1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع و نزول اور قادیانیت

ناصرنعمان نے 'حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 20, 2014

  1. ‏ اکتوبر 20, 2014 #1
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر
    الحمد اللہ رب العالمین والصلوة والسلام علیٰ خاتم النبین
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    تمام مسلمان بھائیوں ،بہنوں ،بزرگوں کو اسلام علیکم!
    الحمد اللہ مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر ہر دور میں امت مسلمہ متفق رہی ہے ۔۔۔۔لیکن کیوں کہ حق اورباطل کی جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی ۔۔۔۔اسی لئے کچھ نفس پرستوں نے خود ساختہ عقلی دلائل کا سہارا لے کر مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔لیکن الحمد اللہ ہمارے بزرگان دین اور علماءکرام نے ایسے فتنوں کا پوری طرح تعاقب کیا۔۔۔اور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔
    زیر نظر مضمون بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔۔۔جس میں ایک قادیانی موصوف عمر صاحب کو ایک بار پھر وہی خبط سوار ہو ا جو کہ ان کے پیشوا مرزا قادیانی کو ہوا تھا اور اسی طرح اس سے قبل کچھ عقل پرستوں کو بھی رہا ہے ۔۔۔۔ہم اپنایہ جواب اپنے بزرگوں کے پیش کردہ وضاحتوں کی روشنی میں ترتیب دے رہے ہیں ۔۔۔۔ تمام قارئین کرام سے توجہ سے پڑھنے کی درخواست ہے۔
    معزز قارئین کرام !
    جیسا کہ ہم نے اپنی آخری پوسٹ میں سورہ النساء115 کی آیت مبارکہ پر عمر صاحب کے جواب کا کافی انتظار کیا لیکن جواب نہ آنے کی وجہ سے ہم اپنا یہ فائنل جواب ترتیب دے رہے ہیں ۔۔۔۔ ویسے ہمیں عمر صاحب کی طرف سے کوئی واضح جواب کی امید بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ کیوں کہ یہ ایسی دلیل ہے کہ جہاں پر آکر تمام باطل پرست یا تو خاموش ہوجاتے ہیں یا پھر ایسی تاویلات کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کا نہ تو کوئی سر ہوتا ہے اور نہ کوئی پیر۔
    بہرحال اس سے قبل کے ہم اپنے جوابات ترتیب دیں ۔۔۔مناسب ہے کہ یہاں پہلے آپ حضرات کے سامنے قرآن پاک سمجھنے کے لئے مرزا کے چند اصول واضح کرتے چلیں ۔۔۔۔ مرزا کہتا ہے :
    قرآن مجید کے وہ معانی اور مطالب سب سے زیادہ قابل قبول ہوں گے جن کی تائید قرآن شریف ہی میں دوسری آیت سے ہوتی ہوگی یعنی شواہد قرآنی (دیکھیے برکات الدعاءص13)
    نیز مرزا کہتا ہے کہ ”(قرآن پاک سمجھنے کے لئے )دوسرا معیار تفسیر رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے اس میں شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن مجید کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم تھے پس اگر آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے تفسیر ثابت ہوجائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرلے نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہے ۔(برکات الدعا 13 تا 15)
    اور مرزا کہتا ہے کہ ”تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ کرام آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ ساتھ تھی کیوں کہ ان کا نہ صرف مال (ظاہر) بلکہ حال تھا (حوالہ مذکور)
    معزز قارئین کرام ۔۔۔۔ مرزا ہی کے پیش کردہ ان اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ”مسئلہ رفع و نزول مسیح علیہ السلام “کسی بھی حق کے متلاشی قادیانی کے لئے چند سطرو ں میں ہی بخوبی واضح ہوسکتا ہے ۔۔۔ لیکن کیوں کہ ان سب اصولوں اور ضابطوں کے باجود بھی مرزائیوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے عقلی دلائل پیش کرکے اپنی نفسانی خواہشات کی تابعداری کرتے ہیں ۔۔۔۔ ان شکوک و شبہات کو دور کر نے کے لئے اور عمر صاحب پر حجت اتمام کرنے کے لئے ان شاءاللہ تعالیٰ ہم اس موضوع پر قدرے تفصیلی روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔۔۔جس میں نہ صرف نقلی دلائل پیش کریں گے بلکہ مرزائیوں کی طرف سے پیش کئے ہوئے مکڑی کے جالوں سے بھی کمزور عقلی دلائل کا پوسٹ مارٹم بھی کریں گے(وما توفیقی الاباللہ)
    آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ امت مسلمہ کے پاس حیات مسیح علیہ السلام کے حق میں کیا دلیل ہے ؟؟
    ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٥٨﴾ وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا )
    النساء157،159 پارہ 6
    (ترجمہ:اور ان کے کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو جو رسول ہیں اللہ کے حالانکہ نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی پر چڑھایا اسے بلکہ معاملہ مشتبہ کردیا گیا ان کے لئے اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا اس معاملہ میں ضرور مبتلا ہیں شک میں اس بارے میں اور نہیں ہے انہیں اس واقعہ کا کچھ بھی علم ،سوائے گمان کی پیروی کے اور نہیں قتل کیا انہوں نے مسیح کو یقینا ۔بلکہ اٹھا لیا ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف اورہے اللہ زبردست طاقت رکھنے والا ،بڑی حکمت والا ۔اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا (مسیح پر)اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا( مسیح) ان پر گواہ )

    یعنی امت مسلمہ کے مطابق جب یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش کی ۔۔۔۔ اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی یا صلیب پر چڑھانے کی کوشش کی تو اللہ رب العزت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا ۔۔۔ اور قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور کوئی بھی اہل کتاب میں سے ایسا نہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے گا ۔
    جبکہ مرزائیوں کا موقف ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل ہونے اور صلیب پر چڑھنے سے بچالیا ۔۔۔۔ لیکن آسمان کی طرف زندہ نہیں اٹھا یا بلکہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تقریبا نصف صدی حیات رہے اور پھر طبعی وفات پائی ۔
    اب یہاں ان مرزائیوں کو امت مسلمہ سے کھلا اختلا ف ہے ۔۔۔۔۔قطع نظر دونوں فریقین کے دیگر دلائل کے ۔۔۔۔۔اب یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ کس کا اس آیت مبارکہ کو سمجھنا درست ہے۔۔۔۔۔ تو اس کے لئے ہم یہاں سب سے پہلے تو خود مرزا کے بیان کردہ اصول کے تحت پہلے دیکھتے ہیں کہ (مرزا صاحب کے مطابق بھی)قرآن پاک کو سب سے زیادہ سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں ۔۔۔۔نیز آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کیا فرماتے ہیں ؟؟؟
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم میں ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ،عادل منصف بن کر صلیب کو توڑ دیں گے ،خنزیر کو قتل کردیں گے ،جزیہ ہٹا دیں گے ،مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ اس کو لینا کوئی منظور نہیں کرے گا ،ایک سجدہ کرلینا ،دنیا اور دنیا کی سب چیزوں سے محبوب تر ہوگا ۔اس حدیث پاک کو بیان فرما کر راوی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بطور شہادت قرآن کی اسی آیت ”وان من “کی آخر تک تلاوت کی
    (صحیح بخاری،کتاب احادیث الانبیاء:باب نزول عیسیٰ بن مریم علیھماالسلام ،ح:3448)
    (صحیح مسلم ،کتاب الایمان :باب نزول عیسیٰ بن مریم ۔۔۔۔ح:255)
    معزز قارئین کرام ۔۔۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان فرمائی لیکن احادیث کے ذخیرے میں کوئی بھی ایسی روایت نہیں ملے گی کہ کسی صحابی نے حیات و نزول مسیح علیہ السلام پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا ہو ۔۔۔جو کہ واضح ثبوت ہے کہ حیات و نزول مسیح علیہ السلام پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اجماع تھا۔
    اب دیکھا جائے توخود مراز کے اصول کے مطابق ہی فیصلہ تو اسی مقام پر ہوجاتا ہے ۔۔۔اور قرآن پاک کو سب لوگوں سے زیادہ سمجھنے والے ہمارے پیارے نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اورعلم نبوت کے پہلے وارث حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت مبارکہ کا مفہوم خود سرکار دوعالم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں واضح فرمادیا ۔
    اوربقول مرزا کے اس فیصلہ کو بلا توقف قبول کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔۔۔۔ورنہ ایسے شخص میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہے ۔
    اسی طرح تفسیر در منشور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے :
    اخرج ابن عسا کر و اسحاق بن بشر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قولہ تعالیٰ یٰعیسیٰ انی متوفیک و رافعک الیٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان “(تفسیر در منشور ج 2 ص 36)

    (ترجمہ :یعنی ابن عسا کر اور اسحاق بن بشر نے (بروایت صحیح )ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اس آیت کا مطلب ہے کہ میں آپ کو اٹھانے والا ہوں اپنی طرف پھر آخر زمانہ میں (بعد نزول )آپ کو موت دینے والا ہوں
    اورتفسیر ابن کثیر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گھر کے روزن (روشن دان )سے (زندہ) آسمان کی طرف اٹھالئے گئے “(تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 574 زیر آیت ”بل رفع اللہ۔۔۔ “)
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت :آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فیعبث اللہ عیسیٰ ابن مریم انہ عروة بن مسعود فیطلبہ فیھکہیعنی پس بھیجے گا اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو گویا وہ عروہ بن مسعود ہے “(مشکوة باب لاتقوم الساعة)

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت :آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ینزل عیسیٰ ابن مریم الیٰ الارضیعنی حضرت عیسیٰ بن مریم زمین پر اتریں گے(مشکوة باب نزول عیسیٰ فصل ثالث)
    ماننے والے لئے چند دلائل ۔۔۔۔ اور نہ ماننے والے کے لئے ہزاروں دلائل بھی ناکافی ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    • Like Like x 5
  2. ‏ اکتوبر 20, 2014 #2
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر
    ۔۔۔۔۔گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔
    اس کے بعد مرزا کا کہنا ہے کہ ”پھر اگر کسی وقت کلام اللہ اور حدیث رسول کے سمجھنے میں اختلاف رونما ہوجائے(الحمد اللہ ایسا کوئی اختلاف نہیں۔۔ناقل) اور خلقت گمراہ ہونے لگے تو اللہ نے اس کے لئے ہر صدی میں ایسے علمائے ربانی پیدا فرمانے کا انتظام فرما رکھا ہے جو اختلافی مسائل کو خدا اور رسول کی منشا کے مطابق واضح کرتے رہتے ہیں
    ۔
    یہی وجہ ہے کہ ہم نے عمر صاحب نے ”مومنین “ اور ”حیات مسیح علیہ السلام پر مومنین کی راہ “ کا سوال کیا ۔۔۔لیکن عمر صاحب کسی مصلحت کے تحت اب تک جواب نہ دے سکے ۔
    ایک مقام پر مرزا کہتا ہے کہ ”مجدد لوگ دین میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے گمشدہ دین پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں ۔یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں خدا کے حکم سے انحراف ہے وہ فرماتا ہے ”من کفر بعد ذلک فاولئک ھم الفاسقون “بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا اولیا کا ماننا فرض ہے ۔سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے شک فرض ہے ان کی مخالفت کرنے والے فاسق ہیں (شھادہ القرآن ص 36طبع لاہور خزائن ص 339 ج 6)
    تو آئیے دیکھتے ہیں کہ امت مسلمہ کے مجدد کا حیات ونزول مسیح علیہ السلام پر کیا نظریہ تھا ؟؟؟
    ۱۔امام ابو حنیفہ (نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ المتوفی 150 ھ)فرماتے ہیں :
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا حق اور یقینا ہونے والی چیز ہے “(الفقہ الاکبر مع شرحہ لعلی القاری ص ۵۳۱ طبع کانپور)
    ۲۔ امام ابو جعفر الطحاوی رحمتہ اللہ علیہ(احمد بن محمد بن سلامتہ الازوی المتوفی 321 ھ)تحریر فرماتے ہیں :
    ہم دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے پر ایمان رکھتے ہیں
    (عقیدة الطحاویةص 8 و مع الشرح ص 426)
    ۳۔قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ (ابو الفضل عیاض رحمتہ اللہ علیہ بن مو سیٰ رحمتہ اللہ علیہ المتوفی 544 ھ)فرماتے ہیں کہ :
    حضرت عیسیٰ علیہ الصلوة والسلام کا نازل ہونا اور ان کا دجال کو قتل کرنا اہل سنت والجماعت کے نزدیک اس سلسلہ میں وارد احادیث صحیحہ کی بنا پر حق اور صحیح ہے اور عقل اور شرع میں اس کو باطل کرنے کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے لہٰذا اس کا اثبات واجب اور ضروری ہے
    (بحوالہ نووی شرح مسلم ج 2 ص 403)
    4 ۔الشیخ ابو الحسن الاشعری رحمتہ اللہ علیہ (علی بن اسماعیل بن اسحاق بن سلام الاشعری المتوفی 303 ھ)فرماتے ہیں :
    امت مسلمہ کا اجماع اور اتفاق ہے کہ اللہ و تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ الصلوة والسلام کو آسمان پر اٹھالیا ہے (اور وہ پھر آسمان سے نازل ہوں گے)“(کتاب الاہاتہ عن اصول الدیانہ ص 46)
    5 ۔مشہور مفسر علامہ الاندلسی رحمتہ اللہ علیہ (ابو حیان محمد بن یوسف الاندلسی المتوفی 745 ھ)لکھتے ہیں :
    حدیث متواترہ کے پیش نظر امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ الصلوة والسلام آسمان پر زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں وہ نازل ہوں گے “(تفسیر البحر المحیط ج 2 ص 473)
    6۔علامہ تفتازانی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 792 ھ) لکھتے ہیں :
    و قدوردت الاحادیث صحیحتہ فی ظھور امام من ولد فاطمةالزہرآءالیٰ قولہ فی عیسیٰ و خروج دجال من الاشراط کدابةالارض و یا جوج و ماجوج و طلوع الشمس من مغربھا الخ(مقاصد مع الشرح ج 2 ص 307 ص 308)

    یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں ایک امام کے ظاہر ہونے کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دابتہ الارض اور یا جوج اور ماجوج کے خروج اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بارے میں جو قیامت کی نشانیاں ہیں صحیح احادیث پاک میں وارد ہیں .
    7۔علم عقائد کی مستند اور معروف کتاب المسایرة (للشیخ الامام کماا لدین محمد بن ہمام الدین عبد الواحد المتوفی 861 ھ)اور اس کی شرح المسامرة میں ہے :
    واشرط الساعتہ من خروج الدجال و نزول عیسیٰ بن مریم علیھما والسلام میں السماءوخروج یاجوج وماجوج و خروج دابتہ ........(چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں)کل منھا حق وردت بہ النصوص الصریح الصحیحہ الخ(المسامرة مع المسا یرةج 2 ص 242 ص 243)

    یعنی اور قیامت کی نشانیاں دجال کا خروج اور عیسیٰ بن مریم علیھما والصلوة والسلام کا آسمان سے نزول اور یاجوج ماجوج کا خروج اور دابتہ کا خروج...........پھر چند سطروں بعد لکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر ہر چیز حق ہے کیوں کہ نصوص صریحہ صحیحہ ان میں وارد ہوئی ہیں
    8۔امام ابو اسحاق کلا آبادی بخاری جو قرن رابع کے اکابر حفاظ محدثین سے ہیں اور اپنی اسناد سے روایت حدیث کرتے ہیں‘ اپنی کتاب ”معانی الاخبار“ میں فرماتے ہیں:
    قد اجمع اہل الاثر وکثیر من اہل النظر علی ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل من السماءفیقتل الدجال ویکسر الصلیب اھ“۔ (تحیة الاسلام ص:531)

    یعنی کل محدثین اور بہت سے متکلمین کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے‘ دجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے“۔
    9۔امام شمس الدین محمد بن احمد حنبلی سفارینی نابلسی فرماتے ہیں :
    واما الاجماع فقد اجتمعت الامة علی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اہل الشریعة وانما انکر ذلک الفلاسفة والملاحدة مما لایعتد بخلافہ وقد انعقد اجماع الامة علی انہ ینزل ویحکم بہذہ الشریعة المحمدیة اھ“

    (شرح عقیدہ سفارینی ج:2 ص:90)
    ترجمہ:”رہا نزول عیسیٰ علیہ السلام میں اجماع: تو امت محمدیہ کے کل اہل علم کا اجماع ہے کہ وہ نازل ہوں گے اور شرع محمدی پر عمل کریں گے‘ بجز فلاسفہ اور ملاحدہ کے کسی نے خلاف نہیں کیا اور ان کا خلاف قابل اعتبار نہیں“۔
    معزز قارئین کرام ۔۔۔۔ بزرگان دین کے ان حوالاجات سے یہ بات روشن کی طرح عیاں ہے کہ الحمد اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول پر امت مسلمہ ہر دور میں متفق رہی ہے ۔۔۔۔بجز چند فلاسفہ اور ملاحدہ کے ۔۔۔۔جنہوں نے اپنے فلسفیانہ قیاس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول پر شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ لیکن الحمد اللہ ہمارے بزرگوں نے ان کا بھرپور تعاقب کیا اور مسلمانوں کے سامنے حقائق اس طرح بیان فرمائے جس سے معمولی عقل رکھنے والے کے لئے بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ باقی رہی۔
    اور پھر یہ سلسلہ یہیں نہیں ختم ہو ا بلکہ ہمارے قریب زمانہ میں بھی اس فتنہ نے انگریزوں کی سرپرستی میں سر اٹھایا ۔۔۔۔اور چند عقل پرستوں نے ایک بار پھر لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے اس مسئلہ کو ہوا دی ۔
    لیکن قارئین کرام کے لئے حیرت انگیز انکشاف یہ بھی ہوگا کہ ان عقل پرستوںکے مقابلے میں جہاں امت مسلمہ کے جید علماءکرام اترے ۔۔۔۔وہاں ایک شخص ایسا بھی اترا جس نے ایک وقت تک تو شدت کے ساتھ امت مسلمہ کا وکیل بن کر ان عقل پرستوں کا رد کیا۔۔۔ ۔ لیکن اُس کے بعد حیرت انگیز طور پر نہ صرف ان عقل پرستوں کے موقف کا ”قائل“ ہوا ۔۔۔۔ بلکہ اس شخص نے تو ان عقل پرستوں کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے ”فاعل“ بھی بن گیا ۔۔۔۔ یعنی عقل پرست تو محض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا انکار کرتے تھے اور کسی دوسرے مسیح کی آمد کے قائل نہ تھے ۔۔۔۔ جبکہ اس شخص نے اس خالی سیٹ پر براجمان ہونے کا دعوی بھی کردیا ۔۔۔ یعنی دعوی مسیح کردیا ۔
    جی ہاں ۔۔۔۔آپ حضرات درست سمجھے ۔۔۔۔یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ مرزا قادیانی ہے ۔۔۔آئیے ملاحظہ فرمائیں ان عقل پرستوں کے رد میں مرزا کے چند اقتباسات ۔۔۔ملاحظہ فرمائیے گا کہ مرزا کس شدت کے ساتھ عقل پرستوں کا رد کرتا تھا :
    مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ” سو واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی پیشن گوئی موجود ہے بلکہ قریبا کیوں کہ کچھ عقل پرست معتزلہ اور ملحد فلسفی نیز اس زمانہ کی آزاد خیال مغرب زدہ اذھان اس نظریہ کے منکر ہیں ۔
    جن کی اتباع میں مرزا صاحب بھی اس طرف چلے گئے پھر وہ قائل ہی نہ ہوئے بلکہ فاعل بھی بن گئے ۔۔
    چناچہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ”تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا اور یہ پیشن گوئی بخاری مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے اور بالضرورت اس قدر مشرک پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ ایک مسیح موعود آنے والا ہے اگر چہ یہ سچ ہے کہ اکثر ہر ایک حدیث اپنی ذات میں مرتبہ احاد سے زیادہ نہیں مگر اس میں کچھ کلام نہیں کہ جس قدر طرق متفرقہ کی رو سے احادیث نبویہ اس بارے میںمدون ہوچکی ہیں ان سب کو یکجائی نظرکے دیکھنے سے بلاشبہ اس قدر قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ضرور آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے اور پھر جب ہم ان احادیث کے ساتھ اہلسنت وجماعت کے ہاتھ میں ہیں ان احادیث کو بھی ملاتے ہیں جو دوسرے فرقہ اسلام کے مثلا شیعہ وغیرہ ان پر بھروسہ رکھتے ہیں تو اور بھی اس تواتر کی قوت اور طاقت ثبت ہوئی ہے اور پھر اس کے ساتھ جب صد ہا کتابیں متصوفین کی دیکھی جاتی ہیں تو وہ بھی اسی کی شہادت دے رہی ہیں پھربعد اس کے جب ہم بیرونی طور پر اہل کتاب یعنی نصاری کی کتابیں دیکھتے ہیں تو یہ خبر ان سے بھی ملتی ہے اور ساتھ ہی حضرت مسیح کے اس فیصلے سے جو ایلیا کے آسمان سے نازل ہونے کے بارے میں ہے یہ بھی انجیل سے معلوم ہوتا کہ اس قسم کی خبریں کبھی حقیقت پر محمول نہیں ہوتیں لیکن (مسیح کی آمد حقیقت پر محمول ہے کیوں کہ ۔۔۔ناقل) مسیح موعودد کے آنے کی پیشن گوئی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آرہی ہیں ،صدی وار مرتب کرکے اکھٹی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزارہا سے کچھ کم نہیں ہوں گی ہا ں یہ بات اس شخص کو سمجھانا مشکل ہے جو اسلامی کتابوں سے بالکل بے خبر ہے درحقیقت ایسے اعتراض کرنے والے (حیات مسیح کے منکر اور احادیث کو غیر معتبر کہنے والے ۔۔۔ناقل) اپنی بدقسمتی کی وجہ سے کچھ ایسے بے خبر ہوتے ہیں کہ انہیں یہ بصیرت حاصل ہی نہیں ہوئی کہ فلاں واقعہ کس قدر قوت اور مضبوطی کے ساتھ اپنا ثبوت رکھتا ہے پس ایسا ہی صاحب معترض (منکر حیات و نزول مسیح ۔۔۔ناقل)نے کسی سے سن لیا کہ احادیث اکثر احاد شریف کے اور جس قدر مسلمات اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیاد اور مشکوک ہیں جن کو یقین اور قطعیت سے کچھ حصہ نہیں لیکن در حقیقت یہ بڑا بھاری دھوکہ ہے جس کا اثر دین و ایمان کا تباہ ہونا ہے کیوں کہ اگر یہی بات سچ ہے کہ اہل اسلام کے پاس بجز قرآن کریم کی جس قدر منقولات ہیں وہ تمام ذخیرہ کذب اور جھوٹا اور افترا اور ظنوں اور اوہام کا مجموعہ ہے تو پھر شاید اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصہ باقی رہے گا(شہادہ قرآن ص 4 طبع لاہور اور ص 2 طبع ربوہ خزائن ص 298 ج 6)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    • Like Like x 5
  3. ‏ اکتوبر 20, 2014 #3
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر
    ۔۔۔۔۔گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔

    پھر آگے چل کر لکھا ہے کہ ” اب اس تمہید کے بعد یہ بھی واضح ہو کہ مسیح موعود کے بارہ میں جو احادیث میں پیشن گوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف ائمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو ۔اور بس ۔ بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیشن گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداءسے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل چلی آتی ہے گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اس قدر اس پیشن گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیوں کہ عقیدہ کے طور پر اس کو ابتداءسے یاد کرتے چلے آتے تھے اور ائمہ حدیث امام بخاری وغیرہ نے اس پیشن گوئی کی نسبت اگر کوئی امر اپنی کوشش سے نکالا ہے تو صرف یہی کہ جب اس کو کروڑ ھا مسلمانوں میں مشہور اور زبان زد پایا تو اپنے قاعدہ کے موافق مسلمانوں کے اس قولی فعل تعامل کے لئے روایتی سند کو تلاش کر کے پیدا کیا اور روایت صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے جن کا ایک ذخیرہ ان کی کتابوں میں پایا جاتا ہے اسناد کو دکھایا علاوہ اس کے کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اگر نعوذباللہ یہ امر افترا ہے تو اس کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی ؟اور کیوں انہوں نے اس پر اتفاق کرلیا ؟اور کس مجبوری نے ان کو اس افترا پر آمادہ کیا؟(شہادہ قرآن ص 9،10 طبع لاہور ۔خزائن ص 304 ج 6)
    معزز قارئین کرام !۔۔۔۔۔ملاحظہ فرمایا آپ نے اس مرزاکا حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام پر کیا نظریہ تھا ۔۔۔۔اور کتنی شدت کے ساتھ امت مسلمہ کے ساتھ جڑا تھا ۔۔۔۔لیکن برا ہو اس نفس پرستی کا ۔۔۔۔جس میں ڈوب کر اچھا خاصہ روشن دن بھی تاریک رات کی طرح نظر آنے لگتا ہے ۔۔۔۔ یہی مرزا کے ساتھ بھی ہوا ۔۔۔۔کہ ایک دن مرزاحیات ونزول مسیح علیہ السلام پر نہ صرف امت مسلمہ کو چھوڑ کر ان عقل اور نفس پرستوں کی صف میں شامل ہوا ۔۔۔۔۔بلکہ اُن کو بھی پیچھے چھوڑتا ہوا ۔۔۔۔خود ہی مسیح ہونے کا دعوی کرکے ملعون ہوگیا۔
    مرزا کہتا ہے ”کتنے ہی علوم و معارف تھے جو پچھلوں کے لئے باقی رکھے گئے ،میرے رب نے کچھ پر کئی مخفی راز کھولے،اور کئی امور کے متعلق مجھے باخبر فرمایا ،نیز مجھے اس صدی کا مجدد بھی مقرر فرمایا اور مجھے اپنے علوم میں بسط و وسعت سے نوازا اور اپنے مرسلین کا وارث کامل بنایا اس کے آثار تعلیم اور نوازشات تفہیم میں یہ بات خصوصیت کی حامل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام طبعی طور پر فوت ہوگئے ہیں اور اپنے مرسل بھائیوں میں جاملے اور مجھے بشارت سنائی کہ تو ہی وہ مسیح ہے جس کے بھیجنے کا وعدہ تھا ،اور وہی مہدی و مسعود ہے جس کے لوگ منتظر ہیں کیوں کہ ہم جو چاہتے ہیں کر گذرتے ہیں ،پس تم کسی قسم کے شک وشبہ میں مبتلا نہ ہونا ،اس نے فرمایا کہ ہم نے تجھے مسیح بن مریم بنایا ہے اس طرح اس نے اپنے مخفی بھید کی مہر توڑ دی اور وقائق حقیقت پر مجھے مطلع فرمادیا ،مجھ پر یہ الہامات اور بشارات اس قدر تسلسل اور تواتر سے وارد ہوئے کہ میں بالکل مطمئن ہوگیا لیکن پھر بھی میں نے راہ احتیاط اختیار کرتے ہوئے کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جو راہ سلامتی ہے تو میں نے اسے حقیقت پر شاہد اول پایا اور اس شہادت سے بڑھ کر اور کونسی شہادت واضح ہوسکتی ہے جو قرآن مجید نے ”انی متوفیک“ کے ذریعے ادا کی پس خدا تعالیٰ موت سے قبل تیری رہنمائی فرمائے اور تجھے صاحب بصیرت بنائے (اتمام الحجہ ص 2 خزائن ص 275 ج 8)
    اب تمام قارئین کرام اور بالخصوص تمام غیر جانبدار قادیانیوں کے انتہائی غور و فکر کا مقام یہ ہے کہ مرزا کا دعوی ہے کہ اُس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کا راز کھولا گیا ۔۔۔۔یعنی موصوف کی نبوت کی یہ دلیل بھی ہے کہ اُس کو الہام یا وحی کے ذریعہ یہ راز معلوم چلا
    اور قادیانی حضرات مرزا کی نبوت کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی سمجھتے ہیں ۔
    جبکہ قادیانی اتنی معمولی بات نہیں سمجھ سکتے کہ
    اگر وفات مسیح علیہ السلام کا راز نبوت کی دلیل ہوتا
    تو اس راز سے تو آج سے سینکڑوں سال قبل ملاحدہ اور فلاسفہ بھی واقف تھے اور کھلم کھلا حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کیا کرتے تھے ؟؟؟
    اس کے بعداس راز سے تو وہ عقل پرست بھی واقف تھے ۔۔۔۔ جن کی بیخ کنی کے لئے مرزا نے لمبی لمبی تقریریں کیں ۔۔۔۔اور خود مرزا نے ان کی عقل پرستی (یعنی عقلی دلائل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کے انکار پر)پر اُن کو خوب لتاڑا تھا ۔
    پھر اس میں مرزا کی کیا تخصیص ہے ۔۔۔۔ جو مرزائی مرزا کو نبی سمجھ کربیٹھے ہیں ؟؟؟
    چند جھوٹی سچی پیش گوئیاں ؟؟؟؟۔۔۔۔ جو علم نجوم پر تھوڑی بھی مہارت رکھنے والا پیش کرسکتا ہے ؟؟؟

    کاش کہ یہ مرزائی اپنی عقلوں پر ہاتھ مارتے ۔۔۔۔۔اور خلوص دل کے ساتھ رب کو ہدایت کے لئے پکارتے ۔۔۔۔اور خلوص نیت اور غیرجانبداری کے ساتھ حقیقت جاننے کی عملی کوشش بھی کرتے ۔۔۔۔ توبلاشبہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کا سایہ کرتا اور ان کے سامنے حقائق کھل کر سامنے آجاتے ۔ ۔۔بے شک ہدایت اللہ رب العزت کے اختیارمیں ہے ۔اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔آمین
    اب آجاتے ہیں عمر صاحب کی طرف سے کی جانے والی سورہ النساء157 ،158 کی تشریح کی طرف ۔۔۔۔موصوف عمر صاحب فرماتے ہیں
    بلکہ معاملہ مشتبہ کردیا گیا ان کے لئے ۔۔۔۔۔مشتبہ کردینے سے یہ صاف ظاھر ھوتا ھے۔کہ واقع صلیب ھوا تھا۔
    لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پہ فوت ھونے سے بچا لیا تھا۔۔۔۔یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب صلیب ے ا ±تارا گیا تو وہ زندہ تھے۔ ۔۔۔جبکہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ تصور کر لیا۔۔۔۔۔اس طرح یہود پر معاملہ مشتبہ کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا اس معاملہ میں ضرور مبتلا ہیں شک میں اس بارے میںاور نہیں ہے انہیں اس واقعہ کا کچھ بھی علم سوائے گمان کی پیروی کے۔۔۔۔۔ضرور مبتلا ہیں شک میں کھ کے یہ ظاھر فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یھود نے صلیب سے اتارا تو یھود نے ظاھری حالات کو دیکھتے ھوے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ تصور (گمان) کیا۔
    یعنی یہود یقین سے نھیں کہہ سکتے۔۔۔۔کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے صلیب سے اتارا تو حضرت عیسیٰ وفات پا چکے تھے۔۔۔۔بلکہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ظاھری حالت دیکھ کر یہ گمان/اندازہ/قیاس کیا تھا۔کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے۔ کیونکہ اللہ دلوں کے حال جانتا ھے۔اسلئے اللہ ھم پر یہود کے دلوںکا حال ظاھر فرماتا ھے۔ کہ یہود لازماً (ضرور) اس معاملے (صلیب پر موت)) میں شک میں مبتلا ھیں۔اس شک کی وجہ چاھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شاگردوں اور دوسرے گواھوں کے یہ بیان ھوں کے ا ±نھوںنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ دیکھا یا کوئی اور وجہ۔
    بہر حال یہود کا یہ نظریہ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر فوت ھو گئے تھے شک کی بنیاد پر ھے۔اور نہیں قتل کیا ہے انہوں نے مسیح کو یقینا۔
    یہود کا داعوع جو کہ شک ک بنیاد پر ھے۔ اِس دعوی کے مقابل یقینناً کا لفظ استعمال کر کے شدت کے ساتھ اِس دعوی کو رد فرما دیا کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے میں کامیاب ھو گئے تھے۔
    ہمارے نزدیک تو عمر صاحب کا پیش کردہ مفہوم سراسر سوفیصد تحریف فی القرآن ہے کیوں کہ یہ تمام مفسرین و مجددین کے خلاف ہے اور بقول مرزا بھی سلف کا مفہوم الہام الٰہی کے مطابق ہوتا ہے اور وہ بقول مرزا ہمارے لئے تسلیم کرنا لازمی ہے اور اس سے انکار سراسر فسق ہے
    خود مرزا کہتا ہے کہ ”مجدد لوگ دین میں کمی بیشی نہیں کرتے بلکہ گمشدہ دین پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں ۔۔۔نیز لکھا ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اجمالی مقامات کو احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کرکے خدا کے پاک کلام اور تعلیم کو ہر زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھتے ہیں (ایام الصلح ص 55)
    تو اب ملاحظہ فرمائیں امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ (مرزا کے نزدیک بھی مجدد نویں صدی)کیافرماتے ہیں:
    اور لعنت کی ہم نے یہود پر اس وجہ سے بھی کہ وہ فخرا کہتے تھے کہ یقینا ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوی قتل کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اور نہ قتل کرسکے یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور نہ پھانسی پر لٹکا سکے ان کو ،بلکہ بات یوں ہوئی کہ یہود کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ،یعنی تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت و شبیہ یہود کے کسی آدمی پر ڈال دی اور یہود نے اس شبیہ عیسی کو عین عیسیٰ سمجھ کر مصلوب کر دیا اور تحقیق جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختلاف کیا وہ ان کے قتل کے بارے میں شک میں مبتلا تھے ،کیوں کہ ان میں سے بعض نے جب مقتول کو دیکھا تو کہنے لگے کہ اس کا منہ تو بالکل عیسیٰ جیسا ہے اور باقی جسم اس کا وہ معلوم نہیں ہوتا اور باقی کہنے لگے کہ نہیں بالکل وہی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو مسیح کے بارے میں کوئی یقینی علم نہیں ہے بلکہ اس ظن و گمان کی پیروی کرنے لگے جو خود انہوں نے گھڑ لیا اور یقینی بات ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ،اور اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہی اور قدرت میں بڑا زبردست اور کاموں میں بڑا ہی حکمت والا ہے (دیکھیے تفسیر جلالین زیر آیت مذکورہ بالا)
    اسی طرح تمام معتبر تفسیرات میں سلف صالحین اسی مفہوم پر متفق ہیں اور تمام اکابرین امت ،مجددین مثل ابن جریر ،امام رازی ،ابن کثیر ،ابن تیمیہ ،صاحب مدارک و معالم ،ابو سعود رحمھم اللہ ،شاہ ولی اللہ اور ان کی اولاد ،احفاد اور متبعین رحمھم اللہ اجمعین اسی مفہوم پر متفق ہیں ۔
    خود مرزا کہتا ہے کہ(مسلم مفہوم کے علاوہ ) ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑ لینا بھی تو الحاد و تحریف ہے خدا مسلمانوں کو اس سے بچائے (ازالہ ص 740 خزائن ص 501 ج 3)
    لہذا امت مسلمہ کے معتبر مفسرین کرام کی تفاسیر کا انکار و انحراف صریح بغاوت ہے ۔
    اس قسم کی من گھڑت تاویلات سے تو ہر ایک چیز ثابت کی جاسکتی ہے ۔۔۔اس لئے بجائے ہم طویل اور پیچیدہ راستہ اختیار کریں اور عمر صاحب کے عقلی دلائل پر بحث کرکے بات کو لمبا کریں مناسب ہے کہ ہم عمر صاحب کے ایک پیشوا حکیم نور الدین کا حوالہ پیش کررہے ہیں ۔۔۔۔امید ہے کہ تمام قادیانی خصوصی غور و فکر فرمائیں گے۔۔۔ چناچہ حکیم نور الدین لکھتا ہے :
    الٰہی کلام میں تمثیلات و استعارات کا ہونا اسلامیوں کو مسلم ہے مگر ہر جگہ تاویلات ، تمثیلات سے استعارات و کنایات سے اگر کام لیا جائے (جیسا کہ قادیانی کرتے ہیں ۔۔ناقل)تو ہر ایک ملحد منافق ،بدعتی اپنی آراءناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیبات کو لاسکتا ہے (ازالہ اوہام کے ساتھ ملحق حکیم صاحب کا بیان ص 8)
    تو جب یہ چیز واضح طور پر خود قادیانیوں کے منہ سے بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ اگر من گھڑت تاویلات کو سہارا بنایا جائے تو قرآن پاک سے ہر ایک ملحد ،منافق ،بدعتی اپنی آراءاور خیالات باطلہ ثابت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ تو پھر عمر صاحب کے ان قصہ کہانیوں کی کیا وقعت رہ جاتی ہے ؟؟؟
    سوال تو یہ آجاتا ہے کہ جب مختلف معنوں و تاویلات سے آیات مبارکہ کو اپنے من مانے مفہوم کی طرف گھمایا پھرایا جاسکتا ہے ۔۔۔۔تو حق و باطل کا آسان فیصلہ کیسے ہو ؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    • Like Like x 5
  4. ‏ اکتوبر 20, 2014 #4
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر
    ۔۔۔۔۔گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔

    تو اس کے لئے خود قادیانیوں کے پیشوا مرزا نے واضح کردیا کہ ”قرآن مجید کے حروف و الفاظ کی طرح اس کا مفہوم بھی ہر زمانہ میں موجود اور محفوظ رہا ہے ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون “ کے بموجب خدا نے ہر زمانہ میں قرآن مجید کے الفاظ ،معانی اور مفہوم کی حفاظت فرمائی ہے “(شھادہ القرآن ص 53،54 ۔ایام الصلح ص 55 خزائن ص 288 ج 14)
    نیز مرزا کہتا ہے کہ ”یہ (مجدد)لوگ قرآن کے اجمالی مقامات کو احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کرکے خدا کے پاک کلام اور تعلیم کو ہر زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھتے ہیں
    پھر قادیانیوں کو سر تسلیم خم کرنے میں کیا حجت باقی ر ہ جاتی ہے ؟؟؟

    اگر قادیانیوں کو حق قبول کرنے میں روکاٹ کا سبب مرزائیوں کے نام نہاد عقلی دلائل ہیں کہ اُن کی عقل تسلیم نہیں کرتی ۔۔۔۔۔جیسا کہ عمر موصوف کا سارا زور اسی چیز پر ہے کہ اُن کو اُن کے عقلی دلائل کے جوابات چاہیے ؟؟؟
    تو خود مرزا کا کہنا ہے کہ ”یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح بن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بااتفاق قبول کرلیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی ،تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے ،انجیل بھی اس کی مصداق ہے ،اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور باعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال رسول کی عظمت باقی نہیں رہی اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالا تر ہو اس کو محالات اور ممتعات میں داخل کرلیتے ہیں ۔قانون قدرت بے شک حق اور باطل کے آزمانے کے لئے ایک آلہ ہے مگر ہر قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں اس کے علاوہ اور آلات اور محک(معیار) بھی تو ہیں جن کے ذریعہ سے اعلیٰ درجہ کی صداقتیں آزمائی جاتیں ہیں (ازالہ اوہام ص 557،558)
    اس اقتباس سے واضح ہوا کہ دین حق کا ہر ایک نظریہ اور اصول محض عقل اور عام قانون قدرت سے ہی نہیں ثابت ہوتا بلکہ یہاں یومنون بالغیب درجہ اولیت رکھتا ہے نیز قانون قدرت کا احاطہ ہماری عقل و ادارک میں محصور نہیں ۔بلکہ وہ نہایت وسیع ہے لہذا شرعی نظریات کا معیار صرف عقل ہی نہیں ہے بلکہ بہت سے امور ماورائے عقل بھی تسلیم کرنے پڑتے ہیں ۔
    ایسے ہی مرزا سرسید کو ان کی غیر معقول تاویلات کے پیش نظر خوب لتاڑتے ہیں (تفصیل کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات ص 272 تا ص 273)
    رہی بات یہ کہ جو قادیانی عقلی اشکالات پیش کرتے ہیں کہ کبھی تاریخ عالم میں ایسے موقعہ پر کسی بھی نبی رسول کو زندہ آسمان پرنہیں اٹھا یا گیا بلکہ کسی کو دوسرے علاقہ میں ہجرت کرادی ۔۔۔۔کسی کی امت کو تباہ و برباد کرکے اپنے برگزیدہ محبوب نبی کو محفوظ فرما لیا ۔۔۔۔ یہ خلاف معمول واقعہ کیوں ہوا ۔۔۔۔کیا وہ خدا قدیر حسب سابق مسیح کو زمین پر رکھ کر بچا نہ سکتا تھا ۔۔۔
    تو جوابا فرمایا کہ یہ سب کچھ ہوسکتا تھا چناچہ پہلے یہی کچھ ہوتا رہا ہے مگر وہ اس معاملہ میں موقعہ کی حکمتوں اور بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے یہ وہی معبود برحق جانتا ہے کہ اس نبی کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے اور دوسرے کے ساتھ کون سا معاملہ ہونا چاہیے کیوں کہ وہ حال ،مستقبل کے حالات اور تقاضوں کو خوب جانتا ہے نیز یہ شبہ کہ کوئی انسان اپنے خاکی اور مادی جسم کے ساتھ بوجہ کشش ثقل اور خلاف عادت یوں آسمان پر کیسے جاسکتا ہے تو ان تمام شبہات اور وسوسوں کا جواب نہایت ہی جامع اور مختصر طور پر ارشاد فرمایا کہ ”وکان اللہ عزیزاً حکیما“ کہ وہ قادر مطلق خدا بڑا زبردست ہے وہ آسمان و زمین اور جمیع کائنات کا خالق و مدبر ہے ۔
    کیا قادیانیوں کا عقیدہ نہیں کہ اللہ رب العزت قادر مطلق ہے ؟؟؟؟
    اور ہر چیز پر مکمل قادر ہے ۔۔۔
    وہ رب العالمین جو حضرت آدم علیہ السلام کو بن ماں باپ کے پیدا کرسکتا ہے ۔۔۔۔ اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کو بھڑکتی ہوئی آگ میں زندہ رکھ سکتا ہے ۔۔۔۔
    وہ اللہ تعالیٰ جو ایک پہاڑ پھاڑ کر اوٹنی نکال سکتا ہے ۔۔۔۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کی قوم کے لئے دریاپھاڑ کر راستہ بنا سکتا ہے ۔۔۔۔۔
    اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لئے من و سلویٰ اتا ر سکتا ہے ۔۔۔۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کے پیدا کرسکتا ہے ۔۔۔۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوگہوارے میں بولنے کی طاقت دے سکتا ہے ۔۔۔۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردے زندہ کرواسکتا ہے
    تو پھر دنیا میں بنا کسی سابقہ نظیر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر کیوں نہیں اٹھا سکتا ؟؟؟

    معجزات تو ہوتے ہیں ایسے ہیں کہ جن کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔۔۔۔ پھر قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول پردنیا میں کسی نظیر کے طلب گار کیوں ہیں ۔۔۔۔ کیو ں ایک معجزہ کے لئے عقلی دلائل ڈھونڈتے ہیں ۔۔۔۔۔ کیا قادیانی دیگر اُن معجزات کے بھی عقلی دلیلیں اور ثبوت ڈھونڈتے ہیں ۔۔۔۔ جن پر وہ لوگ ایمان رکھتے ہیں ؟؟؟
    میرے محترم مسلمان بھائیوں ،بہنوں اور بزرگوں!
    جب یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے کئی کئی معنی اور مفہوم بھی نکل آتے ہیں ۔۔۔۔اور یہی بات قادیانیت کے پیشوا بھی تسلیم کرتے ہیں ۔
    لہذا قادیانیوں کااپنے باطل موقف کو ثابت کرنے کے لئے اپنے الفاظوں میں قرآن پاک کی آیات مبارکہ کی تشریحات کرکے عقلی اشکالات کی بنیاد پردلائل پیش کرنا کوئی معنی نہیں رکھتے ۔
    اصل چیز تو یہ دیکھی جائے گی کہ قرآن پاک کی آیات مبارکہ کے معنی و مفہوم سمجھنے کے لئے درست ترتیب کیا ہے ؟
    خود مرزا کے اقرار(حوالہ جات ابتداءمیں پیش کئے جاچکے ہیں) کے مطابق :
    اصل سند قرآن و حدیث ہے
    قرآن و حدیث کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جس کی تائید شواہد قرآنی سے ہوتی ہو نیز جسے خود صاحب وحی نے بیان فرمایا ہو ۔
    کسی قرآنی آیت یا حدیث میں اختلاف کی صورت میں صحابہ کا فہم فیصلہ حجت ہوگا
    کسی دینی نظریہ یا عقیدہ و عمل کا صحیح مفہوم و مصداق ہر زمانہ میں موجود رہا ہے ،کیوں کہ خدا نے حفاظت دین کا ذمہ خود لیا ہے
    جو عقیدہ یا نظریہ عہد صحابہ سے چل کر آئمہ دین اورمجدددین امت میں یکساں مسلم ہو اس سے اختلاف وانحراف بے دینی اور گمراہی ہے ۔

    معزز قارئین کرام ۔۔۔۔جس عقیدے یا نظریہ پر قرآن پاک کی آیات مبارکہ شاہد ہوں ۔۔۔۔پھر اس کی تائید میں صاحب وحی جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے واضح اور صریح فرامین موجود ہوں ۔۔۔۔اور پھر یہی عقیدہ اور نظریہ پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین متفق ہوں ۔۔۔۔اس کے بعد قرون ثلاثہ میں سے کسی بھی تابعی یا تبع تابعی نے اختلاف نہ کیا ہو ۔۔۔۔۔اس کے بعد بھی چودہ صدیوں سے تمام ائمہ کرام ،محدثین کرام ،مجتہدین کرام ،مفسرین کرام ،شارحین کرام رحمھم اللہ متفق رہے ہوں ۔۔۔۔پھر ایسے عقیدے یا نظریہ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کیسے ممکن ہے ؟؟؟جبکہ قرآن پاک میں مومنین کی راہ چھوڑ نے پر جہنم کی وعید بھی بیان ہوئی ہو ۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴿١١٥﴾ النساء 115

    ترجمہ :اور جس نے مخالفت کی رسول کی اس کے بعد بھی کہ کھل کر آچکی ہے اس کے سامنے ہدایت اور چلا مومنین کی راہ کے خلاف تو چلنے دیں گے ہم اس کو اسی (راستے)پر جدھر وہ مڑ گیا اور ڈالیں گے ہم اسے جہنم میںاور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

    میرے محترم بھائیوں بزرگواور دوستو!
    پھر کسی شخص کے امت مسلمہ کی راہ سے جدا ہوکر محض دعوی کی کیا اہمیت و وقعت رہ جاتی ہے ؟؟؟
    جبکہ وہ شخص خود بھی قرآنی نصوص سے اسی کو ثابت شدہ تسلیم کرتا ہو ( مثلا دیکھئے براہین پنجم ص 85 خزائن ص 111 ج 21 اربعین ص 21 ج 2 خزائن ص 369 ج 17)
    اور یہ شخص خود بھی اس عقیدہ کی اتفاقی اور اجماعی کیفیت کا قائل بھی رہا ہو( دیکھئے ملفوظات ص 300 ج 10 اور چشمہ معرفت ص 83وغیرہ)
    اوریہ شخص خود اپنے منہ سے کہتا ہو کہ ”جو شخص کسی اجماعی عقیدے کا انکار کرے تو اس پر خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میرا مدعا ہے ۔مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں (انجام آتھم ص 144 خزائن ص 144 ج 11)
    حیات و نزول مسیح علیہ السلام پر اتنے واضح ٹھوس دلائل موجود ہیں ۔۔۔۔کہ جن سے وہی اندھیرے میں رہ سکتا ہے کہ جس کی عقل پوری طرح اندھی ہوچکی ہو ۔
    اور قادیانی اگر صرف اتنا بھی سوچ لیں کہ
    دین اسلام میں اگر واقعی کوئی ایسا راستہ نکلتا جس پر چل کر پوری کی پوری امت مسلمہ کی راہ کو بھی چھوڑا جاسکتا ہوتا ۔۔۔۔اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے پیارے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی بھی نہ ہوتی ۔۔۔۔تو کیا امت مسلمہ کے لئے ایسی راہ کو واضح کرنے کے قرآن پاک اور احادیث پاک میں واضح اور صریح احکامات نہ ہوتے ؟؟؟کہ جس سے امت مسلمہ کو بھی باآسانی معلوم ہوتا کہ پوری امت مسلمہ کے اتفاق کئے ہوئے عقائد اور نظریات میں بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔۔۔۔اور ایسے متفقہ عقائد اور نظریات میں تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے ؟؟؟

    کاش مرزائیوں کو اتنا احساس ہوتا کہ اُن کی قرآن و حدیث ،اجماع صحابہ اور پوری امت مسلمہ کے اجماع سے بغاوت قدیم ملاحدہ ، فلاسفہ اور عقل پرستوں سے اُدھار لئے ہوئے چندعقلی دلائل پر کھڑی ہے

    وہ بھی ایک معجزہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع و نزول)کے انکارکے لئے ؟؟؟
    کاش کہ عقل ہوتی اور سوچتے کہ کیا کبھی معجزات بھی عقلی دلائل سے ثابت کئے جاتے ہیں ؟؟؟
    معزز قارئین کرام ۔۔۔۔۔الحمد اللہ یہ وضاحتیں اُن قادیانی حضرات کے لئے کافی ہیں جو واقعی حق کے طلب گار ہوں ۔۔۔۔لیکن جس نے نہ ماننے کا تہیہ کیا ہوا ہو ایسے شخص کے لئے ہزاروں دلائل بھی ناکافی ہیں۔
    لیکن پھر بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔۔۔ان شاءاللہ تعالیٰ ہم اپنے اگلے مراسلہ میں عمر صاحب کے پیش کردہ چنداُن دلائل کی وضاحتیں بھی پیش کرنا چاہیں گے ۔۔۔۔جن کے جوابات ہم اس سے قبل مختصر دے چکے ہیں ۔۔۔۔لیکن عمر صاحب کی متعصبانہ سوچ کی وجہ سے اُن کی عقل شریف میں نہیں اترے تھے ۔ ۔۔۔لہذا عمر صاحب کا یہ بھی گلہ ختم کرنے کے لئے اور حجت تمام کرنے کے لئے ان شاءاللہ تعالیٰ جلد ہم اُن دلائل کی وضاحتیں پیش کریں گے۔
    آپ تمام حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے
    والسلام
    خاکپائے مجاہدین ختم نبوت
    ناصر نعمان

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    • Like Like x 4
  5. ‏ اکتوبر 22, 2014 #5
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر
    گذشتہ سے پیوستہ :
    خاتم النبیین صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا غلام:
    جناب عمر صاحب ۔۔۔۔ ہم نے جو جواب آپ کو دیا ۔۔۔۔ وہ بدقسمتی سے آپ کی موٹی عقل میں نہ اتر سکا اس میں ہمارا قصور نہیں ۔۔۔۔ دوبارہ سمجھ لو :
    آپ کے اس مفروضہ کا سارادارومدار اسی چیز پر مبنی ہے کہ آپ یہ متصور کرکے بیٹھے ہوئے ہیں کہ اگر ’’رفع اللہ الیہ‘‘کا ترجمہ” اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھالیا “ کیا جائے گا تو اس سے اللہ تعالیٰ کی جہت و مکان ہونا لازم آئے گا ؟؟؟

    تو جناب کی اطلاع کے لئے پہلی عرض تو یہ ہے کہ الحمد اللہ ہم مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ جہت ،زمان و مکان سے بالکل پاک ہے ۔۔۔۔لہذا ہماری طرف سے دوآیات مبارکہ( البقرة آیت156 اور یونس آیت 56)پیش کرنا (معاذ اللہ ) اللہ رب العزت کی جہت یا مکان پر دلیل دینا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔بلکہ آپ کو یہ قیمتی نکتہ سمجھانا مقصود تھا کہ ”اللہ کی طرف “کا مفہوم ”جہت و مکان “کو مقرر نہیں کرتا بلکہ ان دونوں آیات مبارکہ ( البقرة آیت 156 اور یونس آیت 56)میں”اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے “سے مراد ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقلی کے لئے استعمال ہواہے ۔
    تو جب آپ یہ نکتہ سمجھ لیتے ہیں تو دراصل تو آپ کے پیش کردہ اشکالات خود بخود دور ہوجاتے ہیں ۔
    اور جہاں تک تعلق ہے آخرت میں ”روحانی یا جسمانی“ حاضری کا ۔۔۔تواگر یہ بحث تھوڑی دیر کے لئے چھوڑ بھی دی جائے تب بھی آپ کا اعتراض تو دراصل ”اللہ کی طرف اٹھالیا “ سے ”جہت و مکان“ کامقرر ہونا لازم آنے پر تھا ۔۔۔۔جو کہ خود آپ کی طرف سے آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف روحانی حاضری کے اقرار کے بعد خود بخود دور ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔یعنی ہم سب نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔۔۔۔اور پھر بھی جہت و مکان مقرر ہونا لازم نہیں آیا ۔
    آخر میں آپ نے فرمایا کہ آخرت آپ کاٹاپک نہیں ۔۔۔۔حالانکہ ہم نے بھی آخرت کو موضوع نہیں بنایا تھا بلکہ آپ کو اللہ کی طرف کا مفہوم سمجھانا مقصود تھا جسے آپ لوگ ”جہت و مکان“متصور کرکے بچکانہ اعتراضات کرتے ہو۔
    مزید ملاحظہ فرمائیں :
    قران مجید میں ہے ؛”ءامنتم من فی السماءالخ الملک 16 ۔۔۔۔”ام امنتم فی السماءالخ الملک 17

    ترجمہ از مرزا بشیر الدین ”کیا آسمان میں رہنے والی ہستی سے تم اس سے امن میں آگئے “(تفسیر مغیر ص 760)
    فرمائیے تمہارے پیشوا کیا معنی کررہے ہیں کیا اس کی جہت آسمان واضح ہوئی یا نہیں ؟
    تمہارا مرزا لکھتا ہے کہ”کیوں کہ شریعت نے دونوں طرفوں کو مانا ہے ایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائی عرش ہے اور دوسری شیطان کی اور وہ بہت نیچی ہے اور اس کا انتہاءپاتال ہے غرض یہ کہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہم مسئلہ ہے کہ مومن مر کر خدا کی طرف جاتا ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں جیسا کہ آیت ”ارجعی الی ربک“ اس کی شاہد ہے اور کافر نیچے کی طرف جو شیطان کی طرف ہے جیسا کہ آیت ” لاتنفخ لھم ابواب السماء“ اس کی گواہ ہے ۔خدا کی طرف جانے کا نام رفع ہے (خزائن ص 108،109 ج 14)

    ملاحظہ فرمائیے مرزا صاحب نے بھی مان لیا کہ خدا کی طرف اور جہت بسبب علو شان کے آسمان ہی ہے تو ظاہر ہے کہ جیسے روح کے اللہ تعالیٰ کی طرف یعنی آسمان پر جانے کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا مکان اور طرف ثابت نہیں ہوتی اسی طرح رفع الیٰ اللہ سے مراد رفع جسم الیٰ السماءتسلیم کرنے سے بھی اس کی طرف اور جہت کا لزوم حقیقی نہ ہوگا ۔۔۔اور جیسے نیک ارواح کا رفع سماوی ان کے عزت و اکرام کی بنا پر ہوتا ہے نہ یہ کہ وہ خدا کے ساتھ ملحق ہوجاتی ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الیٰ السماءبھی بوجہ ان کے اعزاز واکرام ہی کی بنا پر ہی ہے ۔یہاں بھی الحاق ہرگز لازم نہیں آتا ۔
    جیسے کعبتہ کی نسبت خدا کی طرف بوجہ اس کی تعظیم و تکریم کے ہے نہ کہ بوجہ سکونت کے چونکہ ایسی نصوص سے فرقہ مشبہ نے خدا کے لئے حقیقتا جہت و مکان تسلیم کیا ہے۔
    اس بنا پر امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آیت” وارافعک الی“سے غرض مسیح کا اعزاز و اکرام ہے نہ یہ کہ اس سے واقعتہ خدا کی جہت و مکان کا اثبات ہے ۔
    یعنی مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان پر ایک خاص جگہ سکونت پذیر ہے اور وہاں حضرت مسیح علیہ السلام بھی پہنچ گئے بلکہ یہ نسبت خدا کے لئے محض عظمت و تقدیس کی ہے ۔اگر چہ مسیح علیہ السلام فرشتوں کی طرح آسمان پر ایک مقام اور مستقر میں سکونت پذیر ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے بالکل منزہ ہیں ۔غرض یہ کہ ایسی تمام اضافتیں اور نسبتیں محض تشریفی اور اعزازی ہیں ۔

    مرزا کہتا ہے کہ ”لیکن وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے “(تریاق القلوب ضمیمہ 3 حرف ش خزائن ص 499 ج 15ٍ)
    اب فرمائیے کہ اس سے خدا تعالیٰ کی جہت اور مکان ثابت نہ ہوا ؟؟
    فما ھوجوابکم فھو جوابنا

    ۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔
    • Like Like x 4
  6. ‏ اکتوبر 25, 2014 #6
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر
    گذشتہ سے پیوستہ
    ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

    )اٰ ل عمران 55 پارہ 3​

    (ترجمہ :جب کہااللہ نے اے عیسیٰ ! بے شک میں واپس لے لوں گا تمہیں اور اٹھا لوں گا تم کو اپنی طرف اور پاک کردوں گاان لوگوں (کے گندے ماحول )سے جو کافر ہیں اور کروں گا ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کیا تمہارا غالب ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا قیامت کے دن تک پھر میری طرف لوٹ کر آنا ہے تمہیں پس فیصلہ کروں گا میں تمہارے درمیان ان باتوں کا جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے )

    قادیانیوں نے ” متوفیک“کے ترجمہ میں ”موت“مراد لی ہے ۔(اب آجائیں وضاحت کی طرف)
    توفی کا لغوی معنی:
    لسان العرب میں ہے”توفی المیت استیفاءمدة التی ورفیئت لہ وعددایامہ و شہورہ و عوامہ فی الدنیا“ (ص 359ج 15)
    یعنی میت کے اورتوفی کے معنی یہ ہیں کہ اس کی مدت حیات کو پورا کرنااور اس کی دنیاوی زندگی کے دنوں اور مہینوں اور سالوں کو پورا کرنا
    معزز قارئین کرام ۔۔۔خصوصی توجہ کی درخواست ہے
    وصال“ کے معنی ہیں ”ملنے کے“ اور” انتقال “کے معنی ہے ”ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجانے کے“اب بزرگوں کی موت پر ادب اور احترام کی وجہ سے ”وصال“ یا ”انتقال “ کے الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔۔۔۔یعنی اپنے رب سے جاملے یا دار فانی سے دار جاودانی کی طرف انتقال فرماگئے یا رحلت فرماگئے یا رخصت ہوگئے ۔۔۔۔۔تو وصال ،انتقال،رحلت اور رخصت کے معنی ”موت “ کے تو نہیں بن جائیں گے نہ ؟

    بس اسی طرح ”توفی “کے لفظ کو سمجھیں کہ ”توفی“ کے اصلی اور حقیقی معنی تو استفیا اور اکمال کے ہیں(یعنی کسی شے کو پوراپورا کرلینے کے)
    مگر بعض دفعہ بغرض تشریف و تکریم کسی کی موت کو کنایتہ تعبیر کردیا جاتا ہے ۔۔۔جس سے قادیانی سمجھتے ہیں کہ ”توفی “ کا حقیقی معنی ”موت “کے ہیں ۔
    علامہ زر محشری (اساس البلاغتہ ص 304ج 2)میں تصریح فرماتے ہیں :
    ”توفی کے حقیقی معنی استفیاءاور اکمال کے ہیں اور مجازی معنی موت کے ہیں“
    اور علامہ زبیدی (تاج العروس شرح قاموس ج20ص301)فرماتے ہیں :”توفی کا حقیقی معنی موت نہیں “
    معزز قارئین کرام
    تین آیات مبارکہ پیش خدمت ہیں توجہ فرمائیے گا ،جس سے صاف طور پر معلوم ہوجائے گا کہ”توفی“ کی حقیقت موت نہیں،بلکہ” توفی “موت کے علاوہ کوئی اور شے ہے۔

    آیت اول:
    ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(اللَّـهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ) الزمر 42 پارہ 24
    (ترجمہ :وہ اللہ ہی ہے جو قبض کرتا ہے روحیں موت کے وقت ،اور جو مرا نہیں ہے (اس کی روح قبض کرتا ہے )اس کی نیند میں پھر روک لیتا ہے انہیں جن کے لئے فیصلہ ہوچکا ہے موت کا اور واپس بھیج دیتا ہے دوسروں کو ایک وقت مقرر کے لئے )
    اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ ”توفی“بمعنی موت کے نہیں ہیں ،بلکہ ”توفی“موت کے علاوہ کوئی شے ہے جو کبھی موت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے ۔۔تو کبھی نیند کے ساتھ ۔۔۔یعنی تمہاری جانیں خدا کے قبضے میں ہیں ۔۔۔ہرروز سوتے میں تمہاری جانیں کھینچتا ہے اور پھر واپس کردیتا ہے ۔۔۔مرنے تک ایسا ہی ہوتا رہے گا اور جب موت کا وقت ہوتا ہے تو پھر جان کھینچنے کے بعد واپس نہیں کی جاتی ۔۔۔
    خلاصہ یہ کہ آیت مبارکہ میں ”توفی“کی موت اور نیند کی طرف تقسیم اس امر کی صریح دلیل ہے کہ ”توفی“اور موت الگ الگ چیزیں ہیں۔ اور”حِينَ مَوْتِهَا “کی قید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ”توفیموت کے وقت ہوتی ہے ۔۔عین موت نہیں ۔
    صاحب لسان (جلد 15 ص 359،360 طبع بیروت) ”توفی“کی حقیقت بیان کردینے کے بعد اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    مرنے کے وقت جان اور روح پوری پوری لے لی جاتی ہے اور نیند کے وقت عقل اور ادارک اور ہوش و تمیز کو پورا پورا لے لیا جاتا ہے
    آیت دوم :
    ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ الخ الانعام 60 پارہ 7
    (ترجمہ:وہ ہی ہے جو رات میں تم کو پورا پورا کھنچ لیتا ہے )
    اس مقام پر بھی ”توفی“موت کے معنی میں مستعمل نہیں ہوا بلکہ نیند کے موقع پر ”توفی“کا استعمال کیا گیا ۔
    آیت سوم :
    ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ الخ النساء15 پارہ 4
    حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اس آیت مبارکہ کو ترجمعہ اس طرح کرتے ہیں ”تاآں کہ عمر ایشان را تمام کند مرگ یعنی یہاں تک کہ موت ان کی عمر تمام کردے۔
    اس آیت مبارکہ میں ”توفی“کے معنی ” عمرتمام“ اور” اکمال عمر“ کے لئے گئے ہیں ۔
    علاوہ ازیں قرآن کریم میں جا بجا موت کے مقابلے میں حیات کا ذکر فرمایا ہے ۔۔لیکن ”توفی“ کو حیات کے مقابلے میں ذکر نہیں فرمایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ ”توفی“ کی حقیقت موت نہیں۔
    موت و حیات کا تقابل:
    اگر ”توفی“کی حقیقت موت ہوتی تو جس طرح جا بجا موت کے مقابل حیات کا ذکر کیا جاتا ہے اسی طرح ”توفی“ کے بعد بھی حیات کا ذکر کیا جاتا ۔
    (وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا الخ الروم 19 پارہ 21
    (أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا الخ المرسلت26 پارہ 29
    (ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ الخ البقرة 28 پارہ 1
    (وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا الخ النجم 44 پارہ 27
    (وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ الخ یونس 31 پارہ 11
    (أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ الخ النحل 21 پارہ 14
    (وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ الخ فرقان 58 پارہ 18
    ( لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ الخ طٰہٰ 74 پارہ 16
    (كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّـهُ الْمَوْتَىٰ الخ البقرة 73 پارہ 1
    (يُحْيِي وَيُمِيتُ الخ توبہ 116 پارہ 11

    امید ہے کہ ان اوپر کی گئی وضاحتوں کے بعد یہ بات بخوبی سمجھ آگئی ہوگی کہ ”توفی“کی حقیقت موت نہیں ۔
    جن ائمہ لغت نے ”توفی “کے معنی روح قبض کرنے کے لکھے ہیں ۔۔۔انہوں نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ فقط روح قبض کو” توفی“ کہتے ہیں۔۔۔اور قبض روح مع البدن ہو تو اس کو” توفی“ نہیں کہتے۔۔۔بلکہ اگر قبض روح کے ساتھ بدن بھی ہو تو بدرجہ اولیٰ ”توفی “ ہوگی۔
    اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ ”توفی “ایک جنس ہے اورنوم(نیند ) موت اور رفع جسمانی یہ اس کی انواع اور اقسام ہیں ۔۔۔اور یہ مسلم ہے کہ نوع اور قسم معین کرنے کے لئے قرینہ کا ہونا ضروری اور لازمی ہے اس لئے ”توفی “ کے ساتھ موت اور اس کے لوازم کا ذکر ہوگا ۔۔۔اس جگہ ”توفی “سے مراد موت لی جائے گی ۔
    جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ الخ السجدة 11 پارہ 21
    (ترجمہ :کہہ دیجیے !پورے کا پورا قبضے میں لے گا تم کو وہ موت کا فرشتہ جو مقرر ہے تم پر پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاﺅ گے )

    اس مقام پر ملک الموت کے قرینہ سے ”توفی “سے مرادموت لی جائے گی ۔
    اور آخری عرض یہ ہے کہ قادیانی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو "توفی" دے دی گئی تو اس کے بعد وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوسکتے ہیں ؟؟
    تو ہماری اُن سے عرض ہے کہ مسئلہ یہاں "توفی" کے مفہوم کو سمجھنے کا تھا جو کہ الحمد اللہ اوپر پیش کی گئی وضاحت سے بخوبی واضح ہوگیا ہے ۔۔۔۔ اس کے بعد صرف اتنی عرض ہے کہ اگر آپ کو یا "توفی" کے معنی موت مراد لینے والوں کو اپنے موقف پر ہی اصرار ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو ہم انہیں مجبور نہیں کرتے صرف اتنا عرض ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام "توفی" بعد بھی اسی طرح حیات ہیں ۔۔۔۔ جیسا کہ اوپر پیش کی گئیں آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ جب لوگوں کو رات کو "توفی" دیتا ہے۔۔۔اور صبح اٹھ کر لوگ ایک بار پھر زندہ ہوکر اپنے کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔۔۔اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام "توفی" کے بعد بھی حیات ہیں اور قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔

    اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے ۔ آمین
    • Like Like x 4
    • Winner Winner x 1
  7. ‏ اکتوبر 26, 2014 #7
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر
    اگر اس آیت مبارکہ(اٰل عمران 55) میں ’’مُتَوَفِّيكَ‘‘ کا مفہوم موت مراد لیا جائے (جیسا کہ قادیانیوں کا اصرار ہے) تب بھی عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام پر کوئی زد نہیں پڑتی
    میرے مسلمان بھائیوں ، بہنوں اور دوستو!
    اگر اس آیت مبارکہ(اٰل عمران 55) میں ’’مُتَوَفِّيكَ‘‘ کا مفہوم موت مراد لیا جائے (جیسا کہ قادیانیوں کا اصرار ہے) تب بھی عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام پر کوئی زد نہیں پڑتی کیوں کہ پھر یہاں "تقدیم و تاخیر" مراد لی جائے گی ۔۔۔ جیسا کہ بعض مفسرین کرام اس طرف گئے ہیں کہ یہاں آیت میں تقدیم و تاخیر مراد ہے یعنی توفی کا معنی موت ہی ہے مگر معنی یوں ہوگا کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام )میں تجھے فی الحال تو آسمان پر اٹھالوں گا پھر آخری وقت زمین میں نازل کرکے طبعی موت سے وفات دوں گا ۔۔۔کیوں کہ واﺅ ترتیب کے لئے نہیں ہوتی بلکہ مطلق جمع کے لئے آتی ہے اور اس تقدیم و تاخیر کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت ہیں (چناچہ الاتقان ج 2 میں امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر ایک مستقل باب منعقد فرمایا ہے)تو گویا امام فرمارہے ہیں کہ اگر چہ یہ مفہوم بھی جائز ہے مگر جب توفی کا لغوی مفہوم ”پورا پوار لینا ہے“ ہے تو پھر ہمیں ایک غیر معروف قاعدہ کے تحت تفسیر کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

    مراد یہ واضح کرنی مقصود تھی کہ دیگر احتمالی معنی لے کر بھی رفع الیٰ السماء پر کوئی زد نہیں پڑتی ۔۔۔۔ کیوں کہ بصورت نوم کا معنی یہ ہوگا کہ آپ کو نیند کی حالت میں اٹھایا گیا تاکہ آپ گھبراہٹ اور وحشت محسوس نہ کریں ۔۔۔۔اور اگر توفی بمعنی موت مراد لی جائے تو پھر بھی خیر ہے کہ اصل نظریہ رفع جسمانی الیٰ السماء مخدوش نہیں ہوتا کیوں کہ بقول بعض آپ پر تین یا سات گھڑی موت طاری ہوئی یا بقول نصاری تین دن ،اس کے بعد آپ کو زندہ کرکے آسمان پر لے جایا گیا ۔
    یا موت سے مراد جسمانی اور مادی خواہشات و جذبات کا انقطاع ہے کہ ان سے مبرا کرکے ملکوتی صفت سے مزین کرکے آسمان پر اٹھالیا گیا اس لئے وہاں بشری و طبعی ضروریات مثل اکل و شرب وغیرہ کی کوئی ضرورت لاحق نہ ہو ئی یا پھر طبعی موت مراد لے کر آیت میں تقدیم و تاخیر کا طریقہ جو کہ اہل علم کے ہاں معروف ہے اختیار کیا جائے گا کہ فی الحال تو رفع سماوی ہوگا پھر جب آپ زمین پر اتریں گے تو اپنی زندگی پوری فرما کر طبعی موت سے دوچار ہوں گے ۔گویا بہر صورت نظریہ رفع الیٰ السماءکا کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں ہوتا ۔
    نوٹ :مرزا اور قاضی بشیر نے کافی تقدیم و تاخیر پر شور شرابہ کیا اور ”تقدیم و تاخیر “کو تحریف قرار دیا اور قائلین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا(حمامتہ البشری ص 17،18 روحانی خزائن ص 196 ج 7۔ازالہ اوہام ص 924 تا 926)
    جبکہ مرزاخود کہتا ہے کہ ”واقعہ صلیبی تو مسیح علیہ السلام کو 33 برس کی عمر میں پیش آیا (تحفہ گولڑیہ ص210)۔۔۔۔۔اور وفات مسیح علیہ السلام ایک سو بیس یا ایک سو پچیس سال کی عمر میں ہوئی (خزائن ص 388 ج 14 ایام الصلح ص 143)۔۔۔۔ تو مرزا کے مطابق رفع روحانی 33 برس کی عمر میں ہوا ۔۔۔۔اور وفات 87 سال یا 92 سال بعد ہوئی ۔۔۔ تو مرزا تو خود اپنے قول سے بھی ”متوفیک“ اور” رافعک الیٰ“ کی ترتیب بدل گئی ۔۔جو کہ مرزا کے مطابق تحریف ہے ۔۔ اب بتلائیے مرزا خوداپنے ہی قول سے محرف قرآن ثابت ہوئے یا نہیں ؟؟
    • Like Like x 4
  8. ‏ اکتوبر 26, 2014 #8
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر
    لفظ "قد خلت" سے وفات مسیح علیہ السلام نہیں ثابت ہوتی

    ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ الخ اٰل عمران 144

    ترجمہ : اور محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم تو ایک رسول ہی ہیں بلاشبہ آپ سے پہلے بھی کئی رسول ہوچکے ہیں ،کیا پھر اگر آپ فوت ہوجائیں یا شھید ہوجائیں تو تم پچھلے پاﺅں (دین سے)پلٹ جاﺅگے ،یاد رکھو جو کوئی پچھلے پاﺅں پھر جائے تو وہ اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ نہیں سکتا (اور ایسے حادثات میں ثابت قدم وہ کر دین کے پابند اور خادم رہیں گے)توایسے شکر گذاروں اور قدردانوں کو اللہ تعالیٰ عنقریب ان کے بدلے اور صلے سے نوازے گا)

    یہ آیت کریمہ مرزا قادیانی کی پیش کردہ تیس آیات میں سے دوسری قسم کی ہے یعنی وہ آیات جن میں مسیح کی موت وحیات کا ذکر نہیں بلکہ بعض وجوہ کی بنا پر دوسرے انبیاءکا تذکر ہ ہے ۔۔۔مرزا صاحب نے اس عموم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام کو ان میں شامل کرکے محض سینہ زوری سے اپنا نظریہ(وفات مسیح علیہ السلام) ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
    الجواب:
    یہ آیت کریمہ واقعہ احد کے موقعہ پر نازل ہوئی جب گھاٹی والے حفاظتی دستے میں سے اکثر افراد نے اس خیال سے وہ مورچہ چھوڑ دیا کہ اب ہماری فتح مکمل ہوچکی ہے کفار کے کسی بھی حملہ کی کوئی توقع نہیں رہی لہذا یہاں کھڑے رہنا بلاضرورت ہے ،اس بنا پر جب انہوں نے وہ مورچہ چھوڑ دیا تو لشکر کفار کے ایک قابل ترین جرنیل خالد بن ولید (جو کہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) انہوں نے موقعہ پاکر اسی گھاٹی سے حملہ کردیا جس سے مسلمانوں کی فتح وقتی ہزیمت میں بدل گئی ہر طرف افراتفری پھیل گئی کئی اہم صحابہ کرام شہید ہوگئے حتی کہ اس یلغار میں آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم بھی زخمی ہوئے اس پر کفار نے افوہ پھیلادی کہ محمد(صلیٰ اللہ علیہ وسلم) شہید ہوگئے یہ سن کر کئی مسلمان ہمت ہار گئے لیکن آخر کار میدان کا رزار سیٹ ہوگیا اور کفار دوبارہ بھاگ کھڑے ہوئے تو اس موقعہ پر یہ خیال بھی پھیل گیا کہ( منافقین کی طرف سے ) کہ اگر آپ رسول برحق ہوتے تو کیوں شھید ہوتے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ فرمایا کہ موت رسالت کے منافی نہیں کہ رسول ہمیشہ زندہ ہی رہتا ہے ۔دیکھئے اس سے پہلے کئی رسول آئے مگر وہ دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
    تو گویا اس آیت سے میں یا ثابت کرنا ہے کہ رسالت اور موت میں منافاة نہیں لہذا اگر محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو ایسا ہوسکتا ہے جیسا کہ اس سے پہلے بھی یہ ہوتا رہا ہے لیکن پیغمبر کی تعلیم اور مشن رسول کا کوئی ذاتی معاملہ نہیں کہ اس کے فوت ہوجانے سے وہ بھی ترک کردیا جائے بلکہ وہ تو ایک الٰہی سلسلہ ہے ،چونکہ اللہ تعالیٰ حق قیوم ہے اور اس کی تعلیمات بھی باقی رہیں گی لہذا ایسے حوادث سے پریشان ہوکر بدل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اشاعت حق کی جدوجہد جاری رکھنا چاہیے اسے کسی بھی حالت میں منقطع یا مدہم نہیں ہونا چاہیے ۔
    آیت مبارکہ کا ماسبق و مالحق ملاحظہ فرما کہ اصل حقیقت ملاحظہ فرمائیں کہ یہاں تو محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شھادت عدم شھادت کا معاملہ ہے کہ آپ ابھی شہید نہیں ہوئے لیکن بالفرض آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم شہید ہوجائیں یا فوت ہوجائیں تو بھی تمہاری یہ بددلی مناسب نہ تھی کیوں کہ یہ جدوجہد تو خدائی تعلیمات کی راہ میں ہیں ۔
    فرمائیے کہ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و وفات کا مسئلہ کہاں آگیا ؟؟؟ (نہ عبارتہ ً نہ اشارتہً) نہ تم عموم و اقتضا سے یہ ثابت کرسکتے ہو کیوں کہ آپ کی حیات کے اثبات میں میں دیگر نصوص قطعیہ الگ موجود ہیں نیز بے شماراحادیث اور اجماع امت بھی جلوہ افروز ہے لہذا قادیانیوں کی یہ مغز ماری بے کار ہے ۔
    دوسری اہم بات یہ ہے کہ ”خلت“ کا معنی موت دنیا کی کسی لغت میں نہیں ۔
    قادیانی ”قد خلت “ کا معنی موت لیتے ہیں ۔۔۔جبکہ یہ معنی ہرگز ثابت نہیں ۔۔۔۔ہمارے محاورہ میں ”خلت “کا مفہوم گذرنا ہے ۔۔۔ ۔ دیکھئے محاورہ میں ”فضا “ کو ”خلاء“ کہتے ہیں ۔۔۔۔ازرﺅے لغت خلاءمکان یا زمان کی صفت ہے ۔۔۔اور ضمنا ان کے مظروف کی ۔۔۔۔امام لغت راغب اصفہانی متوفی 506 ھ اپنی مشہور زمانہ کتاب المفردات میں لکھتے ہیں کہ ”الخلا ایسے مقام کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی اوٹ کوئی تعمیر اور دیگر کوئی بھی چیز نہ ہو ۔۔۔۔اس کا استعمال زمان و مکان دونوں کے لئے ہوتا ہے ۔
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
    وَقَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِمُ الْمَثُلَاتُ الخ الرعد 6

    (ترجمہ :یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں)
    تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ الخ البقرہ 141

    (ترجمہ :یہ امت ہے جو گزرچکی)
    قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ الخ اٰ عمران 137

    (ترجمہ : تم سے پہلے بھی ایسے واقعات گزر چکے ہیں)
    وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ الخ فاطر 24

    (ترجمہ :اور کوئی امت ایسی نہیں گذری جس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گزرا ہو)
    وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم الخ البقرہ 214

    (ترجمہ :جبکہ ابھی نہیں پیش آئے تم کو احوال ان لوگوں کے سے جوہو گذرے ہیں تم سے پہلے )
    وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ الخ اٰل عمران 119

    (ترجمہ :اور جب تنہائی میں ملتے ہیں (باہم ) تو چبانے لگتے ہیں تم پر اپنی انگلیا ں مارے غصے کے)
    کیا ان تمام مقامات پر خلا کا معنی موت لیا جاسکتا ہے ؟؟؟۔۔۔چاہے اس کا صلہ الی ہو یا بہ ہو یا معہ ہو ۔۔۔نہیں بلکہ بنیادی معنی وہی خلو اور ترک ہی ہوگا ۔۔۔چناچہ صاحب المنجد نے بھی تمام تفصیل میں یہی مفہوم بیان کیا ہے ۔
    کیا مذکورہ بالا قرآنی امثلہ جیسے ”قد خلت من قبلھم المثلت “ ۔۔۔۔”قد خلت من قبلھم سنن“ وغیرہ میں معنی موت کا تصوربھی ہوسکتا ہے ؟؟؟

    ایسے ہی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے ” عشرہ خلون من شعبان “ ۔۔۔تو کیا معنی ہوگا ؟؟ گزرنا یا موت ؟؟؟
    گویا قادیانی معنی سراسر خلاف ہے اگر مجازا ہوبھی تو اس سے کیسے لازم آگیا کہ یہاں بھی معنی موت ہی ہے ۔۔کیوں کہ دیگر نصوص صریحہ قطیعہ نے آپ کا مرفوع الی السماءہونا واضح کردیا ہے لہذا موت لینا قطعا غیر معقول ہے ۔۔کیوں کہ قطعیت کے مقابلہ میں ظنیت نہیں ٹہر سکتی ۔

    ان ظن لا یغنی من الحق شیئا


    اور دوسرا قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ بالفرض اگر قد خلت کا مفہوم موت لے بھی لیا جائے تب بھی قادیانیوں کا مدعا ثابت نہیں ہوتا ۔۔۔ کیوں کہ قادیانیوں کا سمجھنا ہے” قبلہ الرسل“ میں الف لام استغراقی ہے ۔

    جبکہ بقول خود مرزا صاحب کے ہر جگہ کل استغراق کے لئے نہیں ہوتا ۔
    مرزا صاحب اپنی کتاب ”ایک عیسائی کے تین سوال کے جواب “میں”وما نرسل بالایات الا تخویفا “ کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہاں الف لام استغراقی نہیں ہے۔(دیکھئے ص 14)

    نیزمرزا لکھتا ہے کہ :”واذا الرسل اقنتاور جب رسول وقت مقررہ پر لوٹ جائیں گے ۔یہ اشارہ درحقیقت مسیح موعود کے آنے کی طرف ہے اور اس بات کا بیان مقصود ہے کہ وہ عین وقت پر آئے گا اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطمینان پایا جاتا ہے ۔۔۔۔اور اذا الرسل اقنت میں الف لام عہد خارجی پر دلالت کرتا ہے “(شھادہ القرآن ص 20 طبع لاہور )
    دیکھیے یہاں اکثر بھی نہیں بلکہ فرد واحد مراد لیا ہے ۔
    اب قرآن پاک سے مثال ملاحظہ فرمائیں :
    وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ۖ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ “البقرہ 87

    (ترجمہ :ہم نے (حضرت) موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے پیچھے اور رسول بھیجے اور ہم نے (حضرت) عیسیٰ ابن مریم کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی)
    فرمائیے یہاں بھی الرسل ہے تو کیا تمام کے تمام رسول موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہی آئے ۔۔۔ان سے پہلے کوئی نہیں آیا تھا؟؟
    اور پھر "البینات “ پر بھی الف لام ہے کیا یہ استغراقی ہے ۔۔۔۔کیا تمام کے تمام معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کو مل گئے اور کسی کو کوئی معجزہ نہ ملا ؟؟؟
    یہ ہے قادیانی علم ؟؟؟

    اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ ”من قبل الرسل “میں الف لام استغراقی نہیں کیوں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا استثناءنصوص قطعیہ سے ایک ثابت شدہ حقیقت ہے ۔۔۔ویسے بھی سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہے ۔۔۔موجب کلیہ نہیں ۔

    ۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔
    • Like Like x 4
  9. ‏ اکتوبر 27, 2014 #9
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر

    لرفع ضد الوضع(المجند ص 272) یعنی رفع یعنی اٹھانا رکھنے کی ضد ہے
    امام الغتہ امام راغب لکھتے ہیں کہ ”اٹھانا کبھی تو نیچے رکھے ہوئے اجسام کو ان کی جگہ سے اوپر اٹھانے کو کہا جاتا ہے جیسے فرمایا
    ورفعنا فوقکم الطور اور ہم نے تم پر طور پہاڑ کو اٹھایا۔

    یعنی کوہ طور کو اٹھا کر تمہارے اوپر مثل سائبان کے کردیا۔
    ازالہ تجوز کے لئے فرمایا کہ طور کو ہم نے حقیقتا اوپر اٹھانا۔۔۔ نہ کہ مجازا ۔۔۔اور کبھی لفظ رفع کسی چیز کی عظمت اور درجہ کی بلندی کے لئے بولا جاتا ہے ۔۔۔جیسا کہ ”ورفعنا لک ذکرک ۔

    وقولہ تعالیٰ بل رفعہ اللہ الیہ یحتمل رفعہ الیٰ السماءورفعہ من حیث التشریف (ص 991)
    یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بل رفع اللہ الیہ کا مفہوم دونوں معانی کو جامع ہے ۔۔رفع جسمانی اور رفع مرتبہ کے لئے بھی ۔
    یعنی آپ کو آسمان پر بھی اٹھایا گیا اور عظمت وشان بھی دی گئی ۔۔۔۔ظاہر ہے کہ یہ رفع سماوی برائے رفع درجات ہے جیسے کسی آنے والے کو کرسی یا چارپائی وغیرہ کے اوپر بٹھاتے ہیں تو مقصود اکرام ہی ہوتا ہے ۔۔۔مگر اس سے حسی طور پر بٹھانے کی نفی نہیں ہوتی۔۔بلکہ دونوں کا اثبات ہے ۔
    قرآن پاک میں ’’رفع “ کا لفظ قرآن مجید میں کل مختلف صیغوں کی صورت میں 39 مرتبہ استعمال ہوا ہے حقیقی معنوں میں 27 مرتبہ اور مجازی معنوں میں یعنی رفع درجات کے معنوں میں 12 دفعہ ۔
    حقیقی معنی کی چند مثالیں:

    اللَّـهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا الخ الرعد 2

    أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا ﴿٢٧﴾ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا الخ النازعات 28
    وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ الخ البقرة 63
    وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ الخ النساء154
    وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ الخ یوسف 100
    مجازی معنی کی چند مثالیں :
    وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ الخ الانعام 165

    وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ الخ البقرة253
    وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ الخ الزخرف32
    نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ الخ یوسف 76
    يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ الخ مجادلہ 11
    نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُالخ الانعام 83
    ملاحظہ فرمائیے کہ جہاں جہاں رفع مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہے وہاں ساتھ اس کا قرینہ لفظ درجات مذکور ہے اور جہاں حقیقی معنوں میں مستعمل ہے وہاں بلاقرینہ استعمال ہوا ہے ۔
    اب اس کا مقابل لفظ ”وضع“ ہے جو کہ قرآن مجید میں کل 26 مرتبہ استعمال ہوا ہے اور وہ بھی دونوں معنوں میں مثلاً
    والسماءرفعھا۔۔۔۔۔والارض وضعھا للانام(الرحمن )۔۔۔۔ایسے ہیں ”خافضة رافعہ “۔۔۔۔دیکھئے دونوں لفظ (رفع۔وضع) بالمقابل حقیقی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں

    ایسے ہی حدیث میں سوتے وقت کی ایک دعا یوں منقول ہے ”الھم باسمک ربی وضعت جنبی وبک ارفعہ “(مسلم بحوالہ مشکوة ص 481)۔۔۔۔۔یہاں فرمان رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں بھی دونوں لفظ وضع اور رفع بالمقابل حقیقی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں ۔
    قادیانی اعتراف ۔۔۔قادیانی قاضی نذیر بھی لکھتے ہیں کہ ”الرفع ضد الوضع “(تعلیمی پاکٹ بک ص 23)
    تو معلوم ہوا کہ اس لفظ کا معنی ماوضع لہ اور حقیقی یہی ہے کہ کسی مادی چیز کو اس کی جگہ سے اوپر اٹھالینا اور اس کے مقابلے میں کسی اٹھائی ہوئی چیز کو نیچے کسی جگہ پر رکھ دینا "وضع" کہلاتا ہے ۔۔۔
    لہذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو ”ورفعک الی“ اور ” بل رفعہ اللہ الیہ “آیا ہے تو بالاتفاق اہل اللغة و التفسیر یہی مفہوم ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بمع جسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھالیا نہ کہ آپ کو موت دے کر آپ کی روح کو اٹھالیا اور عزت و شرف سے نوازا آخر آپ پیغمبر برحق ہیں آپ کی عزت و عظمت تو بہر حال مسلم ہے اس میں تو کسی کو رتی برابر بھی شبہ نہیں نہ عیسائیوں کو اور نہ ہم کو ۔۔۔۔پھر اللہ تعالیٰ نے جو آپ کے حق میں لفظ رفع استعمال فرمایا ہے اور پھر اس کے بعد ”وکان اللہ عزیزا حکیما “ بھی فرمایا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ رفع روحانی نہیں بلکہ جسمانی ہے جو زبردست قدرت کا مظہر اور خدائی حکمتوں کا شاہکار ہے عام رفع مراد نہیں جو ہر ولی تو کجا ہر مومن کو بھی حاصل ہے ۔۔جیسے فرمایا ”من تواضع للہ رفعہ اللہ “ اور مندرجہ بالا رفع روحانی کی متعلقہ آیات قرآنی اس میں آپ کی کیا تخصیص ہے جو اس اہتمام سے اس کا ذکر کیا جارہا ہے ؟؟
    ۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔
    آخری تدوین : ‏ اکتوبر 27, 2014
    • Like Like x 4
  10. ‏ اکتوبر 29, 2014 #10
    ناصرنعمان

    ناصرنعمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 20, 2014
    مراسلے :
    13
    موصول پسندیدگیاں :
    56
    نمبرات :
    13
    جنس :
    مذکر

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول پر چند علمی نکات

    حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانہ رسالت میں عیسائیوں کے مشہور اور مسلم عقائد یہ تھے :

    وہ خدا اور اس کے بیٹے ہیں
    باپ بیٹا روح القدس ۔تین خدا ہیں اور ان کے مجموعہ کو وہ تثلیث کہتے تھے
    وہ کفار ہ ادا کرنے کے لئے مصلوب ہوگئے
    وہ آسمان پر زندہ اٹھائے گئے
    تو قرآن مجید نے ان کے ان نظریات کے متعلق فیصلہ دیتے ہوئے ان کے باطل عقائد کی نفی فرمائی ۔۔۔مثلا
    وہ خدا نہیں نہ اس کے بیٹے ہیں بلکہ وہ
    إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ الخ(الزخرف 59)

    ترجمہ :وہ خدا کے مقبول بندے تھے
    ان سے اعلان بھی کروایا کہ
    قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّـهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا الخ“(مریم 30)

    ترجمہ(بچہ نے)کہا میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطاءفرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایاہے
    لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ الخ (المائدہ 17)

    ترجمہ:یقیناً وه لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے،
    يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّـهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّـهُ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ الخ (النساء171)

    یعنی اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو، مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شده) ہیں، جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں اس لئے تم اللہ کو اور اس کے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں، اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لئے بہتری ہے، اللہ عبادت کے ﻻئق تو صرف ایک ہی ہے اور وه اس سے پاک ہے کہ اس کی اوﻻد ہو،
    ملاحظہ فرمائیے ان کے تمام عقائد پر تبصرہ فرماتے ہوئے مندرجہ ذیل نظریات کی تردید فرمائی کہ
    مسیح انسان ہے خدا نہیں

    وہ خدا کا بیٹا نہیں بلکہ مریم کا بیٹا انسان ہے۔اور خدا کا برگزیدہ نبی ہے ۔۔۔
    تین خدا نہیں بلکہ ”انما اللہ الہ واحد “خدا تو صرف ایک ہی ہے باقی سب اس کی مخلوق ہے

    اس طرح عقیدہ صلیب کے متعلق وضاحت فرمادی کہ ”وما قتلو وما صلبوہ “کہ یہود نہ تو آپ کو قتل کرسکے اور نہ ہی سولی چڑھاسکے
    گویا ان کے تمام غلط نظریات کی موکدہ طور پر تردید فرمادی ۔۔مگر ان کے عقیدہ رفع جسمانی پر کوئی تنبیہ نہیں فرمائی ۔۔۔
    بلکہ مزید تصدیق و تائید فرمادی کہانی رافعک الی“ اور ”بل رفع اللہ الیہ
    جبکہ باقی عقائد کا نامزد رد فرمایا ۔۔۔لیکن اس کا رد نہیں بلکہ انہیں الفاظ میں تصدیق فرمائی

    تو اس تقابل سے واضح ہوگیا کہ ان کا عقیدہ رفع جسمانی بالکل صحیح اور مطابق حقیقت ہے۔

    ۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔
    • Like Like x 3

اس صفحے کی تشہیر