1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل " وانہ لعلم للساعۃ "

خادمِ اعلیٰ نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 5, 2018

  1. ‏ فروری 5, 2018 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ’’وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا" (الزخرف:61 )۔
    امام حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں بذیل آیت کریمہ فرماتے ہیں:
    "وقوله سبحانه وتعالى: وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ تَقَدَّمَ تَفْسِيرُ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ ذَلِكَ مَا بُعِثَ بِهِ عيسى عليه الصلاة والسلام، مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَإِبْرَاءِ الْأَكْمَهِ وَالْأَبْرَصِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَسْقَامِ، وَفِي هَذَا نَظَرٌ وَأَبْعَدُ مِنْهُ مَا حَكَاهُ قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وسعيد بن جبير، أن الضَّمِيرُ فِي وَإِنَّهُ عَائِدٌ عَلَى الْقُرْآنِ، بَلِ الصحيح أنه عائد على عيسى عليه الصلاة والسلام فَإِنَّ السِّيَاقَ فِي ذِكْرِهِ، ثُمَّ الْمُرَادُ بِذَلِكَ نُزُولُهُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، كَمَا قَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ [النساء: 159] أَيْ قَبْلَ مَوْتِ عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ثم يَوْمَ الْقِيامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً وَيُؤَيِّدُ هَذَا الْمَعْنَى الْقِرَاءَةَ الْأُخْرَى وَإِنَّهُ لَعَلَمٌ لِلسَّاعَةِ أَيْ أَمَارَةٌ وَدَلِيلٌ عَلَى وُقُوعِ السَّاعَةِ. قَالَ مُجَاهِدٌ وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ أَيْ آيَةٌ للساعة خروج عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَبْلَ يَوْمِ القيامة، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي الْعَالِيَةِ وَأَبِي مَالِكٍ وَعِكْرِمَةَ وَالْحَسَنِ وَقَتَادَةَ وَالضَّحَّاكِ وَغَيْرِهِمْ، وَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَحَادِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه أخبر بنزول عيسى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِمَامًا عَادِلًا وحكما مقسطا."(
    تفسير ابن كثير ، ج
    لد 7 صفحہ 217 )
    اﷲتعالیٰ کے قول ’’وانہ لعَلم للساعۃ‘‘ کے متعلق ابن اسحاق کی تفسیر گذر چکی ہے کہ مراد اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مثل مردوں کا زندہ کرنا، کوڑھوں اور برص والوں کو تندرست کرنا اور علاوہ اس کے دیگر امراض سے شفا دینا ہے۔ اس میں اعتراض اور اس سے زیادہ ناقابل قبول وہ ہے جو قتادہ نے حسن بصری ، سعید ابن جبیر سے بیان کیا ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ سیاق وسباق انہیں کے ذکر میں ہے۔ پس مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے… اور ان معنوں کی دوسری قرأت تائید کرتی ہے جو یہ ہے۔ ’’وانہ لعِلم للساعۃ‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہے اور دلیل ہے۔ قیامت کے واقع ہونے پر۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں۔ ’’قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ اسی طرح ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوعالیہؓ، ابومالکؓ، عکرمہؓ، حسنؓ، قتادہؓ، ضحاکؓ وغیرہم بزرگان دین سے روایت ہے۔ حدیثیں رسول کریمﷺ سے حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل، حاکم اور منصف کی حالت میں نازل ہونے کی خبر دی ہے۔

  2. ‏ فروری 5, 2018 #2
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    تفسیر آیت از امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم۔

    "وَإِنَّهُ أَيْ عِيسَى لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ شَرْطٌ مِنْ أَشْرَاطِهَا تُعْلَمُ بِهِ فَسُمِّيَ الشَّرْطُ الدَّالُّ عَلَى الشَّيْءِ عِلْمًا لِحُصُولِ الْعِلْمِ بِهِ، وَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَعَلَمٌ وَهُوَ الْعَلَامَةُ۔۔۔۔۔ وَفِي الْحَدِيثِ: «أَنَّ عِيسَى يَنْزِلُ عَلَى ثَنِيَّةٍ فِي الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ يُقَالُ لَهَا أَفِيقُ وَبِيَدِهِ حَرْبَةٌ وَبِهَا يَقْتُلُ الدَّجَّالَ فَيَأْتِي بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْإِمَامُ يَؤُمُّ بِهِمْ فَيَتَأَخَّرُ الْإِمَامُ فَيُقَدِّمُهُ عِيسَى وَيُصَلِّي خَلْفَهُ عَلَى شَرِيعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "(
    تفسير الرازي ، جلد 27 صفحہ 640 )

    عیسیٰ علیہ السلام قیامت معلوم کرنے کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے… ابن عباسؓ نے اس کو ’’لعَلم للساعۃ‘‘ پڑھا ہے۔ جس کے معنی نشانی کے ہیں… اور حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارض مقدس میں افیق کے مقام پر نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا اور اس سے دجال کو قتل کریں گے۔ پس وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ درآنحالیکہ لوگ صبح کی نماز میں ہوں گے اور امام ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا۔ پس وہ پیچھے ہٹیں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام ان کو آگے کر دیں گے اور ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ اسلامی طریقہ سے۔
  3. ‏ فروری 5, 2018 #3
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    تفسیر از امام لغت صاحب لسان العرب۔

    وَفِي التَّنْزِيلِ فِي صِفَةِ عِيسَى، صَلَوَاتُ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ: وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ
    ، وَهِيَ قِرَاءَةُ أَكْثَرِ الْقُرَّاءِ، وقرأَ بَعْضُهُمْ:
    وَإِنَّهُ لَعَلَمٌ لِلسَّاعَةِ
    الْمَعْنَى أَنَّ ظُهُورَ عِيسَى وَنُزُولَهُ إِلَى الأَرض عَلامةٌ تَدُلُّ عَلَى اقْتِرَابِ السَّاعَةِ.

    ( لسان العرب ، جلد 12 صفحہ 419 )
    قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں آیا ہے۔ ’’انہ لعِلم للساعۃ‘‘ اور یہ اکثر قاریوں کی قرأت ہے اور ان میں سے بعض نے اس کو ’’لعَلم للساعۃ‘‘ بھی پڑھا ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اور ان کا نازل ہونا زمین کی طرف ایسا نشان ہے جو قیامت کے نزدیک ہونے پر دلالت کرے گا۔

اس صفحے کی تشہیر