1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حقیقت

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 8, 2015

  1. ‏ مئی 8, 2015 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    اے انسان ذرا اپنی اس حقیقت پر بھی تو غور کر کہ تجھے کِس چیز سے پیدا کیا گیا ہے پھر تجھے اپنے آپ پر یہ غرور اور گھمنڈ کیسا ہے ،کیا تجھے یہی بات خسارے میں ڈالے ہوئے ہے کہ تجھے اللہ نے بہت سارا مال و دولت دے رکھی ہے تجھے لوگوں میں شہرت دے رکھی ہے لوگ تمہارا احترام کرتے ہیں یاد رکھ جواپنے اللہ کی نعمتوں پر شکر کے بجائے غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اتراتا پھرتا ہے پھر وہ کہیں کا بھی نہیں رہتا نہ دنیاکا اور نہ آخرت کا ، پھر اس کا جو بھی حصہ ہوتا ہے وہ اس کو دنیاnمیں ہی دے دیا جاتا ہے اور آخرت میں اس کا کچھ بھی حصہ نہیں بچتا ۔ کامیابی تو یہ ہے کہ دنیاوی کاموں کے ساتھ ساتھ اس کریم رب کو بھی یاد رکھا جائے ۔ اس کا شکر ادا کیا جائے کہ اے اللہ میں اس قابل تو نہیں تھا کہ جتنی تو نے مجھے نعمتیں عطا کر رکھی ہیں ۔ ہم لوگ نعمت کے ملنے پر اس کریم رب کو اس طرح بھول جاتے ہیں کہ وه یاد ہی نہیں رہتا اور جب کوئی دکھ تکلیف مصیبت آن پڑتی ہے تو ایسا وایلا کرتے ہیں کہ جیسے اللہ نے ہم پر کوئی آفت نازل کر دی ہو ،جان رکھو کہ تم جیسے اعمال کرو گے ویسا ہی انجام پاؤ گے ہاں یہ الگ بات ہے کہ کچھ دکھ پریشانیاں اور مصیبتیں صرف اس لیے آتی ہیں کہ وہ ہماری آزمائشیں ہوتی ہیں اور وقتی ہوتی ہیں تا کہ ہم اس کریم رب کے قریب ہوجائیں اور اس سے رجوع کر لیں اور اس سے تعلق قائم کر لیں ۔ اس کریم رب نے ہمیں اتنی نعمتیں دے رکھی ہیں اور ہم سے اتنا نہیں ہو سکتا کہ اس نے جو ہم پربنمازیں فرض کی ہیں وہی پڑھ لیں ، یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیں کہ کچھ نیک کام انگریز بھی کر رہے ہیں غریبوں کی مدد بھی کر رہے ہیں لیکن ان کا یہ عمل ان کو جنت میں ہرگز نہیں لے کر جا سکتا جب تک وہ اللہ کو نہ مان لیں جب تک وہ اس کے احکامات کو نہ مان لیں ہم سےاکثرر ان لوگوں کو جن کو اللہ نے بہت سارا مال دے رکھا ہے اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ نماز پڑھی یا نہ پڑھی صدقہ خیرات کر دیا بس یہی بہت ہے ، روزے رکھے یا نہ رکھے کفارا ادا کر دیا یہی بہت ہے حالانکہ روزے کے متعلق یہاں تک حکم ہے کہ اگر کوئی بیماری کی حالت میں بھی ہے تو جب تک وہ بیمار ہے روزے نہ رکھے لیکن جب تندرست ہوجائے ت وجتنے روزے قضاء ہوئے ہوں اتنے ہی دوبارہ رکھے لیکن یہ بات کہیں پر بھی آپ کو نہیں ملے گی کہ ایک تندرست آدمی جان بوجھ کر روزے نہ رکھے اور کفارا کو ہی کافی جانے یہ بالکل بھی ممکن نہیں ہے ۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے اللہ پاک نے دین اسلام میں بہت آسانی رکھی ہے اصل وجہ یہ ہے کہ ہم دنیا کے جھمیلوں میں اتنے پھنس چکے ہیں کہ ہمیں دین اسلام کے کسی ایک حکم پر بھی چلنے میں جھجک محسوس ہوتی ہے مشکل محسوس ہوتی ہے ۔ ٹھیک ہے کہ زمانے کے ساتھ ساتھ بھی چلنا ہے لیکن اپنے طور طریقے تو دین اسلام کے مطابق رکھیں شرم وحیاء کو ملحوظ خاطر رکھیں ۔ مغرب کے قدموں پرقدم نہ رکھیں کیوں کہ مغرب شیطان کا دوسرا ساتھی ہے اس نے کبھی بھی مسلمانوں کو سیدھے راہ پر نہیں لگنے دینا ہمیں اپنے بارے میں اپنے خاندان کے بارے میں اپنے معاشرے کے بارے میں خود سوچنا ہوگا اپنی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھانی ہونگی تبھی ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں ورنہ یہ دنیا کی وقتی طاقتیں وقتی شہرتیں نہ اس سے پہلے باقی رہی ہیں اورنہ آئندہ رہیں گی ۔ اللہ پاک سب سے پہلے تومجھے اس بات کی توفیق دے کے میں اپنے آپ کو سنوار سکوں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکوں اور پھر اللہ پاک آپ سب کو بھی اس کام کے لیے اپنی راہ میں قبول فرمائے آمین ثمہ آمین

اس صفحے کی تشہیر