1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حدیث انک خاتم المھاجرین

خادمِ اعلیٰ نے 'اجرائے نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 2, 2014

  1. ‏ جولائی 2, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    حدیث انک خاتم المھاجرین

    قادیانی استدلال :حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا " اطمشن یا عم فانک خاتم المھاجرین فی الھجرۃ کما انا خاتم النبین فی النبوتہ " اگر حضرت عباس کے بعد ہجرت جاری ہے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت بھی جاری ہے ...
    جواب :
    قادیانی اس روایت میں دجل اور فریب سے کام لیتے ہیں اصل واقعہ یہ ہے کے حضرت عباس مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ روانہ ہو گئے تھے مکہ مکرمہ سے چند ہی میل کا سفر کیا تھا کہ دیکھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ سے دس ہزار قدسیوں کا لشکر لیکر مکہ شریف فتح کرنے کے لیے تشریف لا رہے ہیں راستے میں ملاقات ہوئی تو حضرت عباس نے افسوس ظاہر کیا کے میں ہجرت کی فضیلت سے محروم رہا . حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو تسلی اور حصول ثواب کی بشارت دیتے ہوۓ فرمایا اس لئے کے مکہ مکرمہ سے واقعی ہجرت کرنے والے آخری مهاجر حضرت عباس تھے کیوں کے ہجرت دارالکفر سے دارالسلام کی طرف جاتی ہے مکہ مکرمہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ایسا فتح ہوا جو قیامت کی صبح تک دارالسلام رہے گا تو مکہ مکرمہ سے آخری مہاجر حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہوۓ لہذا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ آے چچا تم آخری مہاجر ہو تمھارے بعد جو بھی مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے گا اسے مہاجر کا لقب نہیں ملے گا اس لئے امام بخاری فرماتے ہیں " لاھجرۃ بعد الفتح "(بخاری 433 جلد 1 ) حضرت حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں " ھاجر قبل الفتح وشھد الفتح " حضرت عباس نے فتح مکہ سے قدرے پشتر ہجرت کی اور اپ فتح مکہ میں حاضر تھے (اصابہ صفحہ 271 جلد 2 )..
    معلوم ہوا کے اس واقعہ کو اجرائے کے لئے بطور تشبیہ استعمال کرنا قادیانوں کی جہالت کا شہکار ہے ...
    • Like Like x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  2. ‏ اگست 7, 2014 #2
    دین محمد

    دین محمد رکن ختم نبوت فورم

    اللہ غارت کرے ان لوٹیروں کو انہوں نے بہت فتنہ بپا کیا ہوا ہے اور مجاھدوں کو اپنی آغوش رحمت میں دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرماۓ امین
    • Dumb Dumb x 1
  3. ‏ نومبر 25, 2014 #3
    بنت اسلام

    بنت اسلام رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    فتنہ انگیز قوم کا کام فتنہ بپا کرنا ہی ہوتا ہے-

اس صفحے کی تشہیر