1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ختم نبوت کنونشن اور چند تلخ حقائق

عبیداللہ لطیف نے 'ختم نبوت اجتماعات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 26, 2017

  1. ‏ جون 26, 2017 #1
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    ubaidullahlatif@gmail.com
    0313-0304-6265209
    عنوان :۔ ختم نبوت کنونشن اور چند تلخ حقائق
    تحریر؛۔ عبید اللہ لطیف فیصل آباد

    یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص جناب محمد رسول ا کو آخری نبی ماننے کی بجائے کسی اور کو بھی نبی مانتا ہو یا یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ حبیب کبریا احمد مجتبیٰ امام الانبیاء جناب محمد رسول ا کے بعد کوئی اور نبی آ سکتا ہے تو وہ شخص نہ صرف دائرہ اسلام سے خارج ہو گا بلکہ اس کا حکم مرتد کا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا ہے کہ
    ’’محمد رسول ا تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن آپ ا اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو بخوبی جاننے والا ہے‘‘ (سورۃ الاحزاب 40:)
    اسی آیت کے مفہوم کی وضاحت نبی کریم علیہ السلام کے جن فرامین سے ہوتی ہے ان کو ملاحظہ فرمائیں‘ چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ
    ’’رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے میرے بعد اب نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی رسول‘‘ (جامع ترمذی؛ حدیث نمبر 2198)
    ’’اور بے شک عنقریب میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے کہ ان میں سے ہر کوئی یہ گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے جبکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا‘‘ (سنن ابو داؤد‘ کتاب الفتن والملاحم ؛ 371)
    ’’قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ قریباً تیس دجال و کذاب پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے‘‘ (صحیح مسلم ؛ کتاب الفتن و اشراط الساعۃ 7342:)
    محترم قارئین! نبی کریم علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں ہی دو انسانوں نے نبوت کا باطل دعویٰ کر دیا تھا ایک تو اسود عنسی تھا جس نے اپنا لشکر تیار کر کے یمن میں مسلمان فرمانروا شہر بن بازان کو شہید کر دیا تھا اور حکومت پہ قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہر بن بازان کی بیوی جو کہ پکی مسلمان تھی کو بھی زبردستی اپنے حرم میں داخل کر لیا آخر کار نبی کریم علیہ السلام کی زندگی میں ہی ان کے حکم سے چند فدائی مسلمانوں کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا جن میں شہر بن بازان کی بیوی بھی پیش پیش تھیں دوسرا شخص مسیلمہ کذاب تھا جس نے نہ صرف نبی کریم علیہ السلام کی نبوت کا اقرار کیا تھا بلکہ یہ بھی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی نبی بنا کر بھیجا ہے آدھی دنیا کی طرف جناب محمد رسول ا ہیں اور آدھی پر وہ آخر کا ریہ کذاب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک خونریز جنگ (جس میں 700سے زائد حفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے) کے بعد وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا یہ وہی وحشی بن حرب ہیں جو ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہندہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے اور زمانہ جاہلیت میں انہوں نے ہندہ کی طرف سے لالچ میں آ کر سید الشہداء جناب حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ۔ اسی دور میں ایک عورت سجاح بنت حارثہ نے بھی نبوت کا باطل دعویٰ کیا تھا اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ شادی بھی کی تھی آخر کار سجاح بنت حارثہ بھی مسلمان ہو گئی تھی جس کے بارے میں تاریخی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں گمنامی کی زندگی میں ہی اسلام ککی حالت میں فوت ہو گئی۔ طلیحہ اسدی نامی بدقسمت شخص جس نے دور نبوت میں اسلام قبول کیا اور وفات النبی ا کے بعد دعویٰ نبوت کر دیا اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی جنگیں ہوتی رہیں اور یہ بھی دور صدیقی کے آخر میں مسلمان ہو گیا تھااور اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ تھوڑا سا آگے چلیں تو حضرت ابو عبیدہ ثقفہی کا بیٹا مختاراس نے بھی دعویٰ نبوت کیا اور 67ھ کو مصعب بن زبیر کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا۔
    جن لوگوں نے باطل دعویٰ نبوت سے اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ان میں ایک تو مسیلمہ کذاب ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے دوسرا ابو طاہر قرامطی ہے جس نے اپنے دور میں حجاج کرام کا قتل عام کیا اور بیت اللہ شریف میں بیٹھ کر شراب نوشی بھی کرتا رہا حتیٰ کہ اس کے ظلم و ستم کی وجہ سے چند سال فریضہ حج بھی نہ ادا کیا جا سکا اس ملعون نے 317ھ کو جب خانہ کعبہ پر حملہ کیا تھا تو وہاں سے حجاج کرام کا قتل عام کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ناپاک جسارت یہ بھی کی کہ حجراسود کو اکھاڑ کر اپنے شہر ہجر میں لے گیا جہاں پر اس نے بیت الہجر کے نام سے اپنی عبادتگاہ بنائی تھی وہاں پر نصب کر دیا آخر کار یہ ملعون 332ھ میں چیچک کی بیماری سے واصل جہنم ہوا اور حجر اسود 339ھ میں کچھ رقم کے عوض واپس لے کر دوبارہ اصل مقام پر نصب کیا گیا اس طرح حجر اسود تقریباً 22سال اپنے اصل مقام سے غائب رہا۔
    محترم قارئین! ان کے علاوہ جن لوگوں نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ان میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت بھی ہے۔ مرزا قادیانی 1840ء میں مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر چراغ بی بی المعروف مائی گھسیٹی کے بطن سے قادیان میں پیدا ہوا۔ مرزا قادیانی شروع میں تو عیسائیوں اور ہندوؤں سے مناظرے اور مباحثے کرتا رہا اس طرح اس نے مسلمانوں میں اپنا ایک مقام بنانے کی کوشش کی جب اس کا کچھ تعارف لوگوں میں ہو گیا تو اس نے 1891ء میں ایک کتاب ازالہ اوہام لکھی جس میں مسلمانوں کے دیرینہ اور اجماعی عقیدہ سے انحراف کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ پہ میں مسیح موعود بن کر آیا ہوں۔ پھر اس کے بعد اس نے 1901ء میں ایک کتابچے ’’ایک غلطی اور اس کا ازالہ‘‘ میں نبوت کا باطل دعویٰ کیا نہ صرف نبوت کا باطل دعویٰ کیا بلکہ اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ا قرار دیا۔ اس ملعون نے جہاد فی سبیل اللہ کو صریحاً حرام کہا اور انگریز کی اطاعت کو فرض قرار دیا اور اپنے آپ کو انگریز کا خود کاشتہ پودا بھی قرار دیا۔
    جب علمائے اسلام نے علمی میدان میں اس کا محاسبہ کیا تو اس نے ایک اشتہار بعنوان ’’مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ شائع کیا جس میں لکھا کہ میں مولوی ثناء اللہ کے ہاتھوں بہت ستایا گیا ہوں یہ مجھے چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر سمجھتا ہے اگر میں ایسا ہی ہوں یا الٰہی میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں ہی ہیضہ ‘ طاعون اور دیگر کسی ایسی ہی بیماری سے ذلیل کر کے موت دے اگر میں سچا اور مولوی ثناء اللہ جھوٹا ہے تو اسے میری زندگی میں ہی اس طرح موت دے حتی کہ اللہ رب العزت نے حق کو واضح کرنے کے لیے تقریباً دس ماہ بعد مرزا قادیانی کو ہیضہ کی حالت میں بیت الخلاء میں ہی واصل جہنم کر دیا اور مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمتہ اللہ علیہ جو جماعت اہلحدیث کے سرخیل ہیں تقریباً چالیس سال بعد 1948ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے علاوہ جن بزرگوں نے ہر قدم پر اس کا پیچھا کیا ان میں سرفہرست مولانا محمد حسین بٹالوی‘ پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور علماء لدھیانہ شامل ہیں۔
    محترم قارئین! ان قادیانیوں کو 1974ء میں پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک آرڈیننس کے ذریعے ان کے اسلامی شعائر استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔
    محترم قارئین! قادیانی جو کلمہ پڑھتے ہیں پاکستان آئین کے تحت اس پر پابندی ہے کسی نے مرزا قادیانی کے بیٹے کو یہ سوال کیا کہ تم مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہو تو کلمہ علیحدہ کیوں نہیں پڑھتے تو ابن مرزا قادیانی مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب کلمۃ الفضل میں اس سوال کا جواب اس طرح دیا کہ
    ’’اور ہم کونئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ بس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ ا کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی‘‘(کلمۃ الفضل ص 158مندرجہ ریویو آف ریلجنز جلد 14ص 158نمبر 4)
    اور مزید مرزا قادیانی خود رقمطراز ہے کہ
    ’’جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے‘‘
    (خطبہ الہامیہ ص 171مندرجہ روحانی خزائن جلد 16ص 25)
    محترم قارئین! یہ قادیانی گروہ اب بھی نہ صرف اعلیٰ عہدوں پر فائز ہے بلکہ بعض علاقوں میں بڑی خاموشی کے ساتھ عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے قادیانیت کو فروغ دے رہا ہے۔ اسی گروہ کے بدعقائد و نظریات اور اس گروہ کی وطن عزیز ‘ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں سے آگاہی کے لیے گذشتہ دنوں جڑانوالہ میں تحریک ختم نبوت کے تحت ایک کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو دعوت دی گئی کنونشن میں جماعت اہلحدیث کی طرف سے سیدضیاء اللہ شاہ بخاری اور حافظ عثمان شاکر نے شرکت کی اسی طرح دیو بندی مکتبہ فکر کی طرف سے مولانا الیاس چنیوٹی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اور بریلوی مکتبہ فکر کی طرف سے حاجی عبدالمجید صاحب نے شرکت کی اور اس کنونشن میں اہم ترین خطاب جناب متین خالد ایڈووکیٹ صاحب کا تھا جنہوں نے مرزائیت کے حوالے سے ’’ثبوت حاضر ہیں‘‘ نامی کتاب لکھ کر پوری قادیانیت کو چیلنج کر دیا ہے اور آج تک اس کتاب کا جواب دینے کی کسی قادیانی کو جرات نہیں ہوئی اس کنونشن کے میزبانوں میں محترم جناب سکندر حیات ذکی اور اسد اللہ ساقی میرے پیارے دوستوں میں سے ہیں کنونشن میں کچھ قرار دادیں بھی پیش کی گئی جو بہت بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
    کنونشن میں پہلی قرار داد پنجاب پبلک سروس کمشن کے امتحانات میں کامیاب ہونے والے اسلامیات کے ان 18پروفیسروں کے متعلق تھی جو قادیانی ہیں کیونکہ جب بھی کوئی قادیانی طلباء کو اسلامیات پڑھائے گا تو وہ قرآنی آیات اور احادیث کی غلط تشریح کر کے طلباء کو قادیانی کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سلسلہ میں قرار داد میں کہا گیا کہ ان پروفیسروں کو تعینات نہ کیا جائے مزید مولانا الیاس چنیوٹی نے اس قرار داد کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے خطاب میں بتایا کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں اسی حوالہ سے قرار داد پیش کی تھی جس پر رانا ظہیر الدین خاں اور راجہ ریاض احمد نے تو دستخط کر دیئے تھے افسوس کا مقام یہ ہے کہ ن لیگ کی طرف سے یہ قرار داد ریجیکٹ کر دی گئی ۔
    دوسری قرار داد قادیانیوں کے آزادانہ اسلامی شعائر استعمال کرنے کے متعلق تھی کہ ایک طرف قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے نہ صرف دھوکہ دے رہے ہیں بلکہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں اوپر سے ستم ظریفی یہ کہ نصاب تعلیم میں اب تک آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی جو کہ ربوہ میں قادیانیوں کے بہشتی مقبرہ (جہنمی مقبرہ) کے قطعہ نمبر 12میں دفن ہے کو مسلمان سائنس دان کے طور پر لکھا جا رہا ہے جو کہ آئین پاکستان سے واضح بغاوت ہے قرار داد میں کہا گیا کہ فی الفور نصاب تعلیم میں کی جانے والی اس بددیانتی کو ختم کیا جائے اور ایسے قادیانی نواز عناصر جن کی وجہ سے یہ آئین پاکستان سے انحراف کیا جا رہا ہے کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اسی طرح حکمران طبقہ خصوصاً پنجاب گورنمنٹ قادیانیت نوازی کا ثبوت دینے کی بجائے اسلام اور نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت کا ثبوت پیش کرے۔
    تیسری قرار داد میں شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ کوئی قادیانی کسی کو بھی دھوکہ نہ دے سکے۔
    کنونشن میں عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر میاں حمزہ نے کہا کہ اگر ہم عقیدہ ختم نبوت اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخلص ہیں تو ہمیں فرقوں اور جماعتوں کی دعوت چھوڑ کر فقط اسلام کی دعوت دینی ہو گی۔ مولانا خلیل احمد رہنما جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر ساری امت یکجا ہو سکتی ہے اگر ہم اپنا تحفظ چاہتے ہیں تو فرقہ واریت کو ختم کر کے عقیدہ ختم نبوت پر ایک ہو جائیں سید ضیاء اللہ شاہ بخاری مرکزی رہنما متحدہ جمیعت اہلحدیث نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ آج تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام عقیدہ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر یکجا ہیں انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کا خاتمہ تبھی ممکن ہو گا جب ہم اپنے اپنے علماء‘ پیروں اور بزرگوں کے اقوال و افعال کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھیں گے کیا وجہ ہے کہ ہمارا قرآن ایک‘ نبی ایک اور خالق و مالک ایک ہے تو ہمارے فرقے الگ الگ کیوں ہماری نسبت فقط آخری نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہونی چاہئے اسی میں کامیابی ہے جب ہم حرمت رسول اور ختم نبوت پر تمام نسبتیں ترک کر کے ایک ہو جائیں گے تو کسی کو عقیدہ ختم نبوت میں دراڈ ڈالنے کی ہمت نہیں ہو گی مجاہد ختم نبوت جناب متین خالد ایڈووکیٹ نے کہا کہ قادیانی ہر سال ایک ارب روپے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے خرچ کرتے ہیں قادیانی چاہتے ہیں کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں اور وہ ان کا ایمان لوٹتے رہیں۔ قادیانی فقط مسلمانوں کے اتحاد سے ڈرتا ہے‘ قادیانی اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں کیونکہ وہ پاکستانی آئین کو نہیں مانتے انہوں نے مزید کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس وقت تککوئی بھی مرزائی پکا قادیانی نہیں بن سکتاجب تک میری کتابوں کو کم از کم تین مرتبہ نہ پڑھ لے جبکہ میں (متین خالد) دعوے سے کہتا ہوں کہ جو قادیانی مرزا قادیانی کی کتب کو تین مرتبہ توجہ سے پڑھ لے گا وہ قادیانی نہیں رہ سکے گا کیونکہ ان کتب میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کو معاذ اللہ شرابی کہا گیا ہے اور اسی طرح مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو نہ صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے افضل قرار دیا ہے بلکہ ناپاک جسارت کرتے ہوئے تمام انبیاء سے افضل قرار دینا ہے‘ ممبر صوبائی اسمبلی مولانا الیاس چنیوٹی نے کہا کہ پاکستانی فوج کا ماٹو ایمان‘ تقویٰ اور جہاد ہے جبکہ مرزا قادیانی نے جہاد کو مکمل طور پر حرام قرار دیا ہے اور قادیانی گروہ جہاد کو حرام سمجھتا ہے تو وہ پھر پاک فوج میں کس مقصد کے لیے بھرتی ہوئے ہیں اور ان کو فوج میں بھرتی ہونے کی کیوں اجازت دی جاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ پاک فوج میں بھرتی ہونا قومی فریضہ سجھتے ہیں تو پھر اسرائیلی فوج میں کس مقصد کے لیے بھرتی ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں افواج پاکستان کے سربراہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ منکرین جہاد قادیانیوں کا داخلہ فوج میں بند کیا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انجمن احمدیہ اور صد ر انجمن احمدیہ کے ذمہ 2011ء ‘ 2012ء یعنی دو سال کا انکم ٹیکس 1کھرب 46ارب اور 32کروڑ روپے ہیں جس کے لیے ریجنل انکم ٹیکس آفس کی طرف سے 17مئی کو نوٹس بھیجا گیا اس آفیسر کو قادیانیوں کی طرف سے تیس کروڑ روپے کی رشوت کی آفر کی گئی جو اس نے ماننے سے انکار کر دیا ہے 18مئی کو قادیانی اس کیس کو اب ہائیکورٹ میں لے کر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قادیانی ملک و ملت کے سب سے بڑے غدار ہیں ہم متحد ہو کر ہر محاذ پر ان کا مقابلہ کریں گے ‘ کنونشن سے حافظ عثمان شاکر‘ مولانا شبیر احمد عثمانی نے بھی خطاب کیا کنونشن کی سب سے اہم بات امت کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے آگاہ کرنا تھا۔ الغرض یہ کنونشن ایک مثالی کنونشن تھا ایسے پروگرام ہر علاقے میں ہونے چاہئیں تاکہ لوگ صحیح معنوں میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت ‘ فرضیت اور فضیلت سے آگاہ ہو سکیں۔اور قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے اپنے ایمان کو بچا سکیں۔

اس صفحے کی تشہیر