1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حضرت عیسیؑ قرآن و حدیث کی روشنی میں۔

شہزاد سرور نے 'آیات مریم و عیسیٰ علیھما السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 1, 2017

  1. ‏ ستمبر 1, 2017 #1
    شہزاد سرور

    شہزاد سرور رکن ختم نبوت فورم

    یہاں حضرت عیسی علیہ اسلام کا آسمان پر جانے اور دوبارہ آنے کا ذکر قرآن شریف کی چند آیات اور جہاں تک ممکن ہوا ان آیات کی احادیث کی روشنی سے تفسیر حاصل کریں گے اور وقت کے مشہور مفسرین کی کی روشنی میں دلائل پیش کئے جائیں گے۔
    انشاءاللہ۔

    وَّبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰي مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا ١٥٦؀ۙ4

    اپنے کفر میں یہ لوگ اتنے بڑھ گئے کہ انہوں نے حضرت مریم پر سخت بہتان لگایا ۔

    وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا ١٥٧؀ۙ4

    اور ان کے اس دعویٰ کے سبب سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ تو انھوں نے اس کو قتل کیا نہ سولی دی۔ بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ ہوگیا اور جو لوگ اس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ اس کے معاملہ میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اس بارے میں کوئی قطعی علم نہیں۔ بس گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس کو ہرگز قتل نہیں کیا ۔
    تفسیر:
    حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق قادیانی اشکالات اور ان کے جوابات :
    اشکال : (١) ایک شخص کی شکل ہو بہوعیسی (علیہ السلام) جیسی کیسے ہوگی ؟ (١) : جواب : جس طرح فرشتے بشر کی شکل میں متمثل ہوتے ہیں (٢) جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کا اژدھا بن جانا قرآن کریم میں منصوص ہے ۔ (٣) انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے پانی کا شراب اور زیتون بن جانا نصاری کے نزدیک مسلم ہے پس اسی طرح اگر کسی شخص کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے مشابہ اور ہم شکل بنادیا جائے تو کیا بعید ہے ۔ ؟ (٤) احیاء موتی کا معجزہ اس سے کہیں زیادہ بلند تھا ، لہذا احیاء موتی کی طرح القاء شبیہ کے معجزہ کو بھی بلاشبہ اور بلاتردد تسلیم کرنا چاہیے ۔ (٥) نیز موجودہ سائنس کے دور میں پلاسٹک سرجری سے چہروں کی شباہت تبدیل کی جاتی ہے یہ انسان اپنے ذرائع سے کر رہا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایک شخص کی شباہت دوسرے شخص پر ڈال دی تو وجہ تعجب کیا ہے ؟ ۔
    اشکال : (٢) جس شخص پر عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت ڈالی گئی وہ آپ کا دشمن تھا یا حواری اگر دشمن پر ڈالی گئی تو ایسے مسیح بنا کر عزت دی گئی کافر کو عزت دی گئی ، اگر حواری تھا تو اس پر ظلم ہوا اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہے ۔ جواب : اس آیت کی تفسیر میں اقوال ہیں کیونکہ قرآن کریم تاریخی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کا منبع ہے یہ تاریخ کا موضوع ہے کہ وہ شخص جو پھانسی دیا گیا وہ کون ہے ؟ قرآن کریم صرف اتنا بتلانا چاہتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) نہ قتل ہوئے نہ پھانسی دیئے گئے ، یہود کا قول قتل مسیح کا دعوی غلط ہے اب وہ شخص کون تھا ؟ تو اس میں سابقہ کتب میں دو اقوال ہیں ۔ (١) کہ وہ دشمن تھا ۔ (٢) وہ حواری تھا اس لئے مفسرین نے دونوں اقوال نقل کیے ، اب کہ وہ دشمن تھا تو نبی کی شکل کیوں دے دی گئی یہ تو اس کا اعزاز ہوگیا ؟ ۔ جواب : کہ اعزاز نہیں دیا گیا بلکہ عذاب دیا گیا ہے کہ وہ پھانسی پر لٹکایا گیا ، اور دوسرا قول کہ مسیح (علیہ السلام) کا حواری تھا اس پر اشکال کہ بےقصور تھا اس پر ظلم ہوا ؟ اس کا جواب بھی تفسیروں اور کتب سابقہ میں موجود ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ کون شخص ہے جو میری جگہ پھانسی پر چڑھے اور قیامت کے دن جنت میں میرا رفیق بنے یہ سوال تین بار کیا تو تینوں دفعہ مخلص حواری اٹھا جو اپنے نبی کی جگہ قربانی کے لئے آمادہ ہوا یہ ایثار و قربانی کی بےمثال روایت ہے کہ اپنے بنی کے لئے جان قربان کرکے رفیق جنت بننے پر آمادہ ہوا اور ایسے کرکے وہ اعزاز کا مستحق ہوا اور درجہ شہادت پر فائز ہوا ، قادیانی مخلص حواری مسیح کی شہادت کو ظلم سے تعبیر کریں تو جو لوگ اپنے دین وایمان اسلام وقرآن انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی عزتوں کے تحفظ کے لئے شہید ہوئے تو کیا ان سب پر ظلم ہوا ؟ العیاذباللہ ۔
    ابن جریر نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما قتلوہ یقیناً “ یعنی انہوں نے قتل نہیں کیا یقینی طور پر جس کا انہوں نے گمان کیا تھا۔
    ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا یعنی انہوں نے قتل نہیں کیا یقینی طور پر جس کا انہوں نے گمان کیا تھا۔
    ابن جریر (رح) نے جویبر اور سدی رحمۃ اللہ علیہما سے اسی طرح روایت کیا۔
    ابن عساکر نے عبد الجبار بن عبد اللہ بن سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اس رات اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے جس میں ان کو (آسمان پر) اٹھایا گیا آپ نے ان سے فرمایا کتاب اللہ کے بدلہ میں اجر کا مطالبہ نہ کرنا اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو پتھر کے مقبروں پر بٹھائیں گے اس میں سے ایک پتھر بھی دنیا وما فیھا سے بہتر ہے۔ عبد الجبار نے فرمایا اور یہ وہ بیٹھنے کی جگہیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا یعنی لفظ آیت ” فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر “ (القمر آیت ٥٥) اور (اس کے بعد) ان کو (آسمانوں پر) اٹھالیا گیا۔

    بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا ١٥٨؁-4

    بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔

    تفسیر:
    لوگوں کے تعجب کو دور کرنے اور نام نہاد دانشوروں کی دانش کو لگام دینے کے لییعزیْزاً حَکِیْماً کے الفاظ کے ذریعے وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسمان کی طرف اٹھانے اور ان کے دشمنوں سے بچانے پر قادر ہے اللہ تعالیٰ انھیں آسمان پر اٹھانے اور قیامت کے قریب زمین پر بھیجنے کا راز جانتا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کے بارے میں اختلاف کرنے والے صرف اٹکل پچو سے کام لے رہے ہیں۔ یہاں یہودیوں کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) سولی نہیں چڑھائے گئے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے یہاں اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرب قیامت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زمین پر آمد اور انکی وفات کے وقت موجود ہوں گے۔ بعض لوگوں نے کچھ اقوال کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ” قَبْلَ مَوْتِہِ “ سے مرادہر مرنے والا عیسائی اور یہودی ہے۔ جب یہودی اور عیسائی کو موت آتی ہے تو اس کے سامنے ایسے قرائن لائے جاتے ہیں جس سے اسے یقین آجاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ابھی زندہ ہیں لیکن اس بات کو کسی ٹھوس دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قَبْلَ مَوْتِہٖ الفاظ کا حقیقی معنی احادیث کی روشنی میں متعین ہوچکا ہے۔ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکانے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی تائید میں عیسائیوں کی اکثریت نے اپنے مفاد کی خاطریہ عقیدہ گھڑ لیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) واقعی ہی فوت ہوچکے ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔ یہودیوں کے دلائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائی کہتے ہیں کہ واقعی عیسیٰ (علیہ السلام) مصلوب ہوچکے ہیں جس عیسیٰ مسیح کے دوبارہ آنے کا حدیث میں ذکر ملتا ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں بلکہ مرزا ہے جو مسیح بن کر آچکا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ نہیں آئیں گے۔
    ( ِعنَ أَبَی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ فیکُمْ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہُ أَحَدٌ)[ رواہ البخاری : کتاب ا لمظالمِ ، بَاب کَسْرِ الصَّلِیبِ وَقَتْلِ الْخِنْزِیر ]
    حضرت ابوہریرہ (رض) نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) عادل حکمران کی حیثیت سے نہیں آئیں گے وہ صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے۔ جزیہ ختم کردیں گے۔ مال و دولت کی اس قدربہتات ہوگی کہ صدقہ و خیرات لینے والا نہیں ہوگا۔ “
    (عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ (رض) عَنْ أَبِیہٖ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ مَکْتُوبٌ فِی التَّوْرَاۃِ صِفَۃُ مُحَمَّدٍ وَصِفَۃُ عیسَی ابْنِ مَرْیَمَ [ یُدْفَنُ مَعَہُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب، بَاب فِی فَضْلِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ]
    ” حضرت عبداللہ بن سلام (رض) اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ تورات میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کی صفات لکھی ہوئی ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دفن ہوں گے۔ “
    (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ، وَالأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ ، أُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی، وَدِینُہُمْ وَاحِدٌ )
    [ رواہ البخاری : باب واذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا ]
    ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ بن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء (علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہی ہے۔ “
    مسائل
    ١۔ یہودیوں نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو نہ قتل کیا اور نہ ہی انہیں سولی پر لٹکایا۔
    ٢۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت کے بارے میں لوگ اپنی طرف سے اٹکل پچو لگاتے ہیں۔
    ٣۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔
    ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔

    بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ وَكَان اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا : یہ صاف و صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ صحیح احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ یہ احادیث بخاری و مسلم سمیت حدیث کی اکثر کتابوں میں موجود ہیں۔ [ دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام : ٣٤٤٨۔ مسلم : ١٥٥ ] ان احادیث میں آسمان پر اٹھائے جانے کے علاوہ قیامت کے قریب ان کے نزول اور دوسری بہت سی باتوں کا ذکر ہے۔ ابن کثیر (رض) یہ تمام روایات ذکر کر کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ احادیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متواتر ہیں، ان کے راویوں میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود، عثمان بن ابی العاص، ابو امامہ، نواس بن سمعان، عبداللہ بن عمرو بن عاص، مجمع بن جاریہ، ابو سریحہ اور حذیفہ بن اسید (رض) شامل ہیں۔ ان احادیث میں آپ کے نزول کی کیفیت اور جگہ کا بیان ہے۔ آپ دمشق میں منارۂ شرقیہ کے پاس اس وقت اتریں گے جب فجر کی نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی۔ آپ خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، جزیہ ختم کردیں گے، ان کے دور میں سب مسلمان ہوجائیں گے، دجال کا قتل بھی آپ کے ہاتھوں سے ہوگا اور یا جوج ماجوج کا ظہور و فساد بھی آپ کی موجودگی میں ہوگا، بالآخر آپ ہی کی بد دعا سے ان کی ہلاکت واقع ہوگی۔ مسیح (علیہ السلام) کا اپنے جسم کے ساتھ اٹھایا جانا، وہاں ان کا زندہ موجود ہونا، دوبارہ دنیا میں آ کر کئی سال رہنا اور دجال کو قتل کرنے کے بعد اپنی طبعی موت مرنا امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے، جس کی بنیاد قرآنی تصریحات اور ان تفصیلات پر ہے جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ حافظ ابن حجر (رض) فرماتے ہیں : ” اِتَّفَقَ أَصْحَابُ الْأَخْبَارِ وَالتَّفْسِیْرِ عَلٰی أَنَّ عِیْسٰی رُفِعَ بِبَدَنِہٖ “ [ التلخیص الحبیر ] ” تمام اصحاب تفسیر اور ائمۂ حدیث اس پر متفق ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے بدن سمیت آسمان پر زندہ اٹھائے گئے۔ “ لہٰذا حیات مسیح کے انکار سے قرآن و حدیث کا انکار لازم آتا ہے جو سراسر گمراہی ہے۔ ” عزیزاً حکیماً “ کا لفظ بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کا آسمان پر اٹھایا جانا عام فوت ہونے والوں کی طرح نہیں تھا۔

    وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا ١٥٩؀ۚ4
    اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا ۔
    تفسیر:
    (١٥٩) ۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ (آیت)” الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ میں ” بہ “ اور ” موتہ “ میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں معنی یہ ہے کہ جو اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے وقت ہوں گے ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو ان پر ایمان لائے گا اور یہی تفسیر راجح ہے اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ ” بہ “ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور ” موتہ “ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر سب اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے ایمان لائیں گے یعنی جس وقت روح نکلنے لگے گی اور عذاب کے فرشتے دیکھیں گے تو فورا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی برحق ہونے کا اقرار کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجائیں گے مگر کچھ فائدہ نہ ہوگا ۔ یہ تفسیر اگرچہ کتب تفسیر میں موجود ہے مگر سیاق وسباق اس کی تائید نہیں کرتا تین وجوہات سے ۔
    (١) ۔۔۔۔ اس لئے کہ نزع کے وقت ایمان معتبر نہیں اور نہ عنداللہ اسے شرف قبولیت حاصل ہے حالانکہ آیت کے شروع میں لام تاکید اور آخر میں نون تاکید ثقیلہ ہے جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ وہ ضرور بضرور ایمان لائیں گے اور اس سے وہ ایمان مراد ہے جو عنداللہ ایمان معتبر بھی ہو اور مقبول بھی ہو ، اور مرتے وقت اہل کتاب کا ایمان ، ایمان ہی نہیں تو وہ اس ” لیؤمنن “ کا مصداق کیسے ہوسکتے ہیں ۔ (٢) ۔۔۔۔ قرآن کریم میں ہے فمن شاء فلیؤمن “ اس میں ہر مکلف سے وہ ایمان مطلوب ہے جو اس کی مرضی اور مشیت سے ہو ، اور نزع کے وقت جب فرشتے سامنے ہوں تو اس وقت کا ایمان مجبوری اور اکراہ کا ہوا اور اس کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ۔
    (٣) ۔۔۔۔ قرآن کریم سے فصیح بلیغ کتاب دنیا میں موجود نہیں اگر ” موتہ “ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہو تو آگے (آیت)” ویوم القیمۃ یکون علیھم “۔ الخ میں ” یکون “ میں ” ھو “ ضمیر یقینا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے تو ا سے انتشار ضمائر لازم آئے گا کہ ایک ضمیر تو اہل کتاب کی طرف راجع اور متعین ہوئی کہ (آیت)” قبل موتہ “۔ میں بھی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود ونصاری کو اپنی غلطی کا احساس و اقرار ہوگا تو اپنی نزع سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں گے اور وہ ایمان ایمان ہوگا اور مقبول ہوگا ۔ چناچہ علامہ اندلسی تفسیر بحر محیط (ص : ٣٩٢: ج : ٣) اور قاضی بیضاوی تفسیر بیضاوی (ص : ٢٥٥: ج : ١) میں لکھتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ ” بہ “ اور ” موتہ “ میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا جب آخر زمانے میں نزول ہوگا تو اہل کتاب اور دیگر ملتوں والوں میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو ان پر ایمان نہیں لائے گا بلکہ اس وقت صرف ایک ہی ملت اسلام ہی ہوگی جس پر لوگ کاربند ہوں گے یہی بات سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) امام حسن بصری (رح) اور حضرت امام ابومالک (رح) نے بیان فرمائی ہے اور احادیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے اور حافظ ابن تیمیہ (رح) لکھتے ہیں کہ ” والقول الصحیح الذی علیہ الجمھور قبل موت المسیح “۔ (الجواب الصحیح : ص : ٣٤١: ج : ١: ص : ١١٣: ج : ٢)
    اس آیت کی صحیح تفسیر وہی ہے جس پر جمہور اہل اسلام ہیں کہ ” موتہ “ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے ۔
    حاصل بحث : یہ ہے کہ پہلی ہی تفسیر راجح ہے اور مفہوم واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمانوں سے نزول کے بعد جو اہل کتاب موجود ہوں گے اور وہ نزع سے پہلے ایمان لائیں گے تو اس وقت ان کا ایمان عنداللہ معتبر ہوگا ۔ اور (آیت : ١٩٨) اور اس آیت کی معتبر اور ٹھوس تفاسیر سے یہ بات بالکل عیاں ہوگئی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا رفع الی السماء ان کی حیات اور قیامت سے پہلے ان کا زمین پر نازل ہونا نصوص قطعیہ سے ثابت ہے جس کا انکار ملحد کافر کے بغیر کوئی نہیں کرسکتا ۔
    امت مسلمہ کا اجماع و اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا ہے ، اور وہ آسمان پر زندہ ہیں ۔ اور آخر زمانہ میں ان کا زمین پر نزول اور متمکن ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ، اور وہ جب نازل ہوں گے آسمانوں سے تو اس وقت کوئی مستقل شریعت لیکر نہیں آئیں گے اگرچہ وہ خود وصف نبوت کے ساتھ متصف ہوں گے مگر وہ فیصلے شریعت محمدیہ کے مطابق کرینگے اور غیر منصوص احکام میں اجتہاد کریں گے ۔ جیسا کہ سیدنا حضرت امام ابوحنیفہ (رح) وغیرہ ائمہ مجتہدین نے اجتہاد کیا ۔ اور ان کا اجتہاد بقول حضرت مجدد الف ثانی (رح) کے سیدنا حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے اجتہاد کے مطابق ہوگا ۔ جیسا کہ مکتوبات امام ربانی دفتر دوم حصہ ہفتم مکتوب میں تحریر ہے ۔ علامہ آلوسی (رح) (آیت)” وانہ لعلم للساعۃ “۔ الخ کی آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ مشہور یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دمشق میں نازل ہوں گے جب لوگ صبح کی نماز میں مصروف ہوں گے اور امام مھدی امام ہوں گے اور وہ پیچھے ہٹ جائیں گے تاکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) امام کرائیں ۔ مگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) امام مھدی کو آگے کرکے ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے اور فرمائیں گے کہ نماز آپ کے لئے قائم کی گئی تھیں ۔
    مسند احمد ، مستدرک حاکم ۔ مجمع الزوائد میں ہے کہ ” افیق “ نامی ٹیلے پر نازل ہوں گے اور یہ قدس شریف میں ایک جگہ ہے جو سق حمیدیہ میں جامع اموی کے شرقی کنارے پر ہے جس پر سفید منارہ بنا ہوا ہے ، جس پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بوقت صبح نازل ہوں گے ۔ سیدنا حضرت ابوہرۃ (رض) سے بخاری : ص : ٤٩٠: میں مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے البتہ ضرور بضرور تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے ، حاکم اور عادل ہوں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کر دے گے ، اور لڑائی کو موقوف کریں گے اور مال بکثرت تقسیم کریں گے یہاں تک کہ مال قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا ۔ اور اس وقت ایک سجدہ دنیا وما فیھا سے زیادہ بہتر ہوگا ۔
    حافظ ابن حجر (رح) فتح الباری میں اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صلیب کو توڑیں گے ۔ اور نصاری پر یہ واضح کریں گے کہ تم صلیب کی تعظیم کرتے رہے اور میں اس کو توڑ کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تعظیم کے قابل نہیں ہے اسی طرح خنزیر کو قتل کریں گے عیسائیوں پر یہ ظاہر کریں گے کہ تم اس کو حلال سمجھتے رہے اور اسی سے حجت کرتے رہے ، اور میں اس کے وجود کو بھی ختم کر رہا ہوں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے کوئی کافر نہیں رہے گا اور اس کے لئے قتال اور جذیہ موقوف ہوجائے گا ، ظلم ختم ہوجائے گا ۔ عدل وانصاف کا دور ہوگا ، زمین کی برکات کی وجہ سے کوئی غریب اور محتاج نظر ہی نہیں آئے گا تاکہ اس کو مال دیا جائے اور وہ مال قبول کرے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول برکت ہی برکت ہوگا ۔
    سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے مسلم شریف (ص : ٢٤٠، ٤٥٣) میں مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت میں دجال نکلے گا اور چالیس تک رہے گا ۔ راوی کہتے ہیں کہ تجھے معلوم نہیں کہ چالیس دن ہوں گے یا مہینے یا سال ۔ اسی دور میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجے گا ۔ انکا حلیہ حضرت عروہ بن مسعود (رض) جیسا ہوگا اور وہ دجال لعین کو طلب کریں گے ، اور اس کو ہلاک کریں گے ۔
    دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دجال چالیس دن تک زمین پر رہے گا پہلا دن سال جتنا لمبا ہوگا دوسرا مہینے جتنا اور تیسرا ہفتے جتنا لمبا ہوگا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے پوچھا کہ سال مہینہ اور ہفتہ جیسے لمبے دن میں صرف ایک ہی دن کی نمازیں پڑھنی ہوں گی “۔۔۔۔ ؟ ۔
    آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلکہ اس مدت میں سال اور ماہ اور ہفتہ کی نمازیں اوقات کا اندازہ لگا کر پڑھنی ہوں گی ۔ (مسلم : ٤٠١: ج ٢) امام نوری (رح) فرماتے ہیں کہ اس وقت شریعت کا حکم یہی ہوگا اس میں قیاس اور اجتہاد کا کوئی دخل نہیں ہوگا ۔
    حضرت مجمع بنی جاریہ انصاری سے (ترمذی : ص ٤٨: ج : ٢) میں مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دجال کو لد کے دروازے پر قتل کرینگے یہ بیت المقدس کے قریب ایک بستی ہے اس کا نام لد ہے ۔
    حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان سے نزول کی کئی حکمتیں ہیں :
    حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ : یہود کے اس گمان کا رد کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے یہود کا جھوٹ واضح کردیا کہ وہ قاتل نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے قاتل ہوں گے ۔ (٢) یا اس لئے کہ جب انکی وفات کا وقت قریب آئے گا تو نازل ہوں گے کیونکہ مٹی کی مخلوق زمین میں ہی دفن ہوتی ہے اور وہ زمین ہی میں فوت ہوتی ہے ۔ (٣) یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت میں اٹھنے کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انکو زندہ رکھا آخر زمانہ میں جب دجال کا خروج ہوگا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے اور مذہب اسلام کی تجدید کریں گے پہلی توجیہ زیادہ بہتر ہے ۔
    صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان سے نازل ہونے کے بعد چالیس سال تک عدل وانصاف کے ساتھ حکومت کرینگے اور حج عمرہ بھی کرینگے ۔ اسکے بعد پھر انکی وفات ہوگی اور اہل اسلام اس کا جنازہ پڑھائیں گے ۔ پھر مدینہ طیبہ میں روضہ اقدس میں دفن ہونگے ۔
    قادیانی اشکال : (آیت)” رفعہ اللہ “ میں خدا کی طرف اٹھانا مرقوم ہے آسمان کا کہا ذکر ہے ؟ جواب یہ اشکال قرآن کریم اور تعلیمات مرزا کے بھی خلاف ہے ۔ اولا : قرآن کریم کے اس لیے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے فوق وعلو ہے انہیں معنوں سے قرآن کریم میں کہا گیا ہے (آیت)” ء امنتم من فی السمآء ان یخسف بکم الارض “۔ (الملک : ١٦)
    کیا تم نڈر ہوگئے اس ذات سے جو آسمان میں ہے اس سے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں ” ام امنتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا “۔ (الملک : ١٧) کیا نڈر ہوگئے ہو اس ذات سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ برسا دے تم پر مینہ پتھروں کا ، ایسا ہی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتظار وحی کے وقت آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے (آیت) ” قد نری تقلب وجھک فی السمائ “۔ (البقرۃ : ١٤٤) بیشک ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف ۔
    ثانیا : مرزا کی تعلیمات میں بھی ” رفعہ اللہ “ کی معنی آسمان کی طرف اٹھایا جانا لکھے ہیں ۔ (١) رافعک “ کے یہی معنی ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوچکے تو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی ۔ (ازالہ ادہام : ص : ٢٦٦: خزائن : ص : ٢٣٤: ج : ٣)
    (٢) مرنے کے بعد ہر مؤمن کی روح خد کی طرف اٹھائی جاتی ہے رب کی طرف واپس چلی جاتی ہے اور بہشت میں داخل ہوجاتی ہے ۔ (ملخص ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم : ص : ٧١: خزائن : ج : ٢١: ص : ٣٤١) (٣) حضرت مسیح (علیہ السلام) تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے ۔ (حاشیہ براہین احمدیہ : ص : ٣٦١ خزائن : ج : ص : ٤٣) ناظرین کرام غور فرمائی قرآن کریم کی تین آیات اور خود مرزا صاحب کی تعلیمات سے واضح معلوم ہوا کہ مرفوع چیز آسمانوں کی طرف اٹھائی گئی ، مرفوع میں اختلاف ہے جہت رفع میں اختلاف نہیں ہے ۔

اس صفحے کی تشہیر