1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

رفع و نزول مسیح علیہ السلام کے انکار میں اٹھنے والی چند آوازیں اور اُن کی حیثیت

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'احادیثِ نزول و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 17, 2016

  1. ‏ جولائی 17, 2016 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ ستمبر 15, 2014
    مراسلے :
    165
    موصول پسندیدگیاں :
    104
    نمبرات :
    43
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    جرنلسٹ ، درس نظامی سٹوڈنٹ۔ معلم
    مقام سکونت :
    کھڈیاں خاص تحصیل و ضلع قصور
    رفع و نزول مسیح علیہ السلام کے انکار میں اٹھنے والی چند آوازیں اور اُن کی حیثیت
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ مبارکہ سے لیکر چودھویں صدی ہجری تک ملت اسلامیہ میں سوائے چند متعزلہ اور فلاسفہ کے کسی نے حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر جسم سمیت اٹھائے جانے اور قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہونے کا انکار نہیں کیا، امت کا رفع ونزول مسیح علیہ السلام پر اجماع چلا آرہا ہے،
    تیرھویں صدی کے آخر اور چودھویں صدی میں کچھ ملحدانہ زہن رکھنے والوں کی اکا دکا آوازیں سننے کو ملیں جنہوں نے یہ کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ نہیں ہیں، اور انہوں نے تمام احادیث کو ناقابل اعتبار اور اسرائیلی روایات کہہ کر رد کر دیا

    جن کے اندر نزول مسیح علیہ السلام کا زکر ہے اور موقف اختیار کیا کہ کسی مسیح نے نہیں آنا ، ان میں مصر کے شیخ محمد عبدہ اور ان کے چند تلامذہ کا مکتب فکل جس میں علامہ رشید رضا (جن کی سن وفات 1935ء) اور شیخ محمود شتوت (جن کی وفات سنہ 1963 میں ہوئی) قابل زکر ہیں ، خاص طور پر نظر آتا ہے، مصری علماء کا یہ مکتب فکر عقلیت کا دلدادہ اور معجزات و خوارق کا منکر تصور کیا جاتا ہے ، خود مصر کے علماء نے ان کے امت اسلامیہ سے ہٹ کر تفردات کا بڑی شد و مد کے ساتھ رد کیا ہے، لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ ان حضرات کا موقعف یہ تھا کہ
    کسی مسیح نے نہیں آنا ، نہ اصلی نے نہ کسی اور نے نہ کسی مثیل نے، علامہ رشید رضا نے تو اپنی تفسیر المنار میں کئی جگہ مرزا قادیانی کا نام لیکر اُس کے دعویٰ مسیحیت کی خوب خبر لی ہے، نیز ان سب کا یہ بھی ماننا تھا کہ یہ ٹھیک نہیں کہ یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کو پکڑ کر صلیب پر ڈالا بلکہ یہود حضرت عیسی علیہ السلام تک پہنچ ہی نہ سکے تھے،۔
    ہندوستان میں سرسید احمد خان نے بھی مرزا قادیانی سے پہلے وفات مسیح کا شوشہ چھوڑا تھا جس سے مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی جھوٹ ثابت ہوجاتا ہے کہ خدا نے صرف مجھ پر ظاہر کیا اور مجھ سے پہلے یہ کسی پر ظاہر نہ کیاگیا،
    آج کے دور میں قریب قریب اسی فکر کا پرچار کرنے والوں میں مخٌتلف ٹی وی چینلوں پر بطور دانشور نظر آنے والے جاوید احمد غامدی بھی ہیں ، لیکن غامدی عقیدہ میں ایک نئی چیز کا اضافہ بھی ہے ، اُن کا کہنا ہے کہ یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے انہیں وفات دے دی اور اُ س کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کا جسم مبارک آسمان پر اٹھا لیا،

    کہ کہیں یہود آپ کے جسم کی بے حرمتی نہ کریں ۔، یعنی غامدی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا رفع زندہ جسم کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ روح نکالنے کے بعد مردہ جسم آسمان پر اٹھایا گیا، یہ بہت ہی عجیب و غریب موقعف ہے ،
    جس کا مضحکہ خیز ہونا ظاہر ہے، اور قرآن و حدیث میں اس کا کوئی اشارہ تک نہیں ملتا، تاہم غامدی مکتب فر بھی یہ کہتا ہے کہ اب کسی مسیح نے نہیں آنا اور وہ تمام احادیث جن کے اندر نزول مسیح علیہ السلام کا زکر ہے ناقابل اعتبار ہیں،
    لیکن ان سب سے عجب تر منطق وہ ہے جو مرزا قادیانی نے پیش کی اس نے ایک طرف تو یہ کہا کہ قرآں سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں (پہلے خود قرآن سے اُن کا آنا ثابت کرتا رہا پھر کہا کہ قرآن کی تین آیات سے وفات مسیح ثابت ہے پھر تین سے چھلانگ لگا کر تیس پر آ گیا) اور دوسری طرف ان احادیث کو بھی تسلیم کرتا ہے جن کے اندر نزول عیسی بن مریم کا زکر ہے، اور نہایت ڈھٹائی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ کہنے لگا کہ اُن احادیث میں جن عیسی ابن مریم کا زکر ہے وہ میں ہوں
    ۔
    اور چونکہ قرآن و حدیث سے اُس کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی اس لیے یہ دلیل بنائی کہ میرے خدا نے مجھے الہام کرکے بتایا ہے کہ جس مسیح نے آنا تھا وہ تُو ہے۔
    • Like Like x 3
  2. ‏ جولائی 17, 2016 #2
    شفیق احمد

    شفیق احمد رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 30, 2015
    مراسلے :
    103
    موصول پسندیدگیاں :
    113
    نمبرات :
    43
    جنس :
    مذکر
    مرزا قادیانی ایک ذہنی مریض تھا اور رفع و نزول عیسی علیہ السلام پر اس نے جو یو ٹرن لیا وہ مرزا کے کذاب اور دجال ہونے کی ایک واضح نشانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کا ٹھوس موقف ہے کہ اگر مرزا قادیانی اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہوتا تو اپنے پہلے الہامی عہدے مثیل مسیح کا اعلان اور عقیدہ حیات عیسی کی فرقانی تفسیر کرنے کے بعد کبھی ان امور کو خیر آباد نہ کہتا اور نہ ہی یہ نیا دعوی کرتا کہ اب میں مٹیل مسیح نہیں بلکہ مسییح موعود ہوں اور حضرت عیسی علیہ السلام زندہ نہیں بلکہ فوت ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ 1800 سال پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی یا وفات کے واقعات کو بدلا نہیں جا سکتا اور اللہ اپنے الہامی فرد کو سالہا سال پہلے رونما ہونے والے ایک واقعہ کی دو متضاد اطلاعات کبھی نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی کے اس یو ٹرن سے مرزا مامور من اللہ نہیں مامور من الشیطان ثابت ہوتا ہے۔

    اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 میں مرزا صاف لکھتا ہے کہ مجھ پر ظاہر کیا گیا(الہام اللہ) کہ میں مثیل مسیح ہوں اور ساتھ اسی پیج پر قرآن کی آیت لکھ کر مرزا نے فرقانی(اللہ) اشارہ سے یہ تفسیر کی کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ ہی دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔

    جب مرزا نے مثیل مسیح کے دعوے کو چھوڑ کر مسیح موعود(عیسی ابن مریم) کا دعوی کیا تو پچھلے واضح الہامی ثبوتوں پر مٹی ڈالنے کیلئے آئیں بائیں شائیں کرنے لگا اور اپنے جاہل مریدوں کو گولی دینے کیلئے اپنی کتاب حقیقت الوحی روحانی خزائن صفحہ نمبر 153 میں لکھتا ہے کہ اللہ نے مجھے بتا دیا تھا کہ تم مسیح موعود یعنی ابن مریم ہو اور حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں لیکن میں مسلمانوں میں رائج عقیدہ (حیات عیسی ) ہی لکھتا رہا کہ جب تک اللہ نے بارش کی طرح وحی نہیں کی۔

    مرزا قادیانی کی مذکورہ وضاحت انتہائی بونگی اور مضحکہ خیز ہے کیونکہ مرزا یہاں اپنے الہامی عہدے مثیل مسیح اور فرقانی تفسیر کو سرے سے گول کر گیا۔۔۔۔مرزا کی دونوں تحریروں کا موازنہ کرنے کے بعد صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی ایک خائن،جھوٹا، چالباز اور مکار شخص تھا۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کی ہستیاں معاذاللہ دو ہیں کہ ایک اللہ براہین احمدیہ کتاب میں مرزا قادیانی کو حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ بتا کر مثیل مسیح بنا رہا ہے اور دوسرا اللہ عین اسی دوران براہین میں حضرت عیسی علیہ السلام کو فوت قرار دے کر مرزا کو بتا رہا ہے کہ اے مرزا تم مثیل مسیح نہیں بلکہ مسیح موعود یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ہو(حقیقت الوحی کتاب کی تحریر )۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی ایک اللہ کے الہام کو تسلیم کر رہا ہے اور دوسرے اللہ کی وحی کو رد کر رہا ہے۔۔۔۔ کیا مرزا قادیانی ایک ہی وقت میں دو متضاد الہامات کی خبر دے کر جھوٹا مسیح اور نبی ثابت نہیں ہوتا ؟؟؟ برین واشڈ اندھے قادیانیوں کو مذکورہ بالا روشن حقیقت نظر ہی نہیں آتی۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر