1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نزول کے بعد کیا ہوگا ؟

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیثِ نزول و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 2, 2015

  1. ‏ جنوری 2, 2015 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    458
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نزول کے بعد کیا ہوگا ؟


    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "حدثنا قتيبة حدثنا الليث بن سعد عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد "
    اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قریب ہے تمہارے اندر مریم کے بیٹے حاکم عادل بن کر نازل ہونگے ، پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کر دیں گے ، جزیہ کو ملتوی کر دیں گے ، اور مال ودولت کی اتنی فروانی کر دینگے کہ کوئی لینے والا نہ رہیگا۔

    تشریح :

    صحیح مسلم کے شارح اور باقرار قادیانی جماعت اپنے وقت کے مجدد امام شرف الدین نووی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں ۔


    " فیکم " کا مطلب ہے اس امت میں نازل ہونگے ،

    " حکما " کا مطلب ہے کہ وہ شریعت محمدیہ کے مطابق فیصلے کریں گے کوئی مستقل الگ رسالت لے کر نہیں آئیں گے ۔

    " مقسطا " کا مطلب ہے عدل کرنے والے
    اور
    " کسر صلیب " کا مطلب ہے کہ وہ حقیقت میں صلیب کو توڑ دیں گے اور عیسائیوں نے اپنے خیال میں جو اسکی تعظیم کر رکھی ہے اسے باطل کرینگے ۔( یعنی جب انکے سامنے صلیب توڑ دیں گے تو عیسائی خود بخود سمجھ جائیں گے کہ انکا عقیدہ صلیب وکفارہ غلط تھا ۔ ناقل ) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ باطل کے آلات کو بدل دینا چاہیے ۔

    " قتل الخنزیر " کا مطلب بھی ایسے ہی ہے ، اسمیں اس بات کی دلیل ہے کہ جیسا کہ ہمارا اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ اگر ہمیں دارلکفر میں کوئی خنزیر ملے اور ہم اسے قتل کر سکیں تو اسے قتل کر دینا چاہیے ۔ ۔۔

    " یضع الجزیۃ ( جزیہ ملتوی اور موقوف کرنے ) " کا درست اور ٹھیک مطلب یہ ہے کہ آپ کافروں سے جزیہ ہرگز قبول نہیں کرینگے بلکہ انسے صرف اسلام قبول کرینگے ، اگر کوئی جزیہ دے کر آپنے مذھب پر قائم رہنا چاہے گا تو یہ اس کے لئے کافی نہیں ہوگا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام اسے دو باتوں میں اختیار دینگے یا تو مسلمان ہو جائے یا تو قتل کر دیا جائے ۔۔۔ اس پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ جزیہ دے کر کافر آپنے مذھب پر قائم رہ سکتا ہے یہ تو دین اسلام کا ایک حکم ہے ، تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام اس حکم کو منسوخ کریں گے ؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ یہ جزیہ کا حکم قیامت تک کے لئے نہیں بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نزول تک مقید کر دیا ہے ، اور آپ نے ہی بیان فرما دیا کہ یہ حکم حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نزول کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا ۔۔

    اور یہ " ويفيض المال " کا مطلب ہے کہ اس وقت ( حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نزول کے زمانے میں ) مال و دولت کی فروانی ہوگی ۔

    ( نوی شرح مسلم ، کتاب الایمان ، حدیث نمبر 155 باب نزول عیسیٰ بن مریم )


    تبصرہ

    کیا مرزا غلام قادیانی " ابن مریم " تھا ؟
    کیا وہ مرزا غلام قادیانی " حاکم " بنا ؟
    کیا اس نے " کسر صلیب " کی ؟
    کیا اس کے پاس جزیہ موقوف کرنے کا کوئی اختیار تھا ؟ وہ تو ایک گاؤں کا حاکم بھی نہ تھا ۔
    کیا اسنے لوگوں میں مال ودولت تقسیم کیا ؟ کہ دنیا میں کوئی مال لینے والا نہ رہا ؟ اس حدیث کو سامنے رکھ کر سوچیں ۔

    خادم علماء حق و مجاہد ختم نبوت : خادم اعلٰی

اس صفحے کی تشہیر