1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(سات قراردادیں)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 12, 2015

  1. ‏ فروری 12, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (سات قراردادیں)
    جناب چیئرمین: ہاں! ایک آپ کا بھی ہے۔ سات ریزولیوشن ہیں۔ وہ جتنے بھی ریزولیوشن ہیں، دوبارہ ایک دفعہ سائیکلو سٹائل کراکے تمام ممبر صاحبان کو سرکولیٹ کئے جائیں گے تاکہ: They can refresh their memory; and in the light of these resolutions, (وہ اپنی یادداشت کو تازہ کر سکتے ہیں اور ان قراردادوں کی روشنی میں) وہ اپنی Recommendations (تجاویز) بھی دے سکتے ہیں اور اس کے علاوہ ممبر صاحبان جو بھی تجاویز پیش کریں، وہ اگر لکھ کر دے دیں تو وہ بھی ساتھ شامل کر لیا جائے گا تو Automatically (ازخود) ریکارڈ پر آجائے گا۔ اس کے لئے اگر ممبر صاحبان نے زیادہ ٹائم 1868لینا ہے تو ٹائم پر کوئی بندش نہیں ہے۔ لیکن اس میں بیٹھنا زیادہ پڑے گا۔ اس میں پھر اسی طرح دو، دو سیٹٹنگز کرنی پڑیں گی اور سنڈے کو بھی بیٹھنا پڑے گا۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: پوائنٹ آف آرڈر، سر! آپ نے کہا ہے کہ کوئی ممبر اگر اوتھ پر بیان دینا چاہے تو دے سکتا ہے تو اس میں میرا پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ جو اوتھ پر بیان دے گا تو وہ میرے خیال میں گواہ کی حیثیت سے بیان دے گا؟
    جناب چیئرمین: جی ہاں!
    جناب عبدالحمید جتوئی: اور جو گواہ کی حیثیت سے بیان دے گا اس پر جرح بھی ہوسکتی ہے؟
    جناب چیئرمین: لازمی بات ہے، جرح بھی ہوسکتی ہے۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: ویسے عام طور پر جو بحث ہوگی ایسے ہی کریں گے۔
    جناب چیئرمین: ایسے ہی۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: اگر کوئی گواہ کی حیثیت سے پیش ہوگا تو پھر اس پر جرح ہوگی، پھر اس میں وہ ووٹ نہیں دے سکے گا۔
    جناب چیئرمین: جرح لازماً ہوگی، اور اسے اخلاقاً ووٹ نہیں دینا چاہئے۔
    Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, I will request information.
    (سردار مولا بخش سومرو: جناب عالی! میں کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں)
    میردریاخان کھوسو: میری گزارش یہ ہے کہ ممبر حضرات سے گواہی نہیں لینی چاہئے۔
    جناب چیئرمین: یہ آپ کی مرضی ہے۔
    میر دریا خان کھوسو: میں عرض کروں کہ اگر گواہی لینی ہے تو ہمیں بہت سے ہمارے جاننے والے علماء باہر سے میسر آسکتے ہیں۔ ممبر صاحبان سے اگر آپ گواہی لینا شروع کریں گے اور ممبر صاحبان پر جرح کرنا شروع کریں گے تو یہ کوئی اچھی Tradition (روایت) نہیں ہے۔
    Mr. Chairman: Sir, this is optional.
    (جناب چیئرمین: جناب! یہ ایک اختیاری معاملہ ہے)
    1869میردریا خان کھوسو: میں عرض کروں گا کہ اس طریقے سے نہ ہو معزز ممبران جنرل ڈسکشن میں حصہ لیں۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، یہ آپ کی مرضی ہے۔
    Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, my request and submission is that, as you said, there may be many resolutions before the House; there may be, Sir, many things. Therefore, only those resolutions which are not in common should be discussed and those which are in common should not be discussed.
    (سردار مولا بخش سومرو: جناب عالیٰ! میری درخواست یہ ہے کہ جیساکہ آپ نے کہا کہ ہاؤس کے سامنے بہت سی قراردادیں ہیں۔ وہ مختلف چیز میں ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا صرف ان قراردادوں پر بحث کرنی چاہئے جو مشترکہ نہیں ہیں اور ان قراردادوں پر بحث نہیں کرنی چاہئے جو کہ ایک جیسی ہیں)
    Mr. Chairman: The honourable members can point out these things in their arguments that these are common. Let us agree on this proposal. Strictly speaking, we are not following the procedure which is followed normally in legislation.
    (جناب چیئرمین: معزز ممبران اپنے دلائل کے دوران نشاندہی کر سکتے ہیں کہ یہ چیزیں ایک جیسی ہیں۔ ہمیں اس رائے پر متفق ہو جانا چاہئے۔ زور دیتے ہوئے ہم عام طور پر قانون سازی کے لئے اختیار کئے جانے والے طریقہ کار پر نہیں چل رہے)
    جناب عباس حسین گردیزی: میں جناب والا! جناب کھوسو صاحب کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں کہ کسی ممبر کو بطور گواہ پیش نہیں ہونا چاہئے۔
    جناب چیئرمین: یہ مسئلہ ختم ہوچکا ہے دوسری بات کریں۔
    جناب عباس حسین گردیزی: دوسری بات یہ ہے کہ مجھے ۱۵؍منٹ دئیے جائیں۔
    جناب چیئرمین: آپ ۱۵؍منٹ کی بجائے آدھا گھنٹہ لیں۔ مسٹر عبدالعزیز بھٹی!
    جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب والا! جو بات جتوئی صاحب نے بتائی ہے میں اس تجویز سے متفق ہوں۔
    جناب چیئرمین: میں سردار عبدالحلیم کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ کل تک مجھے لسٹ دے دیں ان ممبروں کی جو بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور اندازاً وقت بھی بتادیں۔ List the participants who want to express something. I shall be grateful; as he is the Whip of the Party. Barq Saheb! (ان لوگوں کی لسٹ فراہم کریں جو کہ اظہار خیال کرنا چاہتے ہیں۔ میں شکر گزار ہوں گا کیونکہ برق صاحب اپنی پارٹی کے چیف وہپ ہیں)
    1870میاں محمد ابراہیم برق: کب سے شروع کرنا ہے؟
    Mr. Chairman: We do not wait for anything.
    (جناب چیئرمین: ہم کسی چیز کا انتظار نہیں کرتے)
    مفتی صاحب کو فلوردوں گا۔
    میاں محمد ابراہیم برق: ٹھیک ہے۔
    جناب چیئرمین: راؤ محمد ہاشم!
    جناب محمد ہاشم خان: جناب والا! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ سپیشل کمیٹی کے بعد جب نیشنل اسمبلی میں اوپن اجلاس ہوگا تو اس میں بھی تقریریں کرنے کا موقع ملے گا؟
    جناب چیئرمین: ابھی تو فیصلہ کریں کہ کس سٹیج پر پہنچتے ہیں۔ آپ تشریف رکھیں تاکہ یہ بھی واضح ہو۔ آپ نے ان کی سٹیٹمنٹ ریکارڈ کی ہیں۔ دونوں جماعتوں کی، اس کے بعد آپ اپنی رائے دیں گے۔ بحث کریں گے۔ اس کے بعد سٹیئرنگ کمیٹی بیٹھے گی۔ وہ ایک سفارش کو آخری شکل دے گی۔ مجھے تو امید ہے کہ یہ سفارشات کمیٹی آف دی ہول ہاؤس متفقہ طور پر منظور کر لے گی۔ منظوری کے بعد ان سفارشات کو نیشنل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ مثلاً وہ ایک سفارش پیش کرتی ہے کہ اس پر لیجسلیشن ہونی چاہئے۔ دستور میں ترمیم ہونی چاہئے۔
    Then there is no need of discussion in the National Assembly or debating its recommendations. It is premature at this stage to say whether there will be...
    (پھر قومی اسمبلی میں بحث اور ان کی آراء پر گفتگو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس موقع پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آخرکار کیا ہوگا)
    میاں مسعود احمد: جناب والا! میری گزارش ہے کہ جن پارٹیوں نے ریزولیوشن پیش کئے ہیں ان کے لیڈروں سے پوچھ لیا جائے کہ وہ اس ایویڈنس سے مطمئن ہیں جو انہوں نے دی ہے یا ان کی تردید میں کوئی ایویڈنس دیں گے۔
    1871Mr. Chairman: We don't want to put this condition. Free expression.
    (جناب چیئرمین: ہم یہ شرط لاگو نہیں کرنا چاہتے۔ آزادانہ اظہار رائے کریں)
    اب میری گزارش ہے… ملک محمد جعفر!
    ملک محمد جعفر: جناب والا! آپ نے فرمایا ہے کہ لسٹ دے دی جائے ممبروں کی جو بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ میں گزارش کرتا ہوں کہ ایک عام اجلاس ہوتا ہے۔ اس میں ایک خاص بل ہوتا ہے۔ ایک ریزولیوشن ہوتا ہے تو اس میں ٹھیک ہے اور کمیٹی میں ۳،۴،۵ ریزولیوشن ہیں۔ ان میں پھر ترمیم ہوگی۔ جس طرح ہم آئینی کمیٹی میں کام کرتے ہیں۔ اس میں آپ اتنا…
    Mr. Chairman: If it is convenient. Strictly no restriction.(جناب چیئرمین: اگر یہ آسان ہے، یقینا کوئی پابندی نہیں ہے)
    ملک محمد جعفر: اتنا سٹرکٹ نہ ہوں۔
    Mr. Chairman: No, no. I will not.
    (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ میں نہیں ہوں)
    ملک محمد جعفر: ہوسکتا ہے کہ درمیان میں کوئی تجویز پیش ہو اس کے متعلق۔
    Sir, as far as possible, the National Assembly....
    (جناب! جہاں تک ممکن ہے قومی اسمبلی…)
    جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ میں سٹرکٹ نہیں ہوا ہوں۔ میں تو کبھی نیشنل اسمبلی میں بھی سٹرکٹ نہیں ہوا ہوں۔
    Just for convenience purpose, so that I could adjust timings. (صرف آسانی کے پیش نظر میں اوقات کار کو ایڈجسٹ کر سکا ہوں)
    جناب محمد خان چوہدری: جناب والا! گزارش ہے کہ ہم پبلک کے نمائندے ہیں۔ ہمیں بہت سے خطوط ملے ہیں کہ بحث میں ہم حصہ لیں۔ وہ ساری کارروائی شائع ہونی چاہئے۔
    1872جناب چیئرمین: یہ ساری پروسیڈنگ پبلش ہوں گی۔ اسی واسطے اس کو ان کیمرہ رکھا گیا ہے تاکہ Members should not play to the gallery. The members should come with some realistic approach to the problem. The members should sit without making any comments. (ممبران کو گیلری میں بیٹھ کر کھیلنا نہ چاہئے۔ ممبران کو مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ آنا چاہئے۔ ممبران کو خاموشی سے بیٹھنا چاہئے)
    یہ لازماً پبلش ہوں گی۔ لیکن مسٹر محمد خان! جو آپ یہاں تقریر کریں گے باہر جاکر نہیں بتائیں گے، بالکل نہیں بتائیں گے۔ مسٹر شنواری!
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: آج تک ہمیں ۲۴تاریخ تک کی رپورٹیں ملی ہیں۔ اگر ہمیں باقی رپوٹیں نہ مل سکیں تو ہم تقریریں کس طرح کریں گے؟
    جناب چیئرمین: آپ کو باقی بھی مل جائیں گی۔
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: یہی تو میں نے کہا تھا کہ دو دن کے بعد تقریریں ہونی چاہئیں۔
    Mr. Chairman: No adjournment. Take it for granted. (جناب چیئرمین: کوئی التواء نہیں، اس کو معمول کی بات سمجھیں)
    مفتی صاحب دودن لیں گے۔ مفتی صاحب! شروع کر دیں۔
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: مفتی صاحب کی تقریر ختم ہونے کے بعد تقریریں ختم ہو جائیںگی۔
    جناب چیئرمین: مجھے پتہ تھا کہ تکلیفیں راستے میں آئیں گی۔ میں نے مفتی صاحب کی خدمت میں عرض کیا ہے کہ آپ سٹارٹ کر دیں۔
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: ان کی تقریر ہونے تک ہمیں باقی تقریریں مل جائیں گی؟
    جناب چیئرمین: ڈاکٹر شفیع!
    ڈاکٹر محمد شفیع: پہلے بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے۔
    The Samdani Report is also very relevant. Let us have a copy of that also.
    (صمدانی رپورٹ بھی اس مسئلہ سے متعلقہ ہے۔ اس کی بھی ایک نقل رکھ لیں)
    1873Mr. Chairman: I told the House; let the Law Minister come because it is not in my possession. The Government will release the Report; I cannot release it. I have noted it down. Therefore, when tomorrow Pirzada comes, I will take up this matter.
    (جناب چیئرمین: میں نے ہاؤس کو بتادیا ہے۔ وزیرقانون کو آنے دیں۔ کیونکہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ حکومت رپورٹ جاری کرے گی میں نہیں کر سکتا۔ میں نے اس کو نوٹ کر لیا ہے۔ لہٰذا جب کل پیرزادہ آئیں گے تو میں اس کو دیکھوں گا)
    ملک محمد اختر: ان کو سائیکلوسٹائل کروالیں گے۔
    جناب چیئرمین: ایک منٹ میں فوٹوسٹیٹ کاپیاں ہو جائیں گی۔
    شہزادہ سعید الرشید عباسی: میںیہی بات کرنے والا تھا۔
    جناب چیئرمین: اچھا جی! شہادت صاحب!
    رائے شہادت علی خان: جناب والا! آج جو کارروائی ہوئی ہے اس میں مرزائیوں اور احمدیوں نے اپنا نقطہ نگاہ پیش کیا ہے کہ ان کا نقطہ نگاہ کیا ہے اور کس طرح وہ اسلام کو سمجھتے ہیں۔
    جناب چیئرمین: یہی تو بحث کریں گے کہ اس وجہ سے مسلمان نہیں، اس وجہ سے وہ غیراحمدی ہیں۔ اس وجہ سے یہ ہے، اس وجہ سے وہ ہے۔ آپ تشریف رکھیں۔ اچھا! کوئی اور صاحب؟
    We should start with it? No other proposal?
    (ہمیں اس سے آغاز کر دینا چاہئے؟ اور کوئی رائے نہیں؟)
    Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, as my previous speaker friend told that anybody who wants to speak or express his views, he must express whether he is a Qadiani or Ahmadi.
    (سردار مولا بخش سومرو: جناب! جیسا کہ گزشتہ مقرر دوست نے بتایا کہ جو کوئی بھی بولنا یا اظہار خیال کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ بتانا چاہئے کہ کیا وہ احمدی یا قادیانی ہے)
    Mr. Chairman: No, no, rejected.
    (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ مسترد کیا گیا)
    بالکل وہ رجیکٹ ہے۔ ایک چھوٹی سی کتاب ہے، اس پر ڈسکشن ہوگی۔
    چوہدری ممتاز احمد: اس شرط پر یہ تجویز منظور کی جائے کہ یہ شیعہ ہیں یا سنی یا کیا ہیں۔
    Mr. Chairman: I will request the honourable members that now the discussion will be among the members, so I request them not to be hasty and not to leave the House before we finally conclude.
    (جناب چیئرمین: میں تمام معززممبران سے درخواست کرتا ہوں کہ اب بحث چونکہ ممبران کے درمیان ہوگی۔ لہٰذا میں ان سے گزارش کرتا ہوںکہ وہ جلد بازی نہ کریں اور جب تک ہم کسی حتمی نتیجہ تک نہ پہنچیں وہ ہاؤس نہ چھوڑیں) بالکل یہ بات غلط ہے۔ مفتی صاحب! تقریر کے لئے اٹھیں اور تقریر شروع کر دیں۔ (مداخلت)
    1874Rana Mohammad Hanif Khan (Minister for Labour and Works): Before him I may be permitted.
    (رانا محمد حنیف خان (وزیر لیبر اینڈ ورکس): ان سے قبل مجھے اجازت مل سکتی ہے)
    Mr. Chairman: Sir, I am not talking of walk- out, although they walkd stealthily out of the Door, and leaving ten members here.
    (جناب چیئرمین: جناب! میں باہر جانے کی بات نہیں کر رہا۔ اگرچہ وہ چپکے سے دروازہ سے باہر جارہے ہیں اور یہاں صرف دس ممبران رہ گئے ہیں)
    جناب عباس حسین گردیزی: جناب والا! ایک وضاحت طلب پوائنٹ ہے۔
    (مداخلت)
    Mr. Chairman: I call the House to order.
    (جناب چیئرمین: میں ہاؤس کو آرڈر کہتا ہوں)
    Rana Mohammad Hanif Khan: After some time I may be permitted because I have to leave.
    (رانا محمد حنیف خان: کچھ دیر بعد مجھے اجازت مل سکتی ہے۔ کیونکہ مجھے جانا ہے)
    Mr. Chairman: This is not the final session.
    (جناب چیئرمین: یہ آخری سیشن نہیں ہے)
    جناب عباس حسین گردیزی: جناب والا! میں گزارش کرتا ہوں کہ کیا لکھی ہوئی تقریریں پڑھ سکتے ہیں؟
    جناب چیئرمین: ہاں جی! آپ پڑھ سکتے ہیں۔ شعر بھی پڑھ سکتے ہیں۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: آپ پڑھے ہوئے کو لکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ (قہقہے)
    QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION
    جناب چیئرمین: مفتی محمود!

اس صفحے کی تشہیر