1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر:۴ (وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن(نسائ:۱۵۹))

محمدابوبکرصدیق نے 'حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 3, 2015

  1. ‏ فروری 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر:۴

    عربی اعراب کے بغیر:
    ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا (نسائ:۱۵۹)‘‘
    عربی اعراب کے ساتھ:
    وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۝۰ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكُوْنُ عَلَيْہِمْ شَہِيْدًا۝۱۵۹ۚ

    یہ آیت بھی ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں فوت نہیں ہوئے۔ اس آیت کا ترجمہ ہم ایسے بزرگوں کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں کہ اگر کسی قادیانی نے اپنی حماقت کے سبب اس کی صحت پر اعتراض کیا تو بحکم مرزاغلام احمد قادیانی کافر وفاسق ہو جائے گا۔
    (دیکھو قادیانی اصول وعقائد نمبر:۴)
    ترجمہ از شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی مجدد (مسلمہ قادیانی) صدی دوازدہم
    (عسل مصفیٰ جلد اوّل ص۱۶۳،۱۶۵)
    ’’ونباشد ہیچ کس از اہل کتاب الاّ البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ علیہ السلام پیش از مردن عیسیٰ علیہ السلام وروز قیامت باشد عیسیٰ علیہ السلام گواہ برایشان۔‘‘
    ترجمہ: ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہوگا مگر یہ کہ وہ یقینا ایمان لائے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن ان اہل کتاب پر اس کی گواہی دیں گے۔‘‘
    ناظرین باتمکین! یہ وہ ترجمہ ہے جس پر جمہور علماء مفسرین اور مجددین امت مسلمہ قادیانی تیرہ صدی سال سے متفق چلے آرہے ہیں اور سب اس آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر دلیل پکڑتے چلے آئے ہیں۔ اس سے پہلے جو آیت قرآن کریم میں مذکور ہے وہ وہی ہے جو ہم نے دلیل نمبر:۳ میں بیان کی ہے۔ اس کے پڑھنے یا سننے والے پر یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ اس قدر اولوالعزم رسول کا دنیا میں آنا اور ’’رسولا الیٰ بنی اسرائیل‘‘ کا لقب لینا کیا بے معنی ہی تھا؟ یعنی جس قوم کی طرف وہ مبعوث ہوکر آئے تھے۔ ان میں سے ایک بھی ان پر ایمان نہ لایا اور خدا نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اب آسمان پر وہ کیا کریں گے؟ کیا یہود کے ساتھ ان کا تعلق ختم ہوچکا ہے؟ عملی طور پر اس بات کا کیا ثبوت ہے؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسد عنصری موجود ہیں اور مکر اﷲ کا پورا پورا مظاہرہ تو اس طرح مکمل نہیں ہوسکتا کہ یہود دنیا میں موجود رہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے اور قتل کرنے کا عملی ثبوت دیتے رہیں۔ یہاں تک کہ دھوکا میں آکر عیسائی بھی ان کے ہمنوأ ہو جائیں۔ اﷲتعالیٰ صرف بذریعہ وحی ہی ان کے دعویٰ قتل کی تردید کرتے ہیں۔ غیر جانبدار شخص ضرور اس تردید کے لئے کوئی عملی ثبوت طلب کرے گا۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ یہ وحی من جانب اﷲ نہیں ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی بھی اس تفسیر میں میرے ساتھ کلی اتفاق ظاہر کر رہے ہیں۔
    ’’جس حالت میں شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں اور حدیث النفس بھی تو پھر کسی قول کو کیونکر خدا کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ جب تک کہ اس کے ساتھ خدا کی فعلی شہادت زبردست نہ ہو۔ ایک خدا کا قول ہے اور ایک خدا کا فعل ہے اور جب تک خدا کے قول پر خدا کا فعل شہادت نہ دے ایسا الہام شیطانی کہلائے گا اور شہادت سے مراد ایسے آسمانی نشان ہیں کہ جو انسانوں کی معمولی حالتوں سے بہت بڑھ کر ہیں۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۹،۱۴۰، خزائن ج۲۲ ص۵۷۷،۵۷۸)
    اب غور کیجئے کہ یہاں خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا اعلان بذریعہ وحی کر دیا۔ مگر مرزاقادیانی اس پر فعلی شہادت کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہم اس کے جواب میں فعلی شہادت پیش کرتے ہیں اور شہادت بھی کیسی؟ ایسی کہ خود وہ ساری مخالف قوم (بنی اسرائیل) بجائے انکار کے خود بخود اقرار اور اقبال کرنے لگ جائے۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب تک سارے کے سارے اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی برحق اور زندہ بجسدہ العنصری تسلیم نہ کر لیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت نہیں آئے گی اور ان کے اس طرح ایمان لانے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن گواہی بھی دیں گے۔
    علاوہ ازیں دنیاسے کسی نبی کا جو صاحب کتاب اور صاحب امت ہو، ناکام جانا سنت اﷲ کے مخالف ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی ہماری تائید میں لکھتے ہیں۔
    ’’ان الانبیاء لا ینقلبون من ہذہ الدنیا الیٰ دار الاٰخرۃ الا بعد تکمیل رسالات‘‘
    یعنی انبیاء اس دنیا سے آخرت کی طرف انتقال نہیں فرماتے۔ مگر اپنے کام کی تکمیل کے بعد۔
    (حمامتہ البشریٰ ص۴۹، خزائن ج۷ ص۲۴۳)
    چنانچہ لکھتے ہیں:
    ’’سچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے پہلی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں۔‘‘
    (اربعین نمبر۴ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۳۴)
    اب قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا گئے ہیں تو خواہ وہ آسمان پر زندہ بجسد عنصری ہیں۔ اب ان کے آنے کی ضرورت نہیں اور اگر وہ اپنا مشن اشاعت توحید ورسالت پورا کرنے سے پہلے ہی تشریف لے گئے ہیں تو یہ دوحال سے خالی نہیں۔ اگر مرگئے ہیں اور دوبارہ نہیں آئیں گے تو سنت اﷲ کے مطابق حسب قول مرزا وہ سچے نبی نہ تھے۔ لیکن مرزاقادیانی نے بھی انہیں سچا نبی اور مامور من اﷲ ضرور مانتے ہیں۔ ان کی تبلیغی کامیابی کے متعلق میں صرف مرزاقادیانی کے اقوال ہی نقل کر دینا کافی سمجھتا ہوں۔
    ۱… ’’یہ کہنا کہ جس طرح موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دی۔ یہ ایسا بیہودہ خیال ہے کہ کوئی شخص گو کیسا ہی اغماض کرنے والا ہو اس خیال پر اطلاع پا کر اپنے تئیں ہنسنے سے روک نہیں سکے گا۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ ص۱۲۱، خزائن ج۱۷ ص۳۰۰)
    ۲… ’’ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۱۱ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۸)
    ۳… ’’حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔‘‘
    (براہین احمدیہ ص۳۶۱، خزائن ج۱ ص۴۳۱)
    پس سنت اﷲ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت نہیں ہوسکتے۔ جب تک کہ وہ اپنے کام میں کامیاب نہ ہولیں۔ سیاق وسباق کلام بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی مختصر سی امت کو فنا کرنا چاہتے تھے۔ اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ان کے ضرر سے بچا لیا۔ ان کی امت کو بھی یہودیوں پر غالب کر دیا۔ مگر مکمل غلبہ اس طرح ہوگا کہ ظاہری غلامی کے بعد جو آج کل یہودیوں پر لعنت دائمی ثابت ہو رہی ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ہم عیسیٰ علیہ السلام کو نازل کر کے ان کے منکر یہودیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روحانی غلام بھی بنادیں گے۔ ذیل میں ہم چند مجددین واولیاء ملہمین مسلمہ قادیانی کی تفسیر کرتے ہیں۔ اس کے بعد قادیانی اعتراضات کی حقیقت الم نشرح کریں گے۔ امام شعرانی، جو مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک ’’ایسے محدث اور صوفی تھے جو معرفت کامل اور تفقہ تام کے رنگ سے رنگین تھے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۴۹، خزائن ج۳ ص۱۷۶)
    فرماتے ہیں: ’’الدلیل علیٰ نزولہ قولہ تعالیٰ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای حین ینزل ویجتمعون علیہ وانکرت المعتزلۃ والفلا سفۃ والیہود والنصاریٰ عروجہ بجسدہ الیٰ السماء وقال تعالیٰ فی عیسیٰ علیہ السلام وانہ لعلم للساعۃ… والضمیر فی انہ راجع الیٰ عیسیٰ… والحق انہ رفع بجسدہ الیٰ السماء والایمان بذالک واجب قال اﷲ تعالیٰ بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘
    (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۴۶)
    ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے پر دلیل یہ آیت ہے۔ ’’وان من اہل الکتاب‘‘ جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت کے یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ضرور ان پر ایمان لے آئیں گے۔ معتزلہ، فلسفیوں، یہودیوں اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر بمعہ جسم اٹھائے جانے سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ فرمایا اﷲتعالیٰ نے دوبارہ رفع جسمانی حضرت مسیح کے ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ اور ضمیر ’’انہ‘‘ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے… اور سچ یہ ہے کہ وہ بمعہ جسم کے آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور ان کے رفع جسمی پر ایمان لانا واجب ہے۔ کیونکہ فرمایا ان کے متعلق اﷲتعالیٰ نے ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ (بلکہ اٹھا لیا اﷲ نے ان کو اپنی طرف)‘‘
    حضرات! یہ وہی امام عبدالوہاب شعرانی ہیں۔ جن کی کلام سے مرزائی مناظرین تحریف لفظی اور معنوی کر کے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال کیا کرتے ہیں۔
    معزز ناظرین! اب ہم اس شخص کی تفسیر درج کرتے ہیں جو قادیانی جماعت کے مسلمہ مجدد صدی ہفتم تھے اور آپ ساتویں صدی میں کلام اﷲ کے حقیقی مطالب بیان کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ اس بزرگ ہستی کا اسم گرامی احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہؒ تھا۔ خود مرزاقادیانی اس امام ہمام کا ذکر خیر ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔
    ’’فاضل ومحدث ومفسر ابن تیمیہ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔‘‘
    (کتاب البریہ ص۲۰۳حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱ حاشیہ)
    امام موصوف اپنی بے مثل کتاب ’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘‘ میں فرماتے ہیں۔
    ترجمہ اردو: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ اس آیت کی تفسیر اکثر علماء نے یہی کی ہے کہ مراد ’’قبل موتہ‘‘ سے ’’حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے‘‘ ہے اور یہودی کی موت کے معنی بھی کسی نے کئے ہیں اور یہ ضعیف ہے۔ کیونکہ اگر موت سے پہلے ایمان لایا جائے تو نفع دے سکتا ہے۔ اس لئے کہ اﷲتعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ جب غرغرہ تک نہ پہنچے اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد غرغرہ کے بعد کا ایمان ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ غرغرہ کے بعد ہر ایک امر جس کا وہ منکر ہے۔ اس پر ایمان لاتا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں اور یہاں ایمان سے مراد ایمان نافع ہے۔ اس لئے کہ خداتعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس ایمان کے متعلق ’’قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے۔
    اس آیت میں ’’لیؤمنن بہ‘‘ مقسم علیہ ہے۔ یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل میں ہی ہوسکتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ ایمان لانا اس خبر (نزول آیت) کے بعد ہوگا اور اگر موت سے مراد یہودی کی موت ہوتی تو پاک اﷲ اپنی پاک کتاب میں یوں فرماتے۔ ’’وان من اہل الکتاب الا من یؤمن بہ‘‘ اور ’’لیؤمنن بہ‘‘ ہرگز نہ فرماتے اور نیز ’’وان من اہل الکتاب‘‘ یہ لفظ عام ہے۔ ہر ایک یہودی ونصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود ونصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ان کی موت سے پہلے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے ائیں گے۔ تمام یہودی ونصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اﷲ کا رسول کذاب نہیں۔ جیسے یہودی کہتے ہیں اور نہ وہ خدا ہیں۔ جیسے کہ نصاریٰ کہتے ہیں۔ اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے۔ اس دعویٰ سے کہ موت سے مراد کتابی کی موت ہے۔ کیونکہ اس سے ہر ایک یہودی ونصرانی کا ایمان لانا ثابت ہوتا ہے اور یہ واقع کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ جب خداتعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم اور لوگوں کا ہے۔ جو نزول المسیح کے وقت موجود ہوں گے۔ کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہیں کرے گا۔ جو اہل کتاب فوت ہوچکے ہوں گے وہ اس عموم میں شامل نہیں ہوسکتے۔ یہ عموم ایسا ہے۔ جیسے یہ کہا جاتا ہے۔ ’’لا یبقی بلد الا دخلہ الدجال الا مکۃ والمدینۃ‘‘ پس یہاں مدائن (شہروں) سے مراد وہی مدائن ہوسکتے ہیں جو اس وقت موجود ہوں گے اور اس سے ہر ایک یہودی ونصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح علیہ السلام رسول اﷲ ہے۔ جس کو اﷲتعالیٰ کی تائید حاصل ہے۔ نہ وہ کذاب ہیں نہ وہ خدا ہیں۔ پس اﷲ تعالیٰ نے اس ایمان کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے تشریف لانے کے وقت ہوگا۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اس آیت میں ذکر فرمایا ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اور مسیح علیہ السلام قیامت سے پیشتر زمین پر اتریں گے اور فوت ہوں گے اور اس وقت کی خبر دی کہ سب اہل کتاب مسیح کی موت سے پیشتر ایمان لائیں گے۔‘‘
    (الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ج۲ ص۲۸۱،۲۸۳)
  2. ‏ فروری 4, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر:۴ پر رسول کریم ﷺ کی تفسیر
    رسول کریمﷺ کی تفسیر:
    ناظرین! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں چند احادیث اپنی پیش کردہ تفسیر کی تصدیق میں بیان کر دیں۔ ان احادیث کی صحت اور تفسیر پر جوقادیانی اعتراض کرے وہ کافر اور مرتد ہو جائے گا۔
    (قادیانی اصول وعقائد نمبر:۴)

    حدیث نمبر:۱…
    ’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اﷲﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتیٰ لا یقبلۃ احد حتیٰ تکون السجدۃ الواحدہ خیراً من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃؓ فقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘

    (رواہ البخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
    ’’حضرت ابوہریرہؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا۔ مجھے اس ذات واحد کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق ضرور اتریں گے۔ تم میں ابن مریم حاکم وعادل ہوکر۔ پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرائیں گے اور جزیہ اٹھادیں گے۔ ان کے زمانہ میں مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ عبادت الٰہی دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ اگر تم چاہو تو (اس حدیث کی تائید میں) پڑھو۔ قرآن شریف کی یہ آیت: وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘
    سوال… کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
    جواب… ہاں صاحب! یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔ دلائل ملاحظہ کریں۔
    ۱… یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں موجود ہے۔ جن کی صحت پر مرزاقادیانی نے مہر تصدیق ثبت کرادی ہے۔

    (ازالہ اوہام ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲، تبلیغ رسالت حصہ دوم ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵)
    ۲… اس حدیث کی صحت کو مرزاقادیانی نے اپنی مندرجہ ذیل کتب میں صحیح تسلیم کر لیا ہے۔
    (ایام الصلح ص۵۲،۵۳،۷۵،۹۱،۱۶۰،۱۷۶، خزائن ج۱۴ ص۲۸۵،۳۲۸،۴۰۸،۴۲۴، تحفہ گولڑویہ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۱۲۸، شہادت القرآن ص۱۱، خزائن ج۶ ص۳۰۷)
    سوال… اس حدیث کا ترجمہ لفظی تو واقعی حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کرتا ہے۔ لیکن آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ اس حدیث سے مراد بھی وہی ہے جو لفظی ترجمہ سے ظاہر ہے اور یہ کہ ابن مریم سے مراد عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی ہے؟ وغیرہ وغیرہ!
    جواب… جناب عالیٰ! اس حدیث کا مطلب اور معنی وہی ہے جو اس کے الفاظ سے ظاہر ہیں۔ کیونکہ حقیقی معنوں سے پھیر کر مجازی معنی لینے کے لئے کوئی قرینہ ہونا ضروری ہے۔ ورنہ زبان کا مطلب سمجھنے میں بڑی گڑبڑ ہو جائے گی۔ میز سے مراد میز ہی لی جائے گی نہ کہ بینچ۔ مرزاغلام احمد قادیانی سے مراد ہمیشہ غلام احمد بن چراغ بی بی قادیانی ہی لی جائے گی۔ نہ اس کا بیٹا مرزابشیرالدین محمود۔ اسی طرح حدیث میں ابن مریم سے مراد ابن مریم (مریم کا بیٹا) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے نہ کہ مرزاغلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی۔
    ۲… صحابہ کرامؓ! مجددین امت محمدیہ نے اس حدیث کے معنی وہی سمجھے جو اس کے الفاظ بتاتے ہیں۔ یعنی حضرت ابن مریم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سمجھتے رہے۔
    ۳… خود مرزاقادیانی نے کسی عبارت کے مفہوم کو سمجھنے کے متعلق ایک عجیب اصول باندھا ہے۔ فرماتے ہیں:
    ’’والقسم یدل علیٰ ان الخبر محمول علی الظاہر لا تاویل فیہ ولا استثناء والّا ای فائدۃ کانت فی ذکر القسم‘‘

    (حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ)
    ’’اورقسم (حدیث میں) دلالت کرتی ہے کہ حدیث کے وہی معنی مراد ہوں گے جو اس کے ظاہری الفاظ سے نکلتے ہوں۔ ایسی حدیث میں نہ کوئی تاویل جائز ہے اور نہ کوئی استثناء ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔‘‘
    سوال… کیا حدیث ہمارے لئے حجت ہے اور کیا حدیثی تفسیر کا قبول کرنا ہمارے واسطے ضروری ہے۔
    جواب… حدیث کے فیصلہ کا حجت اور ضروری ہونا تو اسی سے ظاہر ہے کہ اﷲتعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔
    ’’فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیما (نسائ:۶۵)‘‘
    {(اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں اے محمدﷺ) قسم ہے مجھے آپ کے رب کی (یعنی اپنی ذات کی) کہ کوئی انسان مؤمن نہیں ہوسکتا۔ جب تک وہ اپنے اختلاف اور جھگڑوں میں آپ کو ثالث نہ مانا کریں اور پھر آپ کے فیصلہ کے خلاف ان کے دلوں میں کوئی انقباض بھی پیدا نہ ہو اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔}
    خود مرزاقادیانی اصول تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
    ’’دوسرا معیار رسول اﷲﷺ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کے معنی سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول کریمﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرتﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلاتوقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔‘‘

    (برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)
    پس معلوم ہوا کہ اس تفسیر نبوی پر اعتراض کرنے والا بحکم مرزاقادیانی ملحد اور فلسفی محض ہے۔ اسلام سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔
    پھر یہ تفسیر نبوی مروی ہے۔ ایک جلیل القدر صحابی رسول اﷲﷺ سے جنہوں نے اس حدیث کو ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن‘‘ کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ گویا حضرت ابوہریرہؓ نے تمام صحابہ کے سامنے اس آیت کی تفسیر بیان کی اور کسی دوسرے بزرگ نے اس کی تردید نہ فرمائی۔ پس اس تفسیر کے صحیح ہونے پر صحابہ کا اجماع بھی ہو گیا۔
    صحابی کی تفسیر کے متعلق مرزاقادیانی کا قول ملاحظہ ہو۔
    ’’تیسرا معیار صحابہؓ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہؓ آنحضرتﷺ کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خداتعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔‘‘

    (برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)
    ناظرین! میں نے قرآن، حدیث، اقوال صحابہ اور مجددین امت کے بیانات اس آیت کی تفسیر میں بیان کر دیے ہیں۔ بیانات بھی وہ کہ قادیانی ان کی صحت پر اعتراض کریں تو اپنے ہی فتویٰ کی رو سے ملحد، کافر اور فاسق ہو جائیں۔ اگر تمام اقوال مجددین اور احادیث نبوی وروایات صحابہ کرامؓ درج کروں تو ایک مستقل کتاب اسی آیت کی تفسیر کے لئے چاہئے۔
  3. ‏ فروری 4, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 1 : اہل کتاب کے ایمان لانے سے مراد کیا ہے؟
    قادیانی اعتراض نمبر:۱…’’اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنی ہیں۔ جیسا کہ سائل (اہل اسلام) سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو۔ جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال ببداہت باطل ہے۔ ہر یک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہوچکے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۶۷، خزائن ج۳ ص۲۸۸)
    جواب نمبر:۱… معترض کا یہ اعتراض جہالت محضہ پر مبنی ہے۔ تمام اہل کتاب مراد نہیں ہوسکتے۔ اس آیت کا مضمون بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اس فقرہ کا کہ ۱۹۵۰ء سے پہلے تمام مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع جسمانی پر ایمان لے آئیں گے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ ۱۹۵۰ء کے بعد کوئی مرزائی حیات عیسیٰ علیہ السلام کا منکر نہیں پایا جائے گا۔ اس سے پہلے کے مرزائی بعض کفر کی حالت پر مریں گے اور بعض اسلام لے آئیں گے۔ لیکن ۱۹۵۰ء کے بعد مرزائی کا نام ونشان نہیں رہے گا۔
    دوسری مثال… ’’لارڈ ولنگڈن مورخہ ۱۵؍جون ۱۹۳۶ء کو لاہور تشریف لائیں گے۔ آپ کی تشریف آوری سے پیشتر تمام اہل لاہور اسٹیشن پر ان کے استقبال کے لئے حاضر ہو جائیں گے۔‘‘ کون بے وقوف ہے۔ جو اس کا مطلب یہ لے گا کہ تمام اہل لاہور سے مراد آج (۲۹؍جون ۱۹۳۵ء ہے) کے اہل لاہور ہیں۔ ممکن ہے بعض مرجائیں۔ بعض باہر سفر کو چلے جائیں۔ بعض باہر سے لاہور میں آجائیں۔ بعض ابھی پیدا ہوں گے۔
    پس ثابت ہوا کہ کلام ہمیں خود مجبور کر رہی ہے کہ اہل الکتاب سے وہ لوگ مراد ہیں۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے اور وہ بھی تمام کے تمام نہیں بلکہ جو موت اور قتل سے بچ جائیں گے۔ وہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد کوئی اہل الکتاب نہیں رہے گا۔ سوائے اہل اسلام کے۔
  4. ‏ فروری 4, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 2 :مسیح کے دوبارہ آنے پر اہل کتاب سے مراد کون لوگ ہوں گے؟
    قادیانی اعتراض :…’’بعض لوگ کچھ شرمندے سے ہوکر دبی زبان سے یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آویں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مؤمنوں کی فوج میں داخل ہوجائیں گے۔ لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اوّل تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا دے رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۶۸، خزائن ج۳ ص۲۸۹)
    جواب نمبر:۲… دوسرے اعتراض میں مرزاقادیانی نے (گستاخی معاف) بہت دجل وفریب سے کام لیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’بعض لوگ دبی زبان سے کہتے ہیں کہ اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۶۸، خزائن ج۳ ص۲۸۹)
    اجی کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ جن کے پاس قرآن کی گواہی، حدیث رسول اﷲﷺ کی شہادت، صحابہؓ کی تائید اور مجددین امت کا متفقہ فیصلہ ہو۔ وہ بھلا دبی زبان سے کہے گا؟ یہ محض آپ کی چالاکی ہے۔ جس کے متعلق رسول پاکﷺ نے پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ دجالون، کذابون یعنی بہت سے فریب بنانے والے اور بہت جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ پھر مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ:
    ’’آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی اہل کتاب کے لفظ سے مراد تمام وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں یا ان کے بعد برابر ہوتے رہے ہیں۔‘‘
    کیوں مرزاقادیانی! جناب نے تعمیم کا لفظ استعمال کر کے پھر اہل کتاب کو ’’حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں اور بعد میں‘‘ کے ساتھ کیوں مقید ومحدود کر دیا۔ اگر آپ کے قول کے مطابق آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی سارے اہل کتاب اس سے مراد ہیں تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے اہل کتاب کیوں شمار نہیں ہوں گے؟ جس دلیل سے آپ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے کے اہل کتاب کو اس سے الگ کریں گے۔ اسی دلیل سے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پہلے کے یہودی ونصرانی کو الگ کر دیں گے۔
    علاوہ ازیں بمطابق ’’دروغ گورا حافظہ نباشد‘‘ خود مرزاقادیانی اگلے ہی فقرہ میں لکھتے ہیں۔
    ’’آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘ باوجود اس کے خود آیت کو ’’حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت اور ان کے بعد‘‘ سے وابستہ کر رہے ہیں۔ شاید مرزاقادیانی کے نزدیک زمانے صرف دو ہی ہوتے ہوں۔ زمانہ ماضی، مضی مامضی کا شکار ہوکر رہ گیا ہو۔ جب آیت کی زد میں تمام اہل کتاب آتے ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے یہودی کیوں اس میں شامل نہ کئے جائیں۔ مرزاقادیانی ان اہل کتاب کو اس کا مخاطب نہیں سمجھتے۔ جو جواب قادیانی اس سوال کا دیں گے۔ وہی جواب اہل اسلام ان کے اس اعتراض کا دیں گے۔ ناظرین حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اعتراضات کلہم جہالت پر مبنی ہیں۔ اگر ان کو علم عربی اور اس کے اصولوں سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو واﷲ ان اعتراضات کا نام بھی نہ لیتے۔
  5. ‏ فروری 4, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 3 : کیا مسیح کے دم سے اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے؟
    قادیانی اعتراض نمبر:۳… ’’علاوہ اس کے یہ معنی بھی جو پیش کئے گئے ہیں۔ ببداہت فاسد ہیں۔ کیونکہ احادیث صحیحہ بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیراہل کتاب۔ کفر کی حالت میں مریں گے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۶۹، خزائن ج۳ ص ایضاً)

    جواب نمبر:۳… جواب نمبر اوّل کی ذیل میں ملاحظہ کریں۔
  6. ‏ فروری 4, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 4 : اگر تمام اہل کتاب حضرت عیسیؑ پر ایمان لے آئیں گے تو یہود و نصاری کی قیامت تک دشمنی کیسے رہے گی؟
    قادیانی اعتراض نمبر:۴… ’’مگر افسوس کہ وہ (اہل اسلام) اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس حالت میں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’والقینا بینہم العداوۃ والبغضاء الیٰ یوم القیامۃ‘‘ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ ص۱۲۶، خزائن ج۱۷ ص۳۰۹)
    نوٹ: ایسا ہی مرزاقادیانی نے دو تین اور آیات سے استدلال کیا ہے۔ جس کا مطلب وہی ہے جو نمبر:۴ میں ہے۔

    جواب نمبر:۴… مرزاقادیانی کونہ علم ظاہری نصیب ہوا اور نہ باطنی آنکھیں ہی نصیب ہوئیں۔ موافقت کا نام وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں اہل اسلام کی تفسیر ماننے سے قرآن میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ سبحان اﷲ! مرزاقادیانی جیسے بے استاد اور بے پیر سمجھنے والے ہوں تو اختلاف اور تضاد ہی نظر آنا چاہئے۔ باقی رہا ان کا یہ اعتراض کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان بغض اور عناد کا قیامت تک رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہود اور نصاریٰ دونوں مذاہب قیامت تک زندہ رہیں گے تو اس کا جواب بھی آنکھیں کھول کر پڑھئے۔
    اوّل تو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہود ونصاریٰ سے مراد دو قومیں ہیں۔ اگر وہ مسلمان بھی ہو جائیں تو بھی ان کے درمیان بغض وعناد کا رہنا کون سا محال ہے؟ کیا اس وقت روئے زمین کے مسلمانوں میں بغض وعناد معدوم ہے؟ کیا تمام مرزائی بالخصوص لاہوری وقادیانی جماعتوں میں بغض وعناد نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے۔ کیا اس صورت میں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ دوسرے ’’الیٰ یوم القیامۃ‘‘ سے مراد یقینا طوالت زمانہ ہے اور یہ محاورہ تمام اہل زبان استعمال کرتے ہیں۔ دیکھئے! جب ہم یوں کہیں کہ قادیانی میرے دلائل کا جواب قیامت تک نہیں دے سکیں گے تو مراد اس سے ہمیشہ ہمیشہ ہے۔ یعنی جب تک مرزائی دنیا میں رہیں گے۔ اگرچہ وہ قیامت تک ہی کیوں نہ رہیں۔ میرے دلائل کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزائی لوگوں کے قیامت تک رہنے کی میں پیش گوئی کر رہا ہوں۔ یاجب یوں کہا جاتا ہے کہ زید تو قیامت تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ کون بیوقوف ہے جو اس کا مطلب یہ سمجھے گا کہ کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ زید قیامت تک زندہ رہے گا؟ مطلب صاف ہے کہ جب تک زید زندہ رہے گا وہ اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اسی طرح آیات پیش کردہ کا مطلب ہے۔
    آیت اوّل ہے: ’’
    واغوینا بینہم العداوۃ والبغضاء الیٰ یوم القیامۃ‘‘ اور مطلب اس کا بمطابق محاورہ یہی ہے کہ جب تک بھی یہود ونصاریٰ رہیں گے ان کے درمیان باہمی عداوت اور دشمنی رہے گی۔
    آیت ثانی یہ ہے۔
    ’’وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ‘‘ کا مطلب بھی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تابعدار قیامت تک ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔

    اب غلبہ کئی قسم کا ہے۔ اس کی دو صورتیں بہت ہی اہم ہیں۔
    اوّل… یہود کا نصاریٰ ومسلمانوں کا غلام ہوکر رہنا۔ مگر اپنے مذہب پر برابر قائم رہنا۔ یہ صورت اب موجود ہے۔
    دوم… یہود کا نہ صرف مسلمانوں اور نصاریٰ کے ماتحت ہی رہنا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت چھوڑ کر ان کا روحانی غلام بھی ہو جانا اور یہی حقیقی ماتحتی اور غلامی ہے۔ اس کا ظہور نزول المسیح کے وقت ہوگا۔ یہی مطلب ہے۔ تمام آیات کلام اﷲ کا جس کو مرزاقادیانی اور ان کی قلیل الانفاس جماعت بڑے طمطراق سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے پیش کیا کرتے ہیں۔ ہم اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں احادیث نبوی اور خود اقوال مرزا قادیانی سے شہادت پیش کرتے ہیں۔

    حدیث نبوی
    ’’یہلک اﷲ فی زمانہ (اے عیسیٰ) الملل کلہا الا الاسلام‘‘
    {ہلاک کر دے گا اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تمام مذاہب کو سوائے اسلام کے۔}
    (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج الدجال، مسند احمد ج۲ ص۴۰۶، درمنثور ج۲ ص۲۴۲)
    روایت کیا اس حدیث کو ابوداؤد، احمد ابن جریر اور صاحب درمنثور نے۔ جن کا منکر مرزاقادیانی کے نزدیک کافر وفاسق ہوجاتا ہے۔

    (دیکھو اصول مرزا نمبر:۴)

    اقوال مرزا
    ۱… ’’اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔‘‘
    (ایام الصلح ص۱۳۶، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)
    ۲… ’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں… جیسا کہ آج کل قادیان میں اس کا ظہور ہورہا ہے۔‘‘
    (فیصلہ سیشن جج گورداسپور دربارہ امیر شریعت مولانا سید عطاء اﷲ شاہ صاحب ابوعبیدہ)
    اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے دنیا اس کو بالکل بھول جائے خدائے واحد کی عبادت ہو۔
    (ملفوظات ج۸ ص۱۴۸)
    ۳… ’’اور پھر اسی ضمن میں (رسول اﷲﷺ نے) مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا۔‘‘
    (شہادت القرآن ص۱۱، خزائن ج۶ ص۳۰۷)
    ۴… ’’ونفخ فی الصور فجمعناہم جمعاً‘‘ خداتعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔ تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔
    (شہادۃ القرآن ص۱۵، خزائن ج ص۳۱۱)
    ۵… ’’ونفخ فی الصور فجمعنا ہم جمعاً‘‘ یعنی یاجوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ تب ان دنوں خداتعالیٰ اس پھوٹ کو دور کرنے کے لئے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اور محض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صور یعنی قرنا کا حکم رکھتا ہوگا۔ اپنی پرہیبت آواز لوگوں تک پہنچائے گا۔ جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خداتعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۸۰، خزائن ج۲۳ ص۸۸)
    ۶… ’’خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۸۲،۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۰،۹۱)
    ۷… ’’خداتعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد مصطفیﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ تابذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے۔ دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنا دے اور جیسا کہ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ ان میں بھی ایک وحدت پیدا کرے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تاپہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی… یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے وحدہ لا شریک کے وجود اور اس کی حدانیت پر دوہری شہادت ہو کیونکہ وہ واحد ہے۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۸۲، خزائن ج۲۳ ص۹۰)
    ۸… ’’وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ (مسیح موعود) کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علیٰ الدین کلہ‘‘
    (چشمہ معرفت ص۸۳، خزائن ج ص۹۱)
    ناظرین! ہم نے احادیث نبوی ’’علی صاحبہا الصلوات والسلام‘‘ اور اقوال مرزا سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں تمام مذاہب سوائے اسلام کے مٹ جائیں گے۔ اب اگر مرزائی وہی مرغی کی ایک ٹانگ کی رٹ ہی لگائے جائیں تو پھر مذکورہ بالا اقوال مرزاکو تو کم ازکم فضول اور لایعنی کہنا پڑے گا۔ ایسا وہ کہہ نہیں سکتا۔ کیونکہ مرزاقادیانی ان کے نزدیک حکم ہے اور جری اﷲ فی حلل الانبیاء ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ان کا یہ اعتراض بالکل جہالت پر مبنی ہے۔
  7. ‏ فروری 4, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 5 :
    (۱)’’دوسری قرأت اس آیت میں بجائے ’’قبل موتہ قبل موتہم‘‘ موجود ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۴، خزائن ج۲۲ ص۳۶)
    ۲… ’’ابی بن کعب کی قرأت سے ثابت ہوا کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں پھرتی۔ بلکہ اہل الکتاب کی طرف راجع ہے۔‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۴۷، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

    قادیانی اعتراض 6 :
    بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور یہ قول بالکل ضعیف ہے۔ محققین میں سے ایک نے بھی اس کو تسلیم نہیں کیا۔
    (حمامتہ البشریٰ ص۴۸، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

    قادیانی اعتراض 7:
    ’’چونکہ علماء اسلام اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت اختلاف کرتے ہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ سب اصل حقیقت سے بے خبر ہیں۔‘‘
    (ملخص از عسل مصفیٰ ج۱ ص۴۱۹، ۴۲۰)
    ناظرین! اسی قدر اعتراضات قادیانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ ذیل میں بالترتیب جوابات عرض کرتا ہوں۔

    جوابات:
    اعتراض نمبر 5 کا جواب:
    مرزاقادیانی کا پانچواں اعتراض یہ ہے کہ قرأۃ ابی بن کعب میں ’’قبل موتہ‘‘ کی بجائے ’’قبل موتہم‘‘ آیا ہے۔ جس سے مراد ’’اہل کتاب کی موت سے پہلے‘‘ ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ مرزاقادیانی کے دجل وفریب کی قلعی ذیل میں یوں کھولی جاتی ہے۔
    ۱… یہ روایت ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ٹھہرانے والا وہ بزرگ ہے۔ جو مرزاقادیانی کے نزدیک نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔ (یعنی مفسر ومحدث ابن جریر)

    (چشمہ معرفت ص۲۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱)
    نیز اسی مفسر ابن جریر کے متعلق مرزاقادیانی کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کا فتویٰ ہے۔
    ’’اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘

    (اتقان ج۲ ص۳۲۵)
    ’’معتبر علماء امت کا اجماع ہے۔ اس بات پر کہ امام ابن جریر کی تفسیر کی مثل کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔‘‘
    اس روایت کو ضعیف ٹھہرا کر مفسر ابن جریر نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباسؓ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ’’قبل موتہ‘‘ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ہے۔ نہ کہ کتابی کی موت۔

    (تفسیر ابن جریر)

    اعتراض نمبر 6 کا جواب:
    ۲… خود مرزاقادیانی نے ’’موتہ‘‘ کی ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا تسلیم کیا ہے۔
    (ازالہ اوہام ص۳۷۲،۳۸۶، خزائن ج۳ ص۲۹۱،۲۹۹)
    ہاں کلام اﷲ کے الفاظ کو نعوذ باﷲ ناکافی بتلا کر ایسے ایسے مخدوفات نکالے ہیں کہ تحریف میں یہودیوں سے بھی گوئے سبقت لے گیا ہے۔ بہرحال ہمارا دعویٰ سچا رہا کہ ’’ہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔
    ۳… نورالدین خلیفۂ اوّل مرزاقادیانی اپنی کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ص۷۲ میں اسی آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔
    ’’اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا۔ ساتھ اس کے (حضرت مسیح علیہ السلام کے) پہلے موت اس کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔‘‘ اس سے بھی ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ بے ثبوت ہے۔ کیونکہ ہم نے اس کے خلاف اس کے اپنے مسلمات اور معتبر آئمہ تفسیر کے اقوال پیش کئے ہیں۔

    اعتراض نمبر 7 کا جواب:
    ۴… جمہور علماء اسلام ہمیشہ ’’قبل موتہ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر استدلال کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ سابق میں ہم بیان کر آئے ہیں۔
    ۵… بخاری شریف کی صحیح حدیث اس روایت کی تردید کر رہی ہے۔ جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں۔
    ۶… اگر ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری جائے تو پھر معنی آیت کے یہ ہوں گے۔ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔‘‘ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کروڑہا اہل کتاب کفر پر مر رہے ہیں۔
    چنانچہ خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ’’ہر ایک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر واصل جہنم ہو چکے ہیں۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۳۶۷، خزائن ج۳ ص۲۸۸)
    پس مجبوراً ماننا پڑتا ہے کہ قبل موتہ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ ہے۔
    ۷… ’’لیؤمنن‘‘ میں لام قسم اور نون ثقلیہ موجود ہے۔ جو ہمیشہ فعل کو آئندہ زمانہ سے خاص کر دیتے ہیں۔ پس معنی اس کے یہ ہوں گے۔ ’’البتہ ضرور ایمان لے آئے گا۔‘‘ اگر ہر کتابی کا اپنی موت سے پہلے ایمان مقصود ہوتا تو پھر عبارت یوں چاہئے تھی۔
    ’’من یؤمن بہ قبل موتہ‘‘ جس کے معنی قادیانیوں کے حسب منشاء ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ یعنی ہر ایک اہل کتاب ایمان لے آتا ہے۔ اپنی موت سے پہلے۔ اگر قادیانی ہمیں اس قانون کا غلط ہونا ثابت کردیں تو ہم علاوہ مقررہ انعام کے مبلغ دس روپے اور انعام دیں گے۔ انشاء اﷲ قیامت تک کسی معتبر کتاب سے اس کے خلاف نہ دکھا سکیں گے۔
    ۸… آیت کا آخری حصہ ’’ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘
    {اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر شہادت دیں گے۔} قادیانی بھی اس حصہ آیت کے معنی کرنے میں ہم سے متفق ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود ونصاریٰ کے کس حال کی گواہی دیں گے۔ اگر آیت کے معنی قادیانی تفسیر کے مطابق کریں۔ یعنی یہ کہ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہمیں بتلائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے شہادت دیں گے اور کیا دیں گے؟
    ہاں اگر اسلامی تفسیر کے مطابق مطلب بیان کیا جائے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں تمام یہود ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر ان کی موت کے بعد باقی نہ رہے گا تو پھر واقعی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی شہادت دے سکیں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن عرض کریں گے۔ ’’کنت علیہم شہیداً مادمت فیہم‘‘ جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان پر نگہبان تھا۔
    ۹… ’’قبل موتہ‘‘ میں ’’قبل‘‘ کا لفظ بڑا ہی قابل غور ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض علماء کا خیال ہے اور انہیں میں مرزاغلام احمد قادیانی بھی ہے کہ اس ایمان سے مراد ایمان اضطراری ہے جو غرغرہ (نزع) کے وقت ہر ایک کتابی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ دو وجہوں سے باطل ہے۔ اگر ایمان اضطراری مراد ہوتا تو اﷲتعالیٰ اپنی فصیح وبلیغ کلام میں ’’قبل‘‘ کی بجائے ’’عند موتہ‘‘ فرماتے۔ یعنی موت کے وقت ایمان لاتے ہیں اور وہ ایمان واقعی قابل قبول نہیں ہوتا۔ لیکن جس ایمان کا اﷲتعالیٰ بیان فرمارہے ہیں۔ وہ ایمان اہل کتاب کو اپنی موت سے پہلے حاصل ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ واقعات کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہی معنی صحیح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔
    ۱۰… مرزاغلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز تفسیر سے بھی ہم اپنے ناظرین کو محظوظ کرنا چاہتے ہیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ:
    ’’کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کئے ہیں۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔‘‘ یعنی تمام یہودی اور عیسائی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ فی الحقیقت انہوں نے مسیح کو صلیب نہیں دیا یہ ہمارا ایک اعجازی بیان ہے۔

    (ازالہ اوہام طبع اوّل ص۳۷۲،۳۷۶، خزائن ج۳ ص۲۹۱،۲۹۳)
    مجھے یقین ہے کہ ناظرین اوّل تو مرزاقادیانی کی پیچیدہ عبارت کا مطلب ہی نا سمجھ سکیں اور اگر سمجھ جائیں تو سوچیں کہ یہ عبارت کلام اﷲ کے کون سے الفاظ کا ترجمہ ہے۔

    چیلنج
    مرزاقادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص۵۴،۵۵،خزائن ج۶ ص۳۵۰،۳۵۱) پر صاف اقرار کرتے ہیں کہ ’’کلام اﷲ کا صحیح مفہوم ہمیشہ دنیا میں موجود رہا اور رہے گا۔‘‘
    نیز مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ خداتعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت ایسے آئمہ واکابر کے ذریعہ سے کی ہے جن کو ہر ایک صدی میں فہم القرآن عطاء ہوتا ہے۔

    (ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸)
    ہمارا چیلنج یہ ہے کہ اگر مرزاقادیانی میں کچھ بھی صداقت کا شائبہ ہے تو وہ یا ان کی جماعت اس آیت کی یہ تفسیر حدیث سے یا ۱۳۵۳ھ سال کے مجددین امت وعلماء مفسرین کے اقوال سے پیش کریں۔ ورنہ بمطابق ’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبؤا مقعدہ من النار‘‘
    (ترمذی ج۲ ص۱۲۳، باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن)
    یعنی فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ جس کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی۔ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا۔
    خود مرزاقادیانی تفسیر بالرائے کے متعلق لکھتے ہیں:
    ’’مؤمن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۳۲۸، خزائن ج۳ ص۲۶۷)
    پھر فرماتے ہیں:
    ’’ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا مسلمانوں کو اس سے بچائے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۷۴۵، خزائن ج۳ ص۵۰۱)
    پس یا تو مرزائی جماعت مرزاقادیانی کے بیان کردہ معنی کسی سابق مجدد یا مفسر امت کی کتاب سے ثابت کرے یا مرزاقادیانی کا اور اپنا ملحد اور محرف ہونا تسلیم کرے۔

اس صفحے کی تشہیر