1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

دعاوی مرزا

حمزہ نے 'دعاوی مرزا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 2, 2015

  1. ‏ اپریل 7, 2015 #11
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    امت مرزائیہ کے چند مدعیان نبوت کا ذکر


    مرزا قادیانی کی امت نے جب یہ دیکھا کہ ان کے پیشوا نے ختم نبوت کا مسئلہ تو ختم کر دیا اور قیامت تک کے لیے نبوت کا دروازہ کھول دیا تو حوصلہ مند مرزائیوں کو طمع ہوئی کہ موقع ملنے پر ہم بھی مسیح موعود بن جائیں گے اور مرزا صاحب کی طرح عیش و عشرت کی زندگی بسر کریں گے۔ اب ہم امت مرزائیہ کے چند مدعیان کا ذکر کرتے ہیں۔

    ۱-چراغ دین متوطن جموں

    چراغ الدین نای جموں کا رہنے والا تھا۔ وہ مرزا صاحب کا مرید تھا۔ اس نے مرزا صاحب کی زندگی میں ہی نبوت و رسالت کا دعویٰ کر دیا۔ مرزا صاحب نے اس کو باغی کہہ کر اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔

    ۲-منشی ظہیر الدین اروپی

    یہ شخص موضع اروپ ضلع گوجرانوالہ کا رہنے والا تھا۔ اس کے نزدیک مرزا صاحب، صاحب شریعت نبی تھے۔ اس کا خیال تھا کہ قادیان کی مسجد ہی خانہ کعبہ ہے۔ نماز اسی کی طرف منہ کر کے پڑھنی چاہیے۔ لاہوری پارٹی کے جریدۂ پیغام صلح کا مدیر بھی رہا ہے۔ یہ شخص اپنے یوسف ہونے کا مدعی تھا لیکن بعد میں اپنے دعویٰ پر ثابت نہ رہا اور مرزائے قادیان کی تحریروں میں تخالف اور تضاد پر مضمون بھی لکھا جو لاہوری مرزائیوں کے رسالہ المہدی میں شائع ہوا۔

    ۳-محمد بخش قادیانی

    یہ شخص قادیان کا رہنے والا ہے۔ اس کو الہام ہوا ”آئی ایم و ٹ وٹ“ یعنی ”میں و ٹ وٹ ہوں“۔

    ۴-مسٹر یار محمد پلیڈر

    یہ شخص ہوشیار پور کا وکیل تھا۔ یہ شخص مرزا قادیان کا حقیقی جانشین اور خلیفہ برحق ہونے کا مدعی تھا۔ مرزا محمود سے اس کا جھگڑا رہا کہ مسند خلافت میرے لیے خالی کر دے مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوا۔

    ۵-عبداللہ تیماپوری

    یہ شخص تیماپور علاقہ حیدر آباد دکن کا رہنے والا تھا۔ پہلے روح القدس کے نزول کا مدعی بنا پھر مظہر قدرت ثانیہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس شخص نے پیشگوئی کی تھی کہ مرزا محمود بہت جلد میری بیعت میں داخل ہو جائے گا۔ لیکن پیشگوئی پوری نہ ہو سکی۔ سب سے پہلے اس پر یہ وحی آئی ”یا ایھا النبی تیمار پور میں رہیو“۔ یہ شخص کہتا تھا کہ میں ظل محمد بھی ہوں اور ظل احمد بھی اور درجہ رسالت میں وہ اور مرزا صاحب دونوں بھائی ہیں اور مساوی حیثیت رکھتے ہیں اور جو فرق کرے وہ کافر ہے۔

    ۶-سید عابد علی

    پرانا مرزائی۔ قصبہ بدو ملہی ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ مدعی الہام ہوا۔

    ۷-عبد اللطیف گنا چوری

    یہ بھی ایک مشہور مرزائی مدعی نبوت ہے۔ اس نے اپنے دعویٰ کی تائید میں ایک ضیغم کتاب چشمہ نبوت شائع کی۔ جس میں لکھتا ہے کہ مرزا صاحب کا نام زمین پر غلام احمد اور آسمان پر مسیح بن مریم تھا۔ اسی طرح خدا نے زمین پر میرا نام عبد اللطیف اور آسمانوں میں محمد بن عبداللہ موعود رکھا ہے۔ جس طرح مرزا صاحب روحانی اولاد بن کر سید ہاشمی بن گئے تھے اسی طرح میں بھی آل رسول میں داخل ہوں۔

    ۸-ڈاکٹر محمد صدیق بہاری

    یہ شخص صوبہ بہار کے علاقہ گدگ کا رہنے والا تھا۔ مرزائیوں کی لاہوری پارٹی سے متعلق تھا۔ یہ کہتا تھا کہ مرزا صاحب نے پسر موعود کی پیشگوئی کی تھی، وہ میں ہی یوسف موعود ہوں، اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اہل قادیان کی اصلاح کروں۔ قادیان سے آواز اٹھ رہی کہ حضرت خاتم النبین کے بعد بھی نبوت جاری ہے۔ اسلام میں سرور دو جہان کی ذات گرامی پر اس سے بڑھ کر اور کوئی حملہ متصور نہیں ہو سکتا کہ حضور کے بعد کوئی اور نبی کھڑا کیا جائے اور بیس کروڑ مسلمانوں کو مرزا صاحب کی نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے خارج از السلام تصور کیا جائے۔ میں اس توہین آمیز عقیدہ کو مٹانے کی غرض سے مبعوث ہوا ہوں۔ محمودیوں اور پیغامیوں(قادیانی مرزائیوں اور لاہوری مرزائیوں) میں جھگڑا تھا اس لیے میں حکم بن کر آیا ہوں، میرے نشانات کئی ہزار ہیں۔ صرف اخلاقی نشان چون ہیں۔ یہ نعمت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہونے اور قادیان کے خلاف کرنے سے ملی۔ غیرت الہٰی نے میرے لیے مرزا صاحب کے نشانات سے بڑھ کر نشانات ظاہر کیے۔ میری بعث کے بغیر قادیان کی اصلاح ناممکن تھی۔ میں نے تلاش حق میں مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت بھی کی تھی لیکن عقائد پسند نہ آنے کی وجہ سے بیعت فسخ کر دی اور قادیان سے نکالا گیا۔ اب میں مسلسل بارہ سال سے محمودی عقائد کی تردید کر رہا ہوں۔

    ۹-احمد سعید سنبھڑیالی

    یہ شخص ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا، اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس جو پہلے مرزائی تھا بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا۔

    ۱۰-احمد نور کابلی

    یہ شخص قادیان کا سرمہ فروش، مرزا غلام احمد کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ اس کی ناک پر پھوڑا ہو گیا، جب کسی طرح اچھا نہ ہوا تو عمل جراحی کرایا۔ جب ناک کٹ گئی تو دعویٰ نبوت کر دیا اور کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے : عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا اور آیت : ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم میرے بارہ میں نازل ہوئی۔ فتلك عشرة کامله۔


    نمونہ کے طور پر ہم نے مرزائی امت کے دس مدعیان نبوت کا ذکر دیا۔ ان دس کے علاوہ اور بھی مرزائی امت میں مدعیان نبوت گزرے ہیں جن میں سے بعض تو یہ کہتے تھے میں ہی حقیقی مرزا صاحب ہوں۔ اُس شخص کا نام افضل احمد تھا جو موضع چنگا ضلع راولپنڈی کا تھا۔ یہ سب مدعیان نبوت مرزائی تھے جو بعد میں نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان میں سے کوئی وکیل تھا اور کوئی پٹواری اور کوئی انسپکٹر تھا۔ ان مرزائی مدعیان نبوت کے مفصل حالات کتاب ائمہ تلبیس مصنفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری مرحوم میں مذکور ہیں۔ وہاں دیکھ لیے جائیں۔ یا قادیانی مذہب مصنفہ پروفیسر الیاس برنی مطبوعہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان صفحہ 1010سے 1044 تک مطالعہ کر لیا جائے۔
    • Like Like x 1
  2. ‏ اپریل 9, 2015 #12
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    استفتاء از فضلاء امت مرزائیہ

    کیا فرماتے ہیں فضلاء امت مرزائیہ اور فقہا ملت قادیانیہ ان مرزائی مدعیان نبوت کے بارہ میں جو پہلے مرزا غلام احمد کے سلسلہ میں داخل ہوئے اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ کہا کہ ہم مستقل نبی نہیں بلکہ مرزا صاحب کے ظل اور بروز ہیں اور ہماری نبوت مرزا صاحب کی نبوت سے علیحدہ نہیں اور ہماری نبوت سے مرزا صاحب کی نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جس طرح موسیٰ عمران کی امت میں، بنی اسرائیل میں بہت سے نبی ہوئے اسی طرح ہم موسیٰ قادیانی کی امت کے نبی ہیں۔

    پس ان لوگوں کے بارہ میں ملت مرزائیہ کا کیا حکم ہے؟۔ آیا یہ مرزائی مدعیان نبوت مسلمان ہیں یا کافر و مرتد ہیں اور آیا صادق ہیں یا کاذب؟۔ اگر یہ لوگ اپنے دعوائے نبوت میں صادق ہیں تو تمام مرزائیوں کو ان پر ایمان لانا فرض ہے۔ کیونکہ انبیاء و رسل میں تفریق کفر ہے اور جو لوگ مثلاً مرزا بشیر الدین وغیرہ جو ان مرزائی پیغمبروں پر ایمان نہیں لاتے، مرزائی جماعت کی طرف سے ان پر کافر اور مرتد ہونے کا فتویٰ شائع ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ کاذب اور کافر ہیں تو ان کے کفر کی وجہ بتلائی جائے۔ کیونکہ جب مرزا صاحب کے نزدیک نبوت کا دروازہ قیامت تک کے لیے کھلا ہوا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت جاری ہے تو محض دعوائے نبوت تو وجہ کفر کیں نہیں ہو سکتی تو پھر آخر کس وجہ سے ان مدعیان نبوت کو جو پہلے مرزا صاحب کے صحابہ و تابعین میں سے تھے، کس بنا پر ان کو ملت مرزائیہ کا کافر اور مرتد قرار دیا گیا؟۔ جبکہ مرزائی امت کے نزدیک تمام انبیاء سابقین کے اسماء و صفات کا مرزا صاحب کو عطا کیا جانا ممکن ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرزا صاحب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل اور بروز بن سکیں تو کیا یہ ممکن نہیں کہ مرزا صاحب کے کسی صحابی یا تابعی کو مرزا صاحب کے تمام اسماء و صفات مل سکیں اور وہ مرزا صاحب کا ظل اور بروز عین بن سکے؟۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟۔ اے ملت مرزائیہ کے فضلا اس مسئلہ کو واضح فرمائیے۔ بینواوتوجزوا۔
    • Like Like x 1
  3. ‏ اپریل 11, 2015 #13
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ۱9-سارے عالم کے لیے مدار نجات ہونے کا دعویٰ

    مرزا صاحب کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ عالم کی نجات اخروی کا دورو مدار ان کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ہے اور جو شخص مرزا صاحب کی مخالفت کرے وہ گویا ابلیس اور دوزخی ہے اور کہتے ہیں کہ منکر کافر اور مردود ہے اور عقائد مرزا میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مرزا کے فعل پر اعتراض کرنا بھی کفر ہے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں

    ”کفر دو قسم پر ہے۔ (اول) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہی کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں“ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 185)

    اور یہی مضمون (روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 435) میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے

    ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سُنے“۔

    اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ مدار نجات مرزا صاحب پر ایمان لانا ہے جو مرزا صاحب پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے۔

    حالانکہ
    تریاق القلوب میں مرزا صاحب یہ تصریح کرتے ہیں کہ کافر وہ ہے کہ صاحب شریعت نبی کی نبوت کا انکار کرے اور اس کے سوا ملہم من اللہ وغیرہ وغیرہ کے انکار سے کافر نہیں ہو جاتا۔ چنانچہ تریاق القلوب میں ہے

    ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف اُن نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جنابِ الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہیں اور خلعتِ مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا“(روحانی خزائن جلد ۱۵- تریَاق القلوُب: صفحہ 432)

    پس تریاق القلوب کی اس عبارت کو پہلی عبارتوں کے ساتھ ملانے سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب مستقل نبوت اور شریعت جدیدہ کے مدعی ہیں اور شریعت ان کے نزدیک امر و نہی کا نام ہے جو وحی میں موجود ہے۔ پس جبکہ مرزا صاحب نے یہ اصول مقرر کر دیا کہ جو صاحب شریعت ہو اس کا انکار کفر اور با آواز بلند کہہ دیا کہ اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا ان ہی نبیوں کی شان ہے جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لے کر آئے ہوں اور پھر اپنے منکرین کی نماز جنازہ کو حرام اور ممنوع قرار دیا۔ تو صاف ظاہر ہو گیا کہ مرزا صاحب نبوت مستقلہ اور شریعت جدیدہ کے مدعی ہیں۔ لیکن مخص مسلمانوں کے مغالطہ دینے کے لیے ظلی اور بروزی کے الفاظ گھڑے ہیں لہٰذا مرزا صاحب کے اس قول کے مطابق تمام لاہوری جماعت کافر اور جہنمی ہو گی کیونکہ لاہوری جماعت مرزا کو نبی نہیں مانتی بلکہ مخص مجدد مانتی ہے۔

    مرزا صاحب کا یہ دعویٰ صریح آیات قرآنیہ کے خلاف ہے۔ حق جلّشانہ فرماتا ہے أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ(العنکبوت 51) یعنی یہ قرآن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا قیامت کے لیے کافی ہے اور بس کسی اور کتاب کی طرف رجوع کی ضرورت نہیں۔ مرزا کہتا ہے کہ قرآن کافی نہیں جب تک وحی اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔

    حق تعالیٰ جلّشانہ فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا(النساء 59) مطلب یہ کہ اے ایمان والو تم پر تین چیزوں کی اطاعت واجب ہے۔ اللہ کی اور اس کے رسول کی اور اولوالامر اور اولوالامر کے ساتھ ارشاد ہے کہ اگر کسی وقت تمہارا اولی الامر سے نزاع اور اختلاف ہو جائے تو اس قوت اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو کہ وہی قابل اطاعت ہیں۔ معلوم ہوا کہ اولوالامر یعنی غیر نبی سے اختلاف ہو سکتا ہے، خواہ وہ علماء ہوں یا اولیاء یا امراء ہوں۔ مگر قیامت تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف نہیں ہو سکتا۔ قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی مطاع مطلق ہیں۔

    مرزائی مولوی محمد علی لاہوری اپنی تفسیر جلد اول کے صفحہ 375 طبع چہارم پر لکھتے ہیں کہ ”چونکہ قرآن نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس امت کے اندر ہمیشہ کے حقیقی مطاع ایک مطاع محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں گے....اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں کوئی رسول نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی رسول ہو گا تو وہ خود مطاع ہو گا ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مطاع نہیں رہے گے اور یہ خلاف قرآن کے ہے۔ پس ختم نبوت پر یہ آیت فیصلہ کن ہے جب اس کو فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اب تا قیامت کوئی رسول قطعاً نہیں آ سکتا“۔
  4. ‏ اپریل 11, 2015 #14
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ۲۰-عموم بعثت کا دعویٰ

    ”میں صرف پنجاب کے لئے مبعوث نہیں ہوا بلکہ جہاں تک دنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کے لئے مامور ہوں“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 200)

    ۲۱-آدم خلیفۃ اللہ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

    لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اس کلام میں آدم علیہ السلام قرار دیا ہے۔ يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ (روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 410)

    ازالہ اوھام میں لکھتے ہیں ” اس حکیم مطلق نے اس عاجز کا نام آدم اور خلیفۃ اللہ رکھ کر اور انّی جاعل فی الارض خلیفہ کی کھلے کھلے طور پر براہین احمدیہ میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائی کہ تا اِس خلیفۃ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر نہ رہیں اور ابلیس کی طرح ٹھوکر نہ کھاویں اور من شَذَّ شُذّ فی النّار کی تہدید سے بچیں“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 475)

    ۲۲-ابراہیم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

    ”آیت وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ا س طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا“(روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 421)


    ۲۳- نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
    ۲۴-یعقوب علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
    ۲۵-موسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
    ۲۶-داؤد علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
    ۲۷-شیث علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
    ۲۸-یوسف علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
    ۲۹-اسحاق علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
    ۳۰-یحییٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ
    ۳۱-اسمٰعیل علیہ السلام ہونے کا دعویٰ


    ”مَیں آدم ہوں مَیں شیث ہوں مَیں نوح ہوں مَیں ابراہیم ہوں مَیں اسحٰق ہوں مَیں اسمٰعیل ہوں مَیں یعقوب ہوں مَیں یوسف ہوں مَیں موسیٰ ہوں مَیں داؤد ہوں مَیں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مَیں مظہر اتم ہوں یعنی ظلّی طور پر محمدؐ اور احمدؐ ہوں“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 76)
  5. ‏ اپریل 11, 2015 #15
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ۳۲-آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برابری کا دعویٰ

    یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اس نام محمد و احمد سے موسوم ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔ لکھتے ہیں

    ”میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں“(روحانی خزائن جلد ۱۸- ایک غلطی کا ازالہ: صفحہ 212)

    اور ضمیمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 85، 86، 79 اور 81 میں اکثر ان اوصاف کو اپنے لیے ثابت کیا ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہیں اور ازالہ اوہام میں ایسا ہی کیا۔

    حق جلّشانہ نے قرآن کریم میں جو آیتیں سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل خاصہ میں نازل فرمائیں یہ قادیان کا دہقان الہام کے ذریعہ اپنے اوپر چسپاں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان آیتوں کا مصداق میں ہوں جیسے

    1-قُلْ جَاءَ الْحَقّ وَزَهَقَ الْبَاطِل إِنَّ الْبَاطِل كَانَ زَهُوقًا.(تذکرہ 44، 238، 394، 427 طبع سوم)

    2- هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ.(تذکرہ 45، 75، 238، 273، 354، 367، 387، 489، 607، 609، 828 طبع سوم)

    3- إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ.(تذکرہ 278 طبع سوم)

    4- إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا. لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ.(تذکرہ 92، 246، 278، 649، 649 طبع سوم)

    5- وَمَا أَرْسَلْنَاك إِلَّا رَحْمَة لِلْعَالَمِينَ.(تذکرہ 81، 385 طبع سوم)

    6- سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى. مرزا کہتا ہے کہ ”مسجد اقصٰی سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیاں میں واقع ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۶- خُطبۃً اِلھَامِیَّۃً: صفحہ 21)

    7- دَنَا فَتَدَلَّىٰ. فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ.(تذکرہ 68، 360، 394، 395، 633 طبع سوم)

    8- يُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ.(تذکرہ 107، 376، 643 طبع سوم)

    9- أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ.(تذکرہ صفحہ 105 طبع سوم)

    10- لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى. (تذکرہ 13، 107، 279، 363، 643 طبع سوم)

    11- كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ.(تذکرہ 208، 274 طبع سوم)

    12-أَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ.(تذکرہ 96، 125، 359 طبع سوم)

    13- إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ. وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا.(تذکرہ 505 طبع سوم)

    14- وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ(تذکرہ 94، 125، 359 طبع سوم)

    15- إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ.(تذکرہ 78، 94، 275، 368، 395 طبع سوم)

    16- وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ.(تذکرہ 94، 247، 361، 368 طبع سوم)

    17- أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ.(تذکرہ 25، 88، 93، 246، 278، 454، 480، 525، 587، 639، 640، 645، 689، 814 طبع سوم)

    18- مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ.(تذکرہ صفحہ 93 طبع سوم)

    19- مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ.(تذکرہ 49، 92، 253، 421، 649 طبع سوم)

    20- فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ.(تذکرہ 89، 278، 287، 367، 268، 640 طبع سوم)

    21-وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى.(تذکرہ 109، 364، 643 طبع سوم)

    22- قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ. لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ.(تذکرہ صفحہ 84 طبع سوم)

    23- قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ. مِن شَرِّ مَا خَلَقَ. وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ.(تذکرہ صفحہ 82 طبع سوم)

    24- قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ. اللَّهُ الصَّمَدُ. لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ. وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ.(تذکرہ صفحہ 49 طبع سوم)

    25- قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ.(تذکرہ 220، 221 طبع سوم)

    26- يس. وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ. إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ. عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ.(تذکرہ صفحہ 479 طبع سوم)

    27- وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ.(تذکرہ صفحہ 240 طبع سوم)

    28- وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ.(تذکرہ 67، 275،366، 487، 631، 633 طبع سوم)

    29- قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ.(تذکرہ 89، 245، 278، 362، 436، 439 طبع سوم)

    30- يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ . قُمْ فَأَنذِرْ . وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ.(تذکرہ صفحہ 51 طبع سوم) وغیرہ

    باتفاق مفسرین و محدثین قرآن کریم کی آیات مذکورہ بالا سرور عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں نازل ہوئیں۔ مگر مرزائے قادیان کہتا ہے کہ ان آیات میں جن فضائل کا ذکر کیا گیا ہے ان کا مصداق میں ہوں۔

    اے مسلمانو! کیا یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تمسخر نہیں؟۔ اور اِزالہ اوھام کے صفحہ 273 پر لکھتا ہے کہ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ سے میں خود مراد ہوں(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 463)۔ کبرت کلمۃ تخرج من افوأھم ان یقولون الا کذبا۔

    اور مرزا صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ میں رحمۃ للعالمین ہوں اور وما أرْسَلْنٰک اِلَّا رحمۃ للعالمین۔ قل اعملوا علٰی مکانتکم انّی عامل فسوف تعلمون میرے متعلق نازل ہوئیں۔ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 85)
  6. ‏ اپریل 14, 2015 #16
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ۳۳-آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونے کا دعویٰ

    لَہٗ ؔ خَسَفَ الْقَمْرُ الْمُنِیْرُ وَاِنَّ لِیْ
    غَسَا الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ أَ تُنْکِرُ

    اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟“۔(روحانی خزائن جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 183)

    اس شعر میں مرزا صاحب نے ایک تو اپنی فضیلت کا دعویٰ کیا اور دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزۂ شق القمر کا انکار کیا جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے: ”اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ“۔ اس لیے کہ اس شعر میں شق قمر کو چاند گرہن ہونے سے تعبیر کیا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فقط چاند گرہن ہوا تھا، چاند کے دو ٹکڑے نہیں ہوئے۔ اس لیے مرزا صاحب دو وجہ سے کافر ہوئے۔ نیز مرزا صاحب نے(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 153) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتائی ہے اور (روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 72) میں اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ بتائی۔

    کاش کوئی مرزائی ان دس لاکھ میں سے دس ہزار معجزات لکھ کر شائع کر دیتا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مرزا صاحب کے معجزات کیسے ہیں۔

    بندہ ناچیز کئی مرتبہ بہ سلسلہ تبلیغ و دعوت قادیان گیا۔ وہاں ان دس لاکھ نشانات کا ذکر کیا تھا کہ آخر دس لاکھ معجزات کہاں گئے؟ تو قادیان کے ایک شخص نے بتلایا کہ مرزا صاحب کا کوئی مرید اگر ایک روپیہ کا بھی منی آرڈر مرزا صاحب کے نام بھیجتا تو مرزا صاحب اس کو اپنا معجزہ شمار کرتے تھے۔ تو اس حساب سے اگر مریدوں سے دس لاکھ روپیہ ملا ہو تو ان کو دس لاکھ معجزات کہا جا سکتا ہے۔

    ۳۴-حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ

    إن اللّٰہ لن یترک ہذہ السلسلۃ حتی یُتمّہا ولن یترک حیّۃَ آدم حتی یقتلہا، فرُدُّوا ما أراد اللّٰہ إن کنتم تقدرون۔ أترُدّون ان اللّہ خلق اٰدم وجعلہ سیداوحاکما وامیراعلی کل ذی روح من الانس والجان۔ کمایفھم من اٰیۃ اسجدوالاٰدم ثم ازلّہ الشیطان واَخرجہ من الجنان۔وردالحکومۃ الی ھٰذاالثعبان۔ومس اٰدم ذلۃ وخزی فی ھٰذہ الحرب والھوان۔وان الحرب سجال۔ والاتقیاء مال عندالرحمٰن۔ فخلق اللہ المسیح الموعودلیجعل الھزیمۃ علی الشیطان فی اٰخرالزمان۔ وکان وعدًا مکتوبا فی القرآن“۔(روحانی خزائن جلد ۱۶- خُطبۃً اِلھَامِیَّۃً: صفحہ 312)

    جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور سردار اور حاکم اور امیر ذی روح جن و انس پر بنایا۔ جیسا کہ آیت ”اسجدوالاٰدم“ سے سمجھا جاتا ہے، پھر حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان نے پھسلایا اور جنت سے نکلوا دیا اور حکومت اس اژدھا یعنی شیطان کی طرف لوٹائی گئی اور سخت لڑائی میں حضرت آدم علیہ السلام کو ذلت اور رسوائی نے چھوا اور لڑائی ڈول کھینچنا ہے اور بزرگوں کے تال ہے۔ رحمن کے نزدیک پس اللہ نے مسیح موعود کو پیدا کیا تاکہ آخر زمانہ میں شیطان کو شکست دے اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ (معاذ اللہ)

    ”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اِس کثرت سے نشان دِکھلا رہا ہے کہ اگر نوحؑ کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 575)

    ۳۵-اپنی وحی اور الہام کے قرآن کے برابر ہونے کا دعویٰ

    مرزائے قادیانی کی جسارت اور دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی وحی کو قرآن کریم، تورات اور انجیل کے برابر سمجھتا ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے:

    ”میں خدا تعالیٰ کی تئیس۲۳ برس کی متواتر وحی کو کیونکر ردّ کر سکتا ہوں۔ میں اُس کی اِس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 154)

    ”مگر مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اِن الہامات پر اُسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 220)

    پس جب مرزا صاحب نے اپنی وحی کو قرآن اور توریت اور انجیل کے برابر قرار دیا تو پھر قرآن آخری کتاب الہٰی نہ رہا۔
  7. ‏ اپریل 15, 2015 #17
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ۳۶-قرآن کی طرح اپنی وحی کے اعجاز کا دعویٰ

    مرزا صاحب کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کی طرح میری وحی بھی حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے اس لیے مرزا صاحب نے اپنے مخالفین کے مقابلہ اور تحدی کے لیے ایک قصیدہ شائع کیا جس کا نام قصیدہ اعجازیہ رکھا۔ علماء نے اس قصیدہ کے اشعار میں مرزا صاحب کی صرفی اور نحوی اور عروضی غلطیاں شائع کر دیں اور مرزا صاحب اور ان کی امت اس کے جواب سے عاجز رہی اور ہے۔

    ۳۷-مرزائے قادیان کا اپنے لیے دس لاکھ معجزات کا دعویٰ

    مرزا قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تین ہزار قرار دئیے ہیں(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 153) اور اپنے معجزات دس لاکھ بتلاتے ہیں۔(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 72)

    گویا کہ مرزا صاحب اپنے گمان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل اور برتر ہیں اور گویا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عظمت و شان میں قادیان کے اس دہقان سے تین سو تینتیس درجہ کم ہیں۔ العیاذ باللہ!


    ۳۸-تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ

    ”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اُس نے اِس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 574)

    مرزا کا اس عبارت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استثنا محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ہے ورنہ پہلے گزر چکا ہے کہ (روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 153) پر مرزا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتلائی ہے اور اپنے معجزات کی تعداد (روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 72) میں دس لاکھ بتلائی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ عبارت مذکورہ بالا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استثنا محض لوگوں کو دکھلانے کے لیے تھا ورنہ حقیقتاً دل میں یہ تھا کہ میرے معجزات تو دس لاکھ ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات دس ہزار ہیں۔ دروغ گو را حافظہ نباشد۔

    ۳۹-میکائیل علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

    ”اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے“۔(روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 413)

    ۴۰-خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ

    انت منی بمنزلۃ اولادی“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 89)

    انت منّی بمنزلۃ ولدی“۔(روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 452)

    اسمع يا ولدي“۔(البشری جلد 1 صفحہ 49)
    ترجمہ:۔ ”اے میرے بیٹے سن“۔

    ۴۱-اپنے اندر خدا کے حلول یعنی اتر آنے کا دعویٰ

    مرزا کو الہام ہوا:
    ”آواہن خدا تیرے اندر اتر آیا“۔(روحانی خزائن جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 102، بمثلہ روحانی خزائن جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 84)

    ۴۲-خود خدا ہونے کا دعویٰ

    ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں“ پھر فرماتے ہیں ”اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے“ پھر فرماتے ہیں ”اور اس حالت میں مَیں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی۔ اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انّا زیّنا السّمَاء الدّنیا بِمَصَابیح۔ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا أَردتُ ان استخلف فخلقت آدم ۔ انّا خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت میرے پر ظاہر ہوئے“۔(روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 103تا 105، روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 564)

    یہ واقعہ اگرچہ حالت کشف اور الہام کا ہے مگر کتاب و سنت اور اجماع امت سے یہ ثابت ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا خواب اور الہام سب قطعی ہوتا ہے۔ اگر انبیاء کا خواب قطعی نہ ہوتا تو محض خواب کی بنا پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسمٰعیل علیہ السلام کا ذبح کرنا جائز نہ ہوتا۔
    خود مرزا نے بھی لکھا:
    ”أن رؤیا الأنبیاء وحی“۔ (روحانی خزائن جلد ۷- حَمامَۃُ البُشریٰ: صفحہ 190)
    ترجمہ:۔ ”انبیاء کی خوابیں وحی ہوتی ہیں“۔(حَمامَۃُ البُشریٰ اردو ترجمہ صفحہ 47 شائع کردہ نظارت اشاعت صدر انجمن قادیانیہ پاکستان)

    یوسف علیہ السلام جب جیل خانہ میں تھے تو اس وقت دو قیدیوں نے دو خواب دیکھے اور یوسف علیہ السلام سے اس کی تعبیر دریافت کی۔ یوسف علیہ السلام نے تعبیر بتانے کے بعد فرمایا قُضِيَ الأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ۔ اس کام کا فیصلہ ہو گیا جس کی بابت تم دریافت کرتے تھے۔ یعنی جو تعبیر دیدی گئی وہ اٹل فیصلہ ہے، اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ پس جبکہ نبی کی طرف سے کافر کے جواب کی تعبیر اٹل ہے تو خود نبی کا خواب اور اس کا الہام کیسے اٹل نہ ہو گا۔
  8. ‏ اپریل 16, 2015 #18
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ۴۳-صاحبِ”کُنْ فَیکُون“ ہونے کا دعویٰ

    مرزا صاحب حقِیقۃُالوَحی صفحہ 105 پر لکھتے ہیں:
    انماؔ امرک اذا اردت شیءًا ان تقول لہ کن فیکون۔ تُو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 108)

    ۴۴-حجر اسود ہونے کا دعویٰ

    مرزا صاحب کو الہام ہوا: ”یکے پائے من می بوسید ومن میگفتم کہ حجرا سود منم“۔(روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 445)

    ۴۵-بیت اللہ ہونے کا دعویٰ

    ”خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے(صفحہ) 445“۔(روحانی خزائن جلد ۱۷- انڈیکس: صفحہ 531)

    ۴۶-حیض اور حمل اور ولادت کا دعویٰ

    مرزا صاحب کو الہام ہوا: ”یریدون اَنْ یروا طمثک“۔ یعنی وہ تمہارا حیض دیکھنے کا ارادہ کرتے ہیں اور اس الہام کی تشریح خود مرزا صاحب کی زبانی اس طرح ہے: ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 581)

    اس الہام میں مرزا صاحب عورت بنے، اب نعوذ باللہ خدا تعالیٰ مرزا سے ہمبستری کرتے ہیں اور رجولیت کی طاقت ظاہر کی جاتی ہے۔ جس کو مرزا کے ایک مرید قاضی یار محمد بی۔او۔ایل پلیڈر اپنے ٹریکٹ نمبر 34 موسوم بہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں کہ:

    ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے واسطے اشارہ کافی ہے“۔

    اس قسم کے وساوس یقیناً شیطانی ہیں، کوئی عاقل کبھی خدا کی طرف نعوذ باللہ اس قسم کے افعال کو تجویز نہیں کر سکتا۔

    ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ ؔ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۵۵۶میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا“ ۔( روحانی خزائن جلد ۱۹- کشتی نوح: صفحہ 50)

    ”پھر مریم کو جو مراد اِس عاجز سے ہے دردِزِہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی“۔(روحانی خزائن جلد ۱۹- کشتی نوح: صفحہ 51)
  9. ‏ اپریل 16, 2015 #19
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ۴۹-کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ

    حقِیقۃُالوَحی صفحہ 85 پر لکھتے ہیں:

    ”آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن مَیں ہی ہوں“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 521)

    ۵۰-آریوں کے بادشاہ ہونے کا دعویٰ

    ”اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ“۔(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 522)

    اور بادشاہت سے مرزا صاحب کے نزدیک روحانی بادشاہت مراد ہے، اس لیے کہ ظاہری بادشاہت کا تو نام و نشان نہ تھا۔

    مرزا صاحب نے جو کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ کیا ہے ہمیں اس دعوے سے کوئی بحث نہیں، وہ جانیں اور ہندو جانیں۔ چاہے وہ اس دعویٰ کو تسلیم کریں یا تردید کریں۔ ہم تو صرف اتنا ہی کہتے ہیں کہ کیا مرزا صاحب کے نزدیک حضرت عیسیٰ اور کرشن مہاراج یک جان اور دو قالب تھے؟۔ نیز مرزا صاحب کو چاہیے تھا کہ کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ کرنے سے پہلے مسلمانوں کی ان کتابوں کا مطالعہ کرتے جو ہندوؤں کے اوتار کرشن کے حالات اور صفات اور عادات کے متعلق لکھی گئی ہیں۔ پھر اگر وہ اپنی ذات میں مشرکین کے اوتاروں کے اوصاف اور اخلاق پاتے تو ان کو یہ حق تھا کہ وہ کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ کریں۔

    حق تو یہ ہے کہ اس قسم کے دعاوی سے مرزا صاحب کی اندرونی حقیقت خوب واضح ہو جاتی ہے۔ شیخ سعدی نے کیا خوب کہا ہے:

    خیالات نادان خلوت نشیں
    بہم بر کند عاقبت کفر و دین

    ناظرین کرام نے مرزائے قادیان کے دعاوی پڑھ لیے ہیں جن سے صاف واضح ہے کہ مرزا کا مقصود سوائے اس کے کچھ نہیں کہ تمام دنیا کے پیشواؤں کے فضائل اور کمالات اپنے لیے ثابت کرے اور تمام انبیاء سابقین علیہم السلام اور تمام اولین و آخرین پر اپنی برتری ثابت کرے اور ہر فرقہ کا پیشوا اور گرو بن جائے۔ مسلمانوں کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل اور بروز اور مظہر اتم ہونے کا دعویٰ کیا اور یہود کے لیے موسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کیا اور عیسائیوں کے لیے عیسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعوی کیا اور ہندوؤں کے لیے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا تاکہ ہندو بھی میرے سے علیحدہ نہ ہو سکیں۔ جس شخص نے قادیانی کتابیں دیکھ ہیں اس پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس(مرزا قادیانی) کی ساری زندگی تصنیفات اپنے توہین آمیز دعوؤں اور انبیاء کرام علیہم السلام کی تنقیض اور توہین سے بھری پڑی ہیں، جن سے مرزا قادیانی کی اندرانی حقیقت واضح ہوتی ہے۔

    مرزا قادیانی کے یہ دعاوی مسروقہ ہیں

    اب ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مرزا کہ یہ تمام دعاوی سابق مدعیان نبوت و مہدویت اور مسیحیت سے مسروق ہیں۔ مرزا صاحب سے پہلے تیرہ صدی کے اندر بہت سے مدعیان نبوت اور مدعیان مسیحیت اور مدعیان مہدویت گزرے ہیں، جن کا مفصل ذکر کتاب آئمہ تلبیس مصنفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری مرحوم میں موجود ہے۔ فاضل مرحوم نے پانسو(500) صفحات سے زائد کی ایک کتاب لکھی ہے جس میں تیرہ صدی کے مدعیان نبوت اور مدعیان مہدویت کا مفصل حال لکھا ہے۔ جس میں فاضل مرحوم نے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزائے قادیان نے جس قدر بھی دعویٰ کئے ہیں وہ سب لفظ بلفظ گزشتہ مدعیان نبوت و مسیحیت سے مسروق ہیں، یعنی چرائے گئے ہیں۔ اور مرزا صاحب کے دعویٰ گزشتہ کذابین اور مفترین کے باطل دعوؤں کا نچوڑ ہیں۔ پس اگر مرزا صاحب کے دعوؤں میں کوئی تاویل ہو سکتی ہے تو گزشتہ مدعیان میں یہی ہو سکتی ہے: ”تشابہت قلوبہم“۔ سب اہل باطل کے دل ملتے جاتے ہیں۔
  10. ‏ اپریل 16, 2015 #20
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    نصیحت


    مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے چوروں اور ایمان کے رہزنوں سے اپنے ایمان کی دولت کو بچا کر رکھیں کہ مبادا کوئی راہزن اس لازوال دولت کو اچک کے نہ لے جائے۔؎

    اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
    پس بہروستے نشاید داد دست

    واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقه سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و اصحابہ اجمعین و علینا معھم یا ارحم الراحمین۔

    بندۂ ناچیز
    محمد ادریس کان اللہ لہ
    20 رمضان المبارک یوم دو شنبہ 1386ھ

اس صفحے کی تشہیر