1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات عیسی علیہ السلام کا قرآن پاک سے ثبوت اور مرزائیوں کے دجل کا پوسٹ مارٹم

ضیاء رسول امینی نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 4, 2014

  1. ‏ دسمبر 4, 2014 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مرزایوں کے دھوکوں کا پوسٹ مارٹم۔


    وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٥٨﴾ وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١۵۹﴾
    ترجمہ: اور ان کے کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو جو رسول ہیں اللہ کے حالانکہ نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی پر چڑھایا اسے بلکہ معاملہ مشتبہ کردیا گیا ان کے لئے اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا اس معاملہ میں ضرور مبتلا ہیں شک میں اس بارے میں اور نہیں ہے انہیں اس واقعہ کا کچھ بھی علم ،سوائے گمان کی پیروی کے اور نہیں قتل کیا انہوں نے مسیح کو یقینا ۔بلکہ اٹھا لیا ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف اورہے اللہ زبردست طاقت رکھنے والا ،بڑی حکمت والا ۔اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا (مسیح پر)اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا( مسیح) ان پر گواہ )
    مرزایوں کو جب یہ آیات پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ کوی بھی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں ہوگا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پہ ایمان نہ لاے تو چونکہ ابھی تک اہل کتاب حضرت عیسی علیہ السلام پہ ایمان نہیں لاے لہذا ثابت ہوا کہ ابھی تک عیسی علیہ السلام پر موت واقع نہیں ہوی اور وہ زندہ ہیں۔
    مرزای اس کے جواب میں مندرجہ ذیل عزر پیش کرتے ہیں
    ١۔ إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
    آل عمران ۵۵

    ﴿مرزای ترجمعہ﴾جس وقت الله نے فرمایا اے عیسیٰ! بے شک میں تمہیں وفات دینے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور جو لوگ تیرے تابعدار ہوں گے انہیں ان لوگوں پر قیامت کے دن تک غالب رکھنے والا ہوں جو تیرے منکر ہیں پھر تم سب کو میری طرف لوٹ کر آنا ہوگا پھر میں تم میں فیصلہ کروں گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔
    ان کے اپنے ہی ترجمعے میں تین دفعہ الی کا لفظ استعمال ہوا ہے دو بار إِلَيَّ میں اور ایک بار الی اور یہ لوگ دو جگہ الی کا ترجمعہ ۔طرف۔ کرتے ہیں اور ایک جگہ ۔تک۔ اگر یہ ہر جگہ طرف ہی ترجمعہ کر لیں تو ان کو یہ عزر کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے جو آگے درج ہے۔ لیکن پھر بھی ان کے ہی ترجمعے میں ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت موجود ہے
    اس میں الی یوم القیامة کے الفاظ سے مرزای یہ استدلال کرتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کے تابعداروں کا منکروں پہ قیامت تک غلبہ رہنا ہے لہذا قیامت تک تابعدار اور منکر ہر وقت بنا کسی وقفے کے موجود رہیں گے تو یہ ممکن نہں کہ کوی ایسا وقت آے جب سب عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آیں اور کوی بھی منکر نہ رہے۔ لہذا یہ ترجمعہ غلط ہے۔
    ان لوگوں کا چونکہ عقل اور علم سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں اس لیے اس طرح کی بونگیاں مارتے ہیں۔
    حالانکہ اللہ پاک نے صرف اتنا ہی فرمایا ہے کہ تمام اہل کتاب حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پہ ایمان ضرور لایں گے یہ نہیں فرمایا کہ وہ ایمان لانے کے بعد پھر قیامت تک اس ایمان پہ قایم رہیں گے اور دوبارہ کوی منکر پیدا نہیں ہوگا۔ اور دوسری بات یہ کہ یہاں غلببہ ہونے کے لیے منکروں اور تابعداروں دونوں کے ہونے کی شرط ہے مطلب منکر ہوں گے تو غلبہ بھی ہوگا نہیں ہوں گے تو پھر غلبہ ہی غلبہ ہے اسی طرح تابعدار ہوں گے تو غلبہ ہوگا تابعدار نہیں ہوں گے تو غلبہ بھی نہیں۔
    اللہ پاک قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرماتا ہے۔

    وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ۔ سورة الاعراف ١٦۷

    اور جب تیرے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ وہ قیامت کے دن تک ان پر ایسا شخص ضرور بھیجتا رہے گا جو انھیں برا عذاب دے، بے شک تیرا رب یقینا بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

    میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہاں بھی وہی لفظ ہے الی یوم القیامة تو کیا یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ ہر وقت چوبیس گھنٹے بنا کسی وقفے پہ ان پہ کوی ایسا شخص مسلط رہتا ہے جو ہر وقت ان کو سخت عذاب دیتا ہے؟ تو ماننا پڑے گا کہ قیامت تک وقتاََ فوقتاََ ان پہ کوی نہ کوی شخص اللہ پاک مسلط کرتا رہتا ہے جو ان کو سخت عزاب سے دوچار کرتا ہے یہاں سے یہ استدلال نہیں لیا جا سکتا کہ ہر وقت بنا کسی وقفے کہ کوی شخص ان پہ مسلط رہتا ہے اور عذاب دیتا ہے ان کو۔
    اسی طرح ایک اور جگہ اللہ پاک فرماتا ہے۔

    اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا
    سورة النساء 87

    اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سواکوئی معبود نہیں، وہ ہر صورت تمھیں جمع کرے گا قیامت کے روز جس میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے زیادہ بات میں کون سچا ہے

    یہاں بھی الی یوم القیامة ہے کیا یہاں بھی یہی مطلب لیا جاسکتا ہے کہ ہر کوی ہر وقت قیامت کی طرف جمع ہوتا رہے گا؟
    لہذا الی یوم القیامة سے یہ استدلال ہرگز نہیں لیا جاسکتا کہ مزکورہ عمل حکم کے فورََا بعد شروع ہو کہ قیامت تک بنا کسی وقفے کا جاری رہے گا، بلکہ مزکورہ عمل میں جو شرط ہوتی ہے وہ شرط پوری ہوگی تو عمل جاری ہوگا۔ اس سے حکم کے بعد وقفے کا نہ ہونا کہیں سے بھی ثابت نہیں ہوتا
    تو جس طرح یہاں جمع ہونے کے لیے قیامت کا ہونا لازمی ہے اسی طرح وہاں بھی غلبے کے لیے تابعداروں اور منکروں کا ہونا ضروری ہے جب جب منکر اور تابعدار ہوں گے تب تب غلبہ بھی ہوگا۔ اور دوسری بات یہ کہ اللہ پاک نے صرف ایمان لانے کا ارشاد فرمایا ہے نہ کہ قیامت تک پھر اسی ایمان پہ قایم رہنے کا۔ لہذا قیامت تک منکروں کا رہنا ممکن ہے بات صرف درمیان میں وقفہ ہونے یا نہ ہونے کی تھی جس کا یہ الی یوم القیامة کے الفاظ سے استدلال لیتے ہیں۔ جو کہ باطل ثابت ہوا۔
    پھر اسی طرح ایک اور ڈھکوسلہ لگاتے ہیں کہ جو آج تک اہل کتاب ایمان لاے بنا مر چکے ہیں وہ کدھر جایں گے اگر سب نے ایمان لانا ہے۔ حالانکہ یہاں سے مراد وہ سب اہل کتاب ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کے بعد اور ان کی وفات بابرکات سے پہلے زندہ موجود ہوں گے پہلے سے جو مر چکے ہیں ان پہ اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا اور اگر بالفرض ایک منٹ کے لیے ان کا یہ ڈھکوسلہ مان لیا جاے تو پھر اس نیچے والی آیت میں بھی علیھم جمع کا صیغہ ہے اور آگے الی یوم القیامة تو کیا یہاں بھی یہی عزر کرو گے اللہ کے فرمان پہ کہ جو مرچکے ہیں ان پہ بھی کسی شخص کا مسلط رہنا ہر وقت ضروری ہے جو ان کو سخت عذاب دیتا رہے؟

    وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ۔ سورة الاعراف ١٦۷۔۔۔

    دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر الی یوم القیامة سے ان کے مطابق یہی مطلب ہے کہ ایک منٹ بھی ایسا نہیں ہوگا جب کوی منکر مجود نہیں ہوگا تو پھر اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک منٹ بھی ایسا نہیں ہوگا جب غلبہ نہیں ہوگا۔ اور دوسری طرف خود یہ جاہل اس بات کو مانتے ہیں عیسی علیہ السلام کے ساتھ صرف سات یا آٹھ حواری تھے اس وقت اور کہتے ہیں کہ یہ غلبہ واقعہ صلیب سے کچھ سو سال بعد سے شروع ہوا کبھی دو سو سال کا اندازہ لگاتے ہیں کبھی پانچ سو سال کا مگر جتنا بھی کہیں یہ بات تو ان کو خود تسلیم ہے کہ غلبہ واقعہ صلیب کے فوراََ بعد شروع نہیں ہوا کیونکہ ان کے مطابق عیسی علیہ السلام صلیب سے اتر کے کشمیر اور پتہ نہیں کہاں کہاں بھیجتے ہیں ان کو تو اگر غلبہ ہوتا تو ان کے مطابق وہ چھپ کے وہاں سے کشمیر میں کیوں آتے؟ تو ان سے میں یہ پوچھتا ہوں کہ ہم جب بات کرتے ہیں تو تمہیں ایک منٹ کا بھی ایسا وقفہ قبول نہیں جس میں منکر نہ ہو تو تم غلبہ ہونے میں اتنا وقفہ کیسے پیدا کرتے ہو؟ کیونکہ جب ہر وقت منکر اور تابعدار موجود رہیں گے تمہارے مطابق تو غلبہ بھی ہر وقت ہونا لازم آتا ہے۔ تو جب منکروں کا کسی وقت نہ ہونا ممکن نظر نہیں آتا تم لوگوں کو تو غلبے کا نہ ہونا کیسے ممکن کرتے ہو؟ تم کیسے یہ نام نہاد غلبہ اتنے سالوں کے بعد شروع کرواتے ہو؟
    اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ غلبہ عیسی علیہ السلام کے تابعداروں کا ان کے منکروں پہ ہونا ہے تو یہ لوگ عیسایوں کو تابعدار کس فارمولے سے بنا رہے ہیں؟ کیا عیسی علیہ السلام نے یہ فرمایا تھا ان کو کہ مجھے خدا یا خدا کا بیٹا ماننا؟؟؟ کیا یہ فرمایا تھا انہوں نے کہ میرے بعد جو اللہ پاک کا پیارا رسول تشریف لاے اس کی پیروی نہ کرنا؟ جب وہ عیسی علیہ السلام کی تعلیمات اور ان کی بات ہی نہیں مانتے تو تابعدار کیسے ہوے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    جاہلو یہ تابعدار تب ہی ہوں گے جب عیسی علیہ السلام دوبارہ تشریف لایں گے اور پھر ان کا غلبہ بھی ہوگا ورنہ موجودہ عیسایوں کو قیامت تک تم عیسی علیہ السلام کا تابعدار ثابت نہیں کر سکتے۔ اور اگر تابعدار ہوتے تو تمہارا مرزا قادیانی کیوں ساری زندگی ان سے بے عزت ہوتا رہا؟ کیونکہ ہر نبی کے تابعدار ہمیشہ حق پہ ہوتے ہیں لیکن اگر تابعدار ہوں تو۔ صرف کسی کو نبی مان لینا تابعداری نہیں ہوتی جب تک اس کی تعلیمات اور حکم نہ مانا جاے۔

    ۲۔ یہاں ایک اور انتہای اہم بات قابل ذکر ہے
    وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٥٨﴾ وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١۵۹﴾

    ترجمہ:اور ان کے کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو جو رسول ہیں اللہ کے حالانکہ نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی پر چڑھایا اسے بلکہ معاملہ مشتبہ کردیا گیا ان کے لئے اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا اس معاملہ میں ضرور مبتلا ہیں شک میں اس بارے میں اور نہیں ہے انہیں اس واقعہ کا کچھ بھی علم ،سوائے گمان کی پیروی کے اور نہیں قتل کیا انہوں نے مسیح کو یقینا ۔بلکہ اٹھا لیا ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف اورہے اللہ زبردست طاقت رکھنے والا ،بڑی حکمت والا ۔اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا (مسیح پر)اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا( مسیح) ان پر گواہ )
    میں مرزایوں سے پوچھتا ہوں کہ اوپر جو آیات درج ہیں کیا یہ ساری بات اللہ پاک نے حضرت عیسی علیہ السلام سے فرمای یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے؟ یقیناََ عیسی علیہ السلام سے نہیں فرمای کیونکہ انہی کے قتل اور صلب نہ ہونے کا تو واقعہ ہے اور تم لوگ چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ نہیں گردانتے اس لیے تم لوگوں کے مطابق ایک فوت شدہ کو تو اللہ پاک یہ بات نہیں فرما سکتا کہ نہ تمہیں قتل کیا گیا نہ صلب اور دوسری بات یہاں صیغہ بھی غایب کا ہے اگر عیسی علیہ السلام سے اللہ پاک فرماتا تو صیغہ حاضر کا ہوتا۔ اس لیے ایسا ڈھکوسلہ بھی نہیں لگا سکتے اور یہ بھی بات روز روشن کی طرح عیاں کے کہ قرآن پاک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہ نازل ہوا نہ کہ عیسی علیہ السلام پہ، تو یہاں ایک بات انتہای توجہ طلب ہے کہ لیومنن کا صیغہ خالصتاََ زمانہ مستقبل کے لیے ہے کیونکہ یہ فعل مضارع پہ لام تاکید اور نون تاکید ثقیلہ کے ساتھ ہے جو کہ صرف اور صرف زمانہ مستقبل پہ دلالت کرتا ہے۔ تو ظاہر ہوا کہ اللہ پاک نے اس سارے واقعے کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دینے کے بعد یہ ارشاد فرمایا۔
    وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ
    یعنی زمانہ مستقبل میں ایک وقت آے گا کہ عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آیں گے۔ تو ثابت ہوا کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں۔

    ۲۔ اب آتے ہیں مرزایوں کے ترجمعے کی طرف جو کہ ان کا کیا ہوا ترجمعہ ہی ان کو جھوٹا ثابت کر رہا ہے
    مرزای پارٹی ان آیات کا یہ ترجمعہ کرتی ہے۔ فی الحال انکے اس ترجمعے کی حقیقت اور اس میں ان کے دجل و فریب سے ہٹ کے صرف ان کے ہی کیے ہوے ترجمعے کے حساب سے ان کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔
    وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٥٨﴾ وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١۵۹﴾

    مرزای ترجمعہ۔
    '' اور ان کے (یہ بات )کہنے کے سب سے کہ اللہ کے رسول مسیح ابن مریم کو یقیناً ہم نے قتل کردیا ہے (یہ سزا ان کو ملی ہے)حالانکہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے صلیب پر لٹکا کے مارا بلکہ وہ ان کے لیے (مصلوب کے) مشابہ بنا دیا گیا اور جن لوگوں نے اس(یعنی مسیح کے زندہ اتارے جانے میں اختلاف کیا وہ یقیناً اس (کے زندہ اتارے جانے کی وجہ سے) شک میں پڑے ہوئے ہیں انہیں اس کے متعلق کوئی بھی (یقینی) علم نہیں ہاں (صرف ایک) وہم کی پیروی (کر رہے ہیں) اور انہوں نے اس (واقعہ کی اصلیت) کو پوری طرح نہیں سمجھا (اور جو سمجھا ہے غلط سمجھا ہے) واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے اپنے حضور میں عزت اور (رفعت) دی تھی (اور وہ صلیب پر مر نہیں گیا تھا) کیونکہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔اور اہل کتاب میں سے ایک بھی نہیں جو اس واقعہ پر اپنی موت سے پہلے ایمان نہ لاتا رہے اور وہ﴿یعنی مسیح﴾ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔۔

    یہاں مرزای یہ کہتے ہیں یہ اہل کتاب اس واقعے پہ اپنی اپنی موت سے پہلے ایمان لاتے رہیں گے اور ان کے اس واقعے پہ ایمان لانے کا عمل واقعہ صلیب کے فوراََ بعد سے شروع ہے اور قیامت تک جاری رہے گا
    ان کا ایک دجل و فریب تو یہاں ثابت ہوا کہ اللہ پاک نے جب قرآن پاک نازل فرمایا تب بھی لیومنن فرمایا جو کہ صرف مستقبل کے زمانہ پہ دلالت کرتا ہے۔ تو یہ لوگ ان کے ایمان لانے کا عمل قرآن پاک کے نازل ہونے سے پہلے شروع کرکے اپنے ہی ترجمعے کے مطابق جھوٹے ثابت ہوے کیونکہ وہ اگر مذکورہ واقعے پہ ایمان لانا ہی مطلب سمجھیں تب بھی اللہ پاک زمانہ مستقبل میں ایمان لانے کا ارشاد فرما رہا ہے اور یہ زمانہ ماضی سے یہ ایمان لانا ظاہر کرتے ہیں ۔ اس لیے اللہ پاک کے فرمان کے مطابق ان کا یہ دعوی باطل ثابت ہوا۔
    دوسری بات یہ ہے اگر یہاں﴿بالفرض محال﴾ اس واقعے پہ ایمان لانا بھی مطلب لیا جاے تو پھر بھی واقعہ اللہ پاک نے یہ بیان کیا کہ نہ ان کو قتل کیا گیا نہ صلب تو پھر اہل کتاب کو اس واقعے پہ ایمان لانا چاہیے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا نہ صلب۔ جبکہ تمام اہل کتاب کا ایمان اس کے خلاف ہے یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو قتل اور صلب کردیا گیا۔
    پھر آگے تم لوگ کہتے ہو کہ مسیح علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے تو بات ایمان لانے کی ہے اور اس کے بعد اللہ پاک فرماتا ہے کہ عیسی علیہ السلام ان پہ گواہ ہوں گے تو ثابت ہوا کہ عیسی علیہ السلام ان کے اس واقعے پہ ﴿تمہارے مطابق﴾ ایمان لانے کے گواہ ہوں گے تو جب تم لوگوں نے عیسی علیہ السلام کو وفات شدہ مان لیا تو وہ ان کے اس واقعے پہ ایمان لانے کے گواہ کیسے ہوں گے؟ کیا وہ نعوذ باللہ جھوٹی گواہی دیں گے کہ یہ سب اس واقعے پہ ایمان لاتے رہے؟ جبکہ تمہارے ترجمعے کے مطابق وہ انکے اس بات پہ ایمان لانے کے وقت موجود ہی نہیں تھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    تو تم لوگ اپنے ہی کیے ہوے ترجمعے کا مطابق بھی اللہ پاک کے فضل و کرم سے جھوٹے ثابت ہوے۔ اگر کوی حق کا متلاشی مرزای اس پوسٹ کو غور سے پڑھ لے تو سمجھ جاے گا کہ مرزای اپنے ترجمعے کے مطابق بھی جھوٹے ہیں۔
    طالب دعا۔
    آقا علیہ الصلوة السلام کا ادنی سا غلام
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ دسمبر 4, 2014
    • Like Like x 1
  2. ‏ دسمبر 4, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

  3. ‏ دسمبر 4, 2014 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    یہ مرزائیوں کے کس دجل و فریب کا پوسٹ مارٹم کیا ہے ۔ مختصر سا پوسٹ کے آخر میں لکھ دیں ۔ جزاک اللہُ خیرا
  4. ‏ دسمبر 4, 2014 #4
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    یہ مرزائیوں کا ان کے ہی ترجمعے کا مطابق پوسٹ مارٹم ہے
  5. ‏ دسمبر 4, 2014 #5
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آپ پڑھ لیں کوئی تبدیلی کرنی ہو تو کردیں شکریہ

اس صفحے کی تشہیر