1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوں گے)

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 2, 2015

  1. ‏ اپریل 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوں گے)

    حدیث نمبر:۱۶…
    ’’اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن الربیعؓ قال ان النصاریٰ اتوا رسول اﷲﷺ فخا صموہ فی عیسیٰ ابن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اﷲ الکذب والبہتان فقال لہم النبیﷺ الستم تعلمون انہ الا یکون ولد الا وھو یشبہ اباہ قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا فقالوا بلیٰ‘‘
    (درمنثور ج۲ ص۳، زیر آیت ھو الحی القیوم)
    عظمت وصحت حدیث
    اس حدیث کی عظمت کا اندازہ آپ اسی امر سے لگا سکتے ہیں کہ امام ابن جریرؒ جیسے مفسر اعظم ومحدث معتبر مسلم قادیانی (دیکھو حدیث نمبر۱۵ کی ذیل میں) نے اپنی تفسیر میں اس کو درج کیا ہے اور امام جلال الدین سیوطیؒ نویں صدی کے مجدد وامام مسلم قادیانی نے بھی اپنی شہرہ آفاق تفسیر درمنثور میں اس کو صحیح لکھا ہے۔
    ’’ربیع کہتے ہیں کہ نجران کے عیسائی رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں (یعنی توحید وتثلیث پر بحث شروع کر دی) اور کہنے لگے کہ (اگر عیسیٰ علیہ السلام خدا کا بیٹا نہیں ہے تو بتاؤ) اس کا باپ پھر کون ہے۔ لگے اﷲ پر جھوٹ اور بہتان جڑنے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ولد اﷲ کہنے سے) رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کیوں نہیں؟ پھر رسول کریمﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اﷲتعالیٰ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ حالانکہ یقینا عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی۔ تو انہوں نے کہا۔ کیوں نہیں۔‘‘
    ناظرین! اس حدیث سے روز روشن کی طرح چند نتائج مندرجہ ذیل ہویدا ہیں۔
    ۱… اگرحضرت عیسیٰ علیہ السلام فی الواقعہ فوت ہو چکے ہوتے تو رسول پاکﷺ ’’وان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی۔ نہ فرماتے بلکہ آپ فرماتے کہ ’’وان عیسیٰ قد اتٰی علیہ الفنائ‘‘ کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوچکی ہے۔ مگر آپﷺ نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ رسول کریمﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسدہ العنصری مانتے تھے۔
    ۲… الزامی جواب دینا مناظرہ ومباحثہ میں مسلم ہے اور ایسا جواب ہوتا بھی بالکل فیصلہ کن ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس کتاب میں اپنے طرز استدلال کو بہت حد تک قادیانی مسلمات تک ہی محدود رکھا ہے۔ اسی طرح رسول کریمﷺ کو پتہ تھا کہ اگر عیسائی اور یہودی عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر مر جانے کے قائل ہیں۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام کا فوت شدہ ہونا یہودی مسلمات اور عیسائی مظنونات میں سے ہے اور موت الوہیت کی (خدائی کی) شان کے منافی (خلاف) ہے۔ اس واسطے رسول کریمﷺ ان کے مسلمات کی رو سے کہہ سکتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو تمہارے عقیدہ کے مطابق فوت ہوچکے ہیں۔ وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں؟ اور یہ الزامی جواب آپ کا بالکل درست تھا۔
    مگر قربان جائیں اس رحمتہ اللعالمین کی دوراندیشی اور ہمدردی کے جو آپﷺ نے اپنے ہر ہر فعل اور ہر ایک قول میں مدنظر رکھی ہے۔ آنحضرتﷺ نے مناظرانہ رنگ میں مسکت اور لاجواب الزامی کی بجائے تحقیقی جواب سے کام لیا جو ببرکت نبوت واقعی ہی لاجواب ثابت ہوا۔ امت مرحومہ کے ساتھ ہمدردی اور شفقت اس بات میں مضمر تھی کہ اگر آپﷺ کی زبان مبارک سے یہ لفظ نکل جاتے (یعنی عیسیٰ علیہ السلام تو تمہارے خیال میں مر چکے ہیں) تو قادیانی ضرور اسے قول نبوی ثابت کر کے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر دلیل کے طور پیش کرتے۔ پس اس طرز استدلال سے رسول کریمﷺ نے قادیانیوں کا ناطقہ بند کردیا اور امت مرحومہ کے ہاتھ میں زبردست دلیل حیات عیسیٰ علیہ السلام پر چھوڑ گئے۔

اس صفحے کی تشہیر