1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

دو روایتیں

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    دو روایتیں
    مرزائی صاحبان نے لاکھوں احادیث کے ذخیرے میں سے دو ضعیف وسقیم روایتیں نکال کر اور انہیں من مانا مفہوم پہنا کر ان سے اپنی خود ساختہ نبوت کے لئے سہارا لینے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے یہاں ان پر بھی ایک نظر ڈال لینا مناسب 1998ہوگا۔ قولوا خاتم النّبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ!
    پہلی مجہول الاسناد روایت ’’درمنثور‘‘ سے لی گئی ہے اور وہ یہ کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ (آنحضرتﷺ کو) خاتم النّبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
    پہلے تو اس بات پر غور فرمائیے کہ یہ روایت کہاں سے لائی گئی ہے۔ اگر آپ حدیث کی کسی معروف کتاب میں اسے تلاش کرنا چاہیں گے تو آپ کو مایوسی ہوگی۔ کیونکہ یہ روایت بخاری، مسلم تو کجا نسائی، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، مسند احمد، غرض حدیث کی کسی دستیاب کتاب میں موجود نہیں۔ اسے لایا کہاں سے گیا ہے؟ علامہ سیوطیؒ کی درمنثور سے، جس کے بارے میں ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ اس میں ہر قسم کی رطب ویابس ضعیف اور موضوع روایات بھی بغیر کسی چھان پھٹک کے صرف جمع کر دی گئی ہیں۔ پھر حدیث میں سارا مدار اس کی سند پر ہوتا ہے اور اس روایت کی کوئی سند معلوم نہیں۔ اب یہ سرکار دوعالمﷺ کے الفاظ میں مدعیان نبوت کا دجل نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف تو مرزائی صاحبان کی نگاہ میں قرآن کریم کی صاف اور صریح آیات اور آنحضرتﷺ کی سینکڑوں متواتر اور صحیح احادیث ناقابل التفات ہیں اور دوسری طرف یہ مجہول الاسناد روایت جس کا علم حدیث کی رو سے کچھ بھی اعتبار نہیں۔ ایسی قطعی اور یقینی ہے کہ اسے ختم نبوت جیسے متواتر قطعی اور اجماعی عقیدے کو توڑنے کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔ کیا کسی نبی کی نبوت ایسی ہی روایت سے ثابت ہوا کرتی ہے؟ لیکن یہ بات اس شخص سے کہی جائے جو کسی علمی یا عقلی قاعدے اور ضابطے کا پابند ہو اور جہاں عقل، علم اور اخلاق پر مبنی ہر بات کا جواب سوائے خود ساختہ الہام کے اور کچھ نہ ہو، وہاں دلائل وبراہین کا کتنا انبار لگا دیجئے۔ مرزاصاحب کے الفاظ میں اس کا جواب یہی ملے گا کہ ’’خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہوکر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں سے جس انبار کو چاہے 1999خدا سے علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر رد کر دے۔‘‘

    (اربعین نمبر۳ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۰۱ حاشیہ)

اس صفحے کی تشہیر