1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

دجال کہاں قتل ہوگا ؟

خادمِ اعلیٰ نے 'حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 24, 2015

  1. ‏ جون 24, 2015 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    سوال : اگر دجال قتل ہوگا تو کہاں قتل ہوگا ؟


    جواب :
    ایک حدیث شریف ہے کہ "
    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمِّي مُجَمِّعَ ابْنَ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ. ( سنن ترمذی ، ‘ کتاب أبواب الفتن‘ باب ما جاء فی قتل عیسی ابن مریم الدجال حدیث نمبر 2244 )
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’عیسیٰ بن مریم علیہما السلام دجال کو ’باب لُد‘ پر قتل کریں گے۔‘‘
    اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ "
    انس بن مالک ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    ’’يتبع الدجال من يهود اصبهان سبعون الفا عليهم الطيالسة‘‘
    اصبہان کے یہود میں سے ستر ہزار ایسے افراد دجال کی پیروی کریں گے ،جن پر سبز چادریں ہوں گی۔(صحیح مسلم:2944)۔

    " لد " اس وقت اسرائیل میں واقع ہے ۔ اسرائیلی ائیر فورس کا بیس ہے دجال کے ساتھ اس وقت ستر ہزار یہودیوں کی جماعت ہوگی ۔ جو اس کے حامی اور مددگار ہونگے ، جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اس وقت اسرائیل کا کوئی وجود نہ تھا اور نہ ہی " مقام لد " کو کوئی اہمیت حاصل تھی ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر قربان جائیں کہ کس طرح اسرائیل میں آج" لد " کو اہمیت حاصل ہے ، وہاں اس کی فوج کی چھاؤنی ہے گویا دجال آخری وقت تک یہود کی فوج میں پناہ لینے کی کوشش کرے گا ۔

    یہاں ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ مرزا غلام قادیانی 1908ء میں جہنم واصل ہوا ، اور 1949ء میں اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی ، جس وقت مرزا غلام قادیانی زندہ تھا اس وقت اسرائیل کو وجود نہ تھا ۔ مرزا غلام قادیانی کے مرنے کے اکتالیس 41 سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی مرزا غلام قادیانی نے اپنی کتب میں اس بات کا مذاق اڑایا ہے ستر ہزار یہود تو اس وقت پوری دنیا میں موجود نہیں وہ کس طرح دجال کے ساتھ ہونگے ۔
    لیکن مرزا غلام قادیانی کو معلوم نہ تھا کہ ساری کائنات کا نظام بدل سکتا ہے مگر اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غلط نہیں ہوسکتی ۔ آج کوئی مرزائی مرزا غلام قادیانی کی قبر پر جا کر سوال کرے کہ اے مرزا صاحب جن ستر ہزار یہودیوں والی حدیث کا تو نے مذاق اڑایا تھا وہ آج پوری ہوچکی ۔اسرائیل میں ایک ستر ہزار نہیں بلکہ کئی ستر ہزار یہودی موجود ہیں ۔

    مرزا غلام قادیانی کہتا ہے کہ
    " اوّل بلدۃِ باُ یعی الناس فیھا اسمھا لدھیانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاللہ مخلص من لفظ لدھیانہ " ( خزائن جلد 18 صفحہ 341 حاشیہ )
    مرزا غلام قادیانی کے مطابق " لد " سے مراد " لدھیانہ " ہے جوکہ سراسر جھوٹ اور خیانت ہے ، اس کا نہ تو قرآن حدیث میں کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی یہ بات کسی تاریخ سے ثابت ہے ۔ یہ بس مرذا غلام قادیانی کی بے تکی ذہنی اختراع ہے ۔

    ایک طرف خود مرزا غلام قادیانی تسلیم کر رہا ہے کہ
    " ماسوائے اس مسلم کی حدیث میں صاف لکھا ہے کہ دجال کے ساتھ " ستر ہزار
    اہل کتاب " شام ہوجائیں گے "
    ( خزائن جلد 3 صفحہ 497 )
    اور پھر دوسری جگہ لکھتا ہے کہ
    " تم لوگ بار بار یہ حدیث پیش کرتے ہو کہ اس کا اس قدر بڑا فتنہ ہوگا کہ" ستر ہزار مسلمان " اس کے متعقد ہوجائیں گے " ( خزائن جلد 3 صفحہ 366 )
    حالانکہ یہ " ستر ہزار مسلمانوں والی " نہ کوئی حدیث ہے اور نہ ہی کسی کتاب میں یہ بات لکھی ہے ۔ یہ مرزا غلام قادیانی کی اپنی اختراع ہے اور دجل ہے ، اگر کسی قادیانی میں ہمت ہے تو حوالہ دے کہ کسی حدیث میں یہ بات لکھی ہے اور یہ بات کہاں لکھی ہے ؟

اس صفحے کی تشہیر