1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (زریب بن برتملا وصی کا پہاڑ سے نکل کر گواہی دینا)

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 3, 2015

  1. ‏ اپریل 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (زریب بن برتملا وصی کا پہاڑ سے نکل کر گواہی دینا)

    حدیث نمبر:۲۷…
    ناظرین! سینکڑوں حدیثیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے ثبوت میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مگر ساری احادیث کو لکھ کر ہر ایک کے متعلق بحث درج کرنے سے ایک بہت ہی ضخیم کتاب بن جائے گی۔ لہٰذا صرف اسی قدر پر اکتفا کرتا ہوں۔ ہاں سب احادیث مذکورۃ الصدر کی صحت اور اسلامی تفسیر کے معتبر ہونے پر ایسے شخص کی مہر توثیق ثبت کراتا ہوں کہ قادیانیوں کے لئے ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ کا نقشہ کھچ جائے۔ یہ بزرگ ہستی رئیس المکاشفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔
    جن کے متعلق مرزاقادیانی کا ارشاد ہے۔
    ’’کہ وہ احادیث کے غلط اور صحیح ہونے کا فیصلہ رسول پاکﷺ سے بالمشافہ گفتگو کر کے پوچھ لیا کرتے تھے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
    شیخ ابن عربی قدس سرہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب (فتوحات مکیہ ج۱ ص۲۲۳،۲۲۴) کے باب میں ایک حدیث درج کی ہے۔ چونکہ حدیث بہت طویل ہے۔ لہٰذا عربی عبارت کا ترجمہ شمس الہدایہ مصنفہ حضرت مولانا پیر سید مہر علی شاہ صاحبؒ مسند آرائے گولڑہ شریف سے نقل کرتے ہیں۔
    ’’فرمایا حضرت ابن عمرؓ نے کہ میرے والد عمرؓ بن الخطاب نے سعد بن وقاصؓ کی طرف لکھا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی طرف روانہ کرو۔ تاکہ مال غنیمت حاصل کریں۔ پس روانہ کیا سعد نے نضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت سا مال غنیمت کا حاصل کیا اور ان سب کو لے کر واپس ہوئے تو آفتاب غروب ہونے کے قریب تھا۔ پس نضلہ انصاری نے گھبرا کر ان سب کو پہاڑ کے کنارے ٹھہرایا اور خود کھڑے ہوکر اذان دینی شروع کی۔ جب اﷲ اکبر، اﷲ اکبر کہا تو پہاڑ کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ اے نضلہ تو نے خدا کی بہت بڑائی کی۔ اسی طرح تمام اذان کا جواب پہاڑ سے اسی مجیب نے دیا۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے کھڑے ہو کر دریافت کرنا شروع کیا کہ اے صاحب آپ کون ہیں؟ فرشتہ یا جن یا انسان جیسے آپ نے اپنی آواز ہم کو سنائی ہے۔ اسی طرح اپنا آپ ہمیں دکھائیے۔ اس واسطے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اﷲﷺ اور نائب رسول عمر بن الخطابؓ کی جماعت ہیں۔ پس پہاڑ پھٹا اور ایک شخص باہر نکل آیا… اور السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا۔ ہم نے جواب دیا اور دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ فرمایا زریب بن برتملا وصی عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لئے دعا فرمائی۔ جب وہ اتریں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے۔ نصاریٰ کے اختراع سے پھر دریافت فرمایا کہ وہ نبی صادق بالفعل کس حال میں ہیں… پھر ہم سے غائب ہوگئے۔ پس نضلہ نے یہ مضمون سعدؓ کی طرف لکھا اور سعد نے حضرت عمرؓ کی طرف۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کی طرف لکھا کہ تم اپنے ہمرائیوں کو لے کر اس پہاڑ کے پاس اترو۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان کو پہنچائیو۔ اس واسطے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کے پہاڑوں میں اترے ہوئے ہیں۔ پس سعدؓ چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑوں کے قریب اترے… مگر ملاقات نہ ہوئی۔‘‘

    (شمس الہدایہ ص۶۰تا۶۲)
    تصدیق حدیث

    ۱… یہ حدیث بیان کر کے حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اگرچہ ابن ازہر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محدثین کے نزدیک کلام ہے۔ مگر اہل کشف کے نزدیک یہ صحیح حدیث ہے۔
    ۲… مجدد اعظم صدی یازدہم حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی نے بھی اس حدیث کو اپنی کتاب (ازالۃ الخفا مترجم ج۴ ص۹۱تا۹۳، مقصد دوم ص۱۶۷،۱۶۸، الفصل الرابع) میں درج فرمایا ہے۔
    نتائج

    ۱… حدیث کی صحت کے متعلق حضرت شیخ قدس سرہ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے خلاف زبان کھولنا مرزاقادیانی کے قول کے رو سے فسق اور کفر ہے۔
    ۲… زریب بن برتملا وصی حضرت مسیح علیہ السلام کو اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اس قدر طویل عمر عطا کی کہ وہ اب تک زندہ ہیں۔ گویا زریب بن برتملا بھی دوہزار سال سے زندہ ہیں۔
    ۳… زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ فرمائے۔ ’’ودعالی بطول البقاء الیٰ نزولہ من السمائ‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے نازل ہونے تک میرے زندہ رہنے کی دعا کی۔
    ۴… قریباً چار ہزار صحابہ کرامؓ نے زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام کا جواب سنا اور گویا اس کی تصدیق کی۔
    ۵… چار ہزار صحابہؓ کی طرف سے حضرت سعد بن وقاص نے حضرت عمرؓ کو سارا حال لکھ بھیجا اور حضرت عمرؓ نے اس واقعہ کی حدیث نبوی سے تصدیق کر دی اور مزید انکشاف کے لئے حضرت سعدؓ کو خط لکھا۔
    ۶… کسی صحابیؓ سے انکار کسی کتاب میں مروی نہیں۔

اس صفحے کی تشہیر