1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ختم نبوت اور احادیث نبویہ حدیث نمبر 6

محمدابوبکرصدیق نے 'دلائل ختم نبوت از روئے احادیث شریف' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 15, 2014

  1. ‏ ستمبر 15, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ختم نبوت اور احادیث نبویہ حدیث نمبر 6
    ’’ عن انس بن مالک ؓ قال قال رسول اﷲ ﷺ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی ۰
    ترمذی ص ۵۱ ج ۲‘ مسند احمد ص ۲۶۷ ج ۳‘‘
    {حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔}
    امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور حافظ ابن کثیر ؒ فرماتےہیں کہ اس کو امام احمد ؒ نے مسند میں بھی روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر ؒنے فتح الباری میں اس حدیث میں بروایت ابویعلی اتنا اضافہ نقل کیا ہے:
    ’’ ولکن بقیت المبشرات قالوا وما المبشرات قال رؤیا المسلمین جزء من اجزاء النبوۃ ۰
    فتح الباری ص ۳۷۵ ج ۱۲‘‘
    {لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا مومن کا خواب جو نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔}
    اس مضمون کی حدیث مندرجہ ذیل صحابہ کرام ؓ سے بھی مروی ہے:
    ۱…… حضرت ابوہریرہ ؓ (صحیح بخاری ص ۱۰۳۵ ج۲)
    ۲…… حضرت عائشہ ؓ (کنز العمال ص ۳۷۰ج۱۵ حدیث نمبر ۴۱۴۱۹ مجمع الزوائد ص ۱۷۲ ج ۷)
    ۳…… حضرت حذیفہ بن اسید ؓ (حوالہ بالا)
    ۴…… حضرت ابن عباس ؓ (صحیح مسلم ص ۱۹۱ ج ۱‘ سنن نسائی ص ۱۶۸ ‘ ابودائود ص ۱۲۷ ج ۱‘ ابن ماجہ ص ۲۷۸)
    ۵…… حضرت ام کرزالکعبیہ ؓ (ابن ماجہ ص ۲۷۸ ‘احمد ص ۳۸۱ ج ۶‘ فتح الباری ص ۳۷۵ ج ۱۲)
    ۶…… حضرت ابوالطفیل ؓ (مسند احمد ص ۴۵۴ ج ۵‘ مجمع الزوائد ص ۱۷۳ ج ۷)
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر