1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حدیث کی ضرورت ،حُجِّیتِ اور تدوین کا ایک مختصر تعارف۔

حمزہ نے 'متفرق احادیث' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 16, 2014

  1. ‏ جولائی 16, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 2, 2014
    مراسلے :
    559
    موصول پسندیدگیاں :
    406
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    تعلیم
    مقام سکونت :
    کشمیر ،جنت نظیر
    ضرورت حدیث
    قرآنِ کریم مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں رہنمائی موجود ہے مگر اسے سمجھنا آسان نہیں جب تک کہ احادیثِ معلِّمِ کائنات سے مدد حاصل نہ کی جائے مثال کے طور پر اسلام کے ایک اہم ترین رکن نمازہی کو لیجئے، قرآن کریم میں کم وبیش سات سو(۷۰۰)مقامات پر اس کا تذکرہ ہے اور کئی مقامات پر ا س کے قائم کرنے کا حکم دیاگیاہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    (اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ) (نماز قائم کرو)۔
    چنانچہ اب یہ سمجھنا کہ ''صلاۃ ''ہے کیا، اسے کس طرح قائم کیا جائے یہ صرف عقل پرموقوف نہیں اور اگر اس کا معنی سمجھنے کیلئے لغت کی طرف رجوع کیا جائے تو وہاں صرف لغوی معنی ملیں گے اور اس کے لغوی و اصطلاحی معنی کے مابین بہت فرق ہے۔
    الغرض اس کے اصطلاحی معنی ہمیں صرف احادیث یعنی سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اقوال وافعال واحوال سے ہی سمجھ میں آسکتے ہیں اسی طرح قرآن کریم کے دیگر احکامات کو سمجھنے کیلئے نیز زندگی کے ہرشعبے میں ہمیں ہادی برحق صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رہنمائی کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے بندوں کو قرآن کریم سکھانے اور انہیں ستھرا کرنے کیلئے نبی ِآخرالزماں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا، چنانچہ ربّ عزوجل فرماتاہے:
    یَتْلُوۡا عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِینٍ ﴿164﴾
    ترجمہ: ''ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اورا نہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔''(آل عمران: 164)
    اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے اسی لئے تو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دنیا میں بھیجا۔اگرقرآن کریم مطلقاًآسان ہوتااور اسے بغیر رہنمائی کے سمجھا جاسکتاتواللہ تعالی اس کے سمجھانے کیلئے خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوبطورِ معلِّمِ کائنات مبعوث کیوں فرماتا؟ نیز قرآن کریم کے آسان ہونے کے باوجود کسی سکھانے والے کو بھیجنا عبث قرار پاتاحالانکہ اللہ تبارک وتعالی کی یہ شان نہیں کہ اس کی طرف کوئی عبث وفضول راہ پائے۔

    حُجِّیتِ حدیث
    یاد رہے کہ جس طرح قرآن احکامِ شرع میں حجت ہے اسی طرح حدیث بھی۔اور اس سے بہت سے احکامِ شریعت ثابت ہوتے ہیں۔چنانچہ رب عزّوجلّ فرماتاہے
    وَمَاۤ اٰتٰکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ
    ترجمہ: ''اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو''۔
    یہاں سے معلوم ہوتاہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو کچھ عطافرمادیں وہ لے لیا جائے چاہے وہ قول کی صورت میں ہویاکسی اور صورت میں ۔''خُذُوْہُ'' اس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرمان پر عمل ضروری ہے۔ایک جگہ فرمایا:

    وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الْہَوٰی ؕ﴿3﴾ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿4﴾
    ترجمہ:''اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے''۔(النجم: 3 - 4)
    لہذا معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا احکامِ شریعت کے بارے میں فرمان وحیِ الہی ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے رب کا کوئی حکم جاری فرمانا۔ ایک جگہ یوں فرمایا:

    مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ ۚ
    ترجمہ:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(النساء 80)
    سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کو رب نے اپنی اطاعت فرمایا اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اطاعت حکم (قول)کی ہواکرتی ہے تومعلوم ہواکہ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان (حدیث) حجتِ شرعی ہے کہ جس کی اطاعت کو رب نے اپنی اطاعت فرمایا۔حاصل یہ کہ حدیث حجت شرعی ہے اور اس کا حجت ہونا قرآن سے ثابت ہے۔

    تَدْوِینِ حدیث
    تدوین حدیث(حدیث کو جمع کرنے)کا سلسلہ عہدِ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے لے کر تبع تابعین تک مسلسل جاری رہا۔اگرچہ ابتدائی دور میں سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو احادیث لکھنے سے منع فرمادیاتھا کیونکہ ابتدائی دور آیاتِ قرآنیہ کے نزول کا دور تھا لہذا اس دور میں صرف قرآن کریم کوہی ضبطِ تحریر میں لانا اہم ترین کام تھا، اور سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم احادیث لکھنے سے منع فرماتے تھے تاکہ قرآن اور احادیث میں التباس نہ ہوجائے چنانچہ ابتداء آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
    '' لاَ تَکْتُبُوْا عَنِّيْ وَمَنْ کَتَبَ عَنِّيْ غَیْرَ الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ ''
    میرا کلام نہ لکھو اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے سن کر لکھا وہ اسے مٹادے۔(صحیح مسلم شریف ، کتاب الزہد، جلد۲، ص۴۱۴)
    لیکن جوں ہی نزول قرآن کا سلسلہ ختم ہوااور التباس کے خطرات باقی نہ رہے توآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کتابتِ حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔چنانچہ امام ترمذی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

    ''کَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ یَجْلِسُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَسْمَعُ مِنْہُ الْحَدِیْثَ فَیُعْجِبُہ، وَلَا یَحْفَظُہُ فَشَکَا ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ''اِسْتَعِنْ بِیَمِیْنِکَ وَأَوْمَأَ بِیَدِہٖ اِلَی الْخَطِّ''
    ترجمہ : ''انصار میں سے ایک آدمی حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرہوتاپھرآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشادات سنتااور خوش ہوتااور انہیں یاد نہ رکھ سکتا تو اس نے سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس بات کی شکایت کی توآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ سے مددلواور ساتھ ہی اپنے دست مبارک سے لکھنے کا اشارہ فرمایا''۔
    ایک اور حدیث نقل کرتے ہوئے امام ترمذی فرماتے ہیں،صحابہ کرام حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھ کر احادیث لکھا کرتے تھے،ان میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا:

    ''مَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَکْثَرُ حَدِیْثاً مِنِّیْ اِلاَّ مَا کَانَ مِنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ وَلَا أَکْتُبُ''
    ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کے سواء صحابہ کرام میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ احادیث محفوظ کرنے والا نہیں کیونکہ وہ احادیث لکھاکرتے تھے اورمیں نہیں لکھتاتھا۔ (جامع ترمذی)
    لہذا معلوم ہوا کہ تدوین حدیث کا سلسلہ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے عہد مبارک ہی سے جاری ہوااور سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بذات خود اس کی اجازت مرحمت فرمائی۔ صحابہ
    کرام علیہم الرضوان کی طرح تدوین حدیث کا یہ سلسلہ تابعین کہ دور میں بھی جاری رہا، ان تابعین میں حضرت سعید بن مسیب، حضرت سعید بن جبیر، حضرت مجاہد بن جبیرمکی، حضرت قتادہ اور حضرت عمر بن عبد العزیز جیسے جلیل القدر تابعین بھی شامل ہیں۔(رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)
    تابعین کے بعد تیسری صدی ہجری میں ان مشاہیر علما ء نے تدوین حدیث کا کام انجام دیا۔علی بن المدینی، یحیی بن معین، ابوبکرابن ابی شیبہ، ابوزرعہ رازی،ابوحاتم رازی، محمد بن جریر طبری، ابن خزیمہ، اور اسحاق بن راہویہ۔
    ان کے بعد امام بخاری ومسلم اور دیگر کئی محدثین نے تدوین حدیث کا کام کیا۔امام بخاری ومسلم، علی بن المدینی ، یحیی بن معین اور اسحاق بن راہویہ کے شاگردوں میں ہیں۔(اللہ تعالی کی ان پر رحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمین)۔
    یاد رہے کہ ہر بات جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کر دی جائے حدیث نہیں ہو سکتی بلکہ اس بات کے ثبوت کے لئے کہ یہ حدیث ہے یا نہیں اس کی سند دیکھی جاتی ہے یعنی اس حدیث کے راویوں(بیان کرنے والوں) کے حالات و صفات و دیگر لوازمات دیکھے جاتے ہیں ،مثلاان کا ایک دوسرے سے سماع(حدیث سننا) ثابت ہے بھی یا نہیں اور آیا یہ سلسلہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تک متصل ہے یا نہیں ۔راویوں کے اسی سلسلے کو سند یا اسناد کہتے ہیں چونکہ اس سے حدیث کی صحت و سقم یعنی اس کے صحیح و غیر صحیح ہونے کا پتا چلتا ہے اسی لئے علماء و محدثین نے اس اہم ترین موضوع کے لئے باقاعدہ ایک مستقل فن ''علم اصول حدیث ''مدون فرمایا جس کے ذریعے انھوں نے احادیثِ صحیحہ و غیرِ صحیحہ کوالگ الگ کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دکھایا۔
    • Like Like x 3
    • Dumb Dumb x 1

اس صفحے کی تشہیر