1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(ختم نبوت اور احادیث)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 25, 2015

  1. ‏ فروری 25, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (ختم نبوت اور احادیث)
    اس ضمن میں دو احادیث کا حوالہ جو گواہ مذکور نے دیا ہے اور دیگر گواہان مدعیہ کے بیانات میں بھی موجود ہے۔ دیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ فریق ثانی کے جواب میں یہ حدیثیں بحث طلب ہیں۔ ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں انبیاء آتے رہے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو دوسرا نبی آجاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں اور خلیفہ ہوں گے۔ پس بہت ہوں گے۔
    دوسری حدیث یہ ہے کہ جنگ تبوک پر جاتے ہوئے آپﷺ نے جب حضرت علیؓ کو اہل بیت کی نگرانی کے لئے چھوڑا تو حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ آپ(ﷺ) مجھ کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ: ’’تو مجھ سے وہی نسبت رکھتا ہے، جیسا کہ ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ البتہ میرے بعدکوئی نبی نہیں ہوسکتا۔‘‘ اگر نبوت آنحضرتﷺ کے بعد اور تشریعی یا غیرتشریعی جاری ہوتی تو حضرت علیؓ کو رسول اﷲﷺ ’’لا نبی بعدی‘‘ کہہ کر اس وصف سے محروم نہ کرتے۔ گواہ مذکور نے قرآن مجید سے ختم نبوت کی ایک اور یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ سورۂ آل عمران پارہ تیسرا کی آیت ’’قل اٰمنا باﷲ وما انزل الینا… الخ!‘‘ سے اﷲتعالیٰ نے یہ ظاہر فرمایا کہ جو کچھ انبیاء علیہم السلام پر وحی نازل کی گئی وہ زمانہ ماضی میں ہوئی اور اﷲ تعالیٰ نے ہمیں انہی انبیاء پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ جو آنحضرتﷺ سے پہلے ہوچکے ہیں اور کسی ایسے نبی کے لئے ایمان لانے کی تاکید نہیں کی جو آپ کے بعد ہو۔ اگر کوئی نبی آنحضرتﷺ کے بعد آنے والا ہوتا تو ضرور اﷲتعالیٰ ہمیں اس پر ایمان لانے کی تاکید فرماتا۔ سورۂ بقرہ کی ایک اور آیت ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک… الخ!‘‘ میں بھی خداوند تعالیٰ نے انہی کو ہدایت پر قائم رہنے والا اور ’’مفلحون‘‘ فرمایا ہے۔ جو آنحضرتﷺ کی وحی پر اور آپ سے 2161پہلے انبیاء علیہم السلام کی وحی پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور قرآن کریم نے یہ التزام کیا ہے کہ ہر جگہ وحی کے ساتھ لفظ قبل کو ملایا ہے تاکہ یہ بات ثابت نہ ہو کہ آنحضرتﷺ سے پہلے ہی وحی نبوت اور انبیاء علیہم السلام آئے ہیں۔ چنانچہ اس کی تائید میں مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے سورہ سبا پارہ نمبر۲۲ کی آیت ’’وما ارسلنک الا کافۃ للناس… الخ!‘‘ سے یہ استدلال کیا ہے کہ متقی بننے کے لئے صرف ان چار چیزوں کی ضرورت ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو وہ وحی ہے جو آنحضرتﷺ کی طرف نازل کی گئی۔ دوسری وہ جو آپ سے پہلے لوگوں پر نازل کی گئی۔ اگر آنحضرتﷺ کے بعد بھی کسی وحی پر انسانوں کی نجات اور ارتقاء کی مدار ہوتی تو اﷲتعالیٰ اسے بھی یہاں ذکر فرمادیتا۔ مگر ایسا نہیں کیاگیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور نئی بات کی، یا نئی وحی کی، متقی بننے کے لئے حاجت نہیں اور نہ ہی اس کے آنے پر یا اس کے ماننے پر انسانوں کی نجات کا دارومدار ہے۔
    ختم نبوت کے بارہ میں مرزاصاحب کی ایک اور تحریر بہت واضح ہے جس کا ذکر مولوی مرتضیٰ حسن صاحبؒ گواہ مدعیہ کے بیان میں ہے۔ مرزاصاحب اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص۵۴۴، خزائن ج۳ ص۳۹۳) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النّبیین کے بعد مسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے۔ اس سے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہو جائے گا یا قبول کرنا پڑے گا کہ خداتعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اور محض ایک امتی بنا کر بھیجا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔‘‘
    اس طرح (ازالہ اوہام ص۵۷۶، خزائن ج۳ ص۴۱۱) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ خداتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہوکر نہیں آتا۔ بلکہ وہ مطاع صرف اور اپنی اس وحی کا مبتع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے۔ اب یہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور حضرت جبرائیل لگاتار آسمان سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعہ انہیں تمام اسلامی عقائد اور 2162صوم صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے۔ تو پھر بہرحال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اﷲ کہلائے گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جائے گی اور کبھی جبرائیل نازل نہ ہوں گے۔ بلکہ وہ مسلوب النبوۃ ہوکر امتیوں کی طرح بن جائیں گے تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرائیل لائیں اور پھر چپ ہو جائیں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خداوند تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النّبیین میں وعدہ دیاگیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیاگیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اﷲa ہمیشہ کے لئے وحی نبوۃ لانے سے منع کیاگیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبیﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘
    اس سے مدعیہ کی طرف سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ مرزاصاحب نے اس کی تصریح کر دی ہے کہ کوئی نبی مطیع یعنی امتی نہیں بن سکتا۔ بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب مرزاصاحب نبی ہوئے تو انہوں نے اس وحی کی اتباع کی۔ جو ان پر نازل ہوئی یا قرآن کی، اگر قرآن کی اتباع کی تب بھی مرزاصاحب کافر۔ کیونکہ ان کو اپنی وحی کی اتباع کرنی چاہئے تھی اور اگر اپنی وحی کی اتباع کی تب بھی کافر کیونکہ قرآن کو چھوڑا۔ کتاب ازالۃ الاوہام مرزاصاحب کے دعویٰ کے کچھ عرصہ بعد تحریر ہوئی اور اس وقت تک وہ خاتم النّبیین کے وہی معنی سمجھتے رہے جو ساری دنیا نے سمجھے اور ایک نبی کا آنا اور ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام کا اترنا اور ایک فقرہ کہنا کہ تم قرآن کا اتباع کرو۔ یہ سب چیزیں مرزاصاحب کے نزدیک ختم نبوۃ کے مخالف تھیں اور اس سے مہر نبوت ٹوٹتی تھی۔
    2163ہر صدی میں کم ازکم ایک مجدد آتا ہے۔ ان کا یہ فرض ہوتا ہے کہ دنیا میں جو لوگوں سے غلطی ہوگئی ہے۔ اس پر لوگوں کو متنبہ کریں اور بالخصوص ایسے امور اور عقائد کی نسبت کہ جن سے انسان کافر ہو جائے۔ علاوہ ازیں امت میں بے شمار اولیائ، ابدال اقطاب گزرے اور تمام صحابہ کرامؓ ان میں سے کسی نے خاتم النّبیین کے یہ معنی نہیں کئے۔ جو مرزاصاحب نے اب بیان کئے ہیں۔ اس لئے جو معنی ختم النبوۃ کے اب تجویز کئے ہیں۔ جس کی بناء پر نبوت کا جاری رہنا اور وحی نبوت کا جاری رہنا ضروری ہے اور جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو۔ وہ مذہب مرزا صاحب کے نزدیک لعنتی اور شیطانی مذہب کہلانے کامستحق ہے۔
    اس بناء پر اگر یہ معنی صحیح ہیں تو جب تک مرزاصاحب کا مذکورہ بالا عقیدہ رہا۔ مرزاصاحب بھی کافر ہوئے اور ان سے پہلے جتنے مسلمان اس عقیدہ پر گزرے وہ سب کے سب کافر ہوئے اور اگر مسلمانوں کا اور مرزاصاحب کا عقیدہ سابقہ صحیح تھا تو پہلے لوگ تو مسلمان اور مرزاصاحب اس عقیدہ کے بدلنے کے بعد کافر ہوگئے۔ یہ نتائج مولوی مرتضیٰ صاحبؒ کے بیان سے اخذ ہوتے ہیں۔ آگے وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزاصاحب نے یہ کہا ہے کہ جو امر مستلزم محال ہے وہ محال ہوتا ہے۔ اس سے اگر مراد محال عقلی ہے تو اس کا اخفاء ناجائز ہے۔ بالخصوص تیرہ سو برس تک جب کہ صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین اور ائمہ فقہائے کہ جنہوں نے عقلی امور کی بال کی کھال نکال دی ہے اور اگر محال سے مراد شرعی ہے تو وہ بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ بالخصوص اتنے زمانہ تک اور اتنے علمائے متبحرین پر اور مجددین پر۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاصاحب کا اس کلام کے لکھنے تک یہی عقیدہ تھا کہ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ کوئی جدید یا قدیم نبی آہی نہیں سکتا۔ علماء امت نے جو مسئلہ ختم النبوۃ پر اجماع بیان کیا ہے اور جس آیت کے معنی لکھے ہیں اور وہ معنی مرزاصاحب کے مسلمات میں سے ہیں۔ وہی حق ہے اور اب جو اس معنی سے انکار کرے وہ کافر اور بے شک کافر ہے ایک اور کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰،۲۰۱) پر مرزاصاحب نے جو 2164کچھ لکھا ہے اس کا مطلب یہ بیان کیاگیا ہے کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارہ میں کسی مسلمان کوجائز نہیں کہ اس کلام کو جو احادیث میں آیا ہے ظاہر معنی پر حمل کرے۔ اس واسطے کہ یہ آیت ’’ماکان محمد ابا احد‘‘ خاتم النّبیین کے مخالف ہے۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اﷲتعالیٰ نے رسول اﷲﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اورا س میں کسی کی استثناء نہیں کی اور پھر اس خاتم الانبیاء کی خود اپنے کلام میں تفصیل فرمائی۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ سے جو سمجھنے والوں کے لئے بیان واضح ہے اور اگر ہم یہ جائز رکھیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے تو لازم آتا ہے کہ دروازہ وحی نبوت کا بعد بند ہونے کے کھل جائے اور آپ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے۔ حالانکہ وحی منقطع ہوچکی ہے اور اﷲتعالیٰ نے آپ کے ساتھ تمام نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔ کیا ہم اس کا اعتقاد رکھیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور خاتم الانبیاء وہ بنے نہ ہمارے رسول مقبولﷺ۔‘‘
    اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ مرزاصاحب نے اس میں اس بات کی تصریح کر دی ہے کہ خاتم الانبیاء کی تفسیر بغیر کسی استثناء کے رسول اﷲﷺ نے اس کلام میں فرمائی کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ اور معلوم ہوا کہ مرزاصاحب کے نزدیک خاتم النّبیین کی تفسیر ’’لا نبی بعدی‘‘ ہے اور خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس میں کسی نبی بروزی ظلی وغیرہ کی قید نہیں اور اب لا نبی بعدی کا یہ معنی لینے کہ اس سے مراد خالص وہ نبی ہے جو مستقل نبی ہو اور رسول اﷲﷺ سے الگ ہوکر اس نے نبوت حاصل کی ہو۔ کیونکہ یہ معنی مرزاصاحب کے نزدیک بھی غلط ہیں اور اب یہ معنی کرنے ہرگز قابل پذیرائی نہیں۔ مرزاصاحب خاتم کے یہ معنی کرتے ہیں کہ رسول کریم مہر ہیں اور آپ کے منظور کرنے سے نبی بنتے ہیں۔ کتاب (حقیقت النبوۃ ص۲۶۶ حصہ اوّل ضمیمہ نمبر۱) پر لکھتے ہیں کہ: ’’چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدﷺ کی نبوت محمدﷺ تک ہی 2165محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمدﷺ ہی نبی رہا۔ نہ کوئی اور۔‘‘
    سید انور شاہ صاحب گواہ مدعی اس سے یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ میں آئینہ بن گیا ہوں۔ محمد رسول اﷲﷺ کا اور مجھ میں تصویر اتر آئی ہے رسول کریمﷺ کی۔ اس سے مہر نبوت نہ ٹوٹی۔ یہ تمسخر ہے خدا اور خدا کے رسولﷺ کے ساتھ۔

اس صفحے کی تشہیر