1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حدیث :( انک خاتم المہاجرین ) پر قادیانی اعتراض کا جواب

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرق احادیث' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 11, 2015

  1. ‏ جنوری 11, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,127
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    حدیث : ( انک خاتم المہاجرین ) پر قادیانی اعتراض کا جواب
    قادیانی کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے فرمایا: ’’اطمئن یا عم (عباسؓ) فانک خاتم المہاجرین فی الھجرۃ کما انا خاتم النبیین فی النبوۃ‘‘ (کنزالعمال ص ۶۹۹ ج۱۲ حدیث۳۳۳۸۷) اگر حضرت عباسؓ کے بعد ہجرت جاری ہے تو حضورﷺ کے بعد نبوت بھی جاری ہے۔
    جواب… قادیانی اس روایت میں بھی دجل سے کام لیتے ہیں۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت عباسؓ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ کے سفر پر روانہ ہوگئے تھے۔ مکہ مکرمہ سے چند کوس باہر تشریف لے گئے تو راستہ میں مدینہ طیبہ سے آنحضرتﷺ دس ہزار قدسیوں کا لشکر لے کر مکہ مکرمہ فتح کرنے کے لئے تشریف لے آئے۔ راستہ میں ملاقات ہوئی تو حضرت عباسؓ کو افسوس ہوا کہ میں ہجرت کی سعادت سے محروم رہا۔ حضورﷺ نے حضرت عباسؓ کو تسلی و حصول ثواب کی بشارت دیتے ہوئے یہ فرمایا۔ اس لئے واقعتاً مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والے آخری مہاجر حضرت عباسؓ تھے۔ اس لئے کہ ہجرت دار الکفر سے دارالاسلام کی طرف کی جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ رحمت دوعالمﷺ کے ہاتھوں ایسے فتح ہوا جو قیامت کی صبح تک دارالاسلام رہے گا۔ تو مکہ مکرمہ سے آخری مہاجر واقعی حضرت عباسؓ ہوئے۔ آپﷺ کا فرمانا: ’’اے چچا تم خاتم المہاجرین ہو‘‘ تمہارے بعد جو بھی مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے گا۔ اسے مہاجر کا لقب نہیں ملے گا۔ اس لئے امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’لاہجرۃ بعد الفتح‘‘
    (بخاری ص ۴۳۳ ج۱)
    حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ
    (اصابہ ص ۲۷۱ ج ۲ طبع بیروت)
    میں فرماتے ہیں:’’ھاجر قبل الفتح بقلیل وشھد الفتح‘‘
    ’’حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے قدرے پیشتر ہجرت کی اور آپ فتح مکہ میں حاضر تھے۔‘‘

اس صفحے کی تشہیر