1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات عیسی علیہ السلام از اقوال مرزا قادیانی (قول مرزا نمبر۱۔۔۔مسلمانوں کا رسمی عقیدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 2, 2015

  1. ‏ جولائی 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسی علیہ السلام از اقوال مرزا قادیانی (قول مرزا نمبر۱۔۔۔مسلمانوں کا رسمی عقیدہ)

    ’’میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا۔ محض رسمی تھا۔ مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں۔ کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں۔ جب تک کہ خداتعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔‘‘

    (کشتی نور ص۷۴، خزائن ج۱۹ ص۵۰)
    ناظرین! کیا مرزاقادیانی کی یہ تاویل ان حقائق کے سامنے جو اوپر مذکور ہوئے ہیں۔ ایک لمحہ کے لئے بھی ٹھہر سکتی ہے؟ خود غرض کا ستیاناس ہو۔ کس سادگی سے کہتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔ اجی! پھر آپ نے جو کچھ براہین احمدیہ کی عظمت کے متعلق لکھا ہے۔ کیا وہ (معاف فرمائیں) بکواس محض نہ تھا۔ کیا مجدد کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے رسمی عقیدوں پر قائم رہتا ہے اور پھر ایسے عقائد والی کتاب کو الہامی قرار دیتا ہے اور اس پر ہزار روپیہ انعام کا بھی اعلان کرتا ہے۔ ذرا مامور من اﷲ اور ملہم کی شان دوبارہ اپنے ہی الفاظ میں سن کر کچھ تو ایسی تاویل کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے شرمائیے آخر ساری دنیاآپ کی اندھی تقلید تو کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دیکھئے ملہم من اﷲ کی شان آپ کے نزدیک یہ ہے۔
    ’’جو خداتعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کرتے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۱۹۸، خزائن ج۳ ص۱۹۷)
    اب فرمائیے! مسلمانوں کا رسمی عقیدہ لکھنے میں بغیر خدا کے بلائے آپ کیوں بول پڑے اور بغیر سمجھائے کیوں آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ سمجھ لیا اور بغیر حکم الٰہی کیوں آپ نے ان کی آمد ثانی کا اعلان کر دیا اور اپنی طرف سے کیوں عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور آمد ثانی کا عقیدہ رکھنے کی دلیری کر لی۔ کیا ایسا بیباک انسان کسی ذمہ دار عہدہ پر مأمور کئے جانے کا مستحق ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔

اس صفحے کی تشہیر