1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حیات عیسیؑ پر احادیث ( عیسیٰ بیٹا مریم کا ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان)

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 1, 2015

  1. ‏ اپریل 1, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( عیسیٰ بیٹا مریم کا ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان)


    حدیث نمبر:۳…
    ’’عن عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ قال قال رسول اﷲﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبروا حدبین ابی بکر وعمر رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفائ‘‘
    (مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام)
    ’’عمرو بن العاصؓ فاتح مصر کے بیٹے حضرت عبداﷲؓ صحابی رسول کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے زمین کی طرف نازل ہوں گے۔ پس نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس برس تک رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور میرے پاس میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ بیٹا مریم کا ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان۔‘‘
    تصدیق صحت حدیث
    ۱… یہ حدیث بیان کی ہے امام ابن جوزی نے جو قادیانیوں کے نزدیک چھٹی صدی میں تجدید دین کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور ان کے منکر کا کافر اور فاسق ہونا قادیانیوں کے نزدیک مسلم ہے۔
    (شہادۃ القرآن ص۴۰۸، خزائن ج۶ ص۳۴۴)
    ۲… پھر اس حدیث کی صحت کو خود مرزاقادیانی اور اس کی جماعت نے اپنی مندرجہ ذیل کتابوں میں بڑے زور سے صحیح تسلیم کر لیا ہے۔
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷، کشتی نوح ص۱۵، خزائن ج۱۹ ص۱۶، نزول المسیح ص۳، خزائن ج۱۸ ص۳۸۱، حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰، ضمیمہ حقیقت الوحی ص۵۱ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۶۷۴، عسل مصفی ج۲ ص۴۴۰،۴۴۱)
    ۳… مرزاقادیانی کے علاوہ خود مرزامحمود احمد نے بھی اس کی صحت کو اپنی کتاب انوار خلافت کے ص۵۰ پر قبول کر لیا ہے۔
    ناظرین! قادیانی مسلمات سے جب ثابت ہوچکا کہ یہ حدیث رسول کریمﷺ کے مبارک الفاظ ہیں تو اب جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا انکار کرے کیا وہ مسلمان ہوسکتا ہے؟ ذرا نتائج پر غور کیجئے۔
    ۱… آپ نے صرف حضرت مسیح علیہ السلام کا نام عیسیٰ نہیں فرمایا بلکہ ساتھ ہی فرمایا مریم کا بیٹا۔
    ۲… پھر یہ نہیں فرمایا کہ وہ پیدا ہوگا۔ بلکہ فرمایا کہ وہ زمین کی طرف نازل ہوگا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس ارشاد کے وقت زمین سے باہر تھے۔
    ۳… اس کے بعد فرمایا کہ نزول کے بعد آپ نکاح کریں گے اور آپ کے ہاں اولاد بھی ہوگی۔ سب جانتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفع سے پہلے نکاح نہیں کیا تھا۔ پھر یہ نکاح نزول کے بعد ہی ہوگا۔
    نوٹ: مرزاقادیانی یہاں نزول سے مراد ماں کے پیٹ سے باہر نکلنا لیتے ہیں۔ اگر خلاف قرآن وحدیث یہ بات صحیح بھی تسلیم کر لی جائے تو مرزاقادیانی کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ پیدا ہوتے ہی عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم تھے۔ مگر مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا خطاب خود دیا اور وہ بھی ۱۸۹۰ء کے بعد اگر نزول کی تاریخ یہی سال مانی جائے تو پھر قادیانیوں کو ثابت کرنا پڑے گا کہ مرزاقادیانی کی شادی ۱۸۹۰ء کے بعد ہوئی تھی۔ کیونکہ رسول کریمﷺ کے الفاظ مبارک سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے ہمارے استدلال کو (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷) پر صحیح تسلیم کیا ہے اور اس پیش گوئی کو محمدی بیگم پر چسپاں کیا ہے۔ مگر وہ بھی ہاتھ نہ آئی۔ پس قادیانیوں کے لئے مقام عبرت ہے۔
    ۴… پھر آپ نے فرمایا: ’’ثم یموت‘‘ یعنی پھر ان تمام واقعات کے بعد فوت ہوگا۔ اس سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رسول کریمﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس حدیث کے ارشاد فرمانے کے وقت زندہ تسلیم کر رہے تھے۔
    ۵… ’’ویدفن معی فی قبری‘‘ یعنی میرے روضہ میں دفن ہوگا۔ اس حصہ حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابھی تک آپ فوت ہوئے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اگر فوت ہوچکے ہوتے تو وہ ضرور حسب تصریح نبوی رسول پاکﷺ کے روضہ پاک میں دفن ہوگئے ہوتے۔ چونکہ روضہ اقدس میں ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی جگہ باقی ہے۔ معلوم ہوا کہ ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ یوں بھی کیوں نہ، روضہ مبارکہ میں ابھی چوتھی قبر کی جگہ خالی پڑی ہے۔
    لیجئے! ہم آپ کو قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ہشتم حافظ ابن حجر عسقلانی کی زبانی بتاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
    ۱… ’’قولہا عند وفاتہا لا تدفنی عندہم یشعر بانہ بقی من البیت موضع المدفن (فتح الباری)‘‘
    حضرت عائشہؓ کا وفات کے وقت یہ کہنا کہ مجھے ان کے پاس یعنی روضہ مبارکہ میں دفن نہ کرنا صاف صاف بتارہا ہے کہ روضہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔
    ۲… ’’ان الحسنؓ ابن علیؓ اوصی اخاہ ان یدفنہ عندہم… فدفن بالبقیع (فتح الباری)‘‘
    امام حسنؓ ابن علیؓ نے اپنے بھائی کو وصیت کی کہ مجھے روضہ مبارکہ میں دفن کرنا… وہ دفن کئے گئے جنت البقیع میں۔
    اس سے بھی ثابت ہوا کہ روضہ مبارکہ میں چوتھی قبر کی جگہ ہے۔ ہر ایک نے وہاں دفن ہونے کی سعی کی۔ مگر وہ امت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔

    قادیانی اعتراض
    رسول کریمﷺ کی قبر کو نعوذ باﷲ کھود کر اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دفن کرنا کس قدر گستاخی اور بے ادبی ہے رسول کریمﷺ کی۔
    (ازالہ اوہام خورد ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)

    جواب…
    اجی! آپ کو بھی رسول کریمﷺ کے ادب کے خواب آنے لگے؟ مرزاقادیانی نے قرآن، حدیث اور عربی علم ادب نہ تو خود کسی سے پڑھا اور نہ کسی کی تقلید کی۔ ان کی جانے بلا کہ قبر کے مفہوم میں کون کون سی صورتیں شامل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قبر سے مراد صرف وہ تھوڑی سی جگہ ہی ہوتی ہے۔ جہاں جسم انسانی رکھا جاتا ہے۔ سنئے! ہم آپ کو فی قبری کے مفہوم دکھاتے ہیں۔ اور وہ بھی دسویں صدی کے مجدد اعظم ملا علی قاریؒ کی زبانی بتاتے ہیں۔ تاکہ قادیانیوں کو جائے فرار نہ رہے۔
    جناب مجدد صدی دہم اپنی کتاب مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں۔
    ’’فیدفن معی فی قبری (ای فی مقبرتی) وعبرعنہا بالقبر لقرب قبرہ بقبرہ فکانما فی قبر واحد‘‘
    (مرقات شرح مشکوٰۃ ج۱۰ ص۲۳۳، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
    ’’میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی میرے روضہ مبارک میں اور مقبرہ کی بجائے قبر کا لفظ دونوں قبروں کے ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے استعمال فرمایا۔ گویا قرب کی وجہ سے دونوں ایک ہی قبر میں ہیں۔‘‘ امید ہے کہ اب قادیانی اپنے ہی مسلمہ مجدد کی تفسیر کو قبول کر کے خلوص کا ثبوت دیں گے۔ اگر پھر بھی ہٹ پر قائم رہیں تو ہم مجبوراً مرزاقادیانی سے اس مضمون کی عبارت درج کرتے ہیں۔
    ۱… ’’ابوبکر وعمر، ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرتﷺ سے ایسے ملحق ہوکر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔‘‘
    (نزول المسیح ص۴۷، خزائن ج۱۸ ص۴۲۵)
    ۲… ’’اور واضح رہے کہ آنحضرتﷺ کی قبر میں ان کا آخری زمانہ میں دفن ہونا… ممکن ہے کوئی مثیل ایسا بھی ہو جو آنحضرتﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۷۰، خزائن ج۳ ص۳۵۲)
    مصنف احمدیہ پاکٹ بک لکھتا ہے۔ ’’مسیح حجرہ نبویہ میں دفن ہوگا۔‘‘
    (مکمل تبلیغی پاکٹ بک مؤلفہ عبدالرحمن قادیانی ص۶۹۸)
    پس خود قادیانی کے اپنے الفاظ سے ثابت ہوگیا کہ ’’فی قبری‘‘ سے مراد قرب قبر ہے نہ کہ عین قبر۔ لہٰذا قادیانی اعتراض محض ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ والی بات ہے۔ ورنہ یہ بھی کوئی اعتراض ہے۔ جس سے الٹا لینے کے دینے پڑ جائیں۔

اس صفحے کی تشہیر