1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات عیسیٰ علیہ السلام پر صحابہ اکرام کا اجماع اور مرزا قادیانی کی تحریریں

محمدابوبکرصدیق نے 'تحریک ختم نبوت میں علماء و مشائخ کا کردار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 3, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ اپریل 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام از اقوال صحابہؓ (صحابہ اکرام کے اقوال کی عظمت از مرزا قادیانی)

    ناظرین! صحابہ کرامؓ کے اقوال کی عظمت کا پتہ لگانا ہوتو مندرجہ ذیل اقوال سے ملاحظہ کیجئے۔
    ۱… قول مرزا اصول نمبر:۳۔
    ۲… قول خلیفہ نور الدین قادیانی: ’’صحابہ کے روزانہ برتاؤ اور زندگی ظاہر وباطن میں انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرتﷺ کی عکسی تصویریں تھیں۔ پس اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ کیا ہوگا۔‘‘

    (اخبار بدر قادیان ص۴، مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۴ئ)
    ۳… قول مرزا: ’’صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۲۰۳ حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۳۷۶، بحوالہ خزینہ العرفان ص۴۱۹)
    ۴… قول مرزا: ’’شرعی حجت صرف صحابہ کا اجماع ہے۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۲۳۴، خزائن ج۲۱ ص۴۱۰)
    ۵… ’’اجماع کے خلاف عقیدہ رکھنے والے پر خدا کی لعنت اور اس کے فرشتوں کی لعنت۔‘‘
    (انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    ۶… قول مرزا: ’’اور صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۱۴۷، خزائن ج۱۵ ص۴۶۱ حاشیہ)

    مزید یہاں سے پڑھیں
  2. ‏ اپریل 3, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اجماع صحابہ کی شرعی حجت

    اجماع کی حقیقت تو یہ ہے کہ علماء محققین کا کسی مسئلہ پر اتفاق ہو۔ لیکن اگر ایک بزرگ نے کوئی مسئلہ بیان کیا ہے۔ اس کے خلاف امت کے کسی محقق کا خلاف منقول نہ ہو تو یہ بھی اجماع ہی کہلاتا ہے۔ اس کو اجماع سکوتی کہتے ہیں۔ جیسا کہ مرزاقادیانی بھی ہماری تائید میں فرماتے ہیں۔
    ’’اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۸۷۴، خزائن ج۳ ص۵۷۶)
    ناظرین! صبر کر کے دیکھتے جائیں کہ ہم کس طرح مرزاقادیانی کا ناطقہ بند کرتے ہیں۔ اب اجماع کس طرح ثابت کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا ارشاد ملاحظہ ہو۔
    ۱… ’’یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں۔ بھلا اگر ہے تو کم از کم تین سو چار سو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت دے گئے ہوں۔ ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۰۳، خزائن ج۳ ص۲۵۴)
    ۲… ’’ابن صیاد کے دجال ہونے پر صحابہ کا اجماع تھا۔ خداتعالیٰ آپ کے حال پر رحم کرے۔ کیا جو ابن صیاد کے بیان سے… ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس کو دجال معہود کہتے تھے۔ کیا اس حدیث میں کوئی صحابی باہر بھی رہا ہے۔ جو اس کو دجال معہود نہیں سمجھتا تھا۔ اس کا ذرا نام تو لو۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر حضرت عمرؓ نے آنحضرتﷺ کے حضور میں قسم کھائی جس پر نہ خود آنجناب نے انکار کیا اور نہ صحابہ حاضرین میں سے کوئی منکر ہوا۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۸۷۴، خزائن ج۳ ص۵۷۶)
    ۳… تمام امت کا اجماع کس طرح ثابت ہوسکتا ہے۔ بالفاظ مرزا سنئے: ’’امام ابن حزم اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا تمام اکابر کا قائل ہونا ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اس کا ذکر ہوتا۔‘‘
    (ایام الصلح ص۳۹، خزائن ج۱۴ ص۲۶۹)
    ناظرین! مندرجہ بالا تینوں نمبروں کی عبارت کے لفظ لفظ میں جھوٹ اور دجل وفریب کا مظاہرہ کیاگیا ہے۔ میرا کام اس وقت اس کی تردید نہیں بلکہ اس کو اپنی تصدیق میں پیش کرنا مقصود ہے۔ مگر تاہم چند ایک فقروں میں کچھ دلچسپ ریمارکس دینا ضروری سمجھتا ہوں۔
    ۱… مرزاقادیانی جب ہم سے اجماع کا مطالبہ کرتے ہیں تو تین چار صد صحابہؓ کے نام پوچھتے ہیں۔ ایک آدھ کا نام لے کر اجماع کہنا سخت بددیانتی سمجھتے ہیں۔ مگر دوسرے اور تیسرے دونوں نمبروں میں اسی ’’سخت بددیانتی‘‘ کا خود ارتکاب کر رہے ہیں۔
    ۲… نمبر:۲ میں اپنی ضرورت کے وقت ’’سکوتی اجماع‘‘ کی قسم بھی بنالی ہے۔ لیکن ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا ممنوع قرار دیتے ہیں۔
    ۳… حضرت عمرؓ کے قسم اٹھانے کا واقعہ لکھ کر رسول اﷲﷺ کی خاموشی ظاہر کرنا مرزاقادیانی کی بددیانتی کا ایک معمولی نمونہ ہے۔ دیکھئے اپنی تردید خود ہی کس عجیب پیرائے میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’آنحضرتﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل کرنے سے منع فرمایا اور نیز فرمایا کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی اشتباہ ہے۔ اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۲۲۵، خزائن ج۳ ص۲۱۲)
    باوجود اس کے مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ کسی نے انکار نہیں کیا۔ کس قدر دلاوری اور دیدہ دلیری ہے۔ مزید تحقیق ملاحظہ کریں۔ جو پہلے گزر چکی ہے۔
    ۴… مرزاقادیانی نے امام مالک اور امام ابن حزم رحمہما اﷲ کو موت عیسیٰ علیہ السلام کا قائل بتا کر دیدہ دلیری اور افتراء پردازی میں کمال کر دیا ہے۔ ہم ان دونوں حضرات کے اقوال آئندہ ذکر کریں گے۔
    اب ہم مرزاقادیانی کے مقرر کردہ اصول وشرائط کے مطابق حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع صحابہؓ وامت محمدیہﷺ ثابت کرتے ہیں۔
  3. ‏ اپریل 3, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    دلیل اجماع (1)

    ۱… ہم حدیث نمبر:۲۷ کی ذیل میں تین چار ہزار صحابہ مہاجرین وانصار کا اجماع ثابت کر چکے ہیں۔ اس کا دوبارہ مطالعہ کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
  4. ‏ اپریل 3, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (2)

    ۲… ابن حجر عسقلانی قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ہشتم فرماتے ہیں۔
    ’’فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفع ببدنہ حیا وانما اختلفوا فی ہل مات قبل ان الرفع اونام فرفع‘‘

    (تلخیص الحبیر ج۳ ص۴۶۲، کتاب الطلاق مصنفہ حافظ ابن حجرؒ)
    ’’تمام محدثین ومفسرین کا عیسیٰ علیہ السلام کے جسم سمیت زندہ اٹھائے جانے پر اجماع ہے۔ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ آیا رفع جسمانی سے پہلے آپ نے وفات پائی (اور پھر زندہ کئے گئے) یا صرف سو گئے۔‘‘
  5. ‏ اپریل 3, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (3)

    ۳… امام شوکانیؒ قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی دوازدہم فرماتے ہیں۔
    ’’الاحادیث الواردۃ فی نزولہ متواترۃ‘‘

    (کتاب الاذاعۃ للشوکانی ونیز کتاب التوضیح بحوالہ کاویہ ج۱ ص۲۸۵)
    ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث نبوی متواتر ہیں۔‘‘
  6. ‏ اپریل 3, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (4)

    ۴… ’’قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ششم ابن کثیرؒ اپنی مشہور تفسیر ابن کثیر میں فرماتے ہیں۔‘‘
    ’’قال مجاہد وانہ لعلم للساعۃ ای ایۃ للساعۃ خروج عیسیٰ ابن مریم قبل یوم القیامۃ وہکذا روی عن ابی ہریرۃ وابن عباس وابی العالیہ ابی مالک وعکرمہ والحسن وقتادہ والضحاک وغیرہم وقد تواترت الاحادیث عن رسول اﷲﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ قبل یوم القیامۃ اماماً عادلاً وحکما مقسطاً‘‘

    (ابن کثیر مع البغوی ج۷ ص۴۰۹، بحوالہ عقیدۃ الاسلام ص۴)
    ’’امام مجاہد شاگرد حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ:
    ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘
    کے معنی ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے اور اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابی العالیہ، ابی مالک، عکرمہ اور امام حسن، وقتادہ والضحاک وغیرہم سے بھی مروی ہے اور رسول کریمﷺ کی حدیثیں اس بارہ میں حدتواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے امام عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔‘‘
  7. ‏ اپریل 3, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (5)

    ۵… حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قادیانیوں کے مسلم رئیس المکاشفین فرماتے ہیں۔
    ’’وانہ لا خلاف انہ ینزل فی آخر الزمان حکما مقسطاً‘‘

    (فتوحات مکیہ ج۲ ص۳، بحث ۷۳)
    ’’یعنی اس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔ منصف حاکم کی حیثیت سے۔‘‘
  8. ‏ اپریل 3, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (6)

    ۶… شیخ محمد طاہرؒ قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی دہم مجمع البحار میں فرماتے ہیں۔
    ’’ویجی آخر الزمان لتواتر خبر النزول‘‘

    (مجمع البحار ج۱ ص۵۳۴، بلفظ حکم)
    ’’یعنی نزول کی حدیثوں کے تواتر سے آپ کا آخر زمانہ میں آنا ثابت ہوچکا ہے۔‘‘
  9. ‏ اپریل 3, 2015 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (7)

    ۷… قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    ’’انہ یحکم بشرع نبینا ووردت بہ الاحادیث وانعقد علیہ الاجماع‘‘

    (الحاوی للفتاویٰ ج۲ ص۱۵۵)
    ’’عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر ہمارے ہی نبی کی شریعت کے مطابق حکم دیں گے۔ اس بارہ میں بے شمار حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور اسی پر سب امت کا اجماع ہے۔‘‘
  10. ‏ اپریل 3, 2015 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (8)

    ۸… اب ہم مرزاغلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ میں دکھاتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور نازل ہونے کا عقیدہ اجماع پر مبنی تھا۔
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر