1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

محمدابوبکرصدیق نے 'تحریک ختم نبوت میں علماء و مشائخ کا کردار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 3, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ اپریل 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۱…
    حضرت عمرؓ خلیفہ رسول کریمﷺ کا عقیدہ

    ۱… ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن وقاصؓ اور ان کے ساتھ تین چار ہزار صحابہ مہاجرین وانصار کے بیان کردہ مضمون حیات عیسیٰ علیہ السلام وحیات برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی تھی۔
    ۲… پہلے ہم ایک حدیث بیان کر آئے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل سے اس بناء پر منع فرمایا تھا کہ دجال کا قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہے اور حضرت عمرؓ نے اس کے جواب میں سکوت کیا۔ گویا رسول کریمﷺ کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام قبول کر لیا۔
    ۳… ہم ایک حدیث بیان کر آئے ہیں۔ وہ ساری حدیث درمنثور اور ابن جریر میں ملاحظہ کیجئے۔ اس ارشاد نبوی کے وقت حضرت عمرؓ موجود تھے۔
    آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’ان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے۔
    اگر حضرت عمرؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ نہیں مانتے تھے تو کیوں نہ عرض کیا یا رسول اﷲﷺ ’’انہ قداتیٰ علیہ الفنائ‘‘ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو موت واردہوچکی ہے۔ ایسا عرض نہ کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضرت عمرؓ بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے۔
  2. ‏ اپریل 3, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

  3. ‏ اپریل 3, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۳…
    حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کا عقیدہ

    دلیل ملاحظہ ہو۔ بذیل عقیدہ حضرت عمر نمبر:۳۔ اس حدیث کے بیان کے وقت حضرت ابوعبیدہ بن الجراح بھی موجود تھے اور انہیں کو وفد نجران کے ساتھ آنحضرتﷺ نے حکم بنا کر بھیجا تھا۔
  4. ‏ اپریل 4, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۴…
    حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ

    ناظرین! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے سامنے حضرت عبداﷲ بن عباسؓ صحابی کی عظمت شان بیان کروں اور وہ بھی مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں۔
    ۱… ’’حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرتﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘

    (ازالہ ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)
    ۲… ’’خود ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے ان کو اپنے سینے سے لگایا اور دعا کی کہ یا الٰہی اس کو حکمت بخش۔ اس کو علم قرآن بخش چونکہ دعا نبی کریمﷺ کی مستجاب ہے… ابن عباسؓ کے حق میں علم قرآن کی دعا مستجاب ہوچکی ہے۔‘‘
    (ازالہ طبع اوّل ص۸۹۳، خزائن ج۳ ص۵۸۷)
    احادیث واقوال حضرت ابن عباسؓ

    ۱… پہلے ہم قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر آئے ہیں کہ: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کے معنی ابن عباسؓ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے قرب قیامت میں نازل ہونا ہے۔
    ۲… ہم قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر چکے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ ’’قبل موتہ‘‘ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال فرمایا کرتے تھے۔
    ۳… قادیانی مسلمات کی رو سے ایک صحیح حدیث مرفوع حضرت ابن عباسؓ کی روایت کردہ درج کر کے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر چکے ہیں۔
    ۴… قادیانی مسلمات کی رو سے حضرت عبداﷲ بن عباسؓ کی مرفوع حدیث سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر آئے ہیں۔
    ۵… درمنثور میں امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم نے قول حضرت ابن عباسؓ کا روایت کیا ہے جو درج ذیل ہے۔
    ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ ای رافعک الیّٰ ثم متوفیک فی آخر الزمان‘‘

    (درمنثور ج۲ ص۳۶)
    ’’آیت کا یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں پہلے تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا اور پھر آخری زمانہ میں موت دوں گا۔‘‘
    ۶… اس میں حضرت ابن عباسؓ نے توفی کو اماتت کے معنوں میں بھی لے کر حیات عیسیٰ علیہ السلام ہی ثابت کی ہے۔ پس قادیانی جماعت کے لئے یہ ضرب موت سے کم نہیں ہے اب وہ تقدیم وتاخیر کا نام تحریف اگر رکھیں گے تو کس منہ سے، ابن عباسؓ کی قرآن دانی پر بڑے مرزاقادیانی نے مہر توثیق ثبت کر دی ہے۔
    ۷… ’’عن ابن عباسؓ ان رہطاً من الیہود سبوہ… فدعا علیہم فمسخہم قردۃ وخنازیر فاجتمعت الیہود علی قتلہ فاخبرہ اﷲ بانہ یرفعہ الی السماء ویطہرہ من صحبۃ الیہود‘‘

    (رواہ النسائی)
    ’’حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں… پس آپ نے ان پر بددعا کی۔ پس وہ بندر اور سور بن گئے۔ پس یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لئے جمع ہوگئے۔ اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خبر دی کہ میں تمہیں آسمان پر اٹھاتا ہوں اور یہودیوں کی صحبت سے پاک کرتا ہوں۔‘‘ اس اثر کے روایت کرنے والے امام نسائی قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی سوئم ہیں۔ اس کی صداقت پر اعتراض کرنا صدی کے مجدد وامام کے فیصلہ سے انحراف کرنا ہے جو قادیانیوں کے نزدیک کفر ہے۔
    ۸… حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ:
    ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر شادی کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔ آپ کی شادی قوم شعیب میں ہوگی۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سسرال ہیں۔ ان کو بنی خرام کہتے ہیں۔‘‘

    (رواہ ابونعیم فی کتاب الفتن)
    عظمت روایت…
    اس روایت کو قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی چہارم محدث ابونعیم نے درج کیا ہے۔ جس کا انکار قادیانیوں کو کفر تک لے جاتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کی صحت سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔
    ۹… ’’عن ابن عباسؓ… ومد فی عمرہ (ای عمر عیسیٰ) حتی اہبط من السماء الی الارض ویقتل الدجال‘‘

    (درمنثور ج۲ ص۳۵۰، تحت آیت ان تعذبہم فانہم عبادک)
    ’’حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں… اور لمبی کی گئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر یہاں تک کہ وہ اتارے جائیں گے آسمان سے زمین کی طرف اور قتل کریں گے دجال کو۔‘‘
    عظمت روایت…
    اس اثر کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی تفسیر درمنثور میں بیان کیا ہے۔
    امام جلال الدین کی عظمت شان کا انکار قادیانیوں کے نزدیک کفر کا اقرار ہے۔ کیونکہ وہ امام مجدد صدی نہم ہیں۔
    ۱۰… حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ:
    ’’جب وہ شخص جو مسیح علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے گیا تھا۔ مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اس یہودی بدبخت کو مسیح کی شکل پر بنادیا۔ پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔‘‘
    یہ روایت (تفسیر معالم ج۱ ص۱۶۲) زیر آیت ’’مکروا ومکراﷲ‘‘ میں بھی ہے۔ جو قادیانیوں کے نزدیک معتبر ہے اور اس کو امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم اور امام نسائی مجدد صدی سوئم اور ابن جریر قادیانیوں کے مسلم محدث ومفسر نے بھی روایت کیا ہے۔ پس اس کی صحت سے کسی قادیانی کو مجال انکار نہیں ہوسکتی۔
    ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘
    نوٹ: مزید تفصیل آگے آئے گی۔
  5. ‏ اپریل 4, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۵…
    حضرت ابوہریرہؓ کا عقیدہ

    ناظرین! حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کردہ احادیث نبوی اور تفسیر اس قدر مؤثر اور فیصلہ کن ہیں کہ قادیانی اصحاب، حضرت ابوہریرہؓ کا نام سنتے ہی حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔ میں ان احادیث کو صفحات سابقہ پر ذکر کر آیا ہوں۔ مکرر ملاحظہ فرمایا جائے۔

    حضرت ابوہریرہؓ سے چودہ روایات سیدنا مسیح کے نزول کی موجود ہیں۔
    اس قدر احادیث کے بعد بھی اب اگر کوئی آدمی خود غرضی سے انکار کرتا ہے تو اس کا علاج ہمارے پاس نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ للکار کر کہتے ہیں کہ رسول پاکﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسدہ العنصری مانا ہے اور قرآن کی فلاں فلاں آیت ان کی زندگی کا اعلان کر رہی ہے۔ ہزارہا صحابہ کے سامنے احادیث اور آیات کلام اﷲ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا اعلان کرتے ہیں اور کسی صحابی سے ان کی روایات اور تفسیر کی مخالفت مروی نہیں۔ پس مرزاقادیانی کے مقرر کردہ طریق ثبوت اجماع کے مطابق صحابہ کا اجماع حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ثابت ہوگیا۔
  6. ‏ اپریل 4, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۶…
    حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کا عقیدہ

    حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ صحابی نے توحیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں کمال ہی کر دیا ہے۔
    خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی زبانی انہیں کا دوبارہ آنا ثابت کیا ہے اور وہ بھی حدیث صحیح مرفوع سے۔ جیسا کہ روایت پہلے بیان ہوچکی ہے۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول جسمانی کا رسول کریمﷺ کے سامنے اقرار کر رہے ہیں۔ پھر لطف یہ کہ سب ثبوت ہم قادیانی مسلمات سے دے رہے ہیں۔
  7. ‏ اپریل 4, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۷…
    حضرت علیؓ کا عقیدہ

    ۱… حضرت علیؓ کی روایت کردہ سابقہ صفحات پر حدیث سے ان کا عقیدہ اظہر من الشمس ہے۔ ہزارہا لوگوں کے سامنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا اعلان کر رہے ہیں۔ گویا ہزارہا صحابہ وتابعین ان کے ہم زبان ہوکر حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر جزم کے ساتھ قائم ہوچکے تھے۔
    ۲… حضرت امام حسن بصری کی تمام حدیثیں جو ’’قال رسول اﷲﷺ‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ وہ حضرت علیؓ سے مروی ہوتی ہیں۔ دیکھو چھ روایات پہلے درج ہوچکی ہیں۔ حضرت امام حسن بصری کی روایت کردہ حدیثوں سے حضرت علیؓ کا عقیدہ ظاہر ہے۔
    ۳… قادیانی مذہب کی شہرہ آفاق کتاب عسل مصفی میں حضرت علیؓ کا خطبہ درج ہے۔
    ’’حضرت علیؓ نے لوگوں کے سامنے خطبہ پڑھا… لوگوں سے آپ نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تم سے وداع ہوں۔ مجھ سے کچھ پوچھ لو… (دجال کے متعلق سوالات کے جواب میں فرمایا)… اﷲتعالیٰ نے شام میں اس کو ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں دن کی تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔‘‘

    (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۴، حدیث نمبر۳۹۷۰۹، بحوالہ عسل مصفی ج۲ ص۲۷۳،۲۷۴)
    یہ حدیث مرفوع کا حکم رکھتی ہے۔
  8. ‏ اپریل 4, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

  9. ‏ اپریل 4, 2015 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۹…
    حضرت ابومالکؓ کا عقیدہ

    ان کا عقیدہ بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام میں مثل دیگر صحابہ کے تھا۔ حوالہ بیان ہوچکا ہے۔
  10. ‏ اپریل 5, 2015 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر