1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

دعوی ہائے مرزا غلام احمد قادیانی ( پارٹ 3)

عبیداللہ لطیف نے 'جھوٹے مدعیانِ نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 26, 2017

  1. ‏ جون 26, 2017 #1
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    تحریر :۔ عبیداللہ لطیف
    عنوان :۔ دعوی ہائے مرزا غلام احمد قادیانی ( پارٹ3)

    3دعویٰ محدثیت:۔
    محترم قارئین ! دعویٰ مجددیت کے بعد مرزا قادیانی محدث ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ:
    ’’ہمارے سید رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے کوئی نبی نہیں آ سکتا، اس لیے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔‘‘
    (شہادت القرآن صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد6 صفحہ 224-223)
    ’’لست بنبی ولکن محدث اللہ وکلیم اللہ لا جدد دین المصطفی ۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 383 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 383)
    ’’ نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 422 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ320)
    بقول مرزاقادیانی اللہ تعالیٰ نے اسے الہام کیا کہ
    ’’ انت محدث اللہ‘‘ یعنی تومحدث اللہ ہے
    (بحوالہ تذکرہ صفحہ82طبع چہارم)
    مذیدمرزاقادیانی رقمطرازہے کہ
    ’’اس (محدثیت) کو اگر مجازی نبوت قرار دیا جاوے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے توکیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آگیا ۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ422 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 321)
    محترم قارئین!محدث کی تعریف کرتے ہوئے مرزاقادیانی رقمطراز ہے کہ
    ’’محدث جو مرسلین میں سے ہے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی امتی وہ اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کا سا معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدث کا وجود انبیاء اور امم میں بطور برزخ کے اﷲ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔وہ اگرچہ کامل طور پرامتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے۔ اور محدث کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہواور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 569 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 407)
    محترم قارئین ! مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب حمامۃ البشری میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو ملہم اور محدث قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہے:
    ’’کما زعمہ عمرالذی یجری الحق علی لسانہ و لہ شان عظیم فی الرای الصائب ولرأیہ موافقۃ باحکام القرآن فی مواضع ومع ذلک ھو ملھم ومن المحدثین؟‘‘
    ترجمہ:جیسا کہ خیال کیا حضرت عمر رضی اﷲعنہ نے جس کی زبان پر حق جاری ہوتا ہے اور جو صائب الرائے ہونے میں عظیم الشان اور جن کی رائے کئی مقام پراحکام قرآن کے موافق ہوئی اوراس کے ساتھ وہ ملہم اور محدثین سے ہے۔‘‘
    (حمامۃ البشریٰ صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 246)
    یعنی عمر رضی اﷲ عنہ کو یہاں نہ صرف محدث قرار دیا گیا ہے بلکہ ملہم (جس پر الہام الٰہی ہو) بھی قرار دیا ہے۔ جب کہ اوپر دی گئی ازالہ اوہام کی عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی محدث کے لیے کسی نہ کسی نبی کا مثیل ہونا اوراس نبی کا نام پانا لازمی شرط قرار دیتا ہے۔کیا قادیانی ذریت یہ بتانا پسند کرے گی کہ حضرت عمر رضی اﷲعنہ نے کس نبی کے مثیل ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور کس نبی کانام پایاتھاکب انھوں نے ملہم ہونے کا دعویٰ کیا تھا؟
    محترم قارئین ! آئیے مرزا قادیانی کے دعویٰ محدثیت کے متعلق اس کی ایک اور تحریرملاحظہ فرمائیں:
    ’’ماسوائے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لیے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے ۔ گواس کے لیے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اوراس سے انکارکرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بہ جز اس کے اور کچھ نہیں اور امور متذکرہ بالا اس میں پائے جاتے ہیں۔‘‘
    (توضیح المرام صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد3 صفحہ 60)
    -4مسیح موعود یعنی عیسیٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ:۔
    محترم قارئین ! مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود یعنی عیسیٰ بن مریم ہونے کے بارے میں مرزا کی اس تحریر کو غور سے پڑھیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ کس طرح اس نے اپنی ہی بات کا رد کرتے ہوئے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
    ’’مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے توفقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے ایسے ہی میری روحانیت حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ مناسبت رکھتی ہے۔‘‘
    (ایک عاجز مسافر کا اشتہار قابل توجہ جمیع مسلمانان انصاف شعارو
    علمائے نامدار مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 215 طبع چہارم )
    اب مرزا غلام احمد قادیانی کے مسیح موعود یعنی عیسیٰ ابن مریم ہونے کا دعویٰ اس کی زبان میں ملاحظہ ہو ۔ چنانچہ مرزا قادیانی رقم طراز ہے کہ
    ’’میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 295)
    ’’اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں ۔ میری نسبت ہی کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے۔ اور نیز کہا گیا ہے کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا۔ جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی ہے‘‘۔
    (کشتی نوح صفحہ 48، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19صفحہ52)
    محترم قارئین ! مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتوں کو مدنظر رکھ کرغور کیجیے کہ کس طرح اس نے مسیح موعود ہونے کا انکار کیا اور بعد میں کس طرح مسیح موعود یعنی واضح طور پر عیسیٰ بن مریم ہی نہیں بلکہ خود ہی عیسیٰ اور خود ہی مریم بن بیٹھا۔
    مرزا غلام احمد قادیانی کے عیسیٰ بن مریم بننے کی کہانی بھی عجیب ہی ہے۔ جسے میں نے اپنی کتاب کے باب ’’عجائبات مرزا‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ کیونکہ وہ نہ صرف ایک عجوبہ ہے بلکہ عجیب لطیفہ بھی ہے۔
    -5 دعویٰ نبوت:
    محترم قارئین ! مرزا غلام احمد قادیانی طویل عرصہ تک تو نہ صرف دعویٰ نبوت سے انکار کرتا رہا بلکہ داعی نبوت کوکافر اور ملعون قرار دیتا رہا پھر اس نے 1901ء میں ایک کتابچہ بعنوان ’’ایک غلطی اور اس کا ازالہ‘‘ شائع کیا جس میں دعویٰ نبوت کیا۔ قبل اس کے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو بیان کروں ۔ پہلے اس نے ایک داعی نبوت کے بارے میں جو کچھ تحریر کیا ہے وہ بھی بیان کرتا چلوں تاکہ لوگوں کو پتا چل سکے کہ کس طرح اس عوام کو دھوکا اور فریب دینے کی کوشش کی ہے۔
    محترم قارئین ! مرزا قادیانی نے1890ء کے آخر اور 1891ء کے آغاز میں ’’فتح الاسلام‘‘ اور ’’توضیح المرام‘‘ نامی کتابچے شائع کیے جن میں حیات مسیح کا انکار کرتے ہوئے خود کومثیل مسیح قرار دیا ۔ جب لوگوں نے یہ اعتراض پیش کیا ۔ مسیح علیہ السلام نبی تھے تو مرزا قادیانی نے جوا ب دیاکہ
    ’’اس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جاتا ہے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی ہونا چاہیے کیونکہ مسیح نبی تھا تواس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لیے ہمارے سید مولا صلی اﷲعلیہ وسلم نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی۔‘‘
    (بحوالہ توضیح المرام صفحہ 11مندرجہ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 59)
    مزید مرزا قادیانی عقیدہ ختم نبوت پر اپنی پختگی کا اظہار کرتے ہوئے خود کو اپنی کتاب ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ جو اس نے 1894ء میں تحریر کی ہے ، نہ صرف محدث قرار دیتا ہے بلکہ ختم نبوت کا واضح اقرار بھی کرتے ہوئے رقم طراز ہے:
    الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمّٰی نبینا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبي بعدی ببیان واضح للطالبین؟ ولو جوزنا ظھور نبی بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقھا وھذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین وکیف یحئ نبی بعد رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النبین ؟
    ترجمہ: کیا تو نہیں جانتا کہ فضل اور رحم کرنے والے رب نے ہمارے نبی صلی اﷲعلیہ وسلم کانام بغیرکسی استسناء کے خاتم الانبیاء رکھااورآنحضرت ﷺنے لانبی بعدی سے طالبوں کے لیے بیان واضح سے اس کی تفسیر کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اگر ہم آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے ظہور کو جائز قرار دیں تو وحی نبوت کے دروازہ کے بند ہونے کے بعد ان کاکھلنا جائز قرار دیں گے، جو بالہدایت باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں۔ اور ہمارے رسولؐ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے جب کہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی ہے اور اﷲ نے آپ کے ذریعے نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔
    (حمامۃ البشری صفحہ34مندرجہ روحانی خزائن جلد 7صفحہ 200)
    مرزا غلام احمد مزید رقم طراز ہے کہ
    ’’وما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین۔‘‘
    ترجمہ: اور میرے لیے جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کرکے اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں سے مل جاؤں۔
    (بحوالہ حمامۃ البشریٰ صفحہ 131 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7صفحہ297)
    ’’ وانی کتبت في بعض کتبی ان مقام التحدیث اشد تشبھا بمقام النبوۃ ولا فرق الا فرق القوۃ والفعل وما فھموا قولی وقالوا ان ھذا الرجل یدعی النبوۃ ۔۔۔وانی واللہ أو من باللہ ورسولہ و أو من بانہ خاتم النبینن نعم قلت ان اجزاء النبوۃتوجدفی التحدیث کلھا ولکن بالقوۃ لا بالفعل فالمحدث نبي بالقوۃ ولو لم یکن سدباب النبوۃ لکان نبیا بالفعل.‘‘
    ترجمہ: اور میں نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ مقام محدثیت مقام نبوت کے ساتھ گہری مشابہت رکھتا ہے اوران میں سوائے قوت اور فعل کے اور کوئی فرق نہیں لیکن لوگوں نے میری بات کو نہ سمجھا اور کہہ دیا کہ یہ شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔اور اﷲ کی قسم میں اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں اور میں اس بات پر بھی ایمان رکھتا ہوں کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ ہاں میں نے کہا ہے کہ اجزائے نبوت محدثیت میں پائے جاتے ہیں لیکن بالقوۃہے نہ کہ بالفعل۔ پس محدث نبی بالقوۃ ہے اور اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو بالفعل نبی ہوتا۔
    (حمامۃ البشریٰ صفحہ 134 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 300)
    ایک اور مقام پر مرزا قادیانی رقم طراز ہے کہ
    ’’ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنااور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کودھوکا لگ جانے کا احتمال ہو۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 27، مندرجہ روحانی خزائن جلد11صفحہ27)
    ’’ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے ۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمدصلی اﷲعلیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کوکاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اﷲ محمد مصطفی صلی اﷲعلیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات، جلداول صفحہ 214 مورخہ 2اکتوبر1891 ، طبع چہارم)
    ’’میں نہ نبوت کامدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔۔۔۔۔۔ اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲعلیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ232 مورخہ 2اکتوبر1891 طبع چہارم)
    محترم قارئین ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح مرزا قادیانی داعی نبوت کو کافر اور کاذب قرار دیتا ہے لیکن پھر خود ہی 1901 میں اپنے ایک کتابچے ’’ایک غلطی اور اس کا ازالہ ‘‘ میں دعویٰ نبوت کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ
    ’’ہماری جماعت میں بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنی معلومات کی تکمیل کر سکے ۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لیے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہو اکہ جس کی تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے ، اس میں ایسے الفاظ رسول، مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیوں کر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں۔‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3مندرجہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 206)
    متنبی مرزا غلام احمد قادیانی ایک اور مقام پر رقم طراز ہے کہ
    ’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے ، وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقرربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی قرار دیتا تھا، مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیا۔ مگراس طرح سے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ۔‘‘
    (حقیقت الوحی صفحہ 149مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153)
    محترم قارئین ! مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کا شاطرانہ پن ملاحظہ کریں کہ جب اس نے دعویٰ نبوت کیا تواسے بھی اس بات کا اندازہ تھا کہ پہلے تو میں نے داعی نبوت کو لعنتی اور دائرہ اسلام سے خارج قر اردیا ہے لہٰذا اپنے سابقہ عقیدے اور دعویٰ نبوت میں تطبیق دینے کے لیے لکھتا ہے کہ
    ’’اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں اپنے رسول مقتدا سے علم باطنی فیوض حاصل کرکے اور اپنے لیے ا س کا نام پاک اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے ۔ رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا، بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کرکے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں میں نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔‘‘
    (ایک غلطی اور اس کا ازالہ صفحہ 7,6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 211,210)
    محترم قارئین ! اس عبارت میں مرزا قادیانی متنبی اپنے آپ کو غیر شریعتی امتی نبی قرار دیتا اور واضح لفظوں میںیہ بات کہتا ہے کہ میں نے اس سے انکار نہیں کیا بلکہ شریعتی نبی ہونے سے انکار کیا جب کہ جن عبارتوں میں اس نے دعویٰ نبوت سے انکار کیا وہاں پر شریعتی یا غیرشریعتی الفاظ بالکل موجود نہیں ہیں۔ قبل اس کے کہ میں مرزا قادیانی کے شریعتی نبی ہونے کے دعویٰ کا ذکر کروں اس کے دعویٰ نبوت کے حوالے سے ایک اور عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔ چنانچہ مرزا قادیانی کذاب رقم طراز ہے کہ
    ’’صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا ہے۔ا گر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتاتو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے ۔ یعنی عبرانی میں اس لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنی ہیں۔ خدا سے خبر پا کر پیش گوئی کرنے اور نبی کے لیے شارع ہونا شرط نہیں ہے، یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ پس میں جب کہ اس مدت (5نومبر1901ء)تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صا ف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔ اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیوں کر رد کروں یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔ مجھے اس خدا کی قسم جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بناکر مجھے بھیجا ہے۔ اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں، جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی متواتر نشانیوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اﷲ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اسی خدا کا کلام ہے، جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلی اﷲعلیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔‘‘
    (ایک غلطی اوراس کا ازالہ صفحہ 6,5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 210,209 )
    محترم قارئین ! یہ عبارت بھی بالکل واضح ہے کہ مرزا قادیانی شریعتی نبی کا انکار کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دو ٹوک اور واضح الفاظ میں اپنے اوپر ہونے والے شیطانی الہام کو اﷲ تعالیٰ کا کلام قرار دیتا ہے۔ اس پر بس نہیں بلکہ یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ مجھے اپنی وحی پر اس طرح ایمان اور یقین ہے جس طرح نبی کریم علیہ السلام پر نازل ہونے والی مقدس کتاب قرآن مجید پر ایمان و یقین۔
    محترم قارئین ! آئیے اب مرزا قادیانی کے شریعتی نبی ہونے کا دعویٰ ملاحظہ کریں۔ ایک تواس نے جہاد فی سبیل اﷲ کو مکمل طورپر نہ صرف حرام قرار دیا ہے بلکہ انگریزوں کی اطاعت کو بھی واجب قرار دیا ہے جب کہ شریعت محمدی میں تو جہاد و قتال فرض ہے۔ اور میرے اور آپ کے پیرو مرشد جناب محمد رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا۔
    ((یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر قتال کرتی رہے گی۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔ ))
    (رواہ مسلم ، مشکوٰۃ کتاب ا لجہاد)
    محترم قارئین ! آئیے اب واضح طور پر مرزا قادیانی کے شرعی نبی ہونے کا دعویٰ اس کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
    ’’یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر ونہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی ۔ مثلاً یہ الہام قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجھم ذلک ازکی لھم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے۔ اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ اور اس پر تیئیس برس کی مدت بھی گزر گئی ہے اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے ۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابراہیم و موسٰی یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے۔
    (اربعین نمبر4 صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 436,435)
    ’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیاہے۔۔۔۔۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
    (حاشیہ اربعین نمبر4 صفحہ 6 مندرجہ خزائن جلد 17صفحہ 435)
    محترم قارئین !ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے سب سے پہلے مجدد پھر مثیل مسیح ، پھر مسیح موعود اور پھر محدث اس کے بعد غیر شریعتی نبی اور پھر شریعتی نبی کا دعویٰ کیا ۔ آگے آپ اس کے مزید دعوے دیکھیں گے۔ کس طرح دعوے کرتا ہوا منزل بہ منزل دعویٰ الوہیت تک پہنچتا ہے۔ لیکن اس سے قبل کہ مرزا قادیانی کے مزید دعووں کا تذکرہ کروں چاہتا ہوں کہ عقیدہ ختم نبوت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں مختصر بیان کر دوں تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ کس طرح قادیانی دجال و کذاب نے قرآن و حدیث اور اجماع امت کو ترک کرکے امت مسلمہ کو انتشار وافتراق کا شکار کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔
    عقیدہ ختم نبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں:۔
    محترم قارئین ! اﷲ رب العزت نے اپنے تمام انبیاء و رسل کو ایک جگہ جمع کرکے وعدہ لیا کہ اگر تمھاری نبوت کے دوران میرا آخری نبی آجائے تو تمھیں نہ صرف اس پر ایمان لانا ہوگا بلکہ ہر طرح سے ا س کی مدد بھی کرنا ہوگی۔ یعنی اس کے دور نبوت میں تمھاری نبوت نہیں چل سکے گی۔ اس بات کا تذکرہ رب ذوالجلال نے قرآن مقدس میں اس طرح کیا ہے کہ
    وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ آتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّ حِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنْصُرُنَّہ‘ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ (آل عمران 81:)
    جب اﷲ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمھیں کتاب و حکمت سے دوں ، پھرتمھارے پاس وہ رسول آئے جو تمھارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمھارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اوراس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا: ہمیں اقرار ہے۔فرمایا: توا ب گواہ رہو میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔
    اﷲ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات میں متقین کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے جن چیزوں کو ایمان کی شرائط کے طور پر بیان کیا ہے، ان میں سابقہ انبیاء علیہم السلام اور ان پر نازل ہونے والی کتب، نبی رحمت a اور قرآن مقدس پر ایمان لانا ہے۔ اگر کوئی نبی بعد میں بھی آنا ہوتا تو اﷲ تعالیٰ یہاں پر اس کا تذکرہ ضرور فرما دیتے۔ جہاں تک تعلق ہے عیسیٰ d کی دوبارہ آمد کا تو وہ بطور امتی ہی نازل ہوں گے ۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :
    وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ (البقرۃ 6:)
    اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ پر اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
    ایک اور مقام پر اﷲ رب العزت نے اپنے پیارے پیغمبر سید الاولین والآخرین امام الانبیاء ، خاتم النبین a کا نام لے کر آپ کوآخری نبی قرار دیتے ہوئے فرمایا:
    مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النِّبِیّٖنَ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا (الاحزاب:60)
    تمھارے مَردوں میں سے محمدaکسی کے باپ نہیں، لیکن آپ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ اور اﷲ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے۔
    ان تمام آیات کریمہ سے مسئلہ ختم نبوت بالکل واضح ہو جاتا ہے ۔ یہاں پر یہ بھی یاد رہے کہ منکرین ختم نبوت ’’خاتم النبین‘‘ کامعنیٰ ’’نبیوں پر مہر لگانے والا‘‘ کرتے ہیں۔اگر یہ مفہوم تسلیم کر لیا جائے تو معنیٰ یہ کرنا پڑے گا کہ نبی رحمت a نے پہلے انبیاء کی تصدیق وتائید کرکے ان پر مہر لگا دی ۔ بعد میں نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو تو آپ نے کذاب اور دجال قرار دیا ہے۔
    دوسری بات یہ ہے کہ خاتم النبین کا صحیح مفہوم تو نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہی بنتا ہے، کیونکہ نبی رحمت نے اپنے فرامین میں لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کہہ کراس مفہوم کو واضح کردیا ہے۔
    آئیے ! ذرا ان فرامین نبویہ aکا بھی مطالعہ کریں جن میں عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت موجود ہے:
    حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
    ((لِی خَمْسَۃُ اَسْمَاءُ: اَنَامُحَمَّدٌوَاَنَااَحْمَدُوَاَنَاالْمَاحِیُ الَّذِیْ یَمْحُوْااللّٰہُ بِہِ الْکُفْرَ وَاَنَا الْحَاشِرَالَّذِی یُحْشَرُالنَّاسُ عَلَی قَدَمِی وَاَنَاالْعَاقِبُ))
    (صحیح بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر3532)
    یعنی میرے پانچ نام ہیں۔میں محمد‘احمد‘اورماحی ہوں(یعنی مٹانے والاہوں)کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفرکومٹائے گااورمیں حاشرہوں کہ تمام انسانوں کا(قیامت کے دن) میرے بعدحشرہوگا۔ اورمیں’’عاقب‘‘ہوں یعنی خاتم النبیین ہوں‘میرے بعدکوئی نیا نبی دنیامیں نہیںآئیگا۔
    سیدنا جابررضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
    ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَآءَ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنیٰ دَارًا فَاَتَّمَھَا وَاَکْمَلَھَا اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَدْخُلُوْنَھَا وَیَتَعَجَّبُوْنَ مِنْھَا وَیَقُوْلُوْنَ لَوْ لَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَّ فَاَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ جِءْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِیَآءَ صَلَواتُ اللّٰہِ وَسَلاَمُہ‘ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ)).
    میری مثال اور دوسرے انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اوراس کو کمال و تمام تک پہنچایا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگوں نے اس کے اندر جانا شروع کیا تو تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے: کاش ! یہ اینٹ کی جگہ بھی خالی نہ ہوتی۔ آپ ﷺنے فرمایا: میں اس اینٹ کی جگہ ہوں ۔ میں آیا اور پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔سب انبیاء پر اﷲ کی رحمت اور سلامتی ہو۔
    سیدنا ابوہریرہ hسے روایت ہے کہ رسول اﷲ aنے فرمایا:
    ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبًا مِنْ ثَلٰثِیْنَ کُلُّھُمْ یَزْعَمُ اَنَّہ‘ رَسُوْلُ اللّٰہِ ))
    (صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ 7342، صحیح بخاری 3609)
    قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ قریباً تیس دجال وکذاب پیدا نہ ہو جائیں۔ ان میں سے ہر ایک گمان کرے گاکہ وہ نبی ہے۔
    حضرت ثوبان h سے روایت ہے کہ :
    ((وَاِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِیْ اُمَّتِیْ لَمْ یُرْفَعْ عَنْھَا إلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَلْحَقَ قَبَاءِلُ مِنْ اُمَّتِیْ بِالْمُشْرِکِیْنَ وَحَتّٰی تَعْبُدَ قَبَاءِلَ مِنْ اُمَّتِیْ الَاوْثَانَ وَإِنَّہ‘ سَیَکُوْنَ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعُمُ اَنَّہ‘ نَبِیُّ اللّٰہِ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا تَزَالُ طَاءِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرُاللّٰہ))
    (سنن ابوداود ، کتاب الفتن والملاحم :3710 ، جامع ترمذی ، کتاب الفتن 2145)
    جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو وہ اس سے روز قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی اور قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکوں کے ساتھ نہ مل جائیں اور بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔ اور بے شک عنقریب میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ اﷲ کا نبی ہے۔ جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا اور وہ غالب ہوں گے ۔جو ان کی مخالفت کریں گے وہ ان کو ضرر نہ پہنچا سکیں گے حتی کہ اﷲ کا حکم آجائے۔
    حضرت سعد بن ابی وقاص hسے روایت ہے :
    خَلَّفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُخَلِّفُنِیْ فِی النِّسَآءَ وَالصِّبْیَانِ؟ قَالَ أمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃَ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَم ؟ غَیْرَ اَنَّہ‘ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
    (صحیح مسلم ، کتاب الفضائل 6218، صحیح بخاری 4416)
    رسول اﷲa نے حضرت علیh کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔ جب آپ ؐ غزوہ تبوک کو تشریف لے گئے تو حضرت علی hنے عرض کیا: یارسول اﷲ aآپؐ مجھ کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جاتے ہیں؟ آپ ؐنے فرمایا: تم اس بات پر خوش نہیں کہ تمھارا درجہ میرے ہاں ایسا ہی ہو جیسے ہارون dکا موسیٰ dکے ہاں تھا۔مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
    سیدنا ابوہریرہ hسے روایت ہے کہ نبی aنے فرمایا:
    ((کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَاءِیْلَ تَسُوْسُھُمُ الْاَنْبِیَاءُ کُلَّمَا ھََلَکَ نَبِيٌّ خَلَفَہ‘ نَبِيٌّ اَخَرُ وَإِنَّہ‘ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنَ الْخُلَفَآءُ فَیَکْثُرُونَ))
    (صحیح بخاری ، کتاب الاحادیث الانبیاء)
    ترجمہ: بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے۔ جب بھی ان کا کوئی نبی فوت ہو جاتا تواس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا مگر نائبین بکثرت ہوں گے۔(جاری ہے )

اس صفحے کی تشہیر