1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر

محمدابوبکرصدیق نے 'آیاتِ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 26, 2014

  1. ‏ جولائی 26, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر ( پچھلی پوسٹ )



    اب سب سے پہلے دیکھیں کہ قرآن مجید کی رو سے اس کاکیا ترجمہ وتفسیر کیا جانا چاہئیے؟۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ ”ختم“ کے مادہ کا قرآن مجید میں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے۔
    ۱……”ختم اللہ علیٰ قلوبھم۰ بقرہ7“(مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر۔)
    ۲……”ختم علیٰ قلوبکم۰ انعام46“(اور مہرکردی تمہارے دلوں پر۔)
    ۳……”ختم علیٰ سمعہ وقلبہ۰ الجاثیہ23“(مہر کردی اس کے کان پراور دل پر۔)
    ۴……”الیوم نختم علیٰ افواھم۰ یٰسین 65“(آج ہم مہر لگادیں گے ان کے منہ پر۔)
    ۵……”فان یشاء اللہ یختم علیٰ قلبک ۰ الشوریٰ 24“(سو اگر اللہ چاہے مہر کردے تیرے دل پر۔)
    ۶……”رحیق مختوم۰ مطففین25“(مہر لگی ہوئی۔)
    ۷……”ختامہ مسک ۰ مطففین 26“(جس کی مہر جمتی ہے مشک پر۔)
    ان ساتوں مقامات کے اول وآخر‘ سیاق وسباق کو دیکھ لیں ”ختم“ کے مادہ کا لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے۔ ان تمام مقامات پر قدر مشترک یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا۔ اس کی ایسی بندش کرنی کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے۔ اور اندر سے کوئی چیز اس سے باہر نہ نکالی جاسکے۔ وہاں پر ”ختم“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

    مثلاً پہلی آیت کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے دلوں پر مہر کردی۔ کیا معنی؟ کہ کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہرسے ایمان ان کے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ فرمایا:”ختم اللہ علیٰ قلوبھم۰“اب زیر بحث آیت خاتم النبیین کا اس قرآنی تفسیر کے اعتبار سے ترجمہ کریں تو اس کا معنی ہوگا کہ رحمت دو عالم ﷺ کی آمدپر حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر ایسے طور پر بندش کردی‘ بند کردیا‘ مہر لگادی‘ کہ اب کسی نبی کو نہ اس سلسلہ سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ کسی نئے شخص کو سلسلہ نبوت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ فھوالمقصود۔ لیکن قادیانی اس ترجمہ کو نہیں مانتے۔
    • Like Like x 4

اس صفحے کی تشہیر