1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حدیث :( انک خاتم المہاجرین ) پر قادیانی اعتراض کا جواب

محمدابوبکرصدیق نے 'دعوتی سیکشن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 11, 2015

  1. ‏ جنوری 11, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حدیث : ( انک خاتم المہاجرین ) پر قادیانی اعتراض کا جواب
    قادیانی کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے فرمایا: ’’اطمئن یا عم (عباسؓ) فانک خاتم المہاجرین فی الھجرۃ کما انا خاتم النبیین فی النبوۃ‘‘ (کنزالعمال ص ۶۹۹ ج۱۲ حدیث۳۳۳۸۷) اگر حضرت عباسؓ کے بعد ہجرت جاری ہے تو حضورﷺ کے بعد نبوت بھی جاری ہے۔
    جواب… قادیانی اس روایت میں بھی دجل سے کام لیتے ہیں۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت عباسؓ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ کے سفر پر روانہ ہوگئے تھے۔ مکہ مکرمہ سے چند کوس باہر تشریف لے گئے تو راستہ میں مدینہ طیبہ سے آنحضرتﷺ دس ہزار قدسیوں کا لشکر لے کر مکہ مکرمہ فتح کرنے کے لئے تشریف لے آئے۔ راستہ میں ملاقات ہوئی تو حضرت عباسؓ کو افسوس ہوا کہ میں ہجرت کی سعادت سے محروم رہا۔ حضورﷺ نے حضرت عباسؓ کو تسلی و حصول ثواب کی بشارت دیتے ہوئے یہ فرمایا۔ اس لئے واقعتاً مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والے آخری مہاجر حضرت عباسؓ تھے۔ اس لئے کہ ہجرت دار الکفر سے دارالاسلام کی طرف کی جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ رحمت دوعالمﷺ کے ہاتھوں ایسے فتح ہوا جو قیامت کی صبح تک دارالاسلام رہے گا۔ تو مکہ مکرمہ سے آخری مہاجر واقعی حضرت عباسؓ ہوئے۔ آپﷺ کا فرمانا: ’’اے چچا تم خاتم المہاجرین ہو‘‘ تمہارے بعد جو بھی مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے گا۔ اسے مہاجر کا لقب نہیں ملے گا۔ اس لئے امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’لاہجرۃ بعد الفتح‘‘ (بخاری ص ۴۳۳ ج۱) حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (اصابہ ص ۲۷۱ ج ۲ طبع بیروت) میں فرماتے ہیں:’’ھاجر قبل الفتح بقلیل وشھد الفتح‘‘
    ’’حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے قدرے پیشتر ہجرت کی اور آپ فتح مکہ میں حاضر تھے۔‘‘
    • Like Like x 1
  2. ‏ اپریل 12, 2016 #2
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    اگر خاتم المہاجرین کا معنیٰ سب سے افضل مہاجر کیا جائے تو امر واقعہ کے ہی خلاف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جو اولین مہاجر تھے ان کی فضیلت قرآن سے ثابت ہے ۔۔۔۔۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی مہاجر ہیں تو حضرت عباسؓ ان سے کیسے افضل ہو سکتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟
    • Like Like x 2
  3. ‏ اپریل 12, 2016 #3
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    اسی روایت سے بالکل اگلی روایت میں اس کے معنیٰ کی واضح وضاحت موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ سے فرمایا ( ختم بک الھجرۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ ہجرت ختم کر دی گئی ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( کما ختم بی النبوۃ ۔۔۔۔ جیسے میرے ساتھ نبوت ختم کر دی گئی ) تو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی وضاحت موجود ہے تو کوئی اور معنیٰ کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟
    خاتم المہاجرین ،کنز العمال 1.jpeg کنز العمال ، خاتم المہاجرین 3.jpg ۔
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر