1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

دعویٰ ہائے مرزا غلام احمد قادیانی ( پارٹ 2)

عبیداللہ لطیف نے 'جھوٹے مدعیانِ نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 26, 2017

  1. ‏ جون 26, 2017 #1
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    تحریر:عبیداللہ لطیف فیصل آباد
    عنوان :۔ دعویٰ ہائے مرزا غلام احمد قادیانی ( پارٹ 1)
    مسئلہ حیات مسیح قرآن و حدیث کی روشنی میں:۔
    محترم قارئین ! سب سے پہلی بات کہ اگر مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تب بھی یہ سوال پید اہوتا ہے کہ کیا اﷲ تعالیٰ فوت شدہ کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ یقیناًاﷲ رب العزت فوت شدہ کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اسے قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اسی قدرت کومدنظررکھتے ہوئے نبی کریم علیہ السلام کے مندرجہ ذیل فرمان پر غورکریں چنانچہ فرمان نبوی ہے کہ
    وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ أنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلَ الْخَنْزِیْرَ وَیَضَعَ الْجِذْیَۃَ وَیَفِیْضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدٌ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ وَاقْرَؤُوْا إنْ شِءْتُمْ :
    (وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا)
    ترجمہ: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! البتہ قریب ہے کہ ابن مریم تم میں تشریف لائیں۔ وہ حاکم اور عادل کی حیثیت سے آئیں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے ۔ مال ودولت کی فراوانی ہوگی حتی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیااور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہوگا۔‘‘
    پھر ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایاکہ اگر تم چاہو تواس آیت کی تلاوت کرو۔ ’’ اور اہل کتاب میں سے سب کے سب اس (مسیح علیہ السلام ) پر اس کی موت سے پہلے ضرور ایمان لائیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہی دیں گے۔‘‘
    (صحیح بخاری ، کتاب الاحادیث الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم حدیث3448)
    یعنی نبی کریم علیہ السلام نے قسم اٹھا کر فرمایا کہ ابن مریم علیہ السلام قیامت سے قبل ضرور نازل ہوں گے۔ تو کیا اﷲ رب العزت اپنے نبی اور سب سے زیادہ محبوب شخصیت جناب محمدرسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کی قسم کو پورا کرنے کے لیے عیسیٰ ابن مریم کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتے ،یقیناًکر سکتے ہیں۔ تو پھر بھی مرزا غلام احمد قادیانی مثیل مسیح یا مسیح موعود ثابت نہیں ہوتا۔
    آئیے سب سے پہلے اس آیت کا جائزہ لیتے ہیں جس سے تمام مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا ثابت کرتے ہیں اور اسی آیت سے مرزا غلام احمد قادیانی اوراس کی ذریت وفات مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔
    (اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکَ فَاحْکُمْ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ )(آل عمران :55)
    ترجمہ: اور جب اﷲ تعالیٰ نے کہا: اے عیسیٰ ! میں آپ کو پوری طرح لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور جن لوگوں نے انکار کیا ہے میں ان سے آپ کو پاک کرنے والا ہوں۔ اور آپ کی پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنھوں نے تجھ سے کفر کیا۔ پھر تم سب کومیری طرف ہی لوٹنا ہے۔تمھارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔
    یہاں پر یہ بات یاد رہے کہ ’’المتوفی‘‘ کا مصدر تَوَفِّیْ اور مادہ وَفْیٌّ ہے، جس کے اصل معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اسی لیے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لیے جاتے ہیں ۔ اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پرمعطل کر دیے جاتے ہیں۔ اسی لیے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصلی معنی پورا پور لینے کے ہی ہیں۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ میں یہ اس اپنے حقیقی اور اصلی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی اے عیسیٰ ! میں تجھے یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لو ں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(تفسیر احسن البیان)
    محترم قارئین! اس آیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بارے میں یہود ونصاریٰ کے عقیدے کا بھی علم ہو کیونکہ متنبی قادیانی مرزا غلام احمد بھی وفات مسیح کے متعلق دلیل دیتے ہوئے یہ اصول بیان کرتاہے کہ
    ’’بائیسویں آیت وفات مسیح پر یہ ہے کہ( فَاسْءَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ)یعنی اگرتمھیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کے واقعات پر نظر ڈالو تاکہ اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔‘‘
    (ازالہ اوہام طبع اوّل صفحہ 616 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 433)
    محترم قارئین ! نزول قرآن کے وقت مسیح علیہ السلام کے متعلق دو قسم کے خیالات تھے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی رقم طراز ہے کہ
    ’’اوریہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ خیال تھا کہ وہ قتل ہو گئے ہیں اور صلیب بھی دیے گئے ، بعض کہتے ہیں کہ پہلے قتل کرکے پھر صلیب پر لٹکائے گئے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ پہلے صلیب دے کر پھر ان کو قتل کیا گیا۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 136مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ345)
    عیسائیوں کا جو خیال تھا بالفاظ مرزا متبنی قادیاںیہ ہے کہ
    ’’ عیسائیوں کا یہ بیان کہ درحقیقت مسیح پھانسی کی موت سے مر گیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا منظور تھا کہ مسیح عیسائیوں کے گناہ کے لیے کفارہ ہوا۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 373 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 292)
    مرزا قادیانی یہ بھی مانتاہے کہ اس خیال باطل پر نصاریٰ کے تمام فرقے متفق تھے اس بات کا اظہارکرتے ہوئے مرزاقادیانی رقمطراز ہے
    ’’ کیونکہ تمام فرقے نصاریٰ کے اس قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 248 مندرجہ روحانی خزائن جلد3 صفحہ 225)
    قادیانی گروہ قرآن وحدیث کے خلاف عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت پر اصرار ، صلیب پر چڑھنے کا اقرار اور رفع الی السماء کا انکار کرتاہے ۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتاہے کہ
    ’’رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ اٹھایا جانا ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 386 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 299)
    اور صلیب پر چڑھنے کا واقعہ مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
    ’’پھر بعداس کے مسیح ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا ۔ آخر صلیب دینے کے لیے تیار ہوئے۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت اور اتفاقاً یہ یہودیوں کی عید فسخ کا بھی دن تھا۔ اس لیے فرصت بہت کم تھی اور آگے سبت کا دن آنے والا تھا۔ جس کی ابتدا غروب آفتاب سے ہی سمجھی جاتی تھی کیونکہ یہودی لوگ مسلمانوں کی طرح پہلی رات کو اگلے دن کے ساتھ شامل کر لیتے تھے اور یہ ایک شرعی تاکید تھی کہ سبت میں کوئی لاش صلیب پر لٹکی نہ رہے۔ تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 32 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 296)
    مگر قرآن مجید نے اس عقیدہ کو لعنتی ٹھہرایا ہے اور مسیح علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا ظاہر کیا ہے۔
    سورہ آل عمران کی آیت نمبر55 سے پہلی آیت میں اﷲ رب العزت فرماتے ہیں کہ
    وَمَکَرُوْا وَمَکْرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ
    (اور انھوں (یہودیوں)نے(عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ) تدبیر کی اور اﷲ نے بھی تدبیر کی جب کہ اﷲ تعالیٰ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘
    اگر اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ رب العزت فرماتے ہیں:سے مراد موت لی جائے جیسے مرزائی لیتے ہیں تو پھر یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ یہودیوں کی تدبیر کامیاب رہی کیونکہ وہ بہرحال عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن اﷲ رب العزت نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل سے بچا کر زندہ آسمانوں پر اٹھالیا جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ النساء کی آیت 158میں موجودہے۔ چنانچہ اﷲرب العزت فرماتا ہے کہ
    (وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَاقَتَلُوْہُ یَقِیْنًا O بَل رَّفَعَہُ اللّٰہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا)
    ترجمہ:او ریوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اﷲ کے رسول مسیح ابن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ توانھوں نے اسے قتل کیا ، نہ صلیب دیا بلکہ ان کے لیے وہی صورت بنا دی گئی تھی۔ یقین جانو کہ عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں،انھیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے ۔ اتنا یقینی ہے کہ انھوں نے اسے قتل نہیں کیابلکہ اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا اور اﷲ بڑا زبردست ، بڑی حکمت والا ہے۔
    ان آیات کا مضمون بڑا واضح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ سولی دی گئی اور نہ وہ قتل کیے گئے۔ بلکہ اﷲ رب العزت نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا۔ یہاں پر مرزا غلام احمد قادیانی اوراس کی ذریت رفع سے مراد درجات کی بلندی لیتی ہے۔ اگر ان کی بات کو تسلیم کر لیا جائے توآیت کے آخری حصے میں اﷲرب العزت کا یہ فرمانا کہ اﷲ بڑا ہی زبردست ، بڑی حکمت والا ہے ،کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔ جب کہ یہی بات واضح کرتی ہے کہ اﷲ رب العزت نے عیسیٰ علیہ السلام کو کسی ایسے طریقے سے اوپر اٹھایا ہے جو خارق عادت ہے ۔ مزید یہ کہ شہادت میں تو درجات کی بلندی اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر یہود ونصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کر دیتے تو کیا درجات کی بلندی نہ ہوتی۔ دوسری بات یہ کہ اﷲ رب العزت نے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا کر عیسائیوں کے عقیدہ کفارہ کو مکمل طو رپر نیست و نابود کر دیا ہے، کیونکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی جان دے کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا، جو کہ بالکل غلط ہے اور اﷲ رب العزت نے اس بات سے ان کے اس عقیدے کی مکمل طور پر نفی فرما دی ہے۔ اگر سورہ آل عمران کی آیت نمبر55میں اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کا معنی فوت لیا جائے تو پھراس کو ترجمہ کرتے ہوئے بعد میں پڑھیں گے اور رَافِعُکَ پہلے پڑھیں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی ایک مقامات پر اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کو ترجمہ کے دوران بعد میں پڑھنے پر اعتراض کیا ہے۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ واؤ کا لفظ ترتیب کے لیے نہیں ہوتا۔ اگراس کی مثال قرآن مجید سے چاہیں تو سنیے ۔ ایک مال دار شخص کا سال یکم رمضان کو ظہر کے وقت پورا ہوا ۔ اب بحکم آیت وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاَتُوا الزَّکٰوۃَ (مرزائی اصول کے مطابق)مسلمان پر فرض ہے کہ پہلے نماز پڑھے اور پھر زکوٰۃ دے۔اگر پہلے زکوٰۃ ادا کردی تو شاید گناہگار ہو جائے گا اور اس کی زکوٰۃ بھی ادانہ ہوگی۔ کیا کوئی بھی انسان اس مسئلہ میں قادیانیوں کے ساتھ ہوگا۔دوسری آیت وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَکے بموجب(قادیانی اصول کے مطابق) ضروری ہے کہ پہلے نماز پڑھے اور اس کے بعد شرک چھوڑے۔ اگر پہلے شرک چھوڑ دے گا تو شاید قادیانی اس سے خفا ہوں گے۔ تیسری آیت میں اﷲ تعالیٰ نے فرعون کے جادوگروں کے قول کو ایک جگہ یوں فرمایا کہ بِرَبِّ مُوْسٰی وَہَارُوْنَ (پارہ 9رکوع 4)دوسری جگہ فرمایا ہیبِرَبِّ ہَارُوْنَ وَمُوْسٰی (پارہ 9رکوع 4) جو پہلے کے الٹ ہے حالانکہ جادوگروں نے صرف ایک ہی طریق سے کہا ہوگا ۔ اگر یہاں پر قادیانی اصول کے مطابق واؤ کا لفظ ترتیب کے لیے مان لیا جائے تو پھر مندرجہ بالا آیات میں اگر جادوگروں کاکہنا طریق اول ہوگا تو دوسرے میں کذب آئے گا۔
    اگر دوسرا ہے تو پہلے میں جھوٹ ہوگا ۔ علاوہ اس کے کئی مقام پر انبیاء سابقین کا لاحقین سے پیچھے ذکر کیا ہے ۔ چنانچہکَذٰلِکَ یُوْحِی اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللّٰہُ پس جب واؤ کا لفظ ترتیب کے لیے نہیں ہوتا بلکہ محض جمعیت کے لیے ہے تو متوفی کے معنی رافع سے پیچھے کر لینے میں کونسی قباحت ہے۔
    محترم قارئین! قرآن مجید میں مزید بھی ایسے دلائل موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھالیا گیا ہے۔ لیکن طوالت کے باعث ان ہی پراکتفا کیا جاتا ہے۔اب چند احادیث نبوی نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں ذکرکرکے اس بحث کو سمیٹتا ہوں۔
    حضرت ابوہریرہh سے روایت ہے کہ رسول اﷲa نے فرمایا:
    یَمْکُثُ عِیْسٰی فِی الْاَرْضِ بَعْدَ مَا یَنْزِلُ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ وَیَدْفِنُوْنَہ‘
    (مسند ابی داود طیالسی حدیث 2664)
    ترجمہ: عیسیٰ d نزول کے بعد چالیس سال زمین پر رہیں گے پھر آپ فوت ہوجائیں گے ۔ مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور دفن کریں گے۔
    حضرت عبداللہ بن عمروؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا!
    (( یَنْزِ لُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اِلیَ الْاَرْضِ فَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہُ وَیَمْکُثُ خَمْسًاوَاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ فَیُدْفَنُ مَعِیَ فِیْ قَبْرِی فَاَقُوْمُ اَنَاوَعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ فِیْ قَبْرٍوَاحِدٍبَیْنَ اَبِیْ بَکَرٍوَعُمَرَ))
    (رَوَاہُ اِبْن الْجَوْزِیْ فِیْ کِتَابُ الْوَفَاء)
    یعنی(( حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے ‘وہ شادی کریں گے‘ان کی اولادہوگی‘اور پنتالیس سال تک زندہ رہیں گے پھرفوت ہوں گے اورمیرے ساتھ میرے مقبرے میں دفن کیے جائیں گے پھر میں(محمدرسول اللہﷺ)اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی مقبرہ سے قیامت کو اٹھیں گے جبکہ ابوبکرؓوعمرؓکے درمیان ہوں گے))
    اسے ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں روایت کیاہے۔
    (بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح‘ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام‘ حدیث نمبر 5272)
    ابوہریرہ h سے روایت ہے کہ نبی کریم dنے فرمایا :
    یَقْتُلُ ابْنُ مَرْیَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدّا
    یعنیابن مریم دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔
    (مسند ابی داؤد طیالسی حدیث 2662)
    ابوہریرہ hبیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ aنے فرمایا:
    وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُھِلَّنَّ ابْنُ مَرْیَمَ مِنْ فَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أوْ بِالْعُمْرَۃِ اَوْ لَیَشْنِیَنَّھُمَا
    (مسلم: حدیث1252)
    ترجمہ:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ابن مریم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کے لیے ضرور تلبیہ پڑھیں گے۔
    نبی کریم aنے فرمایا:
    کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ
    (بخاری ، احادیث الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم حدیث3449)
    ترجمہ:تمھاری اس وقت کیسی حالت ہوگی جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمھارا امام تم میں سے ہی ہوگا۔
    رسول اﷲa نے فرمایا:
    یَخْرُجُ اَعْوَرُ الدَّجَّال مَسِیْحُ الضَّلَالَۃِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فِیْ اَزْمُنِ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَ فُرْقَۃٍ فَیَبْلُغُ مَا شَآءَ اللّٰہُ اَنْ یَّبْلُغَ مِنَ الْاَرْضِ فِیْ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اَللّٰہُ اَعْلَمُ مِقْدَارِھَا فَیَلْقَی الْمُؤْمِنُوْنَ شِدَّۃً شَدِیْدَۃً ثُمَّ یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ مِنَ السَّمَآءِ فَیَؤمُّ النَّاسَ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہ‘ مِنْ رَکْعَتِہٖ قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘ قَتَلَ اللّٰہُ مَسِیْحَ الدَّجَّالِ وَظَھَرَ الْمُسْلِمُوْنَ)) وَاَحْلِفُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوْقَ قَالَ: اِنَّہ‘ لَحَقٌّ وَاَمَّا أنَّہ‘ قَرِیْبٌ فَکُلُّ مَا ھُوَ آتٍ فَھُوَ قَرِیْبٌ
    ترجمہ: کانا دجال مسیح گمراہی لوگوں کے اختلاف وافتراق کے دور میں مشرق کی طرف سے نکلے گا اور وہ چالیس روز میں جس قدر اﷲ چاہے گا زمین کے حصے کو فتح کرے گا اور اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی مقدار کتنی ہوگی۔ مومنوں کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پھر عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے (اورپھر لوگوں کو نماز پڑھائیں گے) جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے تو ’’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘ کہنے کے ساتھ ہی ’’اﷲ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کردے گااور مومن غالب آجائیں گے۔کہیں گے راوی کہتے ہیں میں قسم اٹھاتاہوں کہ رسول اﷲ a جو صادق ومصدوق ہیں نے فرمایا: بے شک یہ حق ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ قریب ہے توہر وہ چیز جو آنے والی ہے تو وہ قریب ہے۔
    (صحیح ابن حبان حدیث 6773)
    ابوہریرہ hسے روایت ہے کہ رسول اﷲ a نے فرمایا:
    لَمْ یُسَلَّطْ عَلٰی قَتْلِ الدَّجَّالِ اِلَّا عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمُ
    (مسند ابی داود طیالسي حدیث 2626)
    ترجمہ: دجال کے قتل پر صرف عیسیٰ ابن مریم ہی مسلط و مقرر کیے گئے ہیں۔
    ابن عباس h جن کو بدعا ء نبوی علم قرآن حاصل تھا اور اس کا اعتراف مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ان الفاظ میں کیا ہے کہ
    ’’حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں۔ اوراس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 247 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 225)
    یہی ابن عباس h اللہ تعالیٰ کے فرمان :
    (وَاِنَّہ‘ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا) (الزخرف 61:)
    ترجمہ: بے شک وہ (عیسیٰ d ) قیامت کی ایک علامت ہیں۔ پس تم اس کے بارے میں شک نہ کرو۔
    کے بارے میں نبی کریم aسے روایت کرتے ہیں کہ
    اس علامت سے مراد قیامت سے پہلے عیسیٰ dکا نزول ہے۔
    (صحیح ابن حبان حدیث 6778,6817)
    رسول اﷲ کے آزاد کردہ غلام ثوبان hنبی aسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
    عِصَابَتَانِ مِنْ اُمَّتِيْ اَحْرَزَھُمُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ عِصَابَۃٌ تَغْزُوْا الْھِنْدَ وَعِصَابَۃٌ تَکُوْنُ مَعَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامِ
    ترجمہ: میری امت کی دو جماعتیں ہیں جنھیں اﷲ نے آگ سے بچالیا ہے۔ ایک جماعت وہ ہے جو ہندوستان سے جہاد کرے گی اور دوسری جماعت وہ ہے جو عیسیٰ بن مریم dکے ساتھ ہوگی ۔
    (مسند احمد 278/5)
    اوس بن اوس hسے روایت ہے کہ نبی d نے فرمایا:
    یَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عِنْدَ الْمَنَارَۃِ الْبَیْضَاءِ شَرْقِیَّ دِمَشْقَ
    )المعجم الکبیر للطبرانی حدیث590)
    ترجمہ: ۔ عیسیٰ ابن مریم dدمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس نازل ہوں گے۔
    ابن عباس hسے ایک روایت تفسیر معالم میں مرقوم ہے۔ امام ابن کثیرm اور امام سیوطیmنے اس روایت کی سند کوصحیح قراردیاہے روایت کے الفاظ یہ ہیں:
    فَبَعَثَ اللّٰہُ جِبْرَاءِیْلَ فَاَدْخَلَہ‘ فِیْ خَوْجَۃٍ فِیْ سَقْفِھَا رَوْزَنَۃٌ فَرَفَعَہ‘ اِلَی السَّمَآءِ مِنْ تِلْکَ الرَّوْزَنَۃَ فَاَلْقَی اللّٰہُ شِبْہَ عِیْسَی عَلَیْہِ السَّلَام فَقَتَلُوْہُ وَصَلَبُوْہُ
    (تفسیر معالم جلد 2 صفحہ 238)
    ترجمہ:۔ جب وہ شخص جو مسیح علیہ السلا م کو پکڑنے کے لیے گیا تھا مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا ور اسی بدبخت یہودی کو مسیح کی شکل پر بنا دیا۔ پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔
    محترم قارئین ! اتنے بین اور واضح دلائل کے باوجود اگر کوئی حیات مسیح کا انکار کرے تو پھر اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ آیئے اب آخر میں ایک اور حدیث بیان کرکے بحث کو سمیٹیں۔ حضرت ابن عباس h ایک طویل حدیث بیان میں کرتے ہیں کہ رسول اﷲ aنے فرمایا:
    فَعِنْدَ ذٰلِکَ یَنْزِلُ اَخِیْ عِیْسَی ابْن مَرْیَمَ مِنَ السَّمَآءِ عَلٰی جَبَلٍ آفِیْقٍ امَامًا ھَادِیًا وَحَکَمًا عَادِلًا
    (کنز العمال جلد 7 صفحہ 268)
    ترجمہ:تواس وقت میرے بھائی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے جبل افیق پر امام و رہنما اور عادل حاکم بن کر نازل ہوں گے۔
    ابوہریرہ h سے روایت ہے کہ رسول اﷲaنے فرمایا:
    ((لَےْسَ بَیْنِیْ وَبَےْنَہُ یَعْنِیْعِیْسٰی عَلَیْہِ السّلام نَبِیٌّ وَاِنَّہُ نَازِلٌ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ رَجُلٌمَّرْبُوْعٌ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ بَیْنَ مُمَصَّرَتَیْنِ کَاَنَّ رَاسَہُ ےَقْطُرُوَاِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ فَیُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَی الْاِسْلَامِ فَےَدُقَّ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخَنْزِیْرَوَےَضَعُ الْجِزْےَۃَ وَیُھْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّھَااِلَّاالْاِسْلَامَ وَیُھْلِکُ الْمَسِےْحَ الدَّجَّالَ فَےَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی فَےُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ))
    (سنن ابو داؤد کتاب الملاحم باب خروج الدّجّال حدیث:4324)
    ((انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ ان کا باپ ایک اور مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہی ہے۔ عیسیٰ ابن مریم کا میں زیادہ حق دار اور تعلق دار ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ لہٰذا جب تم انھیں دیکھو توا نھیں پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد والے سرخ و سفید رنگ والے اور سیدھے بالوں والے ہیں۔ گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپکتا محسوس ہوگا۔اگرچہ وہ گیلے نہیں ہوں گے۔ وہ زردی مائل کپڑوں میں ملبوس ہوں گے۔ وہ صلیب توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ ختم کردیں گے اوراسلام مخالف لوگوں سے قتال کریں گے،حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح گمراہ ،دروغ گو دجال کو ہلاک کرے گا۔ ان کے زمانے میں روئے زمین پر امن قائم ہو جائے گا حتیٰ کہ کالا ناگ اونٹوں کے ساتھ ، چیتے گائے کے ساتھ ، بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اور جس قدر اﷲ تعالیٰ چاہے گا وہ زمین پر رہیں گے۔ پھر وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔
    محترم قارئین!مرزاقادیانی اور اس کی ذریت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پراٹھائے جانے کے عقیدہ کو شرک قرار دیتی ہے لیکن اس کے برعکس مرزاقادیانی موسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ موجود ہونے کاقائل تھا۔چنانچہ مرزاقادیانی رقمطرازہے کہ
    ’’یہ وہی موسیٰ مردخداہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اورہم پرفرض ہوگیاکہ ہم اس بات پرایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجودہے اورمردوں میں سے نہیں۔‘‘
    (نورالحق حصہ اول صفحہ50مندرجہ روحانی خزائن جلد8صفحہ68‘69)
    مزیدایک مقام پرمرزاقادیانی اپنے اسی عقیدے کو بیان کرتے ہوئے رقمطرازہے کہ
    ’’اعیسیٰ حی ومات المصطفی؟تلک اذاقسمۃ ضیزی!اعدلواھو اقرب للتقوی۔واذاثبت ان الانبیاء کلھم احیاء فی السموات‘فای خصوصیۃ ثابتۃ لحیاۃ المسیح‘اھویاکل ویشرب وھم لایاکلون ولایشربون؟بل حیاۃ کلیم اللہ ثابت بنص القرآن الکریم‘الاتقرء فی القرآن ماقال اللہ تعالیٰ وعزوجل: فلا تکن فی مریۃ من لقاۂ ؟انت تعلم ان ھذہ الآیۃنزلت فی موسٰی فھی دلیل صریح علیٰ حیاۃ موسیٰ علیہ السلام ۔‘لانہ لقی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والاموات لا یلاقون الاحیاء‘ولاتجدمثل ھذہ الآیات فی شان عیسٰی علیہ السلام ‘ نعم جاء ذکروفاتہ فی مقامات شتّٰی فتدبر فان اللّٰہ یحب المتدبرین۔‘‘
    (حمامۃ البشریٰ ص35مندرجہ روحانی خزائن جلد7ص 221‘222)
    یعنی کیاعیسیٰ ؑ زندہ ہیں اورمصطفےٰﷺ فوت ہوگئے یہ تو بھونڈی تقسیم ہے۔انصاف کرووہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور جب یہ ثابت ہوگیاکہ تمام انبیاء آسمان میں زندہ ہیں توپھرحیات مسیح کی کونسی خصوصیت ثابت ہوتی ہے۔کیاوہ وہاں کھاتاپیتاہے اوردوسرے انبیاء کھاتے پیتے نہیں بلکہ حضرت موسٰی علیہ السلام کازندہ ہوناقرآن کریم سے ثابت ہے ۔ کیاتوقرآن کریم میں نہیں پڑھتاکہ اﷲ نے فرمایا:فلاتکن فی مریتہ من لقاۂ(تواس ملاقات کے بارے میں شک نہ کر)اورتوجانتاہے کہ یہ آیت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اتری ہے اورآپ کی زندگی پرصریح دلیل ہے کیونکہ انھوں نے رسول اﷲﷺ سے ملاقات کی اورمردے زندوں سے نہیں ملتے۔اورتواس جیسی آیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں نہیں پائے گا۔ہاں ان کی وفات کا ذکرمختلف مقامات پرآیاہے۔پس توتدبرکرکیونکہ اﷲتدبرکرنے والوں کوپسندکرتاہے۔
    نوٹ:۔مندرجہ بالا ترجمہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہورکی طرف سے شائع ہونے والی مترجم کتاب حمامۃ البشریٰ سے لیاگیاہے۔کتاب میں اردو ترجمہ کے ساتھ ساتھ عربی متن بھی دیاگیاہے۔
    محترم قارئین!آپ قادیانیوں سے کسی بھی موضوع پر گفتگو کریں گے تو ان کی تان مسئلہ حیات مسیح پر ہی ٹوٹے گی جبکہ اس کے برعکس مرزاقادیانی رقمطرازہے کہ
    ’’اوّل تویہ جانناچاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جزویاہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہوبلکہ صدہاپیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے۔جس کوحقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں جس زمانہ تک یہ پیشگوئی بیان نہیں کی گئی تھی اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھااورجب بیان کی گئی تواس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہوگیا۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ140مندرجہ روحانی خزائن جلد3صفحہ171)
    ’’اورمسیح موعودکے ظہور سے پہلے اگرامت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیاکہ حضرت عیسیٰ( علیہ السلام)دوبارہ دنیامیںآئیں گے توان پرکوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطاہے جواسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی صفحہ30مندرجہ روحانی خزائن جلد22صفحہ32)
    ’’ہماری یہ غرض نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی وفات حیات پرجھگڑے اورمباحثہ کرتے پھرو یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔‘‘
    (ملفوظات احمدیہ جلد1صفحہ352طبع چہارم)
    -2دعویٰ مجددیت:۔
    مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ:
    ’’ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ الا اﷲ محمدرسول اﷲ کے قائل ہیں اور آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور باتباع آنجناب صلی اﷲ علیہ وسلم اولیاء اﷲ کو ملتی ہے اس کے ہم قائل ہیں۔۔۔۔۔۔۔غرض جب کہ نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔‘
    (اشتہار مرزا قادیانی مورخہ 20شعبان 1314ھ مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 2 طبع چہارم)

اس صفحے کی تشہیر