1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

سورۃ الحج آیت 75 اور قادیانی مذہب

اسامہ نے 'آیاتِ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 3, 2019

  1. ‏ جولائی 3, 2019 #1
    اسامہ

    اسامہ رکن ختم نبوت فورم

    اَللّٰہُ یَصۡطَفِیۡ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ سورۃ حج آیت نمبر 75 اور قادیانی تحریف کا جواب

    از
    محمد اسامہ حفیظ

    آیت
    اَللّٰہُ یَصۡطَفِیۡ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ
    اللہ فرشتوں میں سے بھی اپنا پیغام پہنچانے والے منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی ۔ ( ٣٣ ) یقینا اللہ ہر بات سنتا ہر چیز دیکھتا ہے ۔ سورۃ الحج آیت 75

    قادیانی استدلال
    اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری ہے۔ یَصۡطَفِیۡ مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور مستقبل دونوں پر دلالت کرتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی فرشتوں اور لوگوں میں سے رسول چنتا رہے گا۔ لہذا ہمارا مدعا ثابت ہوا۔

    جواب نمبر 1

    پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دلیل آپ کے دعویٰ کے مطابق نہیں ہے۔آپ حضرات کا دعوی یہ ہے کہ نبوت کی تین اقسام ہیں(انوار العلوم جلد 2 صفحہ 276٫277 قول فیصل ) ان میں سے دو قسم کی نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جاری تھی جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر ختم ہو گئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک تیسری قسم کی نبوت جاری ہوئی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جاری نہیں تھی (انوار العلوم جلد 2 صفحہ277 قول فیصل)( کلمہ الفصل صفحہ 112) ۔ اور وہ تیسری قسم کی نبوت بھی صرف ایک شخص ( مرزا صاحب ) کو ملی اور اس پر ختم ہوگئی اس کے بعد بھی کسی کو نہیں ملے گی ۔ تو دلیل وہ پیش کریں جس میں یہ ہو کہ نبوت کی تین اقسام میں سے ایک قسم کی نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری ہے اور وہ ایک فرد( مرزا صاحب) کو ملنے کے بعد ختم ہو جائے گی(تشہیذالاذہان صفحہ 31) (انوار العلوم جلد 2 صفحہ578)۔جب تک قادیانی اپنے عقیدے کے مطابق دلیل پیش نہیں کرتے اس وقت تک کوئی بھی حوالہ ان کی دلیل تصور نہیں کیا جا سکتا ۔

    چیلنج

    پوری قادیانی جماعت کو قیامت کی صبح تک چیلنج ہے۔
    دنیا جہاں کے سارے قادیانی مل کر قرآن و حدیث سے ایک دلیل اپنے اصل عقیدہ پر پیش کر دیں جس میں یہ لکھا ہو کہ نبوت کی تین اقسام میں سے ایک قسم کی نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری رہے گی اور ایک فرد( مرزا قادیانی) پر آ کر ختم ہو جائے گی اور یہ تیسری قسم کے نبوت اس سے پہلے کسی کو ملی ہو گی نہ بعد میں ملے گی۔
    قادیانی یہ دلیل پیش کریں اور منہ مانگا انعام لے جائیں۔
    لیکن قیامت تو آ سکتی ہے لیکن سارے قادیانی مل کر بھی اس طرح کی ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔

    جواب نمبر 2

    آپ نے جو آیت پیش کی ہے اس میں لفظ رسول آیا ہے اور مرزا صاحب کے نزدیک رسول کا لفظ عام ہے اور رسول کے مفہوم میں نبی اور رسول اور مجدد و محدث سبھی شامل ہیں۔
    جیسے کہ لکھا ہے
    1 رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہے ( آئینہ کمالات اسلام :خزائن جلد 5 صفحہ 322)
    2 رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالی کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور مجدد ہوں۔( ایام الصلح : خزائن جلد 14 صفحہ 419 )
    3 رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں ( شہادت القرآن: خزائن جلد 6 صفحہ 323)
    اور مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ ایک عام لفظ کسی خاص معنوں میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔ ( نور القرآن : خزائن جلد 9 صفحہ 444)
    سو ظاہر ہے کہ قادیانیوں کا دعویٰ فرد خاص کا ہے۔ دلیل میں عموم ہے لہٰذا تقریب تام نہ ہونے کی وجہ سے استدلال باطل ہے۔ تو دلیل دلیل نہ ٹھہری۔

    جواب نمبر 3

    یہاں پر اللہ تعالی نے یَصۡطَفِیۡ فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی چنے گا حالانکہ تم جس قسم کی نبوت کے اجراء کے قائل ہو وہ اللہ تعالی کے چننے سے نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی برکت سے ملتی ہے۔(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 30)
    دعوی اور دلیل میں مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے دلیل دلیل نہ رہی۔

    جواب نمبر 4

    آپ کا دعویٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت جاری ہونے کا ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا کوئی ذکر نہیں بلکہ مطلق ہے لہٰذا اس اعتبار سے دعویٰ آپ کی دلیل کے مطابق نہیں رہا۔ اس آیت سے معبودان باطلہ کی تردید کی ہے کہ اگر وہ معبود حقیقی ہوتے تو وہ بھی اپنے رسول مخلوق کی طرف بھیجتے۔جس طرح اللہ نے اپنے رسول بھیجے تھے۔

    جواب نمبر 5

    یہ کسی جاھل کا ہی نظریہ ہوسکتا ہے کہ ہر مضارع استمرار کے لئے ہوتا ہے۔ اس آیت میں صیغہ مضارع فعل کے اثبات کے لئے ہے نہ کہ استمرار اور تجدید کے لئے جیسے کہ دوسری جگہ فرمایا
    ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبۡدِہٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ
    اللہ وہی تو ہے جو اپنے بندے پر کھلی کھلی آیتیں نازل فرماتا ہے ۔ سورۃ الحدید آیت نمبر 9
    یہاں بھی مضارع ہے کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اس میں استمرار ہو اور ہمیشہ قیامت تک قرآن نازل ہوتا رہے؟ ثابت ہوا کہ کہ قرآن جب تک مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک نازل ہوتا رہے گا ( جو کہ مکمل ہوچکا اور قرآن کا نزول بند ہوچکا) اسی طرح انبیاء بھی اس وقت تک آتے رہے جب تک ختم نبوت نہ ہو گئی۔اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہو جانے کے بعد ختم نبوت ہو چکی اور اب انبیاء کی تعداد میں کسی فرد کا اضافہ نہیں ہوگا۔در حقیقت اس آیت میں یَصۡطَفِیۡ زمانہ استقبال کے لیے نہیں بلکہ حکایت ہے حال ماضیہ کی۔ جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ قَفَّیۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ بِالرُّسُلِ ۫ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ۚ فَفَرِیۡقًا کَذَّبۡتُمۡ ۫ وَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ (سورۃ البقرہ آیت 87 ) اس کے یہ معنی نہیں کہ یہودیوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو نبی آئیں گے تم ان کو قتل کرو گے بلکہ حکایت ہے حال ماضیہ کی۔
    اور جیسے فرمایا وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُ ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ (سورۃ البقرہ آیت نمبر 127 )
    اس میں بھی حکایت ہے حال ماضیہ کی۔
    اگر اب بھی قادیانی بات نہیں مانتے تو ذرا بتائیں مرزا صاحب کا الہام جو کہ مضارع میں ہے اسکا قادیانی کیا کریں گے۔
    مرزا صاحب کو الہام ہوا
    يريدون أن يروا طمثك
    یعنی بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پالیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالی تجھے اپنے انعام دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے ( حقیقۃ الوحی : خزائن جلد 22 صفحہ 581) یہاں بھی "یریدون" اور "یروا" مضارع ہے کیا مرزا صاحب کا حیض قیامت تک چلتا رہے گا ؟ اور بابو الہی بخش اسے ہمیشہ قیامت تک دیکھتے رہیں گے؟

    جواب نمبر 6

    اس آیت میں فرشتوں اور انسانوں کا تذکرہ ہے اور مرزا صاحب نہ فرشتے ہیں اور نہ انسان۔جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں
    کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم: خزائن جلد 21 صفحہ127)


    جواب نمبر 7

    استمرار تجدیدی کے لئے اصول حسب ذیل ہے
    وقد تقيد الاستمرار التجددي بالقرائن اذا كان الفعل مضارعا ( قواعد اللغة العربية ) یعنی استمرار تجدیدی کا اندازہ قرآئن سے لگایا جاتا ہے اور بات خاتم النبیین ارسال رسل کے لئے تو کوئی قرینہ نہیں۔البتہ اس کے خلاف تم قرآن مجید قرینہ ہے۔

اس صفحے کی تشہیر