1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ختم نبوت اور بزرگان امت و دین

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ختم نبوت اور بزرگان امت و دین
    قارئین محترم! قادیانی گروہ ‘امت محمدیہؐ کے چند بزرگان دین کی چند عبارتوں کو غلط معانی پہناکر امت کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی ناپاک ونامراد کوشش کرتے ہیں۔قادیانیوں کے اس دجل کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ابتدائی چند اصولی باتیں زیر نظر رہنی چاہیں۔
    نمبر۱… پہلے آپ پڑھ چکے ہیں کہ قرآن وسنت سے کس طرح کتربیونت اور تحریف کے ذریعہ غلط مطلب برآری کرتے ہیں۔ جو گروہ قرآن وسنت پر اپنے دجل کا’’ کلہاڑہ ‘‘چلانے سے باز نہیں آتا۔ اگر وہ بزرگان دین کی عبارتوں میں قطع وبرید کرکے یاسیاق وسباق سے ہٹاکر اپنے دجل وتلبیس کا مظاہرہ کرے تو یہ امر ان سے کوئی بعید نہیں ۔
    نمبر۲… ہمارا دعویٰ ہے کہ رحمت دو عالم ﷺ کے زمانہ مبارک سے لے کر اس وقت تک امت محمدیہؐ میں ایک شخص بھی ایسا پیدا نہیں ہوا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی بن سکتا ہے یا یہ کہ آپ ﷺ کے بعد فلاں شخص نبی تھا۔ ہے ہمت تو قادیانی کسی ایک بزرگ کا نام پیش کریں قیامت کی صبح تک وہ ایسا نہیں کرسکتے۔
    نمبر۳… اکابرین امت میں سے بعض حضرات نے ’’اگر ہوتے تو ایسے ہوتے‘‘ بعض روایات کی یہ توجیہ کی ہے ۔ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ توجیہات واحتمالات جو فرض محال کے درجہ میں ہوں ۔ اگر ‘مگر ‘چونکہ‘ چنانچہ کی قیدیں جن کے ساتھ لگی ہوئی ہوں ان سے کوئی بدعقیدہ ہی بددیانتی سے عقیدہ کے باب میں استدلال کرے گا۔ ورنہ عقائد میں نص صحیح وصریح کے علاوہ کسی اور کو راہ گزر ہی نہیں ملتا۔چہ جائیکہ ان سے عقیدہ ثابت کیا جائے۔ پھر جن حضرات نے یہ توجیہ کی کہ’’ اگر ہوتے تو ایسے ہوتے‘‘ وہ سب اس بات کے قائل ہیں:(۱)… آپ ﷺ پر نبوت ختم ہے۔(۲)… آپ ﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کا شخص نبی نہیں ہوسکتا۔(۳)… آپ ﷺ کے بعد آج تک کوئی شخص نبی نہیں بنا۔(۴)… جس شخ نے آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا ان کو ان سب بزرگوں نے کافر گردانا(جیسا کہ وضاحت آگے آرہی ہے) جب وہ ختم نبوت کے قائل ہیں آپ ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر قرار دیتے ہیں تو ان کی ’’ اگر ہوتے تو ایسے ہوتے ‘‘ لوکان فیھما آلۃ الااﷲ لفسدتا کے قبیل سے ہے۔ تعلیق بالمحال محال ہوتا ہے‘ لیکن قادیانی دجل کو دیکھئے کہ وہ محال کو احتمال اور پھر احتمال کو استدلال سمجھ کر بے برکی اڑائے جاتے ہیں۔ ومایخدعون الاانفسھم
    نمبر۴… اکابرین نے ختم نبوت کا یہی معنی سمجھاکہ اب آپﷺ کے بعد کسی شخص کو منصب نبوت پر سرفراز نہیں کیاجائے گا‘ کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا‘ اب کسی کو نبوت نہ ملے گی‘ یہ نہیں کہ پہلی سب رسالتیں ختم(مٹ) ہوگئیں ۔ ہاں اب ان رسالتوں میں سے کسی کا حکم جاری اور نافذ نہیں۔ مفہوم ختم نبوت کا تقاضا ہے کہ پہلے پیغمبروں میں سے کوئی تشریف لائیں (جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام)تو وہ آپ ﷺ کی شریعت کے ماتحت ومطیع ہوکرآئیں گے کیونکہ یہ دور دورمحمدی ؐ ہے ۔آپ ﷺ کی شان خاتمیت کے پیش نظر دو باتیں ہیں۔ اول یہ کہ کسی قسم کا کوئی نیا نبی پیدا نہ ہو ۔ دوم یہ کہ پہلوئوں میں سے کوئی آجائے تو وہ آپ ﷺ کی شریعت کے احکامات کے تابع ہوکر قران وسنت کا مبلغ ہوکر رہے (جیسے معراج کی رات)خلاصہ یہ کہ آپ ﷺ کی نبوت جاری وساری ہے۔ قیامت کی صبح تک اس کی شاہی ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنا ممکن نہیں رہا بلکہ بندوبس ہوگیا ہے۔ نبوت کی رحمت جو پہلے تغیر پذیر تھی اب پوری آن وبان کمال وشان کے ساتھ نوع انسانی کے پاس آپ ﷺ کی شکل مبارک میں ہمیشہ کے لئے موجود رہے گی۔ ہم سے کوئی نعمت چھینی نہیں گئی بلکہ امت محمدیہ ؐ نبوت کی رحمت کے مسئلہ پر آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے ایسے مالا مال کردی گئی ہے کہ اب کسی اور نبوت کی ضرورت نہیں۔ جس طرح سورج نکلنے کے بعد کسی چراغ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ آپ ﷺ کے آفتاب رسالت کے ہوتے ہوئے نوع انسانی کا کوئی فرد بشر کسی اور چراغ نبوت کا محتاج نہیں۔
    نمبر۵…آنحضرتﷺ زمانہ کے اعتبار سے تمام انبیاء علیہم السلام کے آخر میں تشریف لائے اور اپنے مقام ومرتبہ ‘ منصب وشان کے اعتبار سے بھی آپ ﷺ پر مراتب ختم ہوگئے۔ آپ ﷺ پر تمام مراتب کی انتہافرمادی گئی۔ اس ختم نبوت مرتبی کو ختم نبوت زمانی لازم ہے۔ ان میں تباین وتناقض نہیں اور نہ ہی ختم نبوت مرتبی کے بیان سے ختم نبوت زمانی کی نفی لازم آتی ہے۔قادیانی وسوسہ اندازوں نے ایک کے اقرار کو محض اپنے دجل سے دوسرے کی نفی لازم قرار دے کر اپنی غلط برآری کے لئے چوردروازے کھول کر مرزا کو اندر داخل کرنے کے درپے ہوئے۔
    بزرگان اسلام میں سے جن حضرات نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت مرتبی بیان کی قادیانی وسوسہ انداز فوراً کودپڑے کہ ہماری تائید ہوگی اور انہوں نے ان بزرگوں کی عبارات پر سرسری نظر بھی نہ کی جن میں حضور ﷺ کی ختم نبوت زمانی کا ذکر صریح طور پر موجود تھا۔
    وہ تمام حضرات ختم نبوت مرتبی کی طرح ختم نبوت زمانی کے قائل تھے اور ان کے منکر کو کافر سمجھتے تھے۔بعض بزرگ ایسے تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کی آمد ثانی کے ذکر میںحضور ﷺ کے بعد ایک پرانے نبی کی آمد کا بیان کیاتھا۔ قادیانی وسوسہ انداز وں نے اسے امت میں ایک نئے نبی کی آمد کا جواز قرار دے کر مسیح بن مریم کی بجائے غلام احمد قادیانی بن چراغ بی بی کو باور کرلیا۔ یہ دو باتیں (الف) ختم نبوت مرتبی۔(ب) حضرت عیسیٰ بن مریم کی آمد ثانی کوخواہ مخواہ حضور ﷺ کی ختم نبوت زمانی کے مقابل لاکھڑا ۔ اس سلسلہ میں قادیانی جو عبارات پیش کریں ان کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو قادیانی دجل نقش برآب یا تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ قادیانی اپنے الحادی عقیدہ کو کشید کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ضروریات دین کو تاویل وتحریف کا آب ودانہ مہیا کرنا اھل حق کا شیوہ نہیں۔
    نمبر۶… جن حضرات کی عبارتوں سے قادیانی اپنے الحادی عقیدہ کو کشید کرنے کے لئے سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ان کے پیش نظرجو امور تھے ان کی تفصیل یہ ہے :
    (الف)… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا بظاہر آیت ختم النبیین اور حدیث لانبی بعدی کے منافی معلوم ہوتا ہے اس کے متعلق حضرت شیخ محی الدین ابن عربی ؒ نے فرمایا کہ :
    ’’ وان عیسیٰ علیہ السلام اذا نزل مایحکم الا بشریعۃ محمد ﷺ فتوحات مکیہ ج۱ باب۱۴ ص ۱۵۰‘‘{حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو وہ صرف نبی کریم ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اس کے مطابق فیصلہ کریں گے یعنی اپنی نبوت ورسالت کی تبلیغ کے لئے نہیںآنحضرت ﷺ کی شریعت کے اجراء ونفاذ خدمت وتمکین کے لئے تشریف لائیں گے۔}
    (ب)… حدیث لم یبق من النبوۃ الا المبشرات (نبوت سے مبشرات کے علاوہ کچھ باقی نہیں)میں نبوت کے ایک جز کو باقی کہا گیا ہے۔ یہ حدیث سطحی طور پر لانبی بعدی کے مخالف نظر آتی ہے۔حضرت محی الدین ابن عربی نے اس کے متعلق تحریر فرمایا:
    ’’ قالت عائشہ ؓ اول مابدیٔ بہ رسول اﷲﷺ من الوحی الرویا فکان لایری رویا الاخرجت مثل فلق الاصباح وھی التی ابقی اﷲ علی المسلمین وھی من اجزاء النبوۃ لما ارتفعت النبوۃ باالکلیۃ ولھذا قلنا انما ارتفعت نبوۃ التشریح فھذا معنی لانبی بعدہ۰ فتوحات مکیہ ج ۲ باب ۷۳ سوال ۲۵‘‘{حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کو وحی سے پہلے سچے خواب نظر آتے تھے۔ جو چیز آپ ﷺ رات کو خواب میں دیکھتے تھے وہ خارج میں صبح روشن کی طرح ظہور پذیر ہوجاتی اور یہ وہ چیز ہے جو اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں میں باقی رکھی اور یہ سچا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے۔پس اس اعتبار سے نبوت کلی طور پر بند نہیں ہوئی اور اسی وجہ سے ہم نے کہا کہ لانبی بعدی کا معنی یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں۔ (کیونکہ رویاء صالحہ مبشرات باقی ہیں ۔)}
    اس عبارت سے روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ :
    نمبر۱… نبوت میں سے سوائے اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں ۔ کیا ہر اچھا خواب دیکھنے والا نبی ہوتا ہے ۔ہر گزنہیں ۔ ناخن انسان کے جسم کا جز ہے ‘ اینٹ مکان کا جز ہے‘ مگر ناخن پر انسان کا اور اینٹ پر مکان کا اطلاق کوئی جاہل نہیں کرتا۔ اسی طرح اچھے خواب دیکھنے والے کو آج تک امت کے کسی فرد نے نبی قرار نہیں دیا۔
    نمبر۲… نبی چاہے وہ صاحب کتاب وشریعت ہو یا صاحب کتاب وشریعت نہ ہو بلکہ کسی دوسرے نبی کی کتاب وشریعت کی تابعداری کا اسے حکم ہو۔ غرض کسی بھی نبی کو جو وحی ہوگی وہ امرونہی پر مبنی ہوگی۔جیسے حضرت ہارون علیہ السلام کو وحی ہو‘ کہ آپ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تابعداری کریں تو یہ امر ہے ۔ حضرت شیخ ابن عربی اور اس قبیل کے دوسرے صوفیاء کے نزدیک ہر نبی کو جو بھی وحی ہو تشریعی ہوتی ہے ۔اب وہ بھی باقی نہیں رہی ۔یعنی اب کسی شخص کو انبیاء والی وحی نہ ہوگی بلکہ غیر تشریعی جس میں بجائے امرونہی کے ایقان واطمینان کا الہام وبشارت ہو یہ اولیاء کو ہوگا ۔ ان اولیاء کو وہ غیر تشریعی قرار دیتے ہیں پھر کسی بھی ولی کو وہ غیر تشریعی نبی کا نام نہیں دیتے‘ نہ ہی ان کی اطاعت کو فرض قرار دیتے ہیں‘ نہ ہی ان اولیاء کے انکار کو کفر قرار دیتے ہیں ۔ خدا لگتی قادیانی بتائیں کہ اس غیر تشریعی نبی کے لفظ سے وہ نبوت ثابت کررہے ہیں یا صرف ولایت کو باقی تسلیم کررہے ہیں۔
    نمبر۳… حضور ﷺ کے بعد تشریعی نبوت بند ہے۔ یہی معنی ہے لانبی بعدی کا غیر تشریعی یعنی اولیاء وہ ہو سکتے ہیں ۔ اولیاء کے نیک خوابوں کی بنیاد پر ان کو آج تک کسی نے نبی قراردیا؟۔ اس کو یوں فرض کریں کہ نبی خبر دینے والے کو کہتے ہیں اگر خبر وحی سے ہوتو وہ نبی ہوگا‘ واجب اطاعت ہوگا ‘ اس کی وحی خطاء سے پاک ہوگی ‘ شریعت ہوگی‘ اس کا منکر کافر ہوگا اور اگرخبر اس نے الہام وغیرہ سے دی تو وہ نبی نہ ہوگا ‘ واجب الاطاعت نہ ہوگا ‘ اس کی خبر (الہام) خطا سے پاک نہ ہوگی‘ شریعت نہ ہوگی ‘ اس کا منکر کافر نہ ہوگا‘ نہ اس پر نبی کے لفظ کا اطلاق کیا جائے ۔ یہ غیر تشریعی وحی (الہام ) والا صرف ولی ہوگا۔ فرمائیے یہ ختم نبوت کا اعلان ہے یا انکار۔
    (ج)… بعض علماء وصوفیاء کو وحی والہام سے نوازا جاتا ہے ۔ اس سے بادی النظر میں ختم نبوت سے تعارض معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق شیخ ابن عربی تحریر کرتے ہیں:’’فلااولیاء والا نبیائ‘ الخبر خاصۃ ولانبیاء اشرائع والرسل والخبر والحکم ۰ فتوحات مکیہ ج ۲ باب ۱۵۸ ص ۲۵۷‘‘
    انبیاء واولیاء کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے خبر خاصہ (وحی والہام) کے ذریعہ خصوصی خبر دی جاتی ہے اور انبیاء کے لئے تشریعی احکام ‘ شریعت ورسالت‘ خبر واحکام نازل ہوتے ہیں۔ شریعت ورسالت ‘ خبر واحکام گویا انبیاء کا خاصہ ہے اور پھر شیخ ابن عربی جس خبر (الہام ورہنمائی)کو اولیاء کے لئے جاری مانتے ہیں اس کو تو وہ حیوانات میں بھی جاری مانتے ہیں ۔ فرماتے ہیں :
    ’’وھذہ النبوۃ جاریۃ ساریۃ فی الحیوان مثل قولہ تعالیٰ واوحی ربک الی النحل۰ فتوحات مکیہ ج ۲ باب ۱۵۵ ص ۲۵۴‘‘اور یہ نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے جب کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی ۔
    اب شیخ ابن عربی کی اس صراحت نے تو یہ بات واضح کردی کہ وہ جہاں پر نبوت کو اولیاء کے لئے جاری مانتے ہیں۔ ان کو وحی نبوت نہیں بلکہ خبر ولایت سمجھتے ہیں جو صرف رہنمائی تک محدود ہے۔ احکام واخبار امر ونہی شریعت ورسالت کا اس سے تعلق نہیں ہے یہ صرف رہنمائی ہے اس پر انہوں نے لفظ نبوت کا استعمال کیا اور گھوڑے‘ گدھے‘ بلی‘ چھپکلی‘ چمگادڑ ‘الو اور شہد کی مکھی تک میں اس کوجاری مانتے ہیں ۔ کیا یہ نبی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس سے وہ صرف رہنمائی مراد لے رہے ہیں کہ یہ رہنمائی وہدایت تو باری تعالیٰ ان جانوروں کو بھی کرتے ہیں۔
    مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ حقیقت صاف واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت شیخ اکبر ؒ تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کا جو فرق بیان فرماتے ہیں ‘ ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ورسالت مل سکتی ہے لیکن تشریعی نہیں ہوسکتی بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جو وحی نبی ورسول پر نازل ہوتی ہے وہ تشریعی ہی ہوتی ہے اس میں اوامرو نواحی ہوتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بعدکسی پر وحی تشریعی نازل نہ ہوگی۔ اس لئے حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اﷲ نازل ہوںگے اور وہ بھی شریعت محمدیہؐ پر عمل کریں گے ۔ نیز نبوت کا ایک جز مبشرات قیامت تک باقی ہے اور بعض خواص کو الہام اور وحی ولایت ہوسکتی ہے لیکن کسی پر نبی اور رسول کا لفظ ہرگز نہیں بولا جاسکتا ۔ فرماتے ہیں:’’ کذالک اسم النبی زال بعد رسول اﷲ ﷺ فانہ زال التشریح المنزل من عنداﷲ بالوحی بعدہﷺ۰ فتوحات مکیہ ج۲ ص۵۸ باب۷۳ سوال۲۵‘‘
    اسی طرح سے آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا لفظ کسی پر نہیں بولا جاسکتا کیونکہ آپ ﷺ کے بعد وحی جو تشریعی صورت میں صرف نبی پر ہی آتی ہے ۔ ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکی ہے۔
    مطلب واضح ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے کہ جو تشریعی احکام لاتا ہے۔ حضور ﷺ کے بعد احکام شریعہ (اوامرونواہی )کا نزول ممتنع اور محال ہے۔ اس لئے کسی پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔
    • Like Like x 2
    • Useful Useful x 1
  2. ‏ ستمبر 28, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    تنقیح موضوع
    لے دے کے بزرگان اسلام کی چند عبارات ہیں جن میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے پیش نظر پچھلے نبی کی آمد کو اس شرط کے ساتھ کہ وہ آنحضرتﷺ کی ملت منسوخ نہ کرے اور شریعت محمدیہ کے تابع ہوکررہے ۔ آنحضرتﷺکی ختم نبوت کے خلاف قرار نہیں دیا گیا۔ ان عبارات میں تاویل وتحریف کے ہاتھ صاف کرتے ہوئے مرزائی مبلغین انہیں آنحضرتﷺ کے بعد نئے نبی کے پیدا ہونے کی دلیل بناتے ہیں اور اسے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت زمانی کے خلاف نہیں سمجھتے حالانکہ یہ لوگ ان عبارات میں سے آج تک ایک ایسی عبارت نہیں پیش کرسکتے جس میں :
    (۱)… آنحضرت ﷺ ختم مرتبت کے بعد کسی غیر تشریعی نبی کے اس امت محمدیہ میں پیدا ہونے کی صراحت موجود ہو۔
    (۲)…اس کے سیاق وسباق اور تشریح میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کا ذکر نہ ہو (جیسا کہ علامہ طاہر فتنی نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت : ’’ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولاتقولوا لانبی بعدہ‘‘ نقل کرنے کے بعد ساتھ ہی یہ لکھا دیا:’’ وھذا ناظرالیٰ نزول عیسیٰ بن مریم‘‘ اس روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو ملحوظ رکھا گیا ہے سو اس میں کسی نئے نبی کی پیدائش کی خبر نہیں ہے ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا بیان ہے اسی طرح ملا علی قاری ؒ نے موضوعات کبیر میں جہاں اس نبی کی آمد کو جوآپ کی شریعت کو منسوخ نہ کرے آپ کے خاتم النبیین کے خلاف نہیں کہا وہاں تشبیہ کے طور پر آنحضرت ﷺ ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام‘ حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام کے نام لکھ دئیے ہیں کہ اگر حضرت عمرؓ یا حضرت ابراھیم حضورﷺ کے بعد نبی ہونے ہوتے تو انہیں نبوت حضور ﷺ کی وفات سے پہلے ملتی جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام‘ حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام کو پہلے ملی ہوئی تھی۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملے گو غیر تشریعی کیوں نہ ہو یہ یقینا آیت خاتم النبیین اور حدیث لانبی بعدی کے خلاف ہے)
    (۳)… اس میں محض اجزائے نبوت (جیسے سچے خواب) یا بعض کمالات نبوت ملنے کا بیان نہ ہوبلکہ بعض افراد امت کے منصب نبوت پانے کی خبر ہو (جیسا کہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اور حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کی بعض عبارات میں اس امت میں مبشرات پائے جانے یا بعض کمالات نبوت ظاہر ہونے کی خبریں موجود ہیں۔)
    (۴)… اس نئی غیر تشریعی نبوت کے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت زمانی سے متصادم نہ ہونے کی صراحت ہو یہ نہ ہو کہ اس کے سباق میں تو ختم نبوت مرتبی کا ذکر ہو اور اسے کسی نئے غیر تشریعی نبی کی نبوت سے غیر متصادم کہا گیا ہو اور اسے اس دعویٰ سے پیش کیا جائے کہ کسی نئے غیر تشریعی نبی کی نبوت حضور ﷺ کی ختم زمانی کے منافی نہیں ہے۔ (حضرت مولانا محمد قاسم کی بات ختم نبوت مرتبی کے سیاق میں کہی گئی ہے جسے قادیانی خیانت کے طور پر ختم نبوت زمانی بناکر پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولانا کہتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہو تو اس سے آپ ﷺکی ختم نبوت زمانی میں کوئی فرق نہ آئے گا(استغفراﷲ) یہاں ختم نبوت زمانی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بات بدل کر لوگوں کو مغالطہ دینا یہی تو راہ دجل ہے۔ عقائد محکمات (کھلی کھلی عبارات)سے ثابت ہوتے ہیں متشابہات سے نہیں کہ ختم نبوت مرتبی کی بات ختم نبوت زمانی پر لگادو اور اسی پر کفر واسلام کے فاصلے قائم کرلو ‘ ہم نے تنقیح مبحث کے لئے یہ چار باتیں واضح طور پر ذکر کی ہیں۔)
    ان چار شرطوںکے ساتھ آج تک مرزائی مبلغین اجرائے نبوت کے ثبوت میںایک عبارت بھی اپنے دعویٰ کے مطابق پیش نہیں کرسکے۔ پس اصولاً ہمارے ذمہ مرزائیوں کے کسی استدلال کا جواب نہیں کیونکہ مدعی اپنے دعوے کو صحیح صورت میں پیش نہ کرسکے اور اس کے پاس اپنے دعوے کے مطابق ایک بھی دلیل موجود نہ ہو تو مدعا علیہ کے ذمہ کوئی جواب نہیں ہوتا۔
    • Like Like x 3
  3. ‏ فروری 25, 2016 #3
    شفیق احمد

    شفیق احمد رکن ختم نبوت فورم

    ایک اہم سوال ان باولے اور آوٹ آف ٹریک قادیانیوں سے کہ اگر بقول ان کے کئی بزرگان دین غیر تشریعی نبوت کے اجراء پر کامل یقین رکهتے تهے تو پهر یہ عقیدہ ان اماموں کے شاگردوں اور پیروکاروں میں ایگزسٹ کیوں نہ کرسکا ؟؟؟ جاوید احمد غامدی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر یقین رکهتا ہے یہی وجہ ہے کہ غامدی کے تمام پیروکار نیچرلی یہی عقیدہ رکهتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس جن کبار ہستیوں پر قادیانی عقیدہ اجرائے وحی و نبوت کو تسلیم کرنے کا الزام لگاتے ہیں ان کے پیروکار تو نبوت اور وحی کے دعویدار کو پکا کافر سمجهتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان بزرگوں سے براہ راست مستفیض ہونے والوں کے وہم وگمان میں بهی نہیں ہو گا کہ بعد میں آنے والے کچھ مرتدین ان کے پیشواؤں پر ایسا گهٹیا اور خود ساختہ الزام لگائیں گے۔ جزاک اللہ و خیر کثیرا.
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر