1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ختم نبوت اور احادیث نبویہ حدیث نمبر 9

محمدابوبکرصدیق نے 'دلائل ختم نبوت از روئے احادیث شریف' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 15, 2014

  1. ‏ ستمبر 15, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ختم نبوت اور احادیث نبویہ حدیث نمبر 9
    ’’عن جبیر بن مطعم ؓ قال سمعت النبی ﷺ یقول ان لی اسمائ‘ انا محمد‘ وانا احمد ‘ وانا الماحی الذی یمحواﷲ بی الکفر‘ وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی‘ وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی (متفق علیہ)مشکوٰۃ ص ۵۱۵‘‘{حضرت جبیر بن معطم ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خودسنا ہے کہ میرے چند نام ہیں۔ میں محمد ہوں‘ میں احمد ہوں‘ میں ماحی (مٹانے والا) ہوں۔ کہ میرے ذریعے اﷲ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے۔ اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ }
    اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے دو اسمائے گرامی آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کی دلالت کرتے ہیں۔ اول ’’ الحاشر ‘‘ حافظ ابن حجر ؒ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    ’’ بشارۃ الی انہ لیس بعدہ نبی ولا شریعۃ ۔۔۔۔۔۔ فلما کان لا امۃ بعد امتہ لانہ لا نبی بعدہ‘ نسب الحشر الیہ لانہ یقع عقبہ۰ فتح الباری ص ۵۵۷ ج۶‘‘{یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپﷺکے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں۔۔۔۔۔۔ سوچونکہ آپ ﷺ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں اور چونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے حشر کو آپ ﷺ کی طرف منسوب کردیا گیا ۔ کیونکہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد حشر ہوگا۔}
    دوسر اسم گرامی ’’ العاقب ‘‘ جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے ۔ یعنی کہ :
    ’’ الذی لیس بعدہ نبی ۰‘‘{ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔}
    اس مضمون کی احادیث مندرجہ ذیل حضرات سے بھی مروی ہیں:
    ۱…… حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ ان کی حدیث کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
    ’’ کان رسول اﷲ ﷺ یسمی لنا نفسہ اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبۃ ونبی الرحمۃ۰ صحیح مسلم ص ۲۶۱ ج ۲‘‘{آنحضرت ﷺ ہمارے سامنے چند اسمائے گرامی ذکر فرماتے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا میں محمد ہوں‘ احمد ہوں‘ مقفی (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں‘ حاشر ہوں‘ نبی توبہ ہوں‘ نبی رحمت ہوں۔}
    ۲……حضرت حذیفہ ؓ ان کی روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
    ’’ قال انا محمد وانا احمد وانا الرحمۃ ونبی التوبۃ وانا المقفی وانا الحاشر ونبی الملاحم۰ شمائل ترمذی ص ۲۶‘ مجمع الزوائد ص ۸۴ج۸‘‘{فرمایا میں محمد ہوں‘ میں احمد ہوں‘ میں نبی رحمت ہوں‘ میں نبی توبہ ہوں‘ میں مقفی (سب نبیوں کے بعد آنے والا )ہوں‘ میں حاشر ہوں اور نبی ملاحم (مجاہد نبی)ہوں۔}
    ۳……حضرت جابر بن عبداﷲ ؓ ان کی روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
    ’’ انا احمد وانا محمد وانا الحاشر الذی احشر الناس علی قدمی۰ مجمع الزوائد ص ۲۸۴ ج ۸‘‘{میں محمد ہوں‘ میں احمد ہوں‘ میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں میں جمع کیا جائے گا۔}
    ۴…… حضرت ابن عباس ؓ ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’ وانا احمد ومحمد والحاشر والمقفی والخاتم ۰ مجمع الزوائد ص ۲۸۴ ج ۸‘‘{ میں احمد ہوں‘ محمد ہوں‘ حاشر ہوں‘ مقفی ہوں اور خاتم ہوں۔}
    ۵…… مرسل مجاہد ؒ ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’ انا محمد واحمد انا رسول الرحمۃ انا رسول اللملحمۃ انا المقفی والحاشر بعثت بالجھاد ولم ابعث بالزارع ۰ طبقات ابن سعد ص ۱۰۵ ج ۱‘‘{ میں محمد ہوں اور احمد ہوں‘ میں رسول رحمت ہوں ‘ میں ایسا رسول ہوں جسے جنگ کا حکم ہوا ہے۔ میں مقفی اور حاشر ہوں‘ میں جہاد کے ساتھ بھیجا گیا ہوں‘ کسان بناکر نہیں بھیجاگیا۔}
    ۶…… حضرت ابوالطفیلؓ فتح الباری ص ۵۵۵ ج ۶‘‘
    • Like Like x 2
  2. ‏ ستمبر 15, 2014 #2
    بنت اسلام

    بنت اسلام رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    اَمَنت وَ صَدَقت
    میں ایمان لاتی ہوں (اس حدیث پر) اور اس کی تصدیق کرتی ہوں-

اس صفحے کی تشہیر