1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیاتِ عیسی علیہ السلام پر قرآنی دلیل2 (اذ قال الله يعيسى اني متوفيک و رافعک(آل عمران:۵۵))

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 1, 2015

  1. ‏ فروری 1, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قرآن شریف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حیات ورفع جسمانی کا ثبوت نمبر 2
    ۱… آیت : آلعمران : 55
    آیت اعراب کے ساتھ:
    اِذْ قَالَ اللہُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَہِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْہِ تَخْتَلِفُوْنَ۝۵۵
    آیت اعراب کے بغیر:
    اذ قال الله يعيسى اني متوفيک و رافعک الي و مطهرک من الذين کفروا و جاعل الذين اتبعوک فوق الذين کفروا الى يوم القيمة ثم الي مرجعکم فاحکم بينکم فيما کنتم فيه تختلفون آیت 55
    ۱… ’’ (آل عمران:۵۵)‘‘
    ہم اس آیت کریمہ کا ترجمہ اس مفسر اعظم کی زبان سے بیان کرتے ہیں جن کو قادیانی اور لاہوری، صدی ششم کا مجدد اعظم قرار دے چکے ہیں اور دنیائے اسلام میں وہ امام فخرالدین رازی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ تفسیر کبیر میں بذیل آیت کریمہ فرماتے ہیں اور قریباً سات سو (۷۰۰) سال پیشتر قادیانیوں کے الحاد اور تحریف کا جواب دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
    ’’ووجد ہذا المکر اذ قال اﷲ ہذا القول (انی متوفیک) ومعنیٰ قولہ تعالیٰ انی متوفی ای متمم عمرک فحینئذ اتو فاک فلا اترکہم حتیٰ یقتلوک بل انا رافعک الیٰ سمائی ومقر ملائکتی واصونک ان یتمکنوا من قتلک وہذا تاویل حسن… ان التوفی اخذ الشیٔ وافیا ولما علم اﷲ ان من الناس من یخطر ببالہ ان الذین رفعہ ہو روحہ لا جسدہ ذکر ہذا الکلام لیدل علیٰ انہ علیہ الصلوت والسلام رفع بتمامہ الیٰ السماء بروحہ وبجسدہ… وکان اخرجہ من الارض واصعادہ الیٰ السماء توفیا لہ فان قیل فعلیٰ ہذا الوجہ کان التؤفی عین الرفع الیہ فیصیر قولہ ورافعک الیّٰ تکرارا قلنا قولہ انی متوفیک یدل علیٰ حصول التوفی وھو جنس تحتہ انواع بعضہا بالموت وبعضہا بالاصعاد الیٰ السماء فلما قال بعد ورافعک الیّٰ کان ہذا تعیینا للنوع ولم یکن تکرارا… ومطہرک من الذین کفروا والمعنی مخرجک من بینہم ومفرق بینک وبینہم‘‘
    (تفسیر کبیر جز۸ ص۷۱،۷۲)
    امام رازی مجدد صدی ششم فرماتے ہیں: ’’اور یہ مکر الٰہی اس وقت پایا گیا جب کہ کہا خدا نے انی متوفیک اور انی متوفیک کے معنی ہیں (اے عیسیٰ) میں تیری عمر پوری کروں گا اور پھر تجھے وفات دوں گا۔ پس میں ان یہود کو تیرے قتل کے لئے نہیں چھوڑوں گا۔ بلکہ میں تجھے اپنے آسمان اور ملائکہ کے مقر کی طرف اٹھا لوں گا اور تجھ کو ان کے قابو میں آنے سے بچالوں گا اور یہ تفسیر نہایت ہی اچھی ہے… تحقیق توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو ہر لحاظ سے اپنے قابو میں کر لینا اور کیونکہ اﷲتعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض آدمی (سرسید علی گڑھی اور مرزاغلام احمد قادیانی وغیرہم) خیال کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم نہیں بلکہ روح اٹھائی گئی تھی۔ اس واسطے انی متوفیک کا فقرہ استعمال کیا تاکہ یہ کلام دلالت کرے۔ا س بات پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم بمعہ روح آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے۔ ان کی توفی کے معنی زمین سے نکل کر آسمان کی طرف اٹھایا جانا ہے اور اگر کہا جائے کہ اس صورت میں تو توفی اور رفع میں کوئی فرق نہ ہوا بلکہ دونوں ہم معنی ہوئے اور اگر ہم معنی ہوئے تو پھر رافعک الیّٰ کا فقرہ بلا ضرورت تکرار کلام میں ثابت ہوا۔ (جس سے کلام اﷲ پاک ہے) جواب اس کا ہم یہ دیتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ کے قول انی متوفیک سے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کا اعلان کرنا ہے اور توفی ایک عام لفظ ہے جس کے ماتحت بہت قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک توفی موت کے ساتھ ہوتی ہے اور ایک توفی آسمان کی طرف بمعہ جسم اٹھالینا ہے۔ پس جب ’’انی متوفیک‘‘ کے بعد اﷲتعالیٰ نے فرمایا ’’ورافعک الیّٰ‘‘ تو اس فقرہ سے توفی کی ایک قسم مقرر ومعین ہوگئی (یعنی رفع جسمانی) پس کلام میں تکرار نہ رہا اور ’’مطہرک من الذین کفروا‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ میں تجھے ان یہود کی صحبت سے جدا کرنے والا ہوں اور تیرے اور ان کے درمیان علیحدگی کرنے والا ہوں۔‘‘ ختم ہوا ترجمہ تفسیر کبیر کا۔

    ۲… تفسیر از امام جلال الدین سیوطیؒ جن کو قادیانی اور لاہوری دونوں مجدد صدی نہم ماننے کے علاوہ اس مرتبہ کا آدمی سمجھتے ہیں کہ:
    ’’وہ آنحضرتﷺ سے بالمشافہ مسائل متنازع فیہ پوچھ لیا کرتے تھے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
    ’’اذ قال اﷲ یا عیسیٰ انی متوفیک (قابضک) ورافعک الیّٰ (من الدنیا من غیر موت) ومطہرک (مبعدک) من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک (صدقوا نبوتک من المسلمین والنصاریٰ) فوق الذین کفروا بک وہم الیہود یعلونہم بالحجۃ والسیف‘‘
    (تفسیر جلالین ص۵۲)
    ’’جب کہا اﷲتعالیٰ نے اے عیسیٰ علیہ السلام! میں تجھ کو اپنے قبضہ میں کرنے والا ہوں اور دنیا سے بغیر موت کے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے الگ کرنے والا ہوں کافروں کی صحبت سے اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک دلائل اور تلوار سے غالب رکھنے والا ہوں۔‘‘

    دیگر مجددین امت نے بھی اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی ہی کو ثابت کیا ہے۔ ایک مجدد یا محدث بھی ایسا پیش نہیں کیاجاسکتا جس نے اس آیت میں رفع کے معنی رفع روحانی کئے ہوں۔ ہاں بعض بزرگوں نے اس آیت میں توفی کے مجازی معنی یعنی موت دینا اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔ مگر ساتھ ہی تقدیم وتاخیر کی شرط لگا کر پھر بھی رفع جسمانی کے قائل رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ لیجئے! اس کے متعلق بھی ہم صرف تین مجددین کے اقوال پیش کرتے ہیں۔ جن کا رد کرنے والا مرزاقادیانی کے فتویٰ کی رو سے فاسق ہو جائے گا۔

    ۱… امام فخرالدین رازی مجدد صدی ششم کا ارشاد ملاحظ ہو:
    ’’وقولہ رافعک الیّٰ یقتضی انہ رفعہ حیا والوا ولا تقتضی الترتیب فلم یبق الا ان یقول فیہا تقدیم وتاخیر والمعنیٰ انی رافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالی ایاک فی الدنیا ومثلہ من التقدیم والتاخیر کثیر فی القرآن‘‘
    (تفسیر کبیر ج۸ ص۷۲)
    ’’قول الٰہی رافعک الیّٰ تقاضا کرتا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے آپ کو زندہ اٹھا لیا اور واؤ ترتیب کا تقاضا نہیں کرتی۔ پس سوائے اس کے کچھ نہ رہا کہ کہا جائے کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہے اور معنی یہ ہیں کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار سے بالکل پاک وصاف رکھنے والا ہوں اور تجھے دنیا میں نازل کرنے کے بعد فوت کرنے والا ہوں اور اس قسم کی تقدیم وتاخیر قرآن شریف میں بکثرت ہے۔‘‘
    اس سے ذرا پہلے فرماتے ہیں:
    ’’ان الواو فی قولہ متوفیک ورافعک الیّٰ لا تفید الترتیب فالایۃ تدل علیٰ انہ تعالیٰ یفعل بہ ہذہ الافعال فاما کیف یفعل ومتی یفعل فالامر فیہ موقوف علیٰ الدلیل وقد ثبت الدلیل انہ حی وورد الخبر عن النبیﷺ انہ سینزل ویقتل الدجال ثم انہ تعالیٰ یتوفاہ بعد ذالک‘‘
    (تفسیر کبیر ج۸ ص۷۱،۷۲)
    ’’واؤ عاطفہ جو اس آیت میں ہے وہ مفید ترتیب نہیں۔ یعنی وہ ترتیب کے لئے نہیں۔ پس یہ آیت صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سب معاملات کرے گا۔ لیکن کس طرح کرے گا اور کب کرے گا۔ پس یہ سب کچھ کسی اور دلیل پر موقوف ہے اور اس کی دلیل ثابت ہوچکی ہے کہ آپ زندہ ہیں اور نبیﷺ سے حدیث وارد ہے کہ آپ ضرور اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر اﷲتعالیٰ آپ کو اس کے بعد فوت کرے گا۔‘‘

    ۲… امام سیوطیؒ مجدد صدی نہم فرماتے ہیں:
    ’’عن الضحاکؒ عن ابن عباسؓ فی قولہ انی متوفیک ورافعک الیّٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان‘‘
    (درمنثور ج۲ ص۳۶)
    ’’حضرت ضحاکؒ تابعی حضرت ابن عباسؓ سے قول الٰہی انی متوفیک ورافعک الیّٰ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ مراد اس جگہ یہ ہے کہ تجھے اٹھا لوں گا۔ پھر آخری زمانہ میں فوت کروں گا۔‘‘

    ۳… تفسیر از علامہ محمد طاہر گجراتی مصنف مجمع البحار جن کو قادیانی مجدد صدی دہم تسلیم کرتے ہیں۔
    ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ علی التقدیم والتاخیر… ویجییٔ اخر الزمان لتواتر خبر النزول‘‘ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں تقدیم وتاخیر ہے۔ یعنی معنی یہ ہیں کہ میں تجھے اوپر اٹھانے والا ہوں اور پھر فوت کرنے والا ہوں… حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں دوبارہ آئیں گے۔ کیونکہ احادیث نبوی نزول کے بارہ میں تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔
    غرضیکہ تمام علماء اسلام سلف وخلف کا یہی مذہب ہے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا اعلان کر رہی ہے۔ اگر قادیانی امت ۱۳صدیوں کے علماء مجددین میں سے ایک مجدد بھی ایسا پیش کر سکے۔ جس نے اس آیت میں رفع سے مراد رفع روحانی لیا ہو۔ تو ہم انعام مقررہ کے علاوہ اعلان کرتے ہیں کہ ایک سال تک تردید مرزائیت کا کام چھوڑ دیں گے۔ جب یہ طے ہوگیا کہ تیرہ صدیوں کے مجددین امت (جن کی فہرست قادیانیوں کی مایہ ناز کتاب (عسل مصفیٰ ج۱ ص۱۶۲،۱۶۵) پر لکھی ہے) میں سے ایک بھی اس رفع کے معنی رفع روحانی نہیں کرتا۔ بلکہ تمام کے تمام اس کے معنی رفع جسمانی پر ایمان رکھتے ہیں تو جو آدمی ان کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گا وہ قادیانی فتویٰ کی رو سے فاسق ہو جائے گا۔

    (قادیانی اصول نمبر۴)

اس صفحے کی تشہیر