1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت مرزا قادیانی کی نظر میں

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'احادیثِ نزول و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 19, 2015

  1. ‏ اگست 19, 2015 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ ستمبر 15, 2014
    مراسلے :
    156
    موصول پسندیدگیاں :
    104
    نمبرات :
    43
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    جرنلسٹ ، درس نظامی سٹوڈنٹ۔ معلم
    مقام سکونت :
    کھڈیاں خاص تحصیل و ضلع قصور
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت مرزا قادیانی کی نظر میں
    سلامی عقیدے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کم وبیش سوالاکھ انبیاء کرام علیھم السلام دنیا میں بھیجے گئے ہیں۔ اسلام میں ان تمام پر ایمان اور انکی تعظیم و تکریم ضروری ہے اور کسی بھی نبی کی شان میں ادنیٰ توہین بھی انسان کو کفر کی اتھاہ گہرائیوں میں پٹخ دیتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے تمام انبیاء کرام علیھم السلام کی توہین کی اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہ زبان استعمال کی کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ آپ بھی دل تھام کر مندرجہ ذیل حوالہ جات پڑھیے۔

    خدانے اس وقت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔
    (خزائن ج 22 ص152)

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔
    (خزائن ج 11 ص290)

    یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا سبب تو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیاکرتے تھے۔
    (خزائن ج 11 ص291)

    عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔
    (خزائن ج 11ص291)

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بن باپ اور حضرت مریم علیھا السلام کی پاک دامنی کا انکار:
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر صاحب شریعت پیغمبر ہیں۔ جیسے آپ کی نبوت کی زندگی معجزات سے پُر ہے ایسے ہی آپ کی ولادت بھی معجزہ ہے۔ کیونکہ آپ بن باپ پیدا ہوئے جس کا تفصیلی ذکر سورۃ مریم میں ہے۔ جبکہ مرزاقادیانی نے نا صرف آپ کی ولادت بن باپ کا انکار کیا ہے بلکہ آپ کی ولادت کا بڑے گستاخانہ طریقہ سے استہزاء کیا ہے اور ایسے ہی آپ کی والدہ ماجدہ جناب مریم صدیقہ مطہرہ علیھا السلام کی پاکدامنی کا انکار کرتے ہوئے یہودیوں کے بھی کان کترے ہیں۔

    قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت مریم علیھاالسلام کے یوسف نجار نامی شخص سے تعلقات تھے۔ جس کے نتیجے میں حضرت مریم علیھا السلام کو عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ہوا۔ پھر بدنامی سے بچنے کے لیے حضرت مریم کا یوسف نجار سے نکاح کروادیاگیا۔ مرزاقادیانی، حضرت مریم کا یوسف نجار کے ساتھ قبل نکاح پھرنے کے متعلق لکھتاہے کہ حضرت مریم کا اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔
    (خزائن ج 14 ص300)

    جب چھ سات ماہ کا حمل نمایاں ہوگیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نجار سے نکاح کردیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ بعد مریم کا بیٹا ہوا وہی عیسیٰ یایسوع کے نام سے موسوم ہوا۔
    (خزائن ج 20 ص355)

    مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھربزرگوں کے نہایت اصرار پر بوجہ حمل کے نکاح کرلیا۔
    (خزائن ج19ص18)
    اور قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت مریم اور یوسف نجار کے نکاح سے مزید اولاد بھی پیدا ہوئی ہے مرزا قادیانی لکھتاہے کہ:

    یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔
    (خزائن ج19 ص18)

    وہ مسیح ہرطرح عاجزہی عاجز تھا۔ مخزج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے، تولدپاکر مدت تک بھوک، پیاس، درد اور بیماری کا دکھ اُٹھاتارہا۔
    (خزائن ج 1 ص 441,442)

    جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہاکیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں۔۔۔ تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قوی سے محروم ہونے پر دلالت کرتاہے۔
    (خزائن ج 20 ص356)

    مسیح علیہ السلام کا معجزہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔
    (خزائن ج3ص254)

    مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے، جو مسیح کی ولادت سے قبل بھی مطہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار تمام محذام، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے۔
    (خزائن ج3ص263)
    دوسری جگہ لکھتاہے کہ:

    اسی تالاب نے فیصلہ دیاکہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہرہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھوں میں سوائے مکروفریب کے اورکچھ نہیں تھا۔
    (خزائن ج11 ص 291)
  2. ‏ مارچ 6, 2017 #2
    غلام مصطفی

    غلام مصطفی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اگست 8, 2016
    مراسلے :
    55
    موصول پسندیدگیاں :
    2
    نمبرات :
    8
    حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑ جو اسلام کی اشاعت اور احیا ء کے واسطے مسیح موعود و مہدی موعودؑ ہوکر مبعوث ہوئے انہوں نے اسلام اور بانی اسلام پر ہونے والے حملوں کا جواب دیا اور عیسائیوں کو جو اس وقت سب سے زیادہ نبی کریمﷺ کو گا لیاں دینے اور آپ کی سیرت پر حملہ آور تھے اور اسلام کی بیخ کنی کے واسطے سر گرم تھے ان کو انہی کی کتاب سے ان کے یسوع کے بارہ میں بتا کر انہیں خاموش کروایا۔اور آپ نے اس سے حضرت عیسیٰ ؑ کی جو نبی اللہ تھے توہین کی بلکہ ایسے یسوع مسیح کی حقیقت ان پر آشکار کی جس کو وہ اناجیل میں پاتے تھے۔آپؑ تو اناجیل کو محرف و مبدل مانتے تھے اس وجہ سے آپ کا انہیں ان کا چہرہ دکھانا صرف اور صرف اناجیل کی روشنی میں تھا۔
    جو حوالہ جات دئے ہیں ان کا بالترتیب مختصر جواب
    ۱۔نبی کریمﷺ تمام انبیاء بشمول حضرت موسیٰ ؑ سے افضل نبی تھے۔حضرت عیسیٰؑ حضرت موسی ٰؑ کے امتی نبی تھے جبکہ آنے والا مسیح موعودؑ حضور نبی کریم ﷺ کا امتی تھا۔اب آپ خود ہی بتائیے کہ حضرت موسیٰ ؑ کا امتی مسیح افضل ہوگا یا نبی کریمﷺ کا امتی مسیح؟
    ۲۔ایسا انجیل میں لکھا ہے جب ان سے لوگوں نے معجزہ مانگا تو یہ جواب دیا۔یہ حضرت صاحب نے اپنی طرف سے نہیں لکھا۔
    ۳۔اناجیل میں کئی مقامات پر یسوع کے شراب پینے کا ذکر آتا ہےجس کو لیکر یورپ نے ان کی سنت پر عمل کیا ہے۔ایسا اناجیل کی روشنی میں لکھا ہے
    ۴۔ایسا بائبل میں لکھا ہے حضرت صاحب نے کوئی تاریخ اپنی طرف سے نہیں بنائی۔الزام دینا ہے تو بائبل کو دیں۔
    ۵۔اناجیل کا مطالعہ اگر کیا ہوتا تو ایسے اعتراضات کی نوبت نہ آتی۔یہ سب اناجیل میں لکھا ہے حضرت مریمؑ اور یوسف نجار کے بارہ میں اور یہ ساری داستان
    ۶۔۹ یہ سب بھی اناجیل میں لکھا ہے۔

اس صفحے کی تشہیر