1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات عیسیٰ علیہ السلام اور علامہ شعرانی پر مرزائی جھوٹ

ضیاء رسول امینی نے 'حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 7, 2016

  1. ‏ جولائی 7, 2016 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ایک اور مرزائی دجل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرزائی مربی جگہ جگہ ایک پوسٹ لگاتے ہیں اس پوسٹ میں انہوں نے ایک عبارت پر نشان لگایا ہے جس میں لکھا ہے لوکان موسی و عیسیٰ حیین ماوسعھما الا اتباعی یعنی اگر موسیٰ اور عیسٰی زندہ ہوتے تو ان کے پاس بھی میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا جس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں ہیں اور اس سے یہ دھوکہ دینا چاہا ہے کہ امام شعرانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے، حالانکہ یہ کتاب لکھی تو امام شعرانی نے ہے لیکن جو عبارت انہوں نے پیش کی ہے وہ امام شعرانی کی نہیں بلکہ انہوں نے فتوحات مکیہ سے یہ عبارت نقل کی ہے ان ڈرامے باز مربیوں میں ذرا سی دیانتداری ہوتی تو الیواقیت والجواہر نے جو ماخذ دیا ہے یعنی فتوحات مکیہ اس کو دیکھتے اور فتوحات مکیہ میں لوکان موسی حی ما وسعہ الا اتباعی ہے یعنی اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ بھی میری اتباع کرتے ۔ دوسری بات انکی پیش کردہ عبارت کے نیچے ہی اگلی لائینوں میں ان کے دجل کا ثبوت موجود ہے جو میں نے ہائی لائٹ کی ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا ثبوت موجود ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ کہ ان ڈرامے بازوں نے اوپر ایک پٹی لگائی ہوئی میں ہے جس میں کتاب کا نام اور حوالہ وغیرہ لکھا ہوا ہے یہ پٹی اس صفحے کے بالکل اوپر بھی لگ سکتی تھی مگر اوپر سے کچھ جگہ انہوں نے چھوڑ کے نیچے پٹی لگائی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دھوکے بازوں نے اس پٹی کے نیچے اپنا دجل چھپایا ہے اسی پٹی کے نیچے ہی انکی پیش کردہ عبارت کی اصلیت موجود ہے جس میں اصل عبارت لکھی ہوئی ہے لوکان موسی حیا ماوسعہ ان یتبعنی یعنی اگر موسی زندہ ہوتے تو ان کے پاس میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتا اصل بات یہ ہے کہ اس سے اگلی جگہ پر سہو سے موسیٰ و عیسیٰ لکھا گیا کیونکہ 4 لائنیں پہلے ہی صرف موسٰی حیا لکھا ہوا ہے اور اس عبارت کو چھپا کے اگلی عبارت انہوں نے پیش کی، یہ ہوتا ہے مرزائی دجل،
    دوسری بات یہ کہ یہ ایک مردود اور بے سند قول ہے جو کسی حدیث کی کتاب میں مذکور نہیں آج تک کسی مرزائی نے اسکی سند پیش نہیں کی
    اور اصل روایت یہ ہے کہ ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور عرض کی یارسول اللہ ہم یہودیوں سے کچھ باتیں سنتے ہیں جو ہمیں تعجب میں ڈال دیتی ہیں اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان میں سے کچھ باتیں لکھ لیا کریں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم بھی اسی طرح حیرت زدہ ہونا چاہتے ہو جس طرح یہود حیرت زدہ ہیں؟ حالانکہ میں تمہارے پاس صاف سادہ اور آسان شریعت کے کر آیا ہوں اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کے پاس بھی میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتا۔ وہاں بھی یہی الفاظ ہیں لوکان موسیٰ حیا ما وسعہ الا اتباعی۔ (مشکوة صفحہ 30 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ) اس حدیث کو صاحب مشکوۃ شریف نے امام بہقی کی شعب الایمان سے روایت کیا ہے
    اور مرزائیوں کو تو یہ روایت پیش کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے کہ وہ خود اپنے نبی کو جھٹلانے پر تلے رہتے ہیں جس نے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو زندہ ہیں
    وفرض علینا ان نؤمن انه حی فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین " اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ ( موسیٰ علیہ اسلام ) آسمانوں میں زندہ ہیں اور ان پر موت نہیں آئی اور وہ مردوں میں سے نہیں
    ( خزائن جلد 8 ص 68،69 )

    13585222_10154302931199099_3750222803909866795_o.jpg علامہ شعرانی2.jpg
    • Winner Winner x 1

اس صفحے کی تشہیر