1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

محمدابوبکرصدیق نے 'تحریک ختم نبوت میں علماء و مشائخ کا کردار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 3, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ اپریل 6, 2015 #21
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۲۱…
    حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کا عقیدہ

    ’’قال مغیرۃ ابن شعبہؓ انا کنا نحدث ان عیسیٰ علیہ السلام خارج فان ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ‘‘

    (درمنثور ج۵ ص۲۰۴، بحوالہ اخبار الفضل ج۱۰ نمبر۴۰ ص۹، مورخہ۲۰؍نومبر ۱۹۲۲ئ)
    یعنی ہم صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں۔
    ثبوت اجماع
    حضرت مغیرہؓ تمام صحابہ کا عقیدہ بیان کر رہے ہیں اور اس وقت کے موجودہ صحابہ میں سے کسی نے مخالفت بھی نہیں کی۔ پس اجماع ثابت ہے۔
  2. ‏ اپریل 6, 2015 #22
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۲۲…
    حضرت سعد بن وقاص سپہ سالار اسلامیؓ کا عقیدہ

    ہم رئیس المکاشفین ابن عربیؒکے حوالہ سے ایک طویل واقعہ نقل کر آئے ہیں۔ جس میںحضرت نضلہ انصاری اوران کے ساتھ ایک بڑی جماعت صحابہ نے زریب بن برتملا وصی عیسیٰ کی زیارت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کا حال حضرت سعدؓ کا لکھا۔ انہوں نے اسے صحیح سمجھا۔ اگر ان کا عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا نہ ہوتا تو ضرور کہتے۔ ’’ارے نضلہ حیات عیسیٰ کا عقیدہ رکھنا تو شرک ہے۔ کیونکہ وہ مر چکے ہیں۔‘‘ مگر انہوں نے اسے قبول کر کے اور صحیح تسلیم کر کے سارا واقعہ حضرت عمرؓ کو لکھ بھیجا۔ ایسے عجیب واقعات کا چرچا بھی بہت ہوتا ہے۔ مدینہ شریف میں ہزارہا صحابہ نے اس کو سن کر اس کی تصدیق کی۔ کیا قادیانیوں کے لئے حضرت عمرؓ کی تصدیق کافی نہیں۔ حضرت عمرؓ نے یہ واقعہ پڑھا تو انکار نہیں کیا۔ بلکہ تصدیق کی۔ اب ہم حضرت عمرؓ کی عظمت بیان کر کے فیصلہ ناظرین کی طبع رسا پر چھوڑتے ہیں۔
    قول مرزا…
    ’’حضرت عمرؓ خلیفہ رسول اﷲﷺ اور رئیس الثقات ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۵۳۰، خزائن ج۳ ص۳۸۵)
    قول مرزا…
    ’’حضرت عمرؓ آنحضرتﷺ کے بروز اور ظل ہیں۔ گویا کہ حضرت عمر بعینہ حضرت محمدﷺ ہیں۔‘‘
    (ایام الصلح ص۳۵، خزائن ج۱۴ ص۲۶۵)
    ایسی بزرگ ہستی کی تصدیق کے بعد جو شخص صحابہ کے عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کو قبول نہ کرے۔ اس سے پھر خدا سمجھے۔
  3. ‏ اپریل 6, 2015 #23
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    ۲۳…
    حضرت نضلہ انصاریؓ کا عقیدہ

    مذکورہ بالا واقعہ جوتفصیل کے ساتھ پہلے درج ہے۔ حضرت نضلہ انصاری اور ایک کثیر جماعت صحابہ کا چشم دید واقعہ ہے اور مشاہدہ ہے۔ انہوں نے حضرت سعد بن وقاصؓ اسلامی سپہ سالار کو لکھا۔ انہوں نے حضرت عمرؓ کو۔ انہوں نے تصدیق کی۔
  4. ‏ اپریل 6, 2015 #24
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات و نزول عیسی علیہ السلام کے متعلق صحابہ اکرام کے عقائد

    اجماع صحابہ کی آخری ضرب

    ہم ۲۳ صحابہ کرامؓ اور ان کی وساطت سے دیگر ہزارہا صحابہؓ کرامؓ کا عقیدہ بیان کر چکے ہیں۔ اس موقعہ پر ہم ناظرین کی توجہ قادیانی کے طرز استدلال کی طرف منعطف کراتے ہیں اور اسلامی استدلال سے اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
    پہلے ہم مرزاقادیانی کا ایک قول نقل کر آئے ہیں۔ محض ایک روایت سے جو صحابی نے اپنے اجتہاد سے بیان کی۔ مرزاقادیانی نے صحابہ کا اجماع ثابت کر لیا۔ ہم ہزارہا صحابہ نہ سہی۔ تو کم از کم ۲۳صحابہ کی شہادت پیش کر کے اجماع کا دعویٰ کریں تو قادیانی قبول نہ کریں۔ اسی کو کہتے ہیں۔ ’’میٹھا میٹھا ہڑپ اورکڑوا کڑوا تھو۔‘‘
    پھر جو شخص امام ابن حزم پر افتراء کر کے محض ان کے نام سے اکابر امت کا اجماع ثابت کر سکتا ہے۔ اس کو کس طرح جرأت ہوسکتی ہے کہ ہزارہا صحابہ کے عقیدۂ حیات عیسیٰ علیہ السلام رکھنے کے بعد بھی دو اور دو پانچ ہی کی رٹ لگاتا جائے اور محض افتراء کے طور پر وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع صحابہ کا دعویٰ کر کے کم علم عوام الناس کو دھوکا دیتا رہے۔
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر