like Like x 1
    • Dislike Dislike x 1
  3. HAFIZ SHAREF UR RAHMAN
    حضور ﷺ کی شانِ خاتمیت کے دو پہلو ہیں

    ۱:کسی قسم کا کوئی نیا نبی پیدا نہ ہو

    ۲:پہلوں میں سے کوئی آ جائے تو وہ آپ کے احکام کے تابع ہو کر رہے۔

    آنحضرت ﷺ پر ہر طرح کی نبوت و رسالت ختم ہے ۔ آپ ﷺ بلا استثناء آخری نبی ہیں ۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہوگا۔

    چونکہ آپؐ نے پیشنگوئی فرما دی تھی کہ میرے بعد دجال اور جھوٹے آئیں گے جو نبی ہونے کا دعوی کریں گے.حضرت ثوبانؓ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے

    لا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی و انا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔ابو داود، ترمذی

    ترجمہ:قیامت اُس وقت تک نہیں قائم ہو سکتی جب تک کہ بہت سے دجال اور جھوٹے نہ اُٹھائے جائیں جن میں سے ہر ایک یہ کہتا ہو کہ وہ نبی ہے ، حالانکہ میں خا تم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔

    چنانچہ نبی آخرالزماں محمد ﷺ کے دور حیات کے آخری حصے میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے جھوٹا دعوی نبوت کیا۔جھوٹے مدعیان نبوت کے دجل و کذب کا جو سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا آج مرزا غلام احمد قادیانی تک اس کا تسلسل جاری ہے۔
    • Like Like x 2
  4. HAFIZ SHAREF UR RAHMAN
    ختم نبوت قرآن کی روشنی میں

    ویسے تو قرآنِ پاک میں سو سے زائد آیات میں معنی و مفہوم کے اعتبار سے ختم نبوت کے مسئلہ کو ذکر فرمایا ہے لیکن یہاں صرف چند حوالوں پر اکتفا کیا جا تا ہے۔

    ۱: ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خا تم النبین و کان اللہ بکل شی ء علیم ۃ-الاحزاب، ۳۳:۴۰

    ترجمہ: نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنیوالے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔



    ۲:الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی –مائدہ،۵:۳

    ترجمہ: ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔



    ۳: و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین لمآ اتیتکم من کتب و حکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ و لتنصرنہ -آل عمران، ۳:۸۱

    ترجمہ : اور جب اللہ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کردوں پھر تمہارے پاس وہ رسول تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور ان کی مدد کرو گے۔



    ۴:قل یا یھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا- الاعراف، ۷:۱۵۸

    ترجمہ : آپ فرما دیں اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں



    ۵: تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا۔الفرقان، ۲۵:۱

    ترجمہ : بڑی برکت والا ہے جس نے فیصلہ کرنے والا اپنے بندہ پر نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈر سنانے والا ہو جائے ۔



    ۶: وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیرا – سباء

    ترجمہ : اور ہم نے آپ کو رسالت اس لیے دی ہے کہ اب آپ تمام لوگوں کے لیے بشارت اور نذرات دینے والے ہیں۔
    • Like Like x 2
  5. HAFIZ SHAREF UR RAHMAN
    عقیدہ ختم نبوت

    عقیدہ ختم نبوت

    عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس میں معمولی ساشبہ بھی قابل برداشت نہیں‘ حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ:
    ”جو شخص کسی جھوٹے مدعی نبوت (نبوت کا دعویٰ کرنے والا) سے دلیل طلب کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔
    کیونکہ دلیل طلب کرکے اس نے اجرائے نبوت (نبوت جاری ہے) کے امکان کا عقیدہ رکھا (اور یہی کفر ہے)
    اسلام کی بنیاد
    اسلام کی بنیاد توحید‘ رسالت اور آخرت کے علاوہ جس بنیادی عقیدہ پر ہے ‘ وہ ہے ”عقیدہ ختم نبوت“ حضرت محمد ا پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا‘ آپ ا سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں‘ آپ اکے بعد کسی شخص کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا۔
    ختم نبوت اسلام کی جان ہے
    یہ عقیدہ اسلام کی جان ہے ‘ ساری شریعت اور سارے دین کا مدار اسی عقیدہ پر ہے‘ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور آنحضرت اکی سینکڑوں احادیث اس عقیدہ پر گواہ ہیں‘ تمام صحابہ کرام‘ تابعین عظام‘ تبع تابعین‘ ائمہ مجتہدین اور چودہ صدیوں کے مفسرین‘ محدثین‘ متکلمین‘ علماء اور صوفیاء (اللہ ان سب پر رحمت کرے) کا اس پر اجماع ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
    ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ ۔ (الاحزاب:۴۰)
    ترجمہ:․․․”حضرت محمد ا تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں‘ لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں“۔ تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے معنیٰ ہیں کہ: آپ ا آخری نبی ہیں‘ آپ ا کے بعد کسی کو ”منصب نبوت“ پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے‘ اسی طرح حضور علیہ السلام کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔چند احادیث ملاحظہ ہوں:
    ۱- میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں۔ (ابوداؤد ج:۲‘ ص:۲۲۸)
    ۲- مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (مشکوٰة:۵۱۲)
    ۳- رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ (ترمذی‘ج:۲‘ص:۵۱)
    ۴- میں آخری نبی ہوں اورتم آخری امت ہو۔ (ابن ماجہ:۲۹۷)
    ۵- میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ (مجمع الزوائد‘ج:۳ ص:۲۷۳)
    ان ارشادات ِ نبوی میں اس امرکی تصریح فرمائی گئی ہے کہ آپ آخری نبی اور رسول ہیں‘ آپ ا کے بعد کسی کو اس عہدہ پر فائز نہیں کیا جائے گا‘ آپ ا سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے‘ ان میں سے ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دی اور گزشتہ انبیاء کی تصدیق کی۔ آپ ا نے گزشتہ انبیاء کی تصدیق تو فرمائی مگر کسی نئے آنے والے نبی کی بشارت نہیں دی۔بلکہ فرمایا:
    ۱- قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ ۳۰ کے لگ بھک دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں‘ جن میں سے ہرایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
    ۲- قریب ہے کہ میری امت میں ۳۰ جھوٹے پیدا ہوں‘ ہرایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں‘ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ان دو ارشادات میں حضرت محمد ا نے ایسے ”مدعیان نبوت“ (نبوت کا دعویٰ کرنے والے) کے لئے دجال اور کذاب کا لفظ استعمال فرمایا‘ جس کا معنیٰ ہے کہ: وہ لوگ شدید دھوکے باز اور بہت زیادہ چھوٹ بولنے والے ہوں گے‘ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں کو اپنے دامن فریب میں پھنسائیں گے‘ لہذا امت کو خبردار کردیا گیا کہ وہ ایسے عیار ومکار مدعیان نبوت اور ان کے ماننے والوں سے دور رہیں۔ آپ ا کی اس پیشنگوئی کے مطابق ۱۴۰۰ سو سالہ دورمیں بہت سے کذاب اور دجال مدعیان نبوت کھڑے ہوئے جن کا حشر تاریخ اسلام سے واقفیت رکھنے والے خوب جانتے ہیں۔ماضی قریب میں ”قادیانی دجال“ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا‘ خدانے اس کو ذلیل کیا۔ اس لئے یہ ”ختم نبوت“ امت محمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم رحمت اور نعمت ہے‘ اس کی پاسداری اور شکر پوری امت محمدیہ پر واجب ہے۔
    • Like Like x 1
  6. محمدابوبکرصدیق
    آیت:
    کی تشریح کرنے والی چند احادیث و مجددین امت کے اقوال کو پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں
    • Like Like x 1
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر