1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

"سلطان القلم" کا علمی مقام

حمزہ نے 'روحانی خزائن جلد15' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 8, 2014

  1. ‏ اگست 8, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مرزا صاحب لکھتے ہیں:
    '' اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔ اور پھر بعد اس کے ۱۴؍جون ۱۸۹۹ ؁ء کو وہ پیدا ہوا۔ اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا اُسی مناسبت کے لحاظ سے اُس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر۔ اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چارشنبہ۔ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔'' (روحانی خزائن ۔ جلد ۱۵- تریَاق القلوُب: صفحہ 217- 218)
    اس اقتباس میں مرزا صاحب اپنی سلطانی کی کئی مثالیں چھوڑ گئے۔
    1) اس نے ماں کے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں یہ بھی جھوٹ ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو مرزا صاحب کو کیسے پتہ چلا کہ اس نے ماں کے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں؟ اگر مرزا صاحب نے اس کی آواز اس کی ماں کی زبانی تو ممکن ہے کہ اس کی ماں آواز ہی ہو جسے وہ بچہ کی آواز سمجھ بیٹھی، نہ کے بچے کی آواز ہو۔اس آواز کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔ ہو سکتا ہے کہ ماں نے بچے کی آواز نکال کر مرزا صاحب سے مزاق کیا ہو؟ اور اگر اپنی اہلیہ کے پیٹ کے ساتھ لگا کر اسکی آواز سنی ہو تو ممکن ہے کہ آپ کی اہلیہ نصرت جہاں نے انڈونیشیاء کے زہرہ فونا کی طرح آپ سے فراڈ کیا ہو؟ اور قاعدہ یہ ہے کہ ازا جاء الالحتمال بطل الاستدلال۔ جب کسی شی کا احتمال پیدا ہو جائے تو اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے پیٹ میں بچہ تین پردوں کے اندر ہوتا ہے۔ اور پیٹ کے راستے آواز تو باہر آ نہیں سکتی۔ اب تیسرا راستہ ہی آواز کے سنائی دینے کا رہ جاتا ہے جس کو قادیانی سمجھ سکتے ہیں، مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے اس راستے سے بھی بچے کی آواز آنا ممکن نہیں۔ لہٰذا نتیجہ واضح ہے کہ مرزا صاحب نے قادیانیوں کی مت مارنے اور اپنی اور اپنے بچے کی شان جتانے کے لیے یہ جھوٹ بولا۔
    2)دوسرا جھوٹ یہ بولا کہ چونکہ وہ میرا چوتھا بیٹا ہے اس لیے وہ اسلامی مہینوں میں سے چوتھے مہینے میں پیدا ہوا یعنی ماہ صفر میں۔ یہ مرزا صاحب کا سفید جھوٹ ہے۔ بلکہ ان کی جہالت کی غمازی کرتا ہے۔ کیونکہ صفر اسلامی مہینوں میں چوتھا مہینہ نہیں بلکہ دوسرا مہینہ ہے۔
    3) یہ بھی مرزا صاحب کی جھالت ہے اور جھوٹ ہے کہ وہ ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھے دن یعنی چہار شنبہ کو پیدا ہوا۔ چہار شنبہ ہفتے کا پانچواں دن بدھ ہوتا ہے، چوتھا دن نہیں۔ مرزا صاحب نے اس کو لفظ چہار سے چوتھا سمجھ لیا۔ یاد رکھیں کے نبی نہ ہی اتنا جاہل ہوتا ہے اور نہ ہی اتنا غافل اور احمق ہوتا ہے کہ صفر کو چوتھا مہینہ اور چہار شنبہ کو چوتھا دن سمجھ لے۔
    4) چوتھی بات بھی انہوں نے غلط کہی ہے۔ اسلامی سال رات سے شروع ہوتا ہے اور سن عیسوی رات بارہ بجے سے شروع ہوتا ہے۔دوپہر کے بعد کا چوتھا گھنٹہ نہیں ہوتا بلکہ یہ سن عیسوی کے لحاظ سے سولہواں گھنٹہ ہوتا ہے اور اسلامی سن کے لحاظ سے تقریباً بیسواں۔
    اس کے باوجود مرزا صاحب کے دعوے سنیں۔
    و إنّ اللہ لا یترکنی علی خطأ طرفۃ عین“ (روحانی خزائن جلد ۸- نور الحق: صفحہ 272)
    ترجمہ: وہ خدا مجھے ایک لمحے کیلئے بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا۔

    اعلمو ان فضل اللہ معی و ان روح اللہ ینطق فی نفسی(روحانی خزائن جلد ۱۱،صفحہ ۱۴۳،انجام آتھم صفحہ ۱۷۶)
    ”یعنی جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے ساتھ بول رہی ہے۔“
    ما ینطق عن الھوی (تذکرہ صفحہ ۳۷۸،۳۹۴)
    ”یعنی مرزا صاحب اپنی مرضی سے، خواہش سے کچھ نہیں کہتا۔“

    [​IMG]
    • Winner Winner x 1
    • Dumb Dumb x 1
  2. ‏ اگست 24, 2014 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    واہ ماشااللہ آپ نے مرزائیوں کو بہت ہی اچھے طریقہ سے سمجھانے کی کوشش کی ہے
    • Like Like x 2
    • Dumb Dumb x 1
  3. ‏ اگست 24, 2014 #3
    معظم نور

    معظم نور رکن ختم نبوت فورم

    ulad2.jpg
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  4. ‏ اگست 24, 2014 #4
    بنت اسلام

    بنت اسلام رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    بقول مرزا کے اس نے یکم جنوری 1897 کو مجھ سے کلام کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے یعنی اے میرے بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا-اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے اور تیسرا برس وہ ہےجس میں پیدائش ہوئی

    مبارک احمد نے یکم جنوری 1897 کو اپنی ماں کے پیٹ میں دو دفعہ باتیں کیں جبکہ دو ماہ بعد 2 مارچ 1897 کق مبارک کی بجائے مبارکہ پیدا ہو گئی حالانکہ باتیں مبارک احمد کرتا تھا
    معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ذاتی مصروفیات کی بنا پر اپنی جگہ اپنی بہن مبارکہ کو بھجوا دیا-
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  5. ‏ اگست 26, 2014 #5
    بنت اسلام

    بنت اسلام رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ہوتے ہیں رام وحشی، بنتے ہیں غیر اپنے
    محبت کی جہاں میں، ہیں کیا کیا کامرانیاں
    • Like Like x 1
    • Dumb Dumb x 1

اس صفحے کی تشہیر