1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

دعوائے نبوت کا منطقی نتیجہ

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 12, 2015

  1. ‏ فروری 12, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    دعوائے نبوت کا منطقی نتیجہ
    مرزاصاحب کا دعویٰ نبوت پچھلے صفحات میں روز روشن کی طرح واضح ہوچکا ہے اور 1907قرآن، حدیث، اجماع اور تاریخ اسلام کی روشنی میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ اور اس کے متبعین کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ یہ اور بات ہے کہ خود مرزاقادیانی کے اعتراف کے مطابق اس عظیم الشان مہر سے صرف ایک ہی نبی تراشا گیا اور وہ مرزاقادیانی تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ: ’’اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال واقطاب اس امت میں سے گذر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا ہوں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) یہ لکھتے وقت مرزاصاحب کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ خاتم النّبیین جمع کا صیغہ ہے۔ لہٰذا اس مہر سے کم از کم تین نبی تو تراشے جانے چاہئے تھے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    یہ صرف اسلام ہی کا نہیں، عقل عام کا بھی فیصلہ ہے۔ مذاہب عالم کی تاریخ سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا ہر شخص اس بات کو تسلیم کرے گا کہ جب کبھی کوئی شخض نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو، حق وباطل کی بحث سے قطع نظر، جتنے لوگ اس وقت موجود ہیں وہ فوراً دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہوتا ہے جو اس شخص کی تصدیق کرتا اور اسے سچا مانتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہوتا ہے جو اس کی تصدیق اور پیروی نہیں کرتا۔ ان دونوں گروہوں کو دنیا میں کبھی بھی ہم مذہب قرار نہیں دیاگیا۔ بلکہ ہمیشہ دونوں کو الگ الگ مذہبوں کا پیرو سمجھا گیا ہے۔ خود مرزاغلام احمد قادیانی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’ہر نبی اور مامور کے وقت دو فرقے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کا نام سعید رکھا ہے اور دوسرا وہ جو شقی کہلاتا ہے۱؎۔‘‘

    (الحکم جلد۱، مورخہ ۲۸؍دسمبر ۱۹۰۰ء منقول از ملفوظات احمدیہ ج۱ ص۱۴۳ مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر قادیان ۱۹۲۵ئ)
    مذاہب عالم کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت پوری طرح واشگاف ہو جاتی ہے کہ دعوائے نبوت کے بانٹے ہوئے یہ دو فریق کبھی ہم مذہب نہیں کہلائے، بلکہ ہمیشہ حریف مذہبوں کی طرح رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے سارے بنی اسرائیل ہم مذہب تھے۔ لیکن جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو فوراً دو بڑے بڑے حریف مذہب پیدا ہوگئے۔ ایک مذہب آپ کے ماننے والوں کا تھا جو بعد میں عیسائیت یا مسیحیت کہلایا اور دوسرا مذہب آپ کی تکذیب کرنے والوں کا تھا جو یہودی مذہب کہلایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے متبعین اگرچہ پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتے تھے۔ لیکن یہودیوں نے کبھی ان 1908کو اپنا ہم مذہب نہیں سمجھا اور نہ عیسائیوں نے کبھی اس بات پر اصرار کیا کہ انہیں یہودیوں میں شامل سمجھا جائے۔ اس طرح جب سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفیٰﷺ تشریف لائے تو آپﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام کی تصدیق کی اور تورات، زبور اور انجیل تینوں پر ایمان لائے۔ اس کے باوجود نہ عیسائیوں نے آپﷺ اور آپﷺ کے متبعین کو اپنا ہم مذہب سمجھا، اور نہ مسلمانوں نے کبھی یہ کوشش کی کہ انہیں عیسائی کہا اور سمجھا جائے، پھر آپ کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے متبعین مسلمانوں کے حریف کی حیثیت سے مقابلے پر آئے اور مسلمانوں نے بھی انہیں امت اسلامیہ سے الگ ایک مستقل مذہب کا حامل
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ یہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں انسانوں کی دو قسمیں قراردی ہیں۔ ایک شقی یعنی کافر اور دوسری سعید یعنی مسلمان پھر پہلی قسم کو جہنمی اور دوسری کو جنتی قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے فمنہم شقی وسعید۰ (ہود:۱۰۵)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کیا۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب آنحضرتﷺ کی نبوت کا منکر نہیں تھا۔ بلکہ اس کے یہاں جو اذان دی جاتی تھی اس میں اشہد ان محمدا رسول اﷲ کا کلمہ شامل تھا۔ تاریخ طبری میں ہے کہ:
    وکان یوذن للنبیﷺ ویشہد فی الاذان ان محمداً رسول اﷲ وکان الذی یؤذن لہ عبداﷲ بن النواحۃ وکان الذی یقیم لہ حجیر بن عمیر۰

    (تاریخ طبری ج۲ ص۲۷۶ سن۱۱ھجری)
    ’’مسیلمہ، نبی کریمﷺ کے نام پر اذان دیتا تھا اور اذان میں اس بات کی شہادت دیتا تھا کہ حضرت محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں اور اس کا مؤذن عبداﷲ بن نواحہ تھا اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا۔‘‘
    مذاہب عالم کی یہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی مدعی نبوت کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے کبھی ایک مذہب کے سائے میں جمع نہیں ہوئے۔ لہٰذا مرزاغلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کا یہ سوفیصد منطقی نتیجہ ہے کہ جو فریق ان کو سچا اور مامور من اﷲ سمجھتا ہے وہ ان لوگوں کے مذہب میں شامل نہیں رہ سکتا جو ان کے دعوؤں کی تکذیب کرتا ہے۔ ان دونوں 1909فریقوں کو ایک دین کے پرچم تلے جمع کرنا صرف قرآن وسنت اور اجماع امت ہی سے نہیں بلکہ مذہب کی پوری تاریخ سے بغاوت کے مترادف ہے۔
    مرزائی صاحبان کی جماعت لاہور کے امیر محمد علی لاہوری صاحب نے ۱۹۰۶ء کے ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
    "The Ahmadiyya movement stands in the same relation to Islam in which Christianity stood to Judaism."

    (منقول از مباحثہ راولپنڈی۱؎ ص۲۴۰، مطبوعہ دارالفضل قادیان وتبدیلی عقائد مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی ص۱۰۲، مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر کراچی)
    یعنی ’’احمدیت کی تحریک اسلام کے ساتھ وہی نسبت رکھتی ہے جو عیسائیت کو یہودیت کے ساتھ تھی۔‘‘ کیا عیسائیت اور یہودیت کو کوئی انسان ایک مذہب قرار دے سکتا ہے؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ یہ مرزائی صاحبان کی دونوں جماعتوںکا باہمی تحریری مباحثہ ہے جو دونوں کے مشترک خرچ پر شائع کیاگیا تھا۔ لہٰذا اس میں جو عبارتیں منقول ہیں وہ دونوں جماعتوں کے نزدیک مستند ہیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس صفحے کی تشہیر