1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات مسیح علیہ سلام پر بحث کیلیے اصرار کا جواب

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 28, 2015

  1. ‏ اکتوبر 28, 2015 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    حیات مسیح علیہ سلام پر بحث کیلیے اصرار کا جواب
    سوال:احمدی حضرات حیات مسیح کیلیئے کہہ دیتے ہیں کہ اپ عیسی علیہ سلام کو اسمان پر زندہ ثابی کر دیں تو مسئلہ ختم?

    جواب:کبھی کوئی احمدی مرزا صاحب پر بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ اور بات کرنے کیلئے ایسے موضوعات(حیات عیسٰی علیہ سلام وغیرہ) پر اصرار کیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔جو خود مرزا صاٰحب کے نزدیک ایک ادنٰی سی بات ہے۔ ۔ ۔ ۔اور اس کا ایمانیات یا دین کے ارکان سے کوئی تعلق نہیں یعنی حیات مسیح یا وفات مسیح کاععقیدہ رکھنے سے کوئی بھی کافر نہیں ہو جاتا ۔

    مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ "اول تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صد ہی پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔" (ازالہ اوہام صفحہ 140روحانی خزائن جلد 3 صفحہ171)

    جب کہ مرزا صاحب کا دعوی نبوت اسلام اور کفر کا بنیادی مسئلہ ہے۔اور اس کا ایمانیات اور دین کے رکنوں سے بنیادی تعلق ہے ۔کیونکہ ہر مسلمان کیلئے تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے۔کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ لہزا مرزا صاحب کے ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں مسلمان نہیں ہو سکتے مسلمانوں کے نزدیک اللہ تعالٰی نے ۔ ۔ ۔ ۔1،2400ََ0 ۔ ۔ ۔ ۔انبیاء کو مبعوث فرمایا اور خود مرزا صاحب بھی اس تعداد کو تسلیم کرتے ہیں

    ( ملفوفات جلد 2 صفحہ 22)

    جبکہ احمدی حضرات کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے۔ ۔ ۔ ۔1،24001۔۔ ۔ ۔ ۔ انبیاء کو مبعوث فرمایا کیونکہ احمدی حضرات مرزا صاحب کو بھی انبیاء کی لسٹ میں شمار کرتے ہیں ۔لہٰزا دونوں مسلمان نہیں ہو سکتے کیونکہ دونوں گروہوں کی انبیاء کی تعداد میں فرق ہے۔اگر مرزا صاحب نبی یا رسول ہیں تو انکے نہ ماننے والے کافر اور اگر مرزا صاحب جھوٹے نبی ہیں تو جھوٹے نبی کے پیروکار کافر۔اور جھگڑا صرف مرزا صاحب کے سچے یا جھوٹے ہونے میں ہے۔ لہٰزا فیصلے کی راہ بالکل واضح ہے اور ہم احمدی حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیں۔ ۔ ۔ مرزا صاحب کی شخصیت اور کردار پر بات کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اگر مرزا صاحب سچے ثابت ہو جاتے ہیں تو ہم آپ کا مذہب اختیار کر لیں گے ۔ ۔ ۔۔ اور اگر مرزا صاحب جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں تو آپ مرزا صاحب کے عقائد سے توبہ کر کے امت مسلمہ میں داخل ہو جائیں ۔

    احمدی حضرات حیات یا وفات مسیح علیہ سلام پر اس لیے اصرار کرتے ہیں تاکہ مرزا صاحب کا دعوی نبوت زیر بحث نہ آ سکے اور عوام کو ان کے شخصیت اور کردار کے متعلق کچھ پتہ نہ چل سکے ۔

    معزز قارئین اسلام کے آغاز سے آج تک مسلمانوں کایہی عقیدہ چلا آ رہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔جس وقت یہودی حضرت عیسٰی علیہ سلام کو مسلوب کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو اپنی طرف اٹھا لیا اور وہ قرب قیامت میں دوبارہ نازل ہو کر دجال کا خاتمہ کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اورعیسائی قوم کو اسلام میں داخل فرمائیں گے اور اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کا خاتمہ ہو جائے گا۔

    دلچسپ بات یہ کہ خود مرزا صاحب اپنی زندگی کے 52 سال تک اس عقیدہ پر قائم رہے ۔ ۔ ۔ ۔اور براہین احمدیہ نامی کتاب میں قرآن پاک کی آیات اور اپنے الہامات کی رو سے بھی یہی عقیدہ تحریر کیا کہ وہی عیسیٰ علیہ سلام آسمان سے نازل ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ جس وقت مرزا صاحب نے جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی (1889ء) میں ۔ ۔ ۔ ۔اور باقاعدہ بیعت لینی شروع کی۔ ۔ ۔ اس وقت بھی مرزا صاحب اس عقیدہ کے قائل تھے ۔

    جماعت احمدیہ قائم کرنے کے دو سال بعد 1891ء میں مرزا صاحب نے وفات مسیح کا اعلان کر دیا۔اور اس کی یہ وجہ بتائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص الہام سے ان پر یہ ظاہر کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ سلام وفات پا چکے ہیں لہٰزا انہوں نے دوبارہ نہیں آنا اور ان کی جگہ پر (مرزا صاحب) خود آ گئے ہیں۔

    (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 561،562،روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 402)

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا مرزا صاحب کو واقعی کوئی الہام ہوا کرتا تھا کہ نہیں۔ ۔ ۔ ہم احمدی حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔آئیں مرزا صاحب کے دیگر الہامات پر بات کرتے ہیں اگر وہ اپنے باقی الہامات میں سچے ثابت ہو جاتے ہیں تو ہم ان کا وفات مسیح کا الہام بغیر کسی مزید دلیل کے مان لیں گے ۔ ۔ ۔ اور اگر مرزا صاحب باقی الہامات میں جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں تو آپ وفات مسیح والے الہام کو بھی جھوٹا مان کر احمدیہ عقائد سے توبہ کر لیں۔

    لیکن کبھی کوئی احمدی مرزا صاحب کے الہامات پہ بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔اس موقع پر احمدی حضرات یہ کہتے ہیں کہ وہ صرف قرآن پاک سے بات کریں گے کیونکہ قرآن پاک میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام وفات پا چکے ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر