1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حضرت عبد اللہ ابن عباس کا قول "اني مميتک" اور اسکي حقيقت

Raheel Ansari نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 11, 2014

  1. ‏ اگست 11, 2014 #1
    Raheel Ansari

    Raheel Ansari رکن ختم نبوت فورم

    إِذْ قَالَ اللَّهُ يَاعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا (آل عمران: 55)

    حضرت عبد اللہ ابن عباس کا قول "اني مميتک" اور اسکي حقيقت

    ہم اکثر بحث و مباحثہ ميں قاديانيہ کي طرف سے يہ ايک دليل ديکھتے ہيں کہ حضرت ابن عباس، جو کہ جليل القدر صحابي رسول ہيں، نے اس آيت کي تفسير «يا عيسي اني متوفيک ورافعک الي» ميں کہا «اني مميتک» (يعني تمہيں موت دونگا)۔ اس قول کو امام بخاري نے اپني صحيح ميں نقل کيا ہے باب «بَابُ مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلاَ سَائِبَةٍ، وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ (المائدة: 103)» ميں اور اس کي سند صحيح ہے جسے امام بخاري نے نقل نہيں کيا۔


    قاديانيہ کا مسئلہ يہ ہے کہ وہ کچھ بھي اپنے مطلب کا اٹھا کر چھاب ديتے ہيں اور نعرے بازي شروع کرديتے ہيں کہ يہ عقيدہ تو صحابہ کرام کا تھا۔ آئيں اس پر ايک تحقيقي نظر ڈالتے ہيں۔ حضرت ابن عباس کے اس قول کا مفھوم انہي کے مزيد اقوال اور ان کي تفسير سے ليتے ہيں۔


    1. حضرت ابن عباس کا يہ قول ہميں اس سند کے ساتھ ملتا ہے:

    حدثني المثنى قال، حدثنا عبد الله بن صالح قال، حدثني معاوية، عن علي، عن ابن عباس قوله إني متوفيك يقول إني مميتك

    (ترجمہ) ابن عباس سے مروي ہے إِنِّي مُتَوَفِّيكَفرمايا کہ ميں تمہيں موت دينے والا ہوں۔


    اس روايت کو امام ابن جرير طبري اپني تفسير جامع البيان جو کہ تفسير طبري کے نام سے مشہور ہے اس ميں نقل کرتے ہيں۔ اسي طرح تفسير طبري ميں امام ابن جرير طبري ايک اور روايت نقل کرتے ہيں حضرت ابن عباس سے آيت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (النساء:55) (ترجمہ: اور کوئي اہل کتاب نہيں ہوگا مگر انکي موت سے پہلے ان پر ايمان لے آئے گا)کے تحت:


    حدثنا ابن بشار قال، حدثنا عبد الرحمن قال، حدثنا سفيان، عن أبي حصين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ قال: قبل موت عيسى ابن مريم.



    (ترجمہ) ابن عباس آيت "وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ" پر فرماتے ہيں کہ عيسي ابن مريم کي موت سے قبل ايسا ہوگا۔

    پھر يہي قول ايک اور سند کے ساتھ بھي منقول ہے انہي الفاظ کے ساتھ۔

    ايک اور روايت ابن عباس سے منقول ہے اسي آيت کے تحت:

    حدثني محمد بن سعد قال، حدثني أبي قال، حدثني عمي قال، حدثني أبي، عن أبيه، عن ابن عباس قوله وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موتهيعني أنه سيدرك أناسٌ من أهل الكتاب حين يبعث عيسى فيؤمنون به ويوم القيامة يكون عليهم شهيدًا

    (ترجمہ) ابن عباس فرماتے ہيں وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته کہ عيسي عليہ السلام اہل کتاب کي پکڑ کريں گے جب ان کي بعثت ہوگي اور وہ ان پر ايمان لائيں۔ «اور قيامت کے دن وہ ان پر گواہ ہونگے۔

    ان روايات سے ابن عباس رضي اللہ عنہ کا عقيدہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ عيسي ابن مريم کے آنے کے قائل بھي تھے اور يہي انکا منہج تھا نا کہ انکي وفات کے۔


    2. اگر ہم انکا قول "مميتک" پر نظر ڈاليں تو اس سے مراد عيسي عليہ السلام کي موت ہي ہے ليکن نزول کے بعد کيونکہ اس ميں انھوں نے يہ بيان نہيں کيا کہ موت ابھي ہوگي يا بعد ميں۔ اور اس کا مفھوم حضرت ابن عباس کي اپني تفسير "تنوير المقباس في تفسير ابن عباس" سے سمجھ آتا ہے جس ميں يہ ذکر ہے آيت يَاعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ کے تحت:

    إِذْ قَالَ الله يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ مقدم ومؤخر

    (ترجمہ) يہ پہلے ہوگا (َرَافِعُكَ) اور وہ بعد ميں ہوگا (مُتَوَفِّيكَ


    امام ابن جرير طبري بھي يہي فرماتے ہيں اپني تفسير ميں کہ کچھ کا اس بارے ميں يہ کہنا ہے:

    وقال آخرون معنى ذلك إذ قال الله يا عيسى إني رافعك إليّ ومطهِّرك من الذين كفروا، ومتوفيك بعد إنزالي إياك إلى الدنيا. وقال: هذا من المقدم الذي معناه التأخير، والمؤخر الذي معناه التقديم.

    (ترجمہ) اور لوگوں نے اس کے معني إِذْ قَالَ اللَّهُ يَاعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا اور پھر وفات دوں گا اپنے پاس سے نزول کرنے کے بعد دنيا ميں۔ اور کہا کہ مراد يہي ہے کہ جو پہلے فرمايا اس سے مراد اس امر کا بعد ميں واقع ہونے کے ہيں اور جو بعد ميں فرمايا اس سے مراد اس امر کا پہلے ہونے کا ہے۔

    بيان کردہ اقوال کي رشني ميں يہ آيت مفھوم ميں ايسے ہوگي يَاعِيسَى إِنِّي رَافِعُكَ إِلَيَّ ومُتَوَفِّيكَ (اے عيسي ميں تمہيں اپني طرف اٹھا لوں گا اور پورا کروں گا)۔ اب اس ميں حضرت ابن عباس کا قول رکھيں تقديم اور تاخير کے معني کے ساتھ تو آيت ايسے ہوگي "يَاعِيسَى إِنِّي رَافِعُكَ إِلَيَّ ومميتك" (اے عيسي ميں تمہيں اپني طرف اٹھا لوں گا اور پھر موت دوں گا)۔

    اور يہي عقيدہ حضرت ابن عباس کا تھا کہ عيسي ابن مريم کا نزول ہوگا اور اس نزول کے بعد انکي وفات ہوگي۔ قاديانيہ کا ابن عباس پر بہتان اور الزام جھوٹا ثابت ہوتا ہے حضريت ابن عباس کے اپنے ہي اقوال سے۔
    • Winner Winner x 3
    • Like Like x 1
  2. ‏ اگست 12, 2014 #2
    i love sahabah

    i love sahabah رکن ختم نبوت فورم

    z.jpg
    • Winner Winner x 2
    • Like Like x 1
  3. ‏ اگست 12, 2014 #3
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    امام جلال الدین سیوطی ؒ تفسیر درمنثور میں فرماتے ہیں
    اخرج اسحٰق بن بشر و ابن عساکر من طریق جوھرعن الضحاک عن ابن عباسؓ قولہ تعالیٰ : انی متوفیک و رافعک الی یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان
    ضحاک کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ متوفیک و رافعک کی تفسیر میں یہ فرماتے تھے کہ اس کا مطلب ہے کہ پہلے میں تمہیں اٹھا لوں گا اور پھر اخیر زمانے میں وفات دوں گا ۔
    یہ بھی یاد رہے کہ امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباسؓ کا قول بلا سند بیان کیا ہے اور اس کی سند تفاسیر میں ملتی ہے اکثر علما، کے نزدیک وہ سند علی بن طلحہ کی وجہ سے ضعیف ہے ۔علی بن طلحہ کی ملاقات بھی حضرت عباسؓ سے نہیں ہوئی تھی یعنی اس نے براہ راست حضرت ابن عباس ؓ سے کچھ بھی نہیں سنا ۔
    آخری تدوین : ‏ اگست 12, 2014
    • Winner Winner x 2
  4. ‏ اگست 12, 2014 #4
    عالیہ مغل

    عالیہ مغل رکن ختم نبوت فورم

    :04
    • Like Like x 1
  5. ‏ اگست 13, 2014 #5
    Raheel Ansari

    Raheel Ansari رکن ختم نبوت فورم

    سلمان احمد بھائی۔۔۔بلکل درست فرمایا کہ ابن عباس (رض) کی یہ خبر ایک مرسل خبر ہے اور اسکی سند امام ابن جریر نے پیش کی ہے۔ تفاسیر میں تفسیر طبری اور تفسیر ابن ابی حاتم اسی لئے منفرد ہے کہ وہ اپنی اسناد بھی پیش کرتے ہیں جو کبھی ہمیں دوسری احادیث کی کتب میں درج نہیں ملتی۔

    مزید یہ کہ قادیانیہ کے سامنے کوئی علمی بات ہو تو وہ شور پہلے کرتے ہیں کہ یہ تو صحیح بخاری پر بھی اعتراض کرنے لگے۔ صحیح بخاری میں بھی اس روایت کو سورہ مائدہ کی تفسیر میں ڈالا گیا ہے نا کہ سورہ آل عمران میں۔

    ابن عباس کی اس روایت کو ہم صحیح اسی لئے مانتے ہیں کہ صحابہ کرام کا یہی عقیدہ تھا جو تواتر کے ساتھ صحیح اسناد و متن کے ساتھ ہم کو ملتا ہے۔
    • Winner Winner x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1

اس صفحے کی تشہیر